بھارت کو سی پیک سے دور رکھا جائے

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے سی پیک کا دائرہ بھارت تک بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر سوچے، اکیسویں صدی کی عالمی معیشت میں سی پیک بنیادی مرکز ہو گا۔ چینی صدر شی چن پنگ کے وژن کے مطابق چین رواں صدی میں اہم کردار ادا کرے گا، سی پیک ’’ ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کا نہایت اہم حصہ ہے، پاکستان اور چین کی قیادت نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ سی پیک میں تیسرے مُلک کو بھی سرمایہ کاری اور ترقی کے لئے شامل کیا جائے گا، سی پیک کا بنیادی مقصد پورے خطے کی ترقی ہے اور مستقبل میں اگر بھارت میں موجود قیادت تاریخ اور افسانوی کہانیوں سے نکل کر حقیقت میں آئے گی اور اپنے مفادات سے باہر نکل کر خطے کی ترقی کا سوچے گی تو سی پیک کا دائرہ کار بھارت اور اِس سے آگے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ باتیں بدھ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔

بھارت کو تو چین نے بہت پہلے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ’’ ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کا حصہ بن جائے، جس کے تحت دُنیا کے تین براعظم باہم مل رہے ہیں اور ساٹھ سے زیادہ مُلک اِس سے مستفید ہوں گے، اِس سلسلے میں چین نے جو خصوصی کانفرنس منعقد کی تھی اس میں ایک سو ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے، بھارت کو بھی اِس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،لیکن موری نے نہ تو اِس منصوبے کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی اور نہ ہی اِس کانفرنس میں شرکت کی، اُلٹا سی پیک پر یہ اعتراض جڑ دیا کہ اس کے بعض حصے چونکہ ’’متنازعہ علاقے‘‘ سے گزرتے ہیں، اِس لئے اسے وہاں سے نہ گزارا جائے۔ یہ بھارت کا خبثِ باطن تھا،جس کا مظاہرہ انہوں نے بعض ایسے عالمی کھلاڑیوں کی انگیخت پر کیا، جنہیں سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ چاہتے ہیں کہ کِسی نہ کِسی طرح اِس منصوبے پر کام رُک جائے،اِس مقصد کے حصول میں ناکامی کے بعد بھارت نے تخریب کاری سے بھی کام لیا اور کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ اُس کی تخریبی کارروائیوں کا ہدف سی پیک تھا اور اِس مقصد کے لئے اُس نے بلوچستان اور سندھ کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا تھا اور یہ جو بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ رُکنے میں نہیں آ رہا یہ کس کی کارستانی ہے اور کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کا واقعہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ اِس حملے کے بارے میں کراچی پولیس کی رپورٹ ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی اور تیاری میں بھارت کا ہاتھ تھا اور مقامی سہولت کاروں کو اس کی پشت پناہی حاصل تھی، ایسے میں بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دینے سے پہلے ہزار مرتبہ سو چنا چاہئے تھا،لیکن ایسے لگتا ہے اسد عمر نے سوچے سمجھے بغیر اور مضمرات کی پروا کئے بغیر ہی ایک متنازعہ بات کر دی ہے،جو نہ صرف حکومت،بلکہ پاکستان کے گلے پڑ سکتی ہے۔

سابق وزیراعظم کو تو یار لوگوں نے بڑی آسانی سے ’’مودی کا یار‘‘ کہہ دیا تھا،حالانکہ سی پیک اُن کے عہد میں شروع ہوا اور انہوں نے اِس ضمن میں بھارت کی شرکت کی کبھی بات نہ کی۔حیرت ہے کہ اِس حکومت کی جانی دشمن پارٹی کے دور میں ایک وزیر بھارت کے ساتھ ایسے منصوبے میں شراکت داری کا عندیہ دے رہا ہے جسے ناکام بنانے کے لئے بھارتی قیادت پہلے ہی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ انہوں نے کبھی کلبھوشن معاملے پر زبان نہیں کھولی،مگر ہم نے تو دیکھا ہے کہ اِس پر موجودہ حکومت بھی مُہر بلب ہے اور لگتا یوں ہے کہ اس حوالے سے سابق حکومت پر ’’نوازشات‘‘ کسی خصوصی مشن کے تحت ہی کی جا رہی تھیں وہ جب حاصل ہو گیا تو اب بھارت کو نہ صرف مذاکرات کی دعوت دی جا رہی ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر سی پیک میں شمولیت کی باتیں ہونے لگی ہیں ، حالانکہ بھارت بار بار مذاکرات کی دعوت ر عونت کے ساتھ مسترد کرتا رہتا ہے عین ممکن ہے وہ اسد عمر کی اس تازہ پیش کش سے بھی وہی سلوک کرے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت اِس منصوبے میں شامل ہو ا تو کیا وہ اِسے اندر سے تار پیڈو کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

بھارتی قیادت کی تنگ ظرفی کا تو یہ حال ہے کہ پاکستان نے کرتار پور بارڈر کھولنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے،جس پر شکر گزار ہونے کی بجائے اب بھارتی لیڈروں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ گوردوارہ سرحد کے اتنا قریب تھا تو تقسیم کے وقت اِسے بھارت کا حصہ کیوں نہ بنایا گیا، پست ذہنیت کا یہ مظاہرہ وزیراعظم مودی ہی کر سکتے ہیں،جن کے بارے میں ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقاعدہ تحریری طور پر کہہ رکھا ہے کہ ’’چھوٹے ذہن کے لوگ بڑے منصب‘‘ پر فائز ہو گئے ہیں، اب ایسے چھوٹے ذہن کے آدمی سے نہ جانے بڑی توقعات کیوں وابستہ کر لی گئی ہیں کہ وہ ماضی کو فراموش کر کے نئے حقائق کے ساتھ آگے بڑھے گا، اور خطے کا مفاد پیشِ نظر رکھے گا حالانکہ ماضی فراموش کرنے کے لئے نہیں سبق سیکھنے کے لئے ہوتا ہے اور پاکستان اِس بات کو فراموش نہیں کر سکتا کہ کِس طرح ریڈ کلف ایوارڈ میں ڈنڈی مار کر پنجاب میں مسلم اکثریت کے تین اہم اضلاع بھارت کے حوالے کر دیئے گئے، جو انصاف کے ہر پہلو سے پاکستان کا حصہ بننے چاہئے تھے،لیکن پنڈت نہرو نے سازش کے تحت اِن اضلاع کو بھارت کا حصہ بنوایا، خاص طور پر ضلع گورداس پور کے علاقے سے کشمیر کو راستہ جاتا تھا اِس لئے اسے بھارت کا حصہ بنایا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو کشمیر کی تاریخ مختلف ہوتی، کیونکہ مجاہدین آزادی نے جب کشمیر کی جنگ میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں اور سری نگر سے تھوڑے ہی فاصلے پر رہ گئے تو بھارتی وزیراعظم جنگ بندی کے لئے خود اقوام متحدہ گئے اور قرارداد کی منظوری سے پہلے اعلان کیا کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے گا،لیکن بعدازاں گورداس پور کے اِسی راستے سے بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل کیں اور پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد سارے وعدے وعید اور اعلانات بھلا دیئے۔ اور اب اٹوٹ انگ کا راگ الاپا جارہا ہے۔

حیرت ہے کہ اسد عمر ماضی کی ان ’’افسانوی کہانیوں‘‘ کو بھلانا چاہتے ہیں،لیکن مودی اِس ماضی کو یاد کر کے کہہ رہے ہیں کہ کانگرس نے غلطی کر دی ورنہ کرتار پور کا گوردوارہ تقسیم کے وقت ہی بھارت کا حصہ ہوتا ، اسے کہتے ہیں ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘ مودی کرتار پور کوریڈور کھولنے پر پاکستان کے کردار کی تعریف کرنے کی بجائے اب اِس معاملے میں اپنا ہاتھ اوپر رکھنا چاہتے ہیں اور جذبہ خیرسگالی کے تحت پاکستان کے اقدام کی اہمیت کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ایسے بھارت اور ایسی قیادت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دے کر نہ جانے اسد عمر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا اُنہیں اندازہ نہیں کہ بھارت اِس میں شامل ہو کر اس کی تباہی و بربادی کے لئے کیا کردار ادا کر سکتا ہے، اپوزیشن جماعتوں کو اِس معاملے کو فوری طور پر پارلیمینٹ میں اٹھانا چاہئے اور اس کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کرنی چاہئے تاکہ مستقبل کا گیم چینجر منصوبہ کسی کی کوتاہ نظری یا طفلانہ سوچ کی بھینٹ نہ چڑھ پائے۔