Daily Pakistan

تجزیہ


تمام مودی مخالف سیاسی قوتوں کی قیادت کا سہرا راہول گاندھی کے سر بندھ گیا

عمران کو تولنے ماپنے کے لئے ترازو اور پیمانے الگ کیوں ؟

قومی اسمبلی کا چھٹا اجلاس شروع ہوگیا،کوئی قائمہ کمیٹی اب تک نہیں بن سکی

فارم کاغذ 45کا بیکار ٹکڑا، 48حلقوں کے ایک بھی فارم پر کسی کے دستخط نہیں

اعطم سواتی کے بعد کیا زلفی بخاری اور اسد عمر بھی استعفوں کی لائن میں لگ گئے؟

رنگ بازیاں اور جلدبازیا ں سب کو چھوڑنا ہونگی

کیا ایم کیو ایم اقتدار کی کشتی سے چلانگ لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

وزیر خزانہ اسد عمنر کے استعفے کی افواہیں کیوں پھیلائی گئیں ؟

پاک امریکہ تعلقات میں کبھی دو طرفہ قربتیں بڑھیں کبھی دو یاں تو کبھی تناؤ پیدا ہوا

چودھری سرور کو دیوار سے کون لگا رہا ہے ؟

مصطفے ٰ کھرنے گورنر ہاؤس کی دیوار پر خاردار تار لگوا دیئے تھے

پنجاب سول سیکرٹریٹ کا علاقائی دفتر بہاولپور میں بنے گا یا ملتان میں ؟

کنونشن سنٹر میں خواب دیکھنے والوں کو صبح ڈالر کی بھیانک تعبیر

منصوبوں پر افتتاحی تختیاں لگانے کا شوق فراواں ہمارے حکمرانوں کا مشترکہ ذوق ہے

’’گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں ‘‘ مودی کے یاروں کی تعداد میں اضافہ

حضور باغ کی تقریب میں پنجابی کلچر نظر آیا نہ لاہوریوں کی گرم جوشی

سشما سوراج لوک سبھاکے کے اگلے انتخابات سے پہلے سیاست کو الوداع کہہ دیں گی

جیل بھیجنے کی گردان ’’ہمیں یقین ہوا اہم کو اعتبار آیا ‘‘

حکومت کاآئی ایم ایف کی سخت شرائط نہ ماننا بڑی خبر

وزیراعظم معراج خالد نے طارق رحیم سے کہا ’’ میں آپ کے پروٹوکول میں پھنسا ہوا ہوں ‘‘

مزیدخبریں