سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 45

01 فروری 2018 (14:51)

قاضی عبدالستار

دیکھتے ہی دیکھتے دریائے زرفشاں( رودبردہ) کے دونوں کناروں پراونٹوں اور بھیڑوں کے بالوں کے خیمے،قلمکارنمدے کی بارگاہیں،حریرومخمل کے سراپردے،اونی اورریشمیں قناتیں اور چمڑے کی چھولداریاں کھڑی ہو گئیں۔مدور،مکعب اور مستقبل بارگاہوں پر مصری،سوڈانی،حجازی،یمنی اور کردستانی امیروں کے زرد،سرخ،سبز،نیلے اور سیاہ پھریروں پر زردوزی ذاتی نشان لہرانے لگے۔سپاہیوں کے ساتھ آئے ہوئے کوتل گھوڑوں،سامان کے خچروں اور انٹوں سے سر مئی جنگلوں کے درمیان بچھے ہوئے سبز پوش قطعے طویلے بن گئے۔دست کاروں،کاریگروں اور مزدوروں کی بستیاں آباد ہو گئیں۔توڑ کر پار کر لینے والے چھوٹے چھوٹے جنگی جہازوں،منجنیقوں اور دبابوں کی مصری کاریگروں نے مرمت اور تخلیق شروع کر دی۔نفخ اور آتش گیر مادے کے ذخیرے جمع ہونے لگے۔لوٹ میںآئے ہوئے جنگی سامان بازار لگ گیااور حکومت کے کماشے منھ مانگی قیمت پر خریدنے لگے۔آرمینیائے خردمیں مامور ایوبی امرار راستوں کی ہمواری اور حفاظت اور رسد فراہمی میں مصروف ہو گئے

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

زرفشاں کے کنارے اونچے مسطح میدان پر مدور بلند سبز بارگاہ نصیب تھی۔سراپردۂ خاص پر چاندی کی ڈانڈ میں آسمان سے باتیں کرتا ہوا وہ جھنڈا لہرا رہا تھا۔جس کے پھریرے پر اڑتا ہوا۔شیراسدالدین شیر کوہ کے کارناموں کی یاد دلا رہا تھا۔داخلے پر پابندی کے قدآدم شمع دانوں میں رات کی ادھ جلی شمیں اوربجھی ہوئی مشعلیں کھڑی تھیں۔سامنے کردپیدلوں کا راستہ زرکار لباس پہنے،مرصع قبضوں کی دمشقی تلوارلگائے،داہنے ہاتھوں میں ٹھوس چاندی کے عصائے پاسبانی کر رہا تھا۔ان کے قریب ہی کسے ہوئے عربی گھوڑوں کی قطاریں صبح کی خوشگوار دھوپ جگمارہی تھیں۔اندر کھجور کی چھال سے بھرے ہوئے چرمیں گدوں پر ریشمیں قالینوں کا فرش تھا۔قلمکار مخملیں اور دیواروں پر جگہ جگہ چھوٹے بڑے نقشے لٹک رہے تھے۔

وسط کی مسند پرملک العادل وزیروں اور امیروں کے حلقے میں گھرے بیٹھے تھے۔انکی پشت کی دیوار پر جہاز نقشے میںآسڑیا کے صلیبیوں کا راستہ سرخ روشنائی سے رنگا ہوا دور سے نظر آرہا تھا۔سامنے افسر الشرطہ اور افسرالبرید کے کاغذات ڈھیر تھے۔ایک ایک لفظ پڑھ کر وہ احکام بول رہے تھے اور ایک زانوپر بیٹھا ہوا کاتب لکھ رہا تھا۔کاتب کے پہلو میں وزاتِ جہاد کا معتمد،صالح دوزانو بیٹھا تھا۔ملک العادل نے اس کی طرف دیکھ کر حکم دیا’’والیوں اور ممالک محروسہ کے امیروں کے نام جو فرامین مہر شاہی کیلئے دارالحکومت بھیجے گئے تھے وہ پیش کرو‘‘

’’وہ ابھی تک وزیر جہاد نے واپس نہیں بھیجے‘‘

’’کیا!‘‘

انھوں نے ہاتھ سے وہ قلم رکھ دیاجس پر سفید عقاب کا پرلگا تھااور چہرے پر فکر کاسایہ کانپنے لگا۔

پھر سراپردۂ خاص کا اطلسیں پردہ ہلااور قصر سلطانی کا مہتم اعلیٰ سفاح سلام کرکے مودب کھڑا ہو گیا۔

’’بیٹھ جاؤ۔‘‘

نائب السلطنت نے حکم دیا اور بیمار خیالوں کی دنیا سے نکل آئے

’’میں تخلئے میں حضور عالی سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں‘‘

جب بارگاہ خالی ہوگئی تب سفاح نے زبان کھولی

’’کل صبح حاجیوں کے استقبال کیلئے سلطان السلاطین سوار ہوئے۔بازار زردوری سے نکلتے ہی بارش ہونے لگی۔امیر جلوس نے چاہا کہ مدرسہ ایوبی کے سامنے سواری روک لے لیکن حکم نہیں ملا۔سارا جسم شرابور ہو گیا۔واپسی پر تیزبخار تھا۔تہجد کے وقت سے غافل ہیں۔فجر کی نماز قضا ہو گئی۔فی الحال یہ راز چند قدیم نمک خواروں تک محدود ہے لیکن۔۔۔۔‘‘

اس سے زیادہ سننے کی تاب نہ تھی۔کھڑے ہوگئے۔تالی بجائی ۔حاضر ہونے والے غلام کو حکم دیا۔

’’سپہ سالارکو طلب کرو اور گھوڑے لگاؤ‘‘

جتنی دیر وہ تقی الدین سے سر گوشیاں کرتے رہے اتنے وقفے میں ذاتی رسالے کے سوار اور گھوڑے تیار ہو گئے۔سوار ہوتے وقت جاں نثاروں نے ایک زبان ہوکر سبب پوچھا۔پوری طمانیت اور بشاشت کے ساتھ جواب دیا۔

’’حکمِ سلطانی‘‘

ذہن راستہ بھر اڑتے ہوئے گھوڑوں کی رفتار سے تیز کام کرتا رہا۔انھوں نے ٹھنڈے منجھے ہوئے کارآزمودہ مدبر کی ذہین آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لیاجو پیش آسکتا تھا اور اس کے لئے آپ اپنے کو تیار کر لیا۔

ہمیشہ کی طرح باب الداخلہ پر گھوڑے سے اتر پڑے۔دستور کے مطابق سلطان السلطین کے ذاتی علم کو تلوار کے قبضے پر ہاتھ رکھ کر تعظیم دی۔درختوں اور پھولوں اور جانوروں کے پاس سے ٹہلتے ہوئے گزرے۔خدمت گزاروں اور غلاموں سے چھوٹے موٹے سوال کئے،معمولی معمولی باتوں پر حکم احکام دیئے اور قبہ سلطانی کی سیڑھیوں تک آگئے۔

نورالدین صاحبِ کیفا اور عمادالدین امیر ماردین وغیرہ کے سلام لئے،چہرے پڑے اور سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ایک منحوس اور سیہ پوش خاموشی طاری تھی۔سارا قبۂ شاہی شہزادوں،وزیروں،طبیبوں اور عالموں سے بھرا ہو ا تھا۔لیکن پیشانیوں کی شکنوں،ابروؤں اور آنکھوں کی جنبشوں کے سوازندگی کے آثار نہ تھے۔

سلطان ایوان میں لپٹے تخت پر لیٹے تھے۔ملک الاطبا ان کی بلند پیشانی پر دواؤں کا لیپ کر رہے تھے۔انھوں نے شہزادہ افضل اورشہزادہ ظاہر کے سروں پرہاتھ پھیرا ور گھٹنوں پر گر کر دستِ مبارک کو تھام لیا۔

طبیب خاص نے اشاروں ہی اشاروں میں پوری کیفیت بیان کر دی،پھر نائب السلطنت کے حکم سے باب الداخلہ کا پہرہ سخت کر دیا گیا۔نہ کوئی اندر آسکتا تھا اور نہ باہر جا سکتا تھا۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 46 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں