تین اکنامک زونز میں صنعتی یونٹس لگانے کیلئے فوری قبضہ کی منظوری 

 لاہو(سٹی رپورٹر)پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس (پڈمک) کے ماتحت تین اکنامک زونز میں صنعتی یونٹس لگانے کیلئے بنائے گئے پلاٹس کو ترجیحی بنیادوں پر فوری  قبضہ کی منظوری  جبکہ قائد اعظم بزنس پارک میں -25ایکڑ سے زیادہ انڈسٹریل پلاٹس پر صنعتیں لگانے والوں کو رعایتی پیکج دینے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس(پڈمک)کے  چیئرمین سید نبیل ہاشمی نے بتایا کہ متذکرہ ادائیگی کے پلان کا مقصد 25ایکڑ سے ذیادہ اراضی پر صنعتی یونٹ لگانے میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں اور اداروں کو یکمشت ادائیگی کا پابند بنانے کی بجائے تین سے پانچ سالوں کے اندر ادائیگی کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ان فیصلوں کی منظوری گزشتہ روز پڈمک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت چئیرمین سید نبیل ہاشمی نے کی۔ اجلاس کے بعد چئیرمین نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب میں بہاولپور انڈسٹریل اسٹیٹ کیلئے ایک ارب 25کروڑ روپے کے فنڈز مختص کر دیے ہیں جس سے جنوبی پنجاب کی ملتان کے بعد دوسری بڑی انڈسٹریل اسٹیٹ کو ڈویلپ کیا جائیگا۔ جس کا مقصد کم ترقی یافتہ علاقہ کو وسطی پنجاب کی ترقی کے ہم پلہ بنانا ہے تاکہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صوبہ پنجاب کو ملک کا بڑا صنعتی مرکز بنانے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پنجاب میں نئے اکنامک زونز کے قیام سے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو براہ راست روزگار کے مواقع حاصل ہونگے۔ 

اجلاس میں صوبہ پنجاب میں بننے والے دو انڈسٹریل زونز قائداعظم بزنس پارک اور رحیم یار خاں انڈسٹریل اسٹیٹ میں صنعتی آبادکاری میں اضافہ کیلئے ایڈوائزری بورڈز کے قیام کا فیصلہ کیاہے۔سید نبیل ہاشمی نے بتایا کہ ان ایڈوائزری بورڈز میں پرائیویٹ سیکٹر، اکیڈیمیا، فنانشل ایکسپرٹس، عوامی نمائندگان اور مختلف اقتصادی شعبوں کے ماہرین افراد کو نامزد کیا جائے گا جن کا تقرر ایک سال کیلئے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اراکین دونوں انڈسٹریل زونز میں صنعتی آبادکاری، ترقی اور بہتری کیلئے خدمات سرانجام دیں گے۔اس کے علاوہ اجلاس میں تین اسپیشل اکنامک زونز، قائد اعظم بزنس پارک اور سند ر انڈسٹریل اسٹیٹ سمیت صوبہ پنجاب میں پانچ  انڈسٹریل اسٹیٹس کو بجلی کی فراہمی کے لئے پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں پڈمک کے ماتحت سات انڈسٹریل اسٹیٹس میں فراہم کی گئی سہولتوں جن میں پانی، بجلی، سیوریج اور دیگر شامل ہیں کی دستیابی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔