ریلوے سعد رفیق دورمیں ترقی، شیخ رشید دور میں تنزلی کاشکار رہا، ذیلی پی اے سی 

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے کہاہے کہ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے دورمیں ریلوے نے ترقی کی جبکہ شیخ رشید کے دور میں ریلوے ترقی کی بجائے تنزلی کاشکار رہا،وزیرریلوے اعظم سواتی کو ریلوے کودوبارہ پٹری پر ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں کمیٹی نے وزارت ریلوے سے 2017سے اب تک ہونے والے حادثات،وجوہات،انکوائری رپورٹس اور سفارشات  سے متعلق عملدرآمد رپورٹ2ماہ کے اندرطلب کرلی،کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ریلوے ٹرینوں کی انشورنش کرائی جائے ریلوے لائنوں کے ساتھ زمین کومقامی لوگوں کودیاجائے تاکہ وہ وہاں درخت لگائیں دس سال بعد مقامی افراد 50فیصد درخت کاٹ کرلے جاسکتے ہیں۔منگل کے روز پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کااجلاس ریاض فتیانہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس  میں ہوا اجلاس میں،سینیٹر مشاہدحسین سید،اقبال احمد خان کے علاوہ وزارت ریلوے کے اعلی حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے  ریلوے حادثات پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے مسافروں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیاجبکہ ڈھرکی حادثے میں شہید وزخمیوں کی جلد معاوضہ و تمام سہولیات دینے کی ہدایت کردی۔ریاض فتیانہ نے کہاکہ خواجہ سعد رفیق  کے دور میں ریلوے میں ترقی ہوئی شیخ رشید کے دور میں ریلوے تنزلی کاشکارہوئی اب دوبارہ وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی اس کو ٹریک پر لارہی ہے اعظم سواتی نے بتایاکہ اس سال ہماراٹارگت 50ارب روپے ہے۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ گوادر میں ریلوے نے ادائیگی زیادہ زمین کی کی جبکہ زمین کم دی گئی۔ریلوے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ریلوے نے براہ راست زمین بلوچستان حکومت سے خریدی ہے اس میں ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ جمع کی ہے جس میں بتایا گیاکہ کوئی کرپشن نہیں ہوئی زمین کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ٹنڈوآدم سے محرب پور تک پٹری چوری ہوئی جس کی مالیت 40ملین تھی پر ریلوے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس بارے میں ابتدائی رپورٹ میں کسی ذمہ دارکا تعین نہیں ہوسکانئے  سرے سے اس کی انکوائری کررہے ہیں جس میں ڈی ایس سکھر اور آئی جی ریلوے شامل ہوں گے۔کمیٹی نے وزارت ریلوے سے 2017سے اب تک ہونے والے حادثات،وجوہات،انکوائری رپورٹس اور سفارشات پر عمل پر دوماہ کے اندر رپورٹ طلب کرلی۔

ذیلی کمیٹی