سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 47

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 47
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 47

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پھر ایک تکیے دار ایوان لایا گیا۔سلطان دوسروں کی مدد سے اس پر دراز ہو گئے۔غلاموں نے پوری احتیاط کے ساتھ اسے اٹھا لیا۔قبہ سلطانی کی نچلی منزل کے جنوبی دالان میں دیوان لگا دیا گیا۔حریری پردے باندھ دیئے گئے،سنگین قدآدم کرسی سے باب الداخلہ تک مسلح سوار اس طرح کھڑے ہو گئے کہ آنے والے ایک طرف سے آئیں نیچے ہی سے دیدار حاصل کر لیں اور دوسری طرف سے چلے جائیں۔جب سب انتظامات مکمل ہو گئے۔

نائب السلطنت کو ہاتھ کا اشارہ کیا۔سفید،سبز اور دھاری دار کفتانوں،جبوں،عباؤں،چادروں اور عماموں اور ازاروں کا خاموش دریا چڑھ آیا۔سنگِ سیاہ کے قدِ آدم چبوترے پر زردستونوں کے درمیان اور مطلا عربی محراب کے نیچے چاندی کا دیوان رکھا تھا،سلطان اونچے تکیوں سے پشت لگائے دونوں ہاتھ مسند پر ڈالے لیٹے تھے۔کان کے پاس زردعمامے سے نکلے ہوئے کھچڑی بال چمک رہے تھے۔نیم خفتہ آنکھیں خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔اونچی ناک کے نیچے مہین ہونٹ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کانپ اٹھتے۔چمپئی رنگت زرد ہو گئی تھی۔

نیچے خود ملک العادل کھڑے عیادت کرنے والوں کی پرجوش بد نظمی کو سنبھالے ہوئے تھے،پھر غفلت طاری ہو گئی۔داخلہ مسدود کر دیا گیا اور حکم ہوا قصر دمشق کے تمام میدانوں اور باغوں کے سلسلوں پر پہرہ کھڑا کر دیا جائے تاکہ باب الداخلہ تک کسی کی رسائی نہ ہو سکے۔

دو شبنے کی رات کو قصرِ دمشق کے پہلو میں بنی ہو ئی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ کر طبیب شاہی اٹھنے لگا تو عادل نے اس کا بازو پکڑ کر بٹھا لیا اور دل سوزی سے بولے۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 46 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مجھے بتاؤ میرے بھائی کا کیا حال ہے؟۔۔۔اب میرے پیروں کے نیچے کی زمین ہلنے لگی ہے۔‘‘

’’عالم الغیب تو صرف ایک ہی ذات ہے نائب السلطنت۔غلام اپنے علم اور تجربے کی بنا پر صرف اتنا ہی کہ سکتا ہے کہ کل تک انشاء اللہ ہوش آئے گااور اگر کل کا دن ٹل گیا تو عالم اسلام کے سر پر منڈلاتی ہوئی قیامت ٹل گئی۔

’’آج کی رات‘‘

’’کیا۔۔۔۔ آج کی رات ‘‘

’’ آج کی رات بھاری ہے نائب السلطنت،مدتوں کی انتہاتکان نے جسم کی قوت سلب کر لی ہے جسم دواؤں کا اثر قبول نہیں کرتا،دمشق میں موجود تما م بڑے طبیبوں کا غلام نے مشورہ لیا ہے۔نسخہ میں لکھتا ہوں لیکن طبی دنیا کے وہ عالم اور عامل کرتے ہیں جن کا ثانی زمین اور آسمان کے مو جود نہیں ہے ‘‘

قبہ سلطانی کے نیچے میدان میں سپہ سالار تقی الدین سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق کھڑا تھا۔ان کو دیکھتے ہی آگے بڑھا۔کفتان کے دامن کو بوسہ دیااور تن کر کھڑا ہو گیا۔عادل نے ہاتھ کا اشارہ کیا۔

سیڑھیوں کے محافظ سوار اور پیادے ہیٹ گئے ۔تقی الدین نے آہستہ سے کہا۔

’’ حکم کی تعمیل ہو چکی ۔ممالک محروسہ کے امیروں والیوں اور سرداروں کو فرامین روانہ کئے جا چکے ہیں کہ سب اپنے اپنے مقام پر موجود رہیں ۔افواج آراستہ رکھیں اور حکم ثانی کا انتظار کریں،جو امراء دارالحکومت کی طرف حرکت کر چکے ہیں وہ فرمان دیکھتے ہی واپس ہو جائیں اور اپنے حدود کے انتظام و انصر ام پر گرفت مضبوط رکھیں‘‘

عادل نے صرف گردن ہلائی اور آگے بڑھنے لگے۔تقی الدین نے پوچھا۔

’’زرفشاں کے کنارے مقیم افواج کیلئے کیا حکم ہے۔‘‘

عادل نے بائیں طرف ایک قدم پیچھے چلتے ہوئے تقی الدین کو گردن گھما کر دیکھا ۔

’’کمر بندی اور انتظار۔‘‘

پھر یک لخت وہ کھڑے ہو گئے۔مرمریں راستے کے دونوں طرف زرنگاہ شمع دانوں کی ان گنت کا فوری شمعوں کی سفید ٹھنڈی روشنی میں تقی الدین نے عادل کی عقابی نگاہ کو دیکھا اور آنکھیں جھکا لیں

’’عرب اور عجم، مصر اور شام ،سوڈان اور بربر،کردستان اور ترکمان سب کے نیامیوں میں ایک دوسرے کی گردن کیلئے تلواریں تڑپ رہی ہیں۔ایک سلطان المسلمین کا اقبال انھیں بے نیام ہونے سے بازو رکھے ہوئے ہے ۔ان کی علالت کی خبر ساری دنیا میں پہنچ چکی ہے۔سالہا سال سے بیمار انسان کی سنگین علالت امکانات کے دروازے کھول دیتی ہے۔میں دیکھ رہا ہوں تقی الدین کہ امراء سازشیں کر رہے ہیں۔شیوخ منصوبے تیار بنا رہے ہیں۔تلواروں پر باندھ رکھی جاری ہے اور گھوڑوں پر زین۔حکم دو کہ اہم مقامات کی سرحدیں بند کر دی جائیں،شاہراہوں کی نگرانی شدید کر دی جائے ۔قلعہ دار ایک ایک لشکری کو سمیٹ کر قلعہ بندہو جائیں۔چپے چپے پر جاسوس کا جال بچھادیا جائے ۔قلمروکے ایک ایک قابلِ توجہ آدمی کی نگرانی کی جائے۔سفیروں اور یرغمالوں میں آئے ہو ئے امیروں کی حرکت و عمل پر پابندی عائد کر دی جائے۔امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کی گردن اڑا دی جائے ۔۔جاؤ رات چھوٹی ہے اور بڑاکام ہے‘‘

ابھی وہ سیڑھیوں پر تھے کہ شہزادہ طغرل سامنے آکرکھڑا ہو گیا۔

’’کیا خبر ہے‘‘

’’مصر کا امیر البحریہ اطلاع لیکر درِدولت پر حاضر ہو ا ہے کہ توڑ کر باہر کئے جانے والے دو سو جنگی جہازوں سے لدے ہوئے خچر آرمینیا کی سرحد کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘‘

عادل نے تھوڑی توقف کے بعد فیصلہ کن لہجے میں جواب دیا۔

’’فرما ں روائے آرمینیا کو حکم پہنچاؤ کہ قافلے کے قیام کا انتطام اور حکم ثانی کا انتطار کرے‘‘

ساری رات حکومت کے اہم دفاتر شمعوں کی مد ھم روشنی میں ٹمٹماتے رہے،پر چھائیوں کی طرح انسان آتے جاتے رہے ۔ڈاک کے گھوڑے اور کبوترزمین و آسمان پر ہوا کے مانند اڑتے رہے ۔برج سلطانی میں خانوادۂ شاہی بیدار رہا،بے قرار رہا،اطبا مشورے کرتے رہے ،نسخے لکھتے رہے،دوائیں بناتے رہے،علما قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے،نفلیں پڑھتے رہے اور دعائیں مانگتے رہے ۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس