امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 12

07 ستمبر 2017 (14:01)

سید بدر سعید

’’میں سی آئی اے کا ایجنٹ تھا‘‘ ۔ یہ ان جھوٹوں میں سے ایک تھا جو میڈیا نے میرے بارے میں پھیلا رہا تھا ۔ پاکستانی میڈیا خاص طور پر اس حوالے سے سخت کردار ادا کر رہا تھا ۔اس نے ہر طرح کے پاگل پن پر مبنی کہانیاں شائع کیں ۔ جیسے کہ کہا گیا کہ میری ذاتی افغان آرمی تھی اور میں طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا تھا۔میں اسلام آباد میں سی آئی اے کا اسٹیشن چیف تھا اور ذاتی طور پر اسامہ بن لادن کو شکار کرنا چاہتا تھا ۔ اسی طرح کی کئی کہانیاں پھیلائی گئی تھیں جن پر میرا خاندان اور دوست اپنا سر پیٹنا شروع ہو گئے۔یہ خبر کہ میں ایک جاسوس تھا خاص طور پر میری بیوی کے لئے مشکل ترین خبر تھی کیونکہ اسے اس کے مبینہ نتائج بھگتنا پڑنا تھے ۔ جب لوگ دلچسپ اور غلط یا سچی مگر بے زار کہانی سنتے ہیں تو وہ دلچسپ مگر غلط بات کو آگے پھیلانے میں دلچسپی لیتے ہیں ۔ مجھے اکثر بتایا گیا کہ مجھے باہر نکالنا امریکی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے لیکن مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ پس پردہ کیا ہو رہا ہے ۔ بہت کم لوگوں نے میری رہائی میں دلچسپی لی تھی ۔ امریکی حکومت نے دو طرفہ پالیسی اپنائی ، ایک وہ جو بظاہر دیکھی جا سکتی تھی اور دوسری وہ پالیسی جو خفیہ رکھی گئی۔پاکستان میں اس وقت کے امریکی سفیر نے کہا کہ تم اس پالیسی کو پانی کے اوپر اور پانی کے نیچے کی پالیسی کے طور پر بیان کر سکتے ہو ۔ پانی کے اوپر ہم احتجاج کر رہے تھے کہ پاکستان کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ ریمنڈ کو عدالت میں لیجائے جبکہ پانی کے نیچے وہ رہائی کے لئے مذاکرات شروع کر رہیے تھے ۔ اس کے علاوہ دو مزید کردار ایسے تھے جنہوں نے پانی کے نیچے مزید کام کیا ۔ ان میں ایک سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور دوسرے آئی ایس آئی کے ڈی جی شجاع پاشا تھے ۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب میں ریمنڈ کی بیوی کے تاثرات بھی شامل ہیں ،وہ کہتی ہیں

ریمنڈ ڈیوس کو گرفتار ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا اور اب مجھے یہ ڈر لاحق ہو گیا تھا کہ شاید وہ کبھی واپس نہ آ سکے ۔ ہماری شادی کے بعد ہم نے بہت کم وقت ایک ساتھ گزارا تھا ۔ ہمارے درمیان کوئی خاص رومانی تعلق بھی نہیں بن پایا تھا بلکہ کاروباری پارٹنر کی طرح ہم ایک دوسرے کی ہر ممکن مدد کرتے تھے تاکہ ایک دوسرے کے لئے محبت کی بجائے اطمینان کا باعث بن سکیں ۔یہاں تک کہ جب وہ گھر ہوتا تھا تب بھی ذہنی طور پر گھر میں نہیں ہوتا تھا ۔ وہ جسمانی طور پر تو گھر میں ہی ہوا کرتا تھا لیکن اس وقت بھی اس کا ذہن کہیں اور ہوتا تھا ۔ جب وہ اپنے مشن کے لئے پاکستان جانے کی تیاری کر رہا تھا تب ان چند ہفتوں کے دوران تو میں نے اسے بہت کم ہی دیکھا تھا ۔ میرے والد کینسر کی وجہ سے مر رہے تھے اور میں ان آخری ہفتوں میں ریمنڈ کو اپنے بیٹے کے پاس چھوڑ کر ایک ہفتے کے لئے اپنے والد کے گھر چلی گئی تھی تاکہ اپنی بہنوں کے ساتھ مل کر انہیں ہسپتال داخل کروا سکوں اور ان کا گھر صاف کر سکوں ۔ جب میں واپس گھر آئی تو اس سے اگلے ہی روز ریمنڈ پاکستان چلا گیا تھا ۔

جب ریمنڈ گرفتار ہوا تو اس کے سپروائزر ہر روز مجھے فون کر کے ساری صورت حال سے آگاہ کرتے تھے حالانکہ ایک اہم عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے وہ بہت مصروف تھے لیکن اس کے باوجود وہ میرے لئے وقت نکالتے تھے اور میرے مسائل میں دلچسپی لیتے تھے ۔ ان دنوں وہ مجھ پر بہت مہربان رہے۔وہ میرے بچے کے بارے میں پوچھتے رہتے اور پھر دن کیسا گزرا ، کسی چیز کی ضرورت تو نہیں جیسی باتیں بھی پوچھتے تھے ، یہاں تک کہ انہوں نے مجھے ویلنٹائن ڈے پر بھی فون کیا اور تین ہفتوں بعد میری اور ریمنڈ کی شادی کی سالگرہ پر بھی ہم نے ہر چیز اور معاملے پر گفتگو کی ۔ اکثر تو ٹیلی فون پر یہ گفتگو ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہتی تھی ۔(جاری ہے)

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 13  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان آنے والاایسا امریکی جاسوس قرار دیا جاتا ہے جس نے لاہور میں دو افراد کودن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر گرفتار ہوا ۔ اس پر قتل کا مقدمہ چلا اور قریب تھا کہ اسے سزائے موت سنا دی جاتی لیکن حالات نے ڈرامائی موڑ لے لیا ۔ اچانک مقتول کے ورثا دیت پر راضی ہو گئے ۔ کروڑوں روپے دیت کی رقم کس نے ادا کی اس پر متضاد رائے ہے کیونکہ کوئی بھی اس رقم کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہوا ۔ بہرحال یہ شخص جسے کبھی سفارتی عملہ کا حصہ قرار دینے کی کوشش کی گئی تو کبھی اسے بلیک واٹر کے قاتل کورڈ کا حصہ قرار دیا گیا، باآسانی پاکستان سے امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔ وہاں اس نے اس ساری صورت حال پر ’’ کنٹریکٹر ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ ڈیلی پاکستان آن لائن میں قسط وار پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ادارہ یا قاری کا اس کتاب کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔ کتاب پڑھتے وقت یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ کتاب ایک ایسے شخص نے لکھی ہے جو خود کو کچھ بھی کہے لیکن پاکستان کے عوامی حلقوں میں اسے جاسوس قرار دیا جاتا ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کے عزائم اور اسکے ’’مالکوں‘‘ کی فطرت اور طریقہ کار کو سامنے لانے کی غرض سے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرنا قومی مفاد کا درجہ رکھتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی اس کتاب میں جو ’’انکشافات‘‘ کئے گئے ہیں انہوں نے ایک بار پھر پاکستانی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے ۔ کتاب کا ترجمہ و تلخیص نامورتحقیقاتی صحافی سید بدر سعید نے کیاہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں چھپنے والی پہلی اردو تحقیقاتی رپورٹ سید بدر سعید نے ہی لکھی تھی ۔ مصنف اس سے قبل ’’خودکش بمبار کے تعاقب میں ‘‘ اور ’’صحافت کی مختصر تاریخ . قوانین و ضابطہ اخلاق ‘‘ جیسی تحقیقاتی کتب لکھ چکے ہیں ۔ انہیں دہشت گردی ، طالبانائزیشن اور انٹیلی جنس امور پر اتھارٹی سمجھا جاتا ہے ۔وہ پاکستان کے اہم صحافتی اداروں میں اہم عہدوں پر ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں ۔

مزیدخبریں