فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر510

04 ستمبر 2018 (14:28)

علی سفیان آفاقی

امریکی فلمی صنعت میں تعصب ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔جن دنوں کمیونسٹوں اور اشتراکیوں کے خلاف امریکا کی سرد جنگ جاری تھی اس زمانے میں ہالی وڈ میں اشتراکی نظریات رکھنے اور ان کا اظہار کرنے والے فنکاروں ٗموسیقاروں ٗ ہدایت کاروں اور مصنفین کے خلاف ایک باقاعدہ تحریک چلائی گئی تھی اور ایک لحاظ سے ان کا حقہ پانی بند کر دیا گیا تھا۔امریکا یوں تو جمہوریت ٗانسانی حقوق ا ور اظہار رائے کا حق دینے کے سلسلے میں چیمپئن بنتا ہے لیکن امریکی نقطہ نظر کے خلاف اظہار رائے کو وہاں کبھی پسند نہیں کیا گیا بلکہ کھلم کھلا ان کی مخالفت کی گئی۔اس کے علاوہ امریکی ان فلم ساز فنکاروں اور تخلیق کاروں کو بھی پسند نہیں کرتے تھے جوامریکی شہریت اختیار کر کے اپنے سابق وطن سے قطع تعلق نہیں کرتے تھے۔اس سلسلے میں کئی برطانوی اور دیگر ملکوں کے فنکاروں کی مثالیں موجود ہیں۔

اشتراکیت کے خلاف امریکی صنعت فلم سازی کے تعصب کا یہ عالم تھا کہ ایسے افراد قریب قریب بے روزگار اور بیکار ہوگئے تھے۔اس زمانے میں ہالی وڈمیں کئی ایسی شاہکار فلمیں بنائی گئیں جنہیں آسکر ایوارڈ کا مستحق بھی سمجھا گیالیکن ان کے مصنف ایوارڈ لینے کیلئے سامنے اسٹیج پر نہیں آئے۔اس کی وجہ یہ بھی کہ یہ سب’’گھوسٹ رائٹر‘‘ تھے۔یعنی فرضی ناموں سے انہوں نے کہانیاں تحریر کی تھیں۔اگر وہ آسکر وصول کرنے کے لیے اسٹیج پر جاتے تو ان کی اصلیت کا بھرم کھل جاتا۔اس کے بعد وہ خود اور فلم ساز دونوں مشکل میں پڑ سکتے تھے۔

ہمیں یاد ہے کہ ہالی وڈ میح ایک بہت خوبصورت فلم بنی تھی جس کا نام ’’دی بریو ون‘‘(THE BARVE ONE)تھا۔اس کی کہانی یہ تھی کہ ایک جاگیر دار کے سائیس کا کم سن بیٹا ایک گھوڑے سے بچپن ہی سے محبت کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ گھوڑا بڑا ہونے کے بعد بڑی بڑی ریسیں جیتتا ہے۔جاگیردار اس پر بہت فخر کرتا ہے لیکن ایک بار یہ گھوڑا رکاوٹوں والی ریس کے دوران میں زخمی ہو جاتا ہے اور ہر قسم کی رکاوٹ سے خوف کھانے لگتا ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر509پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو سکتا اس لیے بہتر ہے کہ سسک سسک کر مرنے کے بجائے اس کو گولی مار دی جائے جو کہ ایک عام طریقہ کار ہے۔چھوٹا بچہ یہ سب سن لیتا ہے اور گھوڑے کی جان بچانے کیلئے ایک رات اس کو لے کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔راہ میں وہ بے شمار مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے لیکن بالآخر گھوڑے کو لے کر میڈرڈ پہنچ جاتا ہے۔ ایک بار وہ گھوڑے کی جان بچانے کیلئے پادری کی اجازت سے گھوڑے سمیت ایک گرجا گھر میں بھی پناہ لیتا ہے۔آخر کار ایک دن ڈاکو اس قیمتی گھوڑے کو لے کر بھاگ جاتے ہیں اور اس کو بل فائٹرز کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں۔

بچہ اس کی تلاش میں سر گرداں اور پریشان ہے۔اس کی تلاش کے سلسلے میں وہ بُل رنگ میں جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہی گھوڑا بُل رنگ میں موجود ہے۔ایک بُل فائٹر تلوار تھامے اس پر سوار ہے اور بُل ان دونوں پر حملے کر رہا ہے۔بچہ یہ دیکھ کر چیخ پڑتا ہے ۔اتفاق سے گھوڑے کا مالک جاگیر دار اور بچے کا باپ سائیس بھی وہاں موجود ہیں ارو وہ بھی اپنے گھوڑے کو پہچان لیتے ہیں۔یہ گھوڑا بُل فائٹنگ کے طور طریقوں سے قطعی نا آشنا ہے اور ڈر یہ ہے کہ کہیں غضب ناک بل اس کو شدیدیا ہلاک نہ کردے۔ایک بار جب بل حملہ آور ہوتا ہے تو گھوڑا ڈر کر بھاگتا ہے۔ سوار اس کی پشت سے گر چکا ہے مگر گھوڑا بل سے بچنے کیلے بگٹٹ بھاگ رہا ہے۔سارے رنگ میں وہ دوڑتا پھرتا ہے پھر جان بچانے کیلئے تیزی سے بھاگتا ہوا بل رنگ کے انتہائی اونچے گیٹ کو بھی پھلانگ جاتا ہے جو کہ بجائے خود کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔سب تماشائی گھوڑے کی یہ مہارت اور تیز رفتاری دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں۔گیٹ پھلانگنے کے بعد بھی گھوڑا بھاگتا چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ چھوٹا بچہ اس کے پاس جا کر چمکا ر کر روک لیتا ہے۔وہ گھوڑے کو لے کر دوبارہ فرار ہونا چاہتا ہے مگر اسی وقت جاگیر دار بھی اس کے باپ سمیت وہاں پہنچ جاتا ہے ۔وہ گھوڑے کی کارکردگی اور بچے کی محبت اور وفاداری سے متاثر ہو کر یہ گھوڑا اس بچے کو انعام میں بخش دیتا ہے۔

یہ کہانی انتہائی دلچسپ انداز میں فلمائی گئی تھی اور اس کے مصنف کو آسکر ایوارڈ بھی دیا گیامگر وہ تقریب میں ایوارڈ لینے کیلئے موجود نہ تھا۔وجہ یہ تھی کہ وہ ’’گھوسٹ رائٹر‘‘تھا اور دنیا کے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا۔

اسی زمانے میں اسکی فلم بھی بنائی گئی جس کا پس منظر اطالوی تھا۔یہ ایک بچے کی کہانی ہے جو اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا ہے اور اپنے پالتو گدھے سے بے حد محبت کرتا ہے۔وہ اس کے ساتھ بچپن ہی سے کھیلتا رہا ہے۔گدھا بڑا ہونے کے بعد شدید بیمار ہو جاتا ہے۔دوا دار و بے اثر ہوتے ہیں تو وہ پادری صاحب کے پاس دعا کرانے جاتا ہے مگر اس سے بھی افاقہ نہیں ہوتا ۔پادری صاحب کہتے ہیں کہ تم روم جا کر پوپ سے دعا کراؤ۔ممکن ہے ان کی دعا قبول ہو جائے اور تمہارا گدھا تندرست ہو جائے ۔اب ساری کہانی یہ ہے کہ بچہ اپنے گھر والوں سے چھپ کر گدھے کو لیکر گاؤں سے بھاگتا ہے اور بے شمار مشکلات سے دو چار ہونے کے بعد ویٹی کن سٹی پہنچ جاتا ہے۔

گدھے کو وہ ایک محفوظ جگہ چھوڑ کر پوپ سے ملنے کی کوشش کرتا ہے مگر پوپ تک رسائی نا ممکن ہے۔ہر طرف سخت پہرا اور بے شمار محافظ موجود ہیں جو اس کی خواہش سن کر ہنستے ہیں اور واپس گاؤں لوٹ جانے کو کہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں’’پوپ ایک مصروف انسان ہیں۔وہ بھلا ایک گدھے کیلئے دعا کیوں کریں گے۔‘‘

بچہ پھر بھی ہمت نہیں ہارتا اور بالآخر کسی نہ کسی طرح پوپ کے محل میں اور پھر اس کے کمرے تک پہنچ جاتا ہے۔پوپ اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔اسی اثنا میں محافظ بھی آ جاتے ہیں اور بچے کو پکڑ کر لے جاتا چاہتے ہیں۔بچہ پوپ سے فریاد کرتا ہے کہ یہ مجھے آپ سے نہیں ملنے دے رہے۔پوپ محافظوں کو واپس جانے کا حکم دے کر بچے کو اپنے پاس بلا کر اس کی آمد کا سبب دریافت کرتا ہے۔بچہ اس کو اپنی بپتا سنا کر درخواست کرتا ہے کہ براہ کرم میرے بیمار گدھے کیلئے دعا کریں تا کہ وہ صحت مند ہو جائے۔پوپ بچے کی مشکلات اور لگن سے متاثر ہو کر پیار سے اس کا سر تھپکتا ہے اور اس کے گدھے کی صحت مندی کیلئے دعا کرتا ہے۔بچہ گدھے کے پاس واپس پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ بالکل صحت مند اور چاق و چوبند ہے۔وہ پوپ کا غائبانہ شکریہ ادا کرتا ہے اور گدھے کو لیکر واپس اپنے گاؤں چلا جاتا ہے۔

یہ بھی ایک انتہائی دلچسپ اور خوبصورت فلم تھی۔اس کا نام’’نیور ٹیک نو فار این آنسر(NEVER TAKE NO FOR AN ANSWER)تھا جس کا مطلب یہ ہے انکار سن کر ہمت نہ ہارو۔کوشش جاری رکھو۔اس فلم کو بھی آسکرایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ہمارے ملک میں اس کو پہلی فلم کا چربہ قرار دے دیا جاتا کیونکہ دونوں فلموں کی تھیم ایک تھی۔مقصد ایک تھا۔دونوں کے مرکزی کردار ایک بچہ اور ایک جانور تھے۔دونوں کو اپنے مقصدکے حصول میں بے شمار مشکلات سے دو چار ہونا پڑا تھا لیکن دونوں کا اسکرین پلے اورکہانی بیان کرنے کا انداز یکسر مختلف تھا۔ان دونوں فلموں میں بچے کی اداکاری قابل تعریف تھی اور ہدایت کار نے ان فلموں کے تاثرمیں چار چاند لگا دیے تھے۔اس فلم کے اصلی مصنف کا بھی آج تک علم نہ ہو سکا۔وہ آسکروصول کرنے کیلئے بھی اسٹیج پر نہیں آیا تھا۔کیونکہ وہ بھی ایک ’’گھوسٹ رائٹر‘‘تھا۔اپنے سیاسی نظریات کی بنا پر اس کا حقہ پانی بند تھا۔امریکی فلمی صنعت اور ہالی وڈ کے تعصب کا یہ بھی ایک پہلو ہے پھر بھی امریکی خود کو انسانی حقوق کا علم بردار ٗجمہوریت اور آزادی اظہار کا چیمپئن کہتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں