فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر511

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر511
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر511

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دنیا میں ہم آئے دن نت نئے تماشے دیکھتے ہیں ،واقعات اور کہانیاں سنتے ہیں جن میں ناکام اور کامیاب لوگوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کامیابی کیاہوتی ہے؟ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے۔ کسی بھی شعبے میں ممتاز اور نمایاں مقام حاصل کرنا کامیابی کہلاتی ہے۔ کچھ لوگ کامیاب ہو کر بے انتہا شہرت کماتے ہیں لیکن تہی دست ہی رہتے ہیں۔ کچھ لوگ بے اندازہ دولت کماتے ہیں لیکن شہرت ان کو چھو کر بھی نہیں گزرتی۔ کتنے ارب پتی، کروڑ پتی اور دولت مند لوگوں کو آپ جانتے ہوں گے جن کے بارے میں دوسرے لوگ (جن کا ان کے حلقے سے تعلق نہ ہو) کچھ بھی نہیں جانتے۔ وہ ساری عمر دولت کے انبار سمیٹتے رہتے ہیں مگر گمنام ہی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دولت مند لوگ مشہور شخصیات کے سہارے شہرت اور ناموری حاصل کرنے پر آنکھیں بند کرکے دولت صرف کر دیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں شہرت حاصل کرنے کا ایک طریقہ معروف لوگوں خصوصاً ستاروں کے ذریعے شہرت کمانا بھی ہے۔ بہت سے اسمگلرز، بدمعاش ، جواری، جاگیردار، زمیں دار اور دوسرے کاروباری حضرات محض نام کمانے اور کسی اداکارہ کا قرب حاصل کرنے کی خواہش اور آرزو لے کر فلمی صنعت میں در آئے ۔ کچھ نے نام کمایا۔ بیشتر گمنام ہی رہے۔ بے شمار دولت لٹا کر فلمی دنیا سے ایسے رخصت ہوئے کہ کسی کو ان کا نام بھی معلوم نہیں ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر510پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ناکامی کیا ہے؟ یہ کامیابی کا دوسرا رخ ہے۔ ایسے بد قسمت لوگ صلاحیت ، ذہن اور دوسری تمام خوبیوں کے مالک ہونے کے باوجود ساری عمر نہ تو دولت حاصل کر سکتے ہیں نہ شہرت۔ حالانکہ ان سے کم تر صلاحیتیں اور قابلیت رکھنے والے لوگ سب کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ آپ نے بھی ایسے کئی افراد کو دیکھا ہوگا اور حیران ہوئے ہوں گے کہ آخر یہ زندگی کے میدان میں اتنے پیچھے اور پھسڈی کیسے رہ گئے۔ حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے۔ اس کے برعکس احمق، نااہل اور بے صلاحیت لوگوں نے شہرت اور کامیابی کے زینے بہت آسانی سے طے کر لیے۔ آخر اس کا کیا سبب ہے؟ اس بارے میں ماہرین نفسیات ، عمرانیات اور ذہنی امراض کے ماہروں نے اپنے اپنے تجربات اور تحقیق کی بنا پر بے شمار کتابیں لکھ دی ہیں اور منطق ، دلائل اور حقائق کی روشنی میں اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ جب کسی انسان کی تقدیر میں ہی کامیابی، شہرت اور دولت نہ ہو وہ چاہے کتنے پاپٹر بیلے، ان چیزوں سے محروم ہی رہتا ہے۔ اس کی تمام تر صلاحیت، کوشش، محنت اور لگن رائیگاں ہی جاتی ہے۔ خوش نصیب لوگ اس کے برعکس سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں اس کو خدا کی رضا کہتے ہیں، تقدیر کہتے ہیں۔ قسمت کا لکھا تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی خاصی طویل زندگی اور اس سے بھی زیادہ طویل اور گوناگوں تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہی دیکھا اور جانا ہے کہ انسان کو وہی کچھ حاصل ہوتا ہے جو اس کی تقدیر میں لکھ دیا جاتا ہے۔ خواہ آپ ناکامی اور کامیابی کی ہزار تاویلیں پیش کریں۔ اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔

قضا و قدر کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ یہ بھی ایک نظریہ ہے کہ انسان تدبیر سے اپنے تقدیر بدل سکتا ہے لیکن آپ نے خود مشاہدہ کیا ہوگا کہ یہ محض ایک مقولہ ہے۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے کہ بھئی جو قسمت میں لکھا ہے وہ تو ہونا ہی ہے پھر ہم بلا وجہ کیوں دوڑ دھوپ کریں۔ جیسا کہ غالب نے کہا ہے کہ ۔۔۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

آپ کہیں گے کہ دیکھیئے یہ شخص پھر غالب سے سندر لے آیا مگر ایسا نہیں ہے۔ غالب بھی قضا و قدر کے مسئلے سے واقف تھے اور غالباً اس کے قائل بھی تھے مگر انہوں نے مایوسی اور نا امیدی سے ہمیشہ پہلو تہی کی ہے۔ جس قدر پریشانیاں غالب نے اٹھائی ہیں جتنے دکھ اور صدمے سہے ہیں جن ناکامیوں سے دوچار ہوئے ہیں جیسی ناقدری کا شکار ہوئے ہیں اگر کوئی اور ہوتا تو حزن و ملال کی تصویر بن کر رہ جاتا۔ میر کی مایوسی اور فانی کی غم گینی کا مرقع بن کر رہ جاتا۔۔۔مگر غالب نے ایسا نہیں کیا۔ ان کے کلام کی شوخی، شگفتگی اور زندگی کے بسارے میں امید افزا نقطۂ نظر ان کی زندہ دلی کا نمایاں ثبوت ہے۔ انہوں نے برے سے برے حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور آخر دم تک اپنے مصائب و آلام پر اور خود اپنے آپ پر مسکراتے ہی رہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کوشش اور تگ و دو ہی نہ رکے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم اپنے سوا کسی اور کو نہیں بخشا۔ ذرا تصور فرمائیے کہ اگر انسان کو اپنے مستقبل کے بارے میں علم ہو جاتا اور وہ یہ جان سکتا کہ قدرت نے اس کی قسمت میں کیا لکھ دیا ہے تو دنیا کا کیا رنگ ہوتا؟ جسے معلوم ہوتا کہ زمانے بھر کی خوشیاں، کامیابیاں اور کامرانیاں اس کا مقدر ہیں اور کسی وقت اس کی قسمت کا ستارہ جگمگائے گا تو وہ بھلا کوشش اور محنت کیوں کرتا۔ اطمینان سے بیٹھ کر اس وقت کا انتظار شروع کر دیتا جب اس کے دن پھریں گے۔ اسی طرح جس شخص کو یہ علم ہو جاتا کہ اس کی قسمت میں تو غربت، افلاس، بیماریاں، محرومیاں اور مایوسیاں ہی لکھی ہیں تو وہ بلا وجہ کوشش اور بھاگ دوڑ کیوں کرتا۔ صبر وشکر کرکے بیٹھ جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا نظم وضع کر دیا ہے جس کے باعث ہر انسان اچھے دنوں کی آس پر محنت اور کوشش میں لگا رہتا ہے کہ خدا جانے کب قسمت اس پر مہربان ہو جائے اور اس کے دن پھر جائیں۔

دنیا میں ایسے خوش نصیب لوگ بہت کم ہوتے ہیں کہ جو اپنی خواہشات اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنتے دیکھتے ہیں۔ جس چیز کی وہ تمنا کرتے ہیں اللہ انہیں اس سے نواز دیتا ہے۔ راتوں رات فلم اسٹار یا فنکار بننے کے واقعات تو بہت سے ہیں مگر اداکار ریمبو کو جس طرح اداکار اور پھر ہیرو کا درجہ حاصل ہوا ہے اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ ریمبو گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی فلمی صنعت کا ایک معروف فنکار ہے۔ اس نے کامیڈی کردار بھی کیے۔ سائیڈ ہیرو کے طور پر بھی کام کیا اور پھر کئی فلموں میں ہیرو کی حیثیت سے بھی جلوہ گر ہوا۔ آئیے ذرا اداکار ریمبو کی فلمی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ