A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر83

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر83

Sep 08, 2017 | 14:33:PM

اس کی آنکھیں کبوتر کے خون کی طرح سرخ ہوگئیں۔ کچھ دیر تو میں بوکھلایا ہوا اسے دیکھتا رہا پھر اچانک میرے جسم میں آگ سی بھر گئی۔

’’کون ہو تم۔۔۔میری بیوی کے جسم پر قبضہ کرنے کی تمہاری جرات کیسے ہوئی؟‘‘ میں نے دبنگ لہجے میں پوچھا۔

’’تم ایک ملیچھ مسلے ہو کر ہمرے دھرم کی ناریوں سنگ بلات کار کر سکتے ہو تو میں تمری پتنی سنگ کیوں نہیں؟‘‘

صائمہ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ چھا گئی۔ اس کے منہ سے نکلنے والی آواز سنی ہوئی سی محسوس ہوئی لیکن باوجود کوشش کے میں پہچان نہ سکا۔

’’کالی داس! تم چاہے جتنے روپ بدل لو میں نے تمہیں پہچان لیا‘‘ میں نے اندھیرے میں تیر چھوڑا۔

’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ صائمہ کے منہ سے خوفناک قہقہہ بلند ہوا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر82 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’منش جاتی کو تو بہت بدھی مان کہا جاتا ہے پرنتو جان پڑتا ہے تیری بدھی میں بھس بھرا ہوا ہے ۔ سن یدی تو نے اب اپنی پتنی کے شریر کو چھونے کی اوشکتا کی تو اپنی مرتیو کاپر بند تو کھد کرے گا ،سن لیا نا پلید مسلے۔۔۔یدی میرا بس چلے تو میں ایک پل میں تجھے نرکھ میں بھیج دوں۔ وہ سمے دور نہیں جب میرا ادھیکار تیری پتنی کے شریر پر ہوگا۔ میں اس کے کومل شریر سنگ اسی طرح کھلواڑ کروں گا جیسے تو ہمرے دھرم کی ناریوں سے کرتا رہا ہے‘‘ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ میں یک ٹک صائمہ کو دیکھ رہا تھا جس کا چہرہ غصے سے آگ کی طرح تپ رہا تھا۔

’’ تو نے میری بیوی کو ہاتھ بھی لگایا تو میں تجھے جہنم میں جھونک دوں گا‘‘ طیش سے میرے جسم میں انگارے بھر گئے۔

’’یدی تو اتنا ہی شکتی مان ہے تو مجھے اپنی پتنی کے شریر سے نکال کر دیکھا‘‘ اس نے مضحکہ اڑایا۔

وہ جو کوئی بھی تھا اس وقت میرے مقابلے میں زیادہ بہتر پوزیشن پر تھا۔

’’کس و چار میں کھو گیا؟ اپنے دھرم کے کسی مہا شکتی مان کو بلا وہ مجھے تیری پتنی کے شریر سے نکالے۔ تو تو بڑا بلوان ہے۔۔۔کالی داس جیسا مہا پرش بھی تیرے آگے کچھ نہیں پھر کس کارن چپ ہے؟‘‘ وہ مسلسل میرا مضحکہ اڑا رہا تھا۔

’’میری بات دھیان سے سن۔۔۔یدی تو نے کوئی چھل کپٹ کیا تو تیری پتنی جیوت نہ رہے گی۔ اس بات کو من میں اچھی طرح بٹھا لے‘‘ اس نے مجھے دھمکی دی۔ میں نے بے بسی کی حالت میں پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ اگر وہ کوئی مجسم شخص ہوتا تو میں اسے ایک منٹ میں مزا چھکا دیتا۔ لیکن نادیدہ وجود کے خلاف میں کیا کر سکتا تھا؟

’’میں جا رہا ہوں ، پرنتو اس بات کا دھیان رہے یدی تو نے کوئی چال چلی تو میں تیری پتنی کو جیوت نہ چھوڑوں گا‘‘ اس کے ساتھ ہی صائمہ نے ایک جھرجھری لی اور چونک کر میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔

’’کیا میں پھر سو گئی تھی؟‘‘ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لئے تم پر بار بار غنودگی چھا جاتی ہے۔ جلدی سے نہا کر فریش ہو جاؤ پھر ہم بچوں کو سکول سے لے کر نازش کے گھر جائیں گے کہہ رہی تھی رات کا کھانا ہم ان کے ہاں کھائیں‘‘ وہ چپ چاپ باتھ روم میں گھس گئی۔ تھوری دیر بعد ہم بچوں کے سکول سے لے کر عمران کے گھر جا رہے تھے۔ میں چاہتا تھا صائمہ کو وہاں چھوڑ کر میں محمد شریف کو ساری صورتحال بتاؤں اس کے علاوہ رادھا کے ساتھ بات کرنا بھی ضروری تھا۔ اتنا تو میں جان چکا تھا کہ کوئی خبیث جن صائم پر قابض ہوگیا ہے۔ اس کا یہ کہنا ’’تو ہمارے دھرم کی ناریوں سے بلات کار کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں کر سکتا۔‘‘

’’کہیں یہ بسنتی کا کوئی دوست تو نہیں؟ ہو سکتا ہے وہ مجھ سے بدلہ لے رہا ہو’‘‘ کچھ بھی ہو سب میری کوتاہیوں کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ میں سوچوں میں غرق گاڑی چلا رہا تھا۔ صائمہ بھی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ بچے ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے جب انہوں نے سنا کہ ہم عمران انکل کے گھر جا رہے ہیں تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ تھوڑی دیر بعد ہم عمران کے گھر پہنچ گئے۔ نازش ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ میں نے علیحدگی میں انہیں سمجھایا کہ صائمہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو گئی ہے اس لئے میں اسے تنہائی سے نکالنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے مسکرا کر کہا’’خان بھائی! بے فکر ہو کر جائیں مجھے بھی ایک ساتھی کی ضرورت ہے جو میری باتیں سن سکے‘‘ میں ہنستا ہوا باہر نکل آیا۔

مجھے یہ خطرہ بھی تھا کہ نازش پر حقیقت نہ کھل جائے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ یہ بھی سوچا خاموشی سے لاہور چلے جائیں لیکن اگر وہاں اس خبیث جن نے امی جان اور بھائی صاحب کے سامنے میرا پول کھول دیا تو کیا ہوگا؟ اس پیش نظر ابھی میرا یہاں سے جانا ناممکن تھا۔ محمد شریف نے بھی کہا تھا وہ حضرت صاحب سے رابطہ کرے گا۔ بینک جا کر میں نے محمد شریف کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

’’جناب عالیٰ میں انشاء اللہ آج رات حضرت صاحب سے رابطہ کروں گا انہیں ساری صورتحال بتا کر ان کے مشورے سے کچھ کرنا بہتر ہوگا۔‘‘ اس نے بڑی اپنایت سے کہا۔

’’محمدشریف میں صائمہ کی حالت سے سخت پریشان ہوں۔ یہ تو شکر ہے بچوں کے سامنے اس کی حالت ٹھیک رہی ورنہ میرے لئے اور زیادہ مصیبت بن جاتی۔ لیکن ڈرتا ہوں کسی وقت اس حالت میں وہ بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔‘‘

’’جناب خان صاحب ! اللہ تعالیٰ اسے شرمسار کرے گا۔ اور وہی معصوم بچوں کی حفاظت بھی کرے گا۔ آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ اس کا خیال بھی یہی تھا کہ یہ کسی سرکش جن کی کارستانی ہے۔ محمد شریف سے بات کرکے مجھے کچھ تسلی ہوئی۔ رادھا کے سلسلے میں میں محتاط ہو چکا تھا۔ مجھے شک تھا صائمہ نے ہمیں ملتے دیکھ لیا ہے لیکن کسی وجہ سے خاموش ہے۔ رادھا سے ملنا بھی ضروری تھا اس لیے میں نے صائمہ سے بہانہ بنایا کہ مجھے وظیفے کے لیے خالی مکان چاہئے اس لیے تم بچوں کے ساتھ عمران کے ہاں ٹھہر جاؤ۔ اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ رات کے کھانے کے بعد میں واپس اپنے گھر آگیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جیسے ہی میں بیڈ روم میں داخل ہوا۔ عجیب سی ناگوار بومیرے نتھنوں سے ٹکرائی جیسے کوئی مردار کمرے میں پڑا ہو۔ ابھی میں سو ہی رہا تھا کہ کمرہ دھویں سے بھرنے لگا۔ مجھے کھانسی چھڑ گئی۔ میں الٹے قدموں کمرے سے باہر آنے لگا۔ اچانک کسی نے پشت سے مجھے دھکا دیا اور میں ہوا میں اڑتا ہوا کمرے کے درمیان جا گرا۔ ساری ہڈیاں کڑکڑا کر رہ گئیں۔ فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا اس کے باوجود خاصی چوٹ آئی۔ اگر ننگا فرش ہوتا تو شاید میں زندگی بھر کے لیے معذور ہو سکتا تھا۔

’’کھی۔۔۔کھی۔۔۔کھی۔۔۔‘‘ کمرے میں مکروہ نسوانی ہنسی گونج اٹھی۔ میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ دم بدم بدبو میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ سانس لینا دوبھر ہوگیا کمرے میں اندھیرا تھا مجھے لائٹ جلانے کی مہلت ہی نہ مل سکی تھی۔ ابھی میں اس افتاد کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ہاتھ سے کوئی سرد چیز ٹکرائی۔ میں نے گھبرا کر ہاتھ جھٹک دیا۔ تھوڑی دیر پھر اس شے نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجھے کراہیت محسوس ہوئی۔ اسکی گرفت میرے ہاتھ پر سخت ہوگئی۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے اسے ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ آہستہ آہستہ میرے ہاتھ کے گرد لپٹنا شروع ہوگئی۔ اندھیرے کی وجہ سے اسے دیکھنا تو ممکن نہ تھا لیکن محسوس ہو رہا تھا جیسے سانپ میرے ہاتھ کے گرد لپٹ گیا ہو۔ اچانک کمرے میں روشنی پھیل گئی۔ اب دھویں کانام و نشان نہ تھا۔ یکدم روشنی ہونے کی وجہ سے میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔میں نے چندھی آنکھوں سے دیکھا اور میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

بسنتی میرا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔ وہی بسنتی جس کے حسن کے پیچھے کئی سادھو اور پنڈت بچاری پاگل تھے۔ اب وہ خوفناک حد تک کریہہ المنظر ہو چکی تھی۔ بدبو کے بھبھکے اس کے بدن سے اٹھ رہے تھے جگہ جگہ سے پیپ رس رہی تھی۔ کھال اترنے کے باعث اندر سے گوشت اور پیپ جھانکنے لگی تھی۔ گھٹاؤں جیسی زلفوں کے بجائے گنجا سر اور گلاب کی نوشگفتہ کلی جیسی جلد کی بجائے جھریوں بھرا چہرہ۔ دلوں پر بجلیاں گرانے والے موتیوں جیسے دانت۔۔۔اب منہ سے باہر نکل کر بھیانک منظر پیش کر رہے تھے۔ سڈول جسم اب بد وضع ہو کر ڈھلک چکا تھا۔ وہ سو سالہ بڑھیا جیسی دکھائی دے رہی تھی۔ ایک نظر ڈال کر میں نے منہ دوسری طرف پھیرلیا۔ اس کا ہاتھ لمبا ہو کر میرے ہاتھ کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ بغیر ہڈی کا ہاتھ جس میں مکمل انگلیاں موجود تھیں لیکن ہڈی کے بغیر۔

’’کھی۔۔۔کھی۔۔۔کھی۔۔۔‘‘ اس کی مکروہ ہنسی کمرے میں گونج اتھی۔

’’مہاراج! کس کارن ناراج ہو اپنی داسی سے‘‘ اور کوئی کہتا کہ کچھ عرصہ قبل یہ حور شمائل تھی تو سننے والا اسے پاگل قرار دیتا۔

’’تمہیں تو ادھیک پریم تھا میرے سنگ؟ کیا بھول گئے۔۔۔میں وہی بسنتی ہوں جسے اپنی بانہوں میں لینے کے کارن تم بیاکل رہا کرتے۔ دوشی تو تم بھی تھے موہن! پرنتو۔۔۔شراپ اس کلٹانے کیول مجھے دیا۔ تم پر اسنے دیا کی اور میری سندرتا کی کیا دشا بنا دی؟ یہ سب کچھ تمرے کارن ہی تو ہوا ہے۔ یدی میں بیاکل ہوں تو تم کیوں شانت پھرو؟‘‘ اس کی آواز تیز ہوتی جارہی تھی۔

’’یاد ہے میں نے اس سمے کتنی بنتی کی تھی تجھ سے۔۔۔رادھا کے شراپ سے مجھے بچا لے۔ پرنتو تونے میری ایک نہ سنی۔ میرے شریر سے کھلواڑ کرکے تو یوں ہوگیا جیسے مجھے جانتا ہی نہیں ۔یدی تو ایک بار اس پاپن سے کہہ دیتا وہ اوش مجھے شما کردیتی۔ پرنتو تیرے نینوں پر تو ایک بارپھر رادھا کے پریم کی پٹی بندھ چکی تھی۔ سب یاد ہے یا بھول گیا؟‘‘ میں گنگ کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔

’’کہاں گئی پریم کے بول بولنے والی تیری جیب(زبان)؟ کیا میں نے کچھ گلط کہا۔۔۔بولتا کیوں نہیں پاپی‘‘ وہ مجھے خاموش پا کر دھاڑی۔ میں نے کچھ کہنے کے بجائے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن جتنا میں اس سے ہاتھ چھڑاتا اتنا ہی اس کا ہاتھ لمبا ہو کر میرے بازو سے لپٹنے لگتا۔ بدبو کے مارے ابکائیاں آرہی تھیں۔ جیسے ابھی قے ہو جائے گی۔

’’یہ بسنتی کی پکڑ ہے۔ اس سے جان چھڑانا بالکوں کا کھیل نہیں۔ کہاں ہے تیری پریمیکا جس نے تیرے کارن اپنی سکھی پر دیا نہ کی۔ یدی وہ تجھے بھی شراپ دیتی تو مجھے دیکھ نہ ہوتا۔ پرنتو اس نے مجھے توکہیں کا نہ رکھا اور تجھے اسی طرح سندر رہنے دیا۔ یہ بات مجھے بھلی نہ لگی۔ بلا اس کلٹا کو جس نے میری یہ دشا بنا دی ہے۔‘‘ وہ گرجی۔

’’دیکھو بسنتی! اس میں میرا کیا قصور ہے؟ تمہارے ساتھ جوکچھ ہوا وہ رادھا نے کیا ہے میں تو خود اس وقت بہت ڈر گیا تھا کہیں وہ مجھے بھی سزا نہ دے دے۔ میں قطعی طور پر نہیں چاہتا تھا کہ وہ تمہارے ساتھ ایسا ظلم کرے لیکن میں کر بھی کیا سکتا تھا؟ وہ بہت طاقتور ہے۔ میں جانتا تھا وہ میرے کہنے پر بھی تمہیں نہیں چھوڑے گی اس لئے میں خاموش رہا‘‘ میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش ترک کرتے ہوئے اسے بڑے رسان سے سمجھایا۔

’’اگر تم نے بدلہ لینا ہے تو رادھا سے لو۔۔۔اسی نے تمہاری یہ حالت بنائی ہے مجھ بے قصور پر کس لئے ظلم کرتی ہو؟‘‘

’’بند کر اپنی گندی جیب۔۔۔یدی تو نے کالی داس کی آگیا کا پالن کرتے ہوئے اس کی سہائتا کی ہوتی تو اس کلٹا کو کچھ کرنے کا اوسر ہی نہ ملتا۔ تو دوشی ہے۔۔۔اب میرے شراپ سے تجھے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔‘‘ وہ طیش کے عالم میں گرجی۔ اس کی گرفت میرے ہاتھ پر سخت ہونے لگی۔ مجھے اپنے ہاتھ کی ہڈیاں کڑکڑاتی محسوس ہوئی۔ بے اختیار میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔

اسی قت بسنتی مجھ سے دور چلی گئی۔ اسکا ہاتھ ربر کی طرح لمباہوگیا تھا دور جانے کے باوجود میرے ہاتھ پر اس کی گرفت اسی طرح سخت تھی۔ اس نے اپنا منہ کھولا۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ آج بھی جب مجھے وہ منظر یاد آتاہے تو جھرجھری آجاتی ہے۔ اس کی سرخ زبان لمبی ہو کر میری طرف بڑھنے لگی۔ میرے چہرے کے سامنے پہنچ کر وہ سانپ کے پھن کی طرح لہرانے لگی۔ میں نے حتی الامکان چہرے کو پیچھے کر لیا۔ کوئی لمحہ جاتا تھا کہ اس کی کریہہ زبان میرے چہرے کو چھو لیتی۔ میں نے خوف کے مارے آنکھیں بند کرلیں۔ اچانک کمرے میں گلاب کی خوشبو پھیلنے لگی۔ اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد ہوگیا۔ میں نے چونک کر آنکھیں کھولیں تو کمرے میں بسنتی کا نام و نشان نہ تھا۔

’’چنتا نہ کرو پریم! میں آگئی ہوں‘‘ رادھاکی پیار بھری سرگوشی سنائی دی۔ جیسے کسی اندھے کو آنکھیں مل جائیں۔میں نے چاروں طرف دیکھا۔

’’رادھا تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے اسے آواز دی۔

’’میں اس سمے تم سے جیادہ دور نہیں ہوں پریم! پرنتو۔۔۔تم مجھے دیکھنے میں سپھل نہ ہو پاؤ گے اس کا کارن کیا ہے یہ میں تمہیں پھر بتاؤں گی۔ وہ کلٹا بھاگ گئی ہے تم چنتا مت کرو اب وہ نہیں آئے گی نشچنٹ ہو کر سو جاؤ۔ میں نے تمری رکھشا کا پربند کر دیا ہے‘‘ یہ کہہ کر اس نے کسی کو آواز دی۔’’چمارو۔۔۔!‘‘

’’جی دیوی جی‘‘ سہمی ہوئی کھرکھراتی آواز سنائی دی۔

’’تجھے میں نے موہن کی رکھشا کرنے کو کہا تھا پھر وہ کلٹا کیسے اپنے داؤ میں سپھل ہوگئی؟‘‘ رادھا کی سرد آواز آئی۔

’’دو۔۔۔دیو۔۔۔دیوی جی ! شما چاہتا ہوں بھول ہوگئی۔ مجھ پر دیا کرو دیوی جی! شما کردو پھر ایسا نہ ہوگا‘‘ کانپتی ہوئی آواز میں کہا گیا۔

’’یدی اب ایسا ہوا تو تجھے نرکھ میں بھیج دوں گی تیری اس بھول پر تجھے شراپ تو اوش ملے گا پرنتو اس سمے میں کسی جاپ میں لگی ہوں یدی اب اس پاپن نے میرے پریمی کو ستایا تو۔۔۔‘‘ رادھا کی قہر بار آواز اائی۔

’’دیوی جی! اس بار شما کر دوپھر ایسی بھول نہ ہوگی‘‘ چمارو کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔

’’پریم ! چنتا نہ کرنا چمارو تمری رکھشا کرے گا۔۔۔میں کل آؤں گی۔‘‘ رادھا نے مجھے مخاطب کیا۔ اس کے ساتھ ہی چھا گئی۔ گلاب کی خوشبو بھی ختم ہوگئی۔ مجھے حیرت تھی کہ رادھامجھے مشکل میں دیکھ کر کیوں نہیں آئی؟ ہاں اس نے بر وقت میری مدد کردی تھی ورنہ پتا نہیں وہ منحوس بسنتی میرا کیا حشر کرتی؟ اگر رادھا خود نہ آئی تھی تو گلاب کی خوشبو کہاں سے آگئی؟ ہو سکتا ہے وہ مجھے نظر نہ آنا چاہتی ہو۔ کوئی مجبور ہوگی سر جھٹک کر ان خیالات سے پیچھا چھڑایا۔ (جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر84 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں