A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . آخری قسط

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . آخری قسط

Feb 08, 2018 | 11:15:AM

قاضی عبدالستار

ملک العادل کے حکم پر مقربین بارگاہ کے علاوہ تمام درباریوں کو قصر کے پچھلے دروازے ’’باب الشمس‘‘سے گزار دیا گیا۔ایک بار سلطان کی آنکھ کھلی تو دیکھا جیسے سامنے قحطان کھڑا ہے ۔

’’قحطان!‘‘

دھندلی دھندلی سوگوار صورت میں سر سے پاؤں تک کاسۂ گدائی ہوا ایک لفظ ایک حکم کی بھیک مانگ رہا ہے۔ایک حکم جو کتنے ہی ملکوں کو تباہ کر ڈالنے والی لڑائی کے جہنم روشن کر سکتا تھا۔وہ کمزور نظروں سے اسے دیکھتے رہے،پھر ہاتھ کے اشارے سے قریب آنے کا حکم دیا۔پلکیں جھپکاکر پوری آنکھیں کھول کر دیکھا تو مفتی اعظم سامنے کھڑے تھے اور تلاوت کر رہے تھے، ان کے سر سے بوجھ ٹل گیا اور قرآن پاک کی آیتوں کے دریائے معافی میں ڈوب گئے۔جب قاضی القضاۃنے آیت کریمہ کے الفاظ ’’لا الٰہ الاھو‘‘ادا کئے تو اپنی زبان سے بھی یہ مبارک الفاظ دہرائے،جب قاضی اعظم نے’’ علیہ تو کلت‘‘پڑھا تو تبسم فرمایا۔چہرہ یک بیک منور ہو گیا اور جان جان آفرین کو سونپ دی۔

( انا للہ واناالیہ راجعون)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دفعتًا زمین وآسمان منقلب ہو گئے۔غلاموں،خواجہ سراؤں،محبوب کردوں اور ترکمانوں منظورنظر بدوؤں،مقرب بارگاہ شامیوں اور مصریوں اور عزیزاز جان مملوکوں کی بے پنا آہ وزاری کنگرۂ فلک سے ٹکرانے لگی۔کئی گھڑی دن باقی تھالیکن سورج سیاہ پوش بادلوں میں منھ چھپاکر پڑ رہا،منحوس کڑک اور بھیانک گرج کی زبان میں علان تھا کہ آج دنیا پر آسمان سے نازل ہونے والی تمام رحمتیں اٹھا لی گئیں۔صحت کی خبر سے مسرور دمشق پر سکتہ چھا گیاجیسے کسی بوڑھے باپ کا تاج پوش اقبال مندبیٹا باتیں کرتے کرتے مر جائے اور وہ ہوش و حواس کھو دے۔خود اطبائے شاہی اپنی پوری خنک مزاجی اور آزمودہ کا ری کے باوجود صحتِ سلطانی کو درست خیال کر رہے تھے،ان کے علم اور تجربے کے مطابق خطرے کی گھڑی ٹل چکی تھی،ان کے نسخے اطمینان بخش نتائج دے رہے تھے ۔وصیت کیلئے طلب کئے ہوئے دربار کو وہ سلطان المسلمین کی انتہائی دین داری اور سیاسی بصیرت پر محمول کر رہے تھے،جب سلطان کے اچانک آنکھیں بند کر لینے سے بد حواس ہو گئے اور عامیوں کی طرح ایک دوسرے سے رحلت کا سبب دریافت کرنے لگے۔سارا دمشق گھر میں بند ہو کر بیٹھ رہا۔ایک ایک مکان اور ایک ایک دکان کے درخت کے دروازوں کی طرح بند تھے۔سڑکوں پرطاعون چل گیا تھا۔بڑے بڑے امیر جن کے جلوس کے ساتھ دس دس ہزار گھوڑے چلتے تھے اپنے زنان خانوں میں مصلے بچھائے بیٹھے تھے اور حفظِ اماں کی دعائیں مانگ رہے تھے۔بغداد،قونیہ اور آرمینیا کے سفیر اور ممالک محروسہ کے نمائندے سیاہ لباس اور خالی نیام پہنے باب الداخلہ کی بیرونی محرابوں میں ننگے سر کھڑے تھے۔نائب السطنت کے حکم کا انتظار کر رہے تھے اور فرامین لے جانے والے سیاہ کبوتروں اور سیاہ گھوڑوں کی اڑان اور رفتار دیکھ رہے تھے ۔

بادشاہ مرتے نہیں۔جب تک تھک کر رہ جاتاہے یا سو جاتا ہے تو دوسرا اس کے زندہ یا مردہ جسم کو تحت سے گھسیٹ کر پھینک دیتا ہے اور خود قبضہ کر لیتاہے لیکن جب کوئی ایسا عظیم انسان اس جہان سے اٹھتا ہے جس کی موت سے شفقت،محبت،صداْقت۔شرافت،سخاوت،علم و فضل اور عدل و انصاف کے ادارے مرجاتے ہیں،تو شہرروتے ہیں اور ملک سیاہ پوش ہو جا تے ہیں۔کھیتوں سے شادابی اور منڈیوں سے برکت کرنے والے زہریلے شہات اور اندیشوں کی آسمان سے بارش ہوتی ہے اور تاریخ کے صفحات اس کی ملت،اس کی قوم کے کارناموں کے ذکر سے مدت تک،صدیوں تک،قرنوں تک خالی رہتے ہیں۔صلاح الدین کی موت ایسے ہی ایک انسان کی موت تھی۔اس موت نے صدیوں کے بعد بازیاب کئے ہوئے اداروں کو قرنوں تک کیلئے کھودیا،چھتناربرگد کے گھنے اور ٹھنڈے اور محفوظ سائے میں بیٹھی ہوئی امت اس زلزلے سے بلبلا اٹھی جسکی ہلچل ایشیا سے یورپ تک یکساں محسوس کی گئی۔

اس وقت جب کہ اندازہ ناک آوازوں سے قصرِ دمشق کے ایوان لرز رہے تھے، آنسوؤں سے زمین نم تھی اور آہوں سے آسمان سیاہ تھا۔اراکین سلطنت نے اندر سے ٹوٹے ہوئے نائب السلطنت کو مشورہ دیاکہ سلطان المسلمین کی عاشق رعایا غم سے پاگل ہو چکی ہے اور اس کو تلوار ہی سے سنبھالا جا سکتاہے جو آئین سیاست کے خلاف ہے۔اس لئے مناسب ہے کہ قصر شاہی کے خانہ باغ میں آخری رسوم ادا کر دی جائیں۔عادل نے تامل بعد اثبات میں گردن ہلا دی۔ان گنت انسانوں نے آنسوؤں سے وضو کیا۔ہچکیوں سے تکبر یں کہیں اور باب الداخلہ میں رکھے ہوئے جنازے کی نماز پڑھی۔

وسیع اور عریض خانہ باغ خوشبودار مشعلوں اور کافوری شمعوں کی سیاہ روشنی سے سیاہ پوش تھااور پہلی بار مختصر معلوم ہو رہا تھا۔کہیں کھڑے ہونے کی جگہ نہ تھی۔جب ملک العادل نے قبر میں میت اتار دی تب ملک العزیزان مملوکوں کی صف جو خاص سلطان المسلمین کی رکاب میں ترتیب پائے ہوئے تھے اور جن کی اولاد کے نام یہ شرف لکھا تھا کہ نصف صدی بعد چنگیز کی فاتح عالم فوجوں کو پاما ل کریں اور قاہر مغلوں کی مغرور گردنوں سے قاہرہ کی گلیاں بھر دیں۔شاہزادۂ افضل کے دونوں ہاتھوں پر رکھی ہوئی تلوار اٹھالی جو چھبیس برس تک سلطان اعظم کے پہلو سے لگی رہی تھی۔جس نے چھبیس برس تک اسلامیوں کی حفاظت کی تھی۔جس سے ساری دنیا کی عیسائی تلواروں نے پناہ مانگی تھی،جس نے ایک صدی سے کھوئے ہوئے سنگین صحیفے کو بازیاب کیا تھا۔سادے فولادی ہلالی قبضے کو بوسہ دیا،زرد چمڑے کے نیام کو ادب سے پکڑا اور آخری زیارت کیلئے علم کر دیا۔آنسوؤں سے دھندلی آنکھوں کے سامنے کاغذ کی ایک لمبی پتلی چٹ نیام سے گر پڑی۔ملک العزیز اسی طرح تلوار علم کئے ہوئے آگے بڑھے اوراس کے آقا کے پہلو میں لٹکا دیا۔کاغذ کا وہ پرزہ جو یورپ کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولنے کیلئے دمشق آیا تھالا علم قدموں کے نیچے کچل کر مرگیا جیسے قوانین تاریخ کے قدموں سے کچل کر مرجاتی ہیں۔

(ختم شد)

مزیدخبریں