تحریک انصاف کا اصل پروگرام ڈی چوک میں دھرنا دینا ہے

 تحریک انصاف کا اصل پروگرام ڈی چوک میں دھرنا دینا ہے

  

 تجزیہ: جاوید اقبال  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کی نظریں ایک مرتبہ پھر عمران خان  کے آزادی  مارچ پر لگ گئی ہیں  بحث چھڑ گئی ہے کہ عمران خان کا آزادی مارچ جو درحقیقت اسلام آباد پر چڑھائی ہے کامیاب ہو گا یا نہیں؟حکومت اس چڑھائی کو روک پائے گی کہ نہیں؟ حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی میرے خیال میں پاکستان تحریک انصاف کو یہ لانگ مارچ ہے سوائے تھکاوٹ کے کچھ نہیں دینے والا۔ پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ  دھرنا ہے جوپی ٹی آئی ڈی چوک میں دینا چاہتی ہے۔ حکومت  اس آزادی  مارچ اور دھرنے کو روکنے کے لیے اس اس مرتبہ CARROT and StiCKکی پالیسی اختیار کرے گی۔  اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت الرٹ ہونے سے پہلے پی ٹی آئی نے بڑی تعداد میں اپنے کارکنوں کو جڑواں شہروں مری اور اس کے قرب و جوار میں پہنچا دیا ہے  حکومت اور اس کے اتحادیوں نے لانگ مارچ کے مطلوبہ نتائج سے پی ٹی آئی کو دور رکھنا ہے یا پی ٹی آئی حکومت سے دنگل لگانا چاہتی ہے اس قدر حالات خراب کرنا چاہتی ہے کہ بعض دیگر طاقتور حلقے اس کا نوٹس لیں اور حکومت کو چلتا کریں۔سیاسی بابوں کے مطابق حکومت ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی اور پی ٹی آئی کو اس لانگ مارچ  سے فائدہ اٹھانے دینے کے حق میں نہیں ہے اس کے لیے حکومت قومی میڈیا کو بھی مینج کرے گی اور انٹرنیشنل میڈیا کو بھی مینج کرے گی۔ سیانے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ کا حملہ برداشت کر گئی تو پھر آئینی مدت پوری کرے گی یہ مارچ حکومت کے لئے اعصاپ شکن جنگ بھی ہوگا اور اس کی ذہانت کا امتحان بھی امت کو ہر طرف نظر رکھنا ہوگی کہ کوئی دشمن عناصر لانگ مارچ میں کود کر حالات کسی اور طرف نہ لے جائے ہوا تو یہ حکومت کے لیے خطرناک ہوگا حکومت کو ہر طرف آنکھیں کھلی رکھ کر اس کا سامنا کرنا ہوگا پی ٹی آئی ہر طرح سے چاہے گی کہ لانگ مارچ کے اندر حالات خراب ہو اور حکومت لاٹھی گولی کا استعمال آنے پر مجبور ہو جائے حکومت کو بردباری اور تحمل سے اس وار کا مقابلہ کرنا ہوگا پرامن طریقے سے اس کے لیے ہر محاذ پر حکومت نے ہر طرح کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کو لانگ مارچ کو ٹھنڈا ٹھار رکھنے کی تلقین کی ہے جس پر وزیراعظم نے اتفاق کیا ہے اور اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے لیے حکومت نے پورے پنجاب میں ذمہ دار ڈاکٹرز اور ڈی پی اوز کو تعینات کر دیا ہے اور ہدایات جاری کر دی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو ہر ضلع کی سطح پر روک لیا جائے اور اسلام آباد کی طرف نہ بڑھنے دیا جائے۔حقیقت میں یہ لانگ مارچ حکو مت اور اپوزیشن کا بڑا امتحان ہے حکومت کی حکمت عملی سے لگ رہا ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے گی۔جبکہ پی ٹی آئی  اس لانگ مارچ کے حوالے سے حکومت کو فارغ کرنا چاہتی ہے جس میں وہ سال بھر کامیاب ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔دوسری جانب عمران خان کے پی کے حکومت کے کندھوں پر قدم رکھ کر اسلام آباد کی جانب آج پڑاؤ کریں گے جس کے بعد یہ کہنا بھی غلط نا ہو گا کہ صوبائی اور وفاقی ادارے آج آمنے سامنے ہوں گے اگر ایسا ہوا تو یہ ملک کسی بڑے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

تجزیہ: جاوید اقبال

مزید :

تجزیہ -