Daily Pakistan
مرزا غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی تھی۔غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ 

حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے

دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے 

دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے

کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟

کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ 

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

تپش سے میری وقفِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے

وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے

چاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عُریانی کرے

نکتہ چین ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے

ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے

چاہیے اچھّوں کو جتنا چاہیے

ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں

سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہم

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے

گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے

کب وہ سنتا ہے کہانی میری

پھر اس انداز سے بہار آئی

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد

آ   کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے

جو نہ نقدِ داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے

پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟

کوئی امّید بر نہیں آتی

مزیدخبریں