بلوچستان کی ترقی ناگزیر

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچستان ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں اَمن اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی سماجی اور اقتصادی ترقی ناگزیر ہے، وفاقی سطح پر کئے گئے اقدامات کا اثر ہر صوبے میں پر اثر ہونا چاہئے،بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے اور اِس شعبے میں ترقی سے علاقے کے لوگوں کے لئے معاشی سرگرمیوں اور روز گار کے مواقعے پیدا ہوں گے۔اُنہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمگلنگ اور غیر ملکی کرنسی کی غیر قانونی تجارت پاکستان کے وجود کے لئے خطرہ ہے،مقامی حکومت کی ملی بھگت سے سمگل شدہ ایرانی تیل کی27ہزار گاڑیاں روزانہ پاکستان میں داخل ہو رہی تھیں اور اِس دھندے میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کو اچھی خاصی رقم رشوت دی جا رہی تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ سمگلنگ کو جواز دینے کے لئے بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کو دانستہ خالی رکھا جاتا تھا تاکہ نوجوان غربت کے نام پر سمگلنگ میں ملوث رہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف11اشیاء کی غیر قانونی سمگلنگ کے سبب قومی خزانے کو35ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاک فوج نے اِسے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ایپکس کمیٹی کے اِس اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھی خصوصی شرکت کی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر غیر قانونی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے مکمل تعاون کرے گی تاکہ وسائل کی لوٹ مار اور اِن سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات کو روکا جا سکے۔اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فورم کو نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلوچستان میں انسداد دہشت گردی، سمگلنگ اور منشیات کے خلاف آپریشنوں، سی پیک اور نان سی پیک نجی منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکی ہنر مندوں کی سکیورٹی،غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی و اپسی کے بارے میں بریفنگ  کے علاوہ غیر ملکی کرنسی کو ریگولرائز کرنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

پاک فوج بارہا اِس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ نگران حکومت اور سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر معیشت کو درپیش چیلنجوں اور اسے نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف لڑائی میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔یہ بات تو واضح ہے کہ اگر تمام سرکاری ادارے بشمول پاک فوج یکسوئی سے معیشت کے دشمنوں کی سرکوبی میں جُت جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ گرتی معیشت کو مضبوط سہارا نہ مل سکے۔ریاست اِس وقت کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے، ایک طرف سیاسی ابتری ہے،سیاسی جماعتیں اپنی اپنی اَنا میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں،اپنی  ناکامیوں کا  ملبہ دوسروں پر ڈال رہی ہیں،انتخابات کا اعلان تو ہو چکا لیکن ابھی تک حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی جس وجہ سے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے چہ مگوئیاں بڑھ رہی ہیں۔دوسری جانب افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستانی سہولت کاروں  کے ساتھ مل کر بار بار ریاست پر وار کر رہے ہیں، نہتے شہریوں اور سکیورٹی اداروں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔پاکستان بار بار افغانستان کو اِس کی ذمہ داریوں اور وعدوں کا احساس دلا چکا ہے،وطن کے محافظ اگرچہ اپنی جانوں کی قربانیاں دیتے ہوئے اِن دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملا رہے ہیں لیکن معیشت کی بہتری کے لئے سیاسی استحکام کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ بھی از حد ضروری ہے۔ حالات میں معمولی سی بہتری نظر آ رہی ہے،ڈالر کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ڈیلروں پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کی آسمان کو چھوتی قیمت نیچے آئی ہے۔ بلوچستان میں ایرانی تیل کے ذریعے روزانہ کروڑوں کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف  اقدامات سے اِس سلسلے میں بھی بہتری نظر آرہی ہے۔نگران وزیرداخلہ توآرمی چیف کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی فوجی بھی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا تو اُس کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کے روشن مستقبل کی کنجی ہے۔ سی پیک اور نان سی پیک منصوبوں کی کامیابی کے ساتھ گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت پاکستانی معیشت کے لئے نیک شگون ہو گی۔ نگران وزیراعظم نے درست کہا ہے کہ سمگلنگ اور غیر ملکی کرنسی کی غیر قانونی تجارت پاکستان کے وجود کے لئے خطرہ ہے اورجتنی جلدی اِس خطرے کا تدارک کر لیا جائے،اتنا ہی بہتر ہو گا۔بلوچستان کا سینہ قیمتی معدنیات سے بھرا ہوا ہے۔پاک فوج کی نگرانی میں معدنیات کی کھوج کے کئی منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے جن میں بعض دوسرے ممالک بھی شریک ہونا چاہتے ہیں، بظاہر کامیابی ناممکن نہیں تاہم ضرورت ہے صرف یقین ِ محکم اور عمل پیہم کی۔بلوچستان کی ترقی پاکستان دشمن قوتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ یہاں کے اَمن کو بار بار تہہ و بالا کرتی ہیں، نوجوانوں کو نام نہاد آزادی کے نام پر بغاوت پر اُکسایا جاتا ہے۔ پاکستانی ادارے ایک عرصے سے اِس منفی پراپیگنڈے کا توڑ کر رہے ہیں،بہتر ہو گا کہ بلوچ نوجوانوں کو ملازمتیں دی جائیں انہیں بہتر مواقع مہیا کرکے قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے۔اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے اثرات پورے ملک پر منتج ہوں گے