Daily Pakistan

نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی

‏دن ٹھہر جائے، مگر رات کٹے

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے

مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں

میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئی

صبح کے ہونٹ کِتنے نیلے ہیں

اُس کے پیار کا مرکز میرے نقص میں ہے

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

کس کا چہرہ نقش تھا مہتاب میں

اپنی تنہائی کے منظر دیکھوں

وہ جس سے رہا آج تک آواز کا رشتہ

کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر

چھُونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک

رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کِس سے بولیے

کیا کیا نہ خواب ہجر کے موسم میں کھوگئے

موسم کا عذاب چل رہا ہے

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

گئے موسم میں جو کھِلتے تھے گلابوں کی طرح

وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھر جائے گا

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے

نیند تو خواب ہو گئی شاید

دل پہ اک طرفہ قیامت کرنا​

کوبہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

خیال و خواب ہوا برگ و بار کاموسم

چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں

بہت رویا وہ ہم کو یاد کرکے

چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی

قریۂ  جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے

رقص میں رات ہے بدن کی طرح

مزیدخبریں