سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 46

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 46
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 46

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تین دن گزر چکے تھے اور سلطان غافل تھے اور دمشق کو معلوم تھا،بازاروں،ڈیوڑھیوں،حماموں اور دیوان خانوں میں متفکر آوازیں صرف ایک ذکر کر رہی تھیں اور سلطان کی بیماری کا ذکر تھا۔

اس دن جمعہ تھا اور ارباب سیاست کیلئے امتحان سلطان المسلمین جامعہ دمشق میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔حسبِ معمول قبہ شاہی کی سیڑھیوں کے نیچے ’’طاؤس زریں‘‘لگا دیا گیا تھا۔حسبِ معمول کی نچلی منزل میں اراکین سلطنت اور امرائے دولت مرصع پر چھائیوں کی طرح خاموش کھڑے تھے۔اذان ہوتے ہی زینے کے سیمیں دروازے سے ملک العادل اور ان کے پیچھے شہزادہ عزیز نمودار ہوئے،امیروں کے وسط میں کھڑے ہوکر عادل نے عزیز کو اپنے پاس بلایا،نکلتے قد،چھریرے اور کھلتی رنگت کا سوگوار شہزادہ سامنے کھڑا تھا۔متورم پیوٹوں کے نیچے آنکھیں غم سے گیلی تھیں۔ناک کی پھنگی سرخ تھی۔کئی دن کی ترش ہوئی سیاہ نکیلی اور ہلکی داڑھی کے بال ادھر ادھر نکلے ہوئے تھے۔عادل نے عزیز کے شانوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے اور دلگیر مگر فیصلہ کن آواز میں بولے۔

’’خدا ہمارے سروں پر ابدالآباد سلطان المسلمین کاسایہ قائم رکھے لیکن اگر قیامت صغریٰ کا ہمارے سروں پر ٹوٹ پڑنا مقدر ہو چکاہے۔تو تمھارے سامنے خم ہونے والا پہلا ملک العادل کا ہو گا۔تمہارے حقوق کی حفاظت کیلئے علم ہونے والی پہلی تلوار ملک العادل کے نیام سے نکلے گی۔‘‘

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’لیکن‘‘

’’ میں نائب السلطنت ہوں شہزادۂ بزرگ،ایوبیوں کی عظیم الشان سلطنت کے مستقبل کا فیصلہ عورتوں کی رقیق القلبِ جذباتیت کے ہاتھوں میں نہیں دیاجا سکتا۔سلطان نہ کسی کاچچا ہوتا ہے نہ بھتیجا۔سلطان صرف سلطان ہوتا ہے ۔جاؤ پراگندہ دل اسلامیوں کی اما مت کرو اور سلطانِ معظم کی صحت کی دعا مانگو۔‘‘

ان کی آواز سے آنسو ٹپکنے لگے۔اپنے عمامہ کے شملے سے آنکھیں پونچھیں پھر اپنے ہاتھوں سے شہزادے کا طربوش اتار لیا اور غلام کے ہاتھوں سے زردعمامہ لے کر باندھ دیا۔طاؤس زریں کی رکاب میں پاؤں رکھتے وقت شہزادہ کانپ اٹھا۔

ْقصرِشاہی کے باغوں اور میدانوں سے نکلتے ہی شامیوں کے غول نظر آنے لگے تھے جو ویران آنکھوں سے’’طاؤس زریں‘‘ پر سوار عزیز کو دیکھ کر تھے اور سر گوشیاں کر رہے تھے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگ رہے تھے۔مدرسہ ایوبی کے سامنے زبردست ہجوم تھا،یہ مدرسہ سلطان کی دینی خدمات کا اعلیٰ نمونہ تھا۔یہاں دنیائے اسلام کے جید عالم اور بے بدل فاضل درس دیتے تھے اور کونے کونے سے کھینچ کر آئے طالب علم شاہی خرچ پر علم حاصل کرتے تھے۔

سلطان کا دستور تھا کہ وہ ہمیشہ اس مدرسے کے دروازے پر اترتے تھے،عالموں اور طالبعلموں سے مصافحہ کرتے ان کی ضرورتیں سنتے اور رفع کرتے۔آج سلطان کے گھوڑے پر سلطان کے بیٹے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اب جامعہ دمشق ان کے سامنے تھی۔جامعہ دمشق جسکی تعمیر کے مصارف میں ملک شام کے سات برس کے اخراج کے علاوہ جزیرۂ قبرص سے لائے ہوئے سونے چاندی کے اٹھارہ جہاز بھی شامل تھے۔اس کے فرش کا کاشانی کام ایران اور ہندوستان اور بیز نطینہ کے کاریگروں کے کام کا اعلیٰ ترین نمونہ خیال کیا جاتا تھا۔شہزادہ وسطی محراب سے گزر کر اس حجرے کے سامنے آگیا۔جس کے اندر وہ گھڑی تھی اور جہاں سلطان المسلمین وضو کیا کرتے تھے ۔شہزادے نے وہیں بیٹھ کر وضو کیا اور اس جگہ کھڑا ہو گیاجہاں کھڑے ہو کرسلطان نماز پڑھا کرتے تھے،اس کے نیت باندھتے ہی ساری مسجد میں ہولناک سناٹا چھا گیا۔دور اندیش لوگوں کی دوربین آنکھوں نے مصیبت کے اٹھتے ہوئے سیلاب کو دیکھ لیا اور روئیے اورقاضی القضاۃ نے جب خطبے میں صلاح الدین کا نام لیا تو ہزاروں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھ گئے۔ہزاروں زبانوں نے صحت کی دعا مانگی۔نماز کے بعد ممبر پر کھڑے ہوئے امام نے طیلسانِ قضا کے دامن پھیلا کر دعامانگی۔

’’پروردگار! اس امت کے نیکوں کی نیکیوں کے صدقے میں سلطنت المسلمین کو صحت دے۔بارالہٰ ! بیت المقدس کی بازیابی کے تصدق میں سلطانِ معظم کی عمر مبارک میں برکت دے۔

رب العالمین! یہ شوکت وصولت جو تو نے اپنی امت کو سلطان اعظم کی تلوار کے واسطے سے عطا کی ہے اس کے طفیل میں سلطانِ اعظم پر رحم کر۔

اے گناہوں کے بخشنے والے! ہمارے جوان بیٹوں کی عمریں کاٹ لے اور محافظ اسلام کی زندگی میں پیوند لگا دے۔‘‘

ان کی آواز رندھ گئی،وہ ممبر پر کھڑے کانپتے رہے اور روتے رہے ۔آمین کے نعرے لگاتا ہوا ایک لاکھ نمازی فریادیں کرنے لگا اور آہ وبکا کے شور سے عبد الملک کی تاریخی مسجد کے درودیوار لرزنے لگے۔

دوسرے دن شام ہوتے ہوتے سلطان نے آنکھیں کھولیں۔تبسم فرمایا۔اٹھنے کی کوشش کی۔غلاموں نے پشت سے تکیے لگا دیئے۔نماز کا وقت پوچھا،تیمیم کرائے جانے کا حکم دیا۔مغرب کی نمازادا کی۔طبیب خاص نے جوکے پانی کا پیالہ پیش کیا۔ خوب سیر ہو کر پیا۔پھر اتنا پسینہ نکلا کہ لباس تبدیل کرنا پڑا۔اور عشاء کے وقت سارے دمشق میں صحت کی خبر اڑ گئی ۔شکرانے کی نمازوں سے ایک ایک صبح جب خاندانِ شاہی کی خواتین چلی گئیں اور شاہی طبیب شہزادوں کے ساتھ نبض دیکھنے حاضر ہوا تو آدابِ شاہی کی بجا کے بعد تمام دریچے کھول دیئے،باب الداخلہ پر عیادت آئی ہوئی آبادی کا ہجوم تھا۔دریچوں کا کھلنا دیکھ کر ان کی دعاؤں کا حجم بڑھ گیا، انتہائی نقاہت کے باوجود شور کا سبب دریافت کیا۔شہزادے خاموش کھڑے رہے۔ملک العادل نے جو چاندی کے تکیے دار تپائی کے مانند ایک کرسی پر بیٹھے سلطان کا ہاتھ دبا رہے تھے عرض کیا۔

’’دمشق کے علماء، اور صلحاء عیادت سلطانی کو حاضر ہوئے ہیں۔‘‘

سلطان نے سینے سے داہنا ہاتھ اٹھا کر تحت کے قالین پر ڈال دیا اور کمزور نگاہوں سے عادل کو دیکھا اور الفاظ توڑتوڑ کر بولے۔

’’ہمیں نیچے لے جاؤ۔‘‘

سلطان طبیب سرہانے سے چل کر پائینتی آگئے اور ہاتھ باندھ کر گزارش کی

’’نیچے تشریف لے جانا سلطان المسلمین کی صحت کیلئے مضر ہے ‘‘

جواب ملا ’’لیکن اخلاق کیلئے مناسب ہے‘‘تھوڑی دیر طبیب اور عادل ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس