جنات کا غلام۔۔۔پانچویں قسط

10 مارچ 2016 (17:02)

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

چوتھی قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مجھے بابا جی کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ غازی جب بھی کوئی بھی چلبلی بات کرتا یا شرارت کے موڈ میں نظر آتا تو اسے ڈانٹ دیتے تھے۔ مگر غازی کہاں چپکا بیٹھ سکتا تھا۔ اچھل کود اور چھیڑ چھاڑ اس کی طبیعت کا حصہ تھے۔ میں نے پہلی ملاقات میں اس سے کہا تھا

”تمہارا نام غازی کی بجائے مستان ہونا چاہئے“

”کیوں غازی اچھا نام نہیں ہے“ اس نے بچوں کی معصومیت لئے ہوئے انداز میں پوچھا

”اچھا نام ہے‘ مگر تمہاری حرکتیں ایسی ہیں کہ تمہیں غازی نہیں کہنا چاہئے۔ تم پر تو ہر وقت شیطان کی سی مستی چڑھی رہتی ہے۔ اسی لئے کہہ رہا تھا کہ تمہیں مستان یا پھر شیطان کہنا چاہئے“ میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دیا

”مجھے تو یہ دونوں نام پسند ہیں۔ مستان اور شیطان“ غازی چہکتے ہوئے بولا ”اگر میں شیطان کہلانے لگا تو بابا جی کا غصہ دیکھنے کے قابل ہو گا۔ ارے بھیا تم نے بابا جی کا جلال نہیں دیکھا۔ ایک بار بزرگ قسم کے عبادت گزار جن نے کسی لڑکی کو تنگ کیا تھا۔ بابا جی کو معلوم ہوا تو اس بیچارے کی کھال میں بھس بھر دی تھی باباجی نے۔ وہ تو پہلے ہی کہتے رہتے ہیں کہ غازی ہے تو مسلمان جنات کا بچہ مگر اس کے اندر شیطان کی روح ہے“

”غازی تمہارا یہ نام کس نے رکھا تھا“ میں نے دریافت کیا

”یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔ میرا اصل نام تو عبداللہ ہے لیکن مجھے غازی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ہر شرارت کے بعد بھی محفوظ رہتا ہوں۔ میں انسانوں کی بستیوں میں جا کر شرارتیں کیا کرتا تھا کئی بار ایسا ہوا کہ کسی اللہ والے درویش سے بھی مڈبھیڑ ہو جاتی تھی۔ میری قسمت اچھی ہوتی اور میں بچ کر آ جاتا تھا۔ میرے دوست جنات یہ دیکھتے تو کہتے عبداللہ تم غازی ہو۔ تمہاری ہر شرارت کسی جنگ سے کم نہیں ہوتی۔ میرے زندہ سلامت بچ کر نکل آنے پر وہ مجھے غازی کہتے تھے۔“

”میں تمہاری بات سمجھا نہیں ۔ شرارت کاجنگ سے کیا تعلق؟“ میں نے پوچھا

”ہماری شرارتیں کسی جنگی محاذ سے کم نہیں ہوتیں“ غازی ہنستے ہوئے بولا ”اگر تم آج دس لٹر آئس کریم کھلاﺅ گے تو میں تمہیں اگلی بات بتاﺅں گا“

”دس لٹر“ میں نے حساب لگایا ”یار دس تو نہیں صرف ایک لٹر کے پیسے ہیں میرے پاس“

”ٹھیک ہے .... ایک لٹر ہی سہی۔ منہ کا ذائقہ تو بدلے گا“ غازی نے مجھ سے پیسے لئے اور بولا ”اصل میں ہمیں اپنی بستیوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہمیں بچپن سے ہی اصول جنات پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ انسانی بستیوں میں ظاہر نہیں ہونا‘ کسی کو تنگ نہیں کرنا‘ اگر کوئی انسان تنگ بھی کرے تو صبر کرنا ہے اور اپنے بزرگوں کو اس سے آگاہ کرنا ہے۔ کسی بزرگ کے مزار پر جا کر گندہ کام نہیں کرنا۔ کسی ولی اللہ اور عبادت گزار مسلمان کی عبادت میں خلل نہیں ڈالنا۔ عورتوں بچوں پر قابض نہیں ہونا۔ مسلمان جنات کو بچپن سے ہی یہ سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے مگر شرارتی جنات چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم وہ باز نہیں آتے۔ شرارتوں سے نہیں کتراتے۔ انسانوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔ پھر جب پکڑے جاتے ہیں تو اکثر اوقات مارے بھی جاتے ہیں۔ میں چونکہ آج تک نہیں پکڑا گیا اس لئے مجھے میرے دوست غازی کہتے ہیں“

اس روز میں غازی سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ میرے اندر کا صحافی ہزاروں سوال کرنے کے لئے مچل رہا تھا مگر باباجی سرکار کی آمد ہو گئی تھی اور انہوں نے آتے ہی باتونی غازی کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی گدی پر اس قدر زور سے تھپڑ مارا کہ بیچارے کی چیخ کوسوں دور تک سنی گئی ہو گی۔ اس کی چیخ سے کم از کم ہمارے دل تو پھٹ ہی گئے تھے۔ سارا کمرہ تھرا گیا تھا۔ زلیخا بے ہوش ہو گئی تھی اور میرا دوست ملک نصیر اس کی چیخ کی دہشت سے کافی دیر تک کانپتا رہا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ غازی اس کے بعد کبھی شرارت کی جرات نہیں کرے گا۔ باباجی سے ایک تھپڑ کھانے کے بعد وہ سسکیاں بھر بھر کے روتا رہا تھا۔ اس کے رونے سے میری حالت عجیب ہو گئی تھی۔

”حرام خور .... تجھے لاکھ بار کہا ہے اپنی زبان پر تالا لگا کر رکھا کرو اور پھر تم میرے آنے سے پہلے یہاں کیوں ظاہر ہو گئے تھے۔ شاہ صاحب آپ نے اسے یہاں کیوں آنے دیا“ بابا جی پیر صاحب پر ناراض ہونے لگے۔ ”اس کی دم میں نمدہ لگاتے اور اسے کہتے دفع ہو جاﺅ۔ یہ کسی دن ہم سب کو امتحان میں ڈال دے گا۔ میں آج اس کی جان نکال دوں گا۔“

”بابا جی سرکار“ میرے لبوں سے سسکی نکلی۔ ”میری خاطر ایک بار معاف کر دیجئے۔ دراصل میں نے خود اسے باتوں میں لگا لیا تھا“ میں نے جرات کرکے بابا جی کا غصہ ختم کرنے کی کوشش کی۔

”یہ بڑا کمینہ ہے۔ تمہیں ایک روز اس کی شرارتوں کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے“

بابا جی کہنے لگے ”اسے معلوم ہے کہ جنات کے حالات اور ان کی زندگی کے بارے میں راز کی باتیں بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ تم سے پیسے اینٹھنے کے چکر میں سچ جھوٹ بولتا رہتا ہے۔ اس کی باتوں پر اعتبار نہ کیا کرو۔ ابھی بچہ ہے اسے نہیں معلوم کہ یہ کیا کر رہا ہے“ باباجی گھمبیر لہجے میں بولے۔ ”تم انسانوں کی طرح جنات کو بھی اپنی نسل کے برباد ہونے کا دکھ ہے۔ ہماری نسل بھی بدتمیز اور گمراہ ہو رہی ہے۔ انہیں علم سیکھنے کی بجائے آوارگی کا شوق رہتا ہے۔ یہ مچلتے رہتے ہیں اور مواقع تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ کب یہ انسانی بستیوں میں جائیں اور انسانوں کی غذاﺅں سے اپنا پیٹ بھریں۔ شاہد بیٹے .... تمہیں نہیں معلوم کہ ہمارے ان بچوں کی وجہ سے ہمارے مسلمان جنات کو کس قسم کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ جزا و سزا کے تو ہم بھی مستحق ہیں اس لئے ہم اپنے گمراہ بچوں کو سمجھاتے رہتے ہیں۔ انہیں روک ٹوک کرتے رہتے ہیں مبادا کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ تمہیں اس نے بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ جب کوئی مسلمان جن کسی اللہ والے باعلم انسان کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے اور اس کے سامنے گناہوں سے تائب نہیں ہوتا اور مرنا قبول کر لیتا ہے تو اس کی موت کے بعد ہم پر کیا گزرتی ہے۔ کئی نسلوں تک اس کی موت کا چرچا رہتا ہے۔ جنات انتقام پر مچلتے رہتے ہیں مگر قانون قدرت کے سامنے سر جھکانے والے اپنے اپنے پردہ کائنات میں رہنے والے جنات یہ جرات نہیں کرتے، ہاں جب وہ بے انصافی کا شکار ہو جائیں اور انسانوں کی طرف سے انہیں مسلسل ایذا پہنچیں تو وہ بالاخر انسانی بستیوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک بات تمہیں بتا دوں شاہد بیٹے .... جنات منتقم مزاج ہیں۔ ان کی جبلت میں غضب کی زیادتی ہے۔ ان کی عقل پر جلال طاری رہتا ہے۔ مگر مسلمان جنات میں صبر بردباری اور ٹھہراﺅ آ جاتا ہے وہ بھی اس لئے کہ وہ اگر غضب کا شکار ہو جائیں گے تو ان کا ایمان خراب ہو جائے گا لہٰذا ہم جنات کو چاہئے کہ وہ انسانوں کے ساتھ گھلنے ملنے کی کوشش نہ کریں۔ البتہ جہاں ان کی قربت اور عزت ہو تو وہ وہاں اپنے عامل کی مدد سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس دوران اگر کوئی جن کوئی غلط حرکت کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار عامل ہوتا ہے نہ کہ وہ جن .... اسی لئے میں شاہ صاحب سے کہہ رہا ہوں ابھی یہ بھی بچے ہیں اور ہماری دنیا کی باریکیوں کو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے ہماری محبت اور عقیدت میں اس حرام خور غازی کو چھوٹ دے رکھی ہے“ بابا جی کی ۔ مدبرانہ ہزاروں راز لئے ہوئے یہ باتیں میرے ذہن پر نقش ہو گئیں۔ غازی نے تھوڑی دیر بعد بابا جی سے معافی مانگ کر انہیں راضی کر لیا تھا مگر وہ غازی ہی کیا جو دوبارہ شرارتوں کا محاذ گرم نہ کرتا۔ ایک آدھ گھنٹہ بعد وہ سب کچھ بھول گیا اور دوبارہ شرارتوں میں مگن ہو گیا تھا۔

غازی اپنی شرارتوں کی وجہ سے تیلے شاہ کے ہاتھ چڑھ گیا تھا اور مجھے یقین ہو گیا تھا کہ آج ہمارا غازی شہید ہو کر رہے گا۔ میں پریشان تھا کہ اسے کیسے بچاﺅں۔ میں تیلے شاہ کے پاس کیسے جا سکتا تھا۔ اگر چلا بھی جاتا تو اسے کیا کہتا۔ مگر میری جذباتی کیفیت نے میری عقل کو ماﺅف کر دیا تھا یا مجھے یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ اگر بابا جی سرکار کو غازی کی شرارتوں اور بابا تیلے شاہ کی قید کی خبر ہو گئی تو تب بھی غازی نہ بچ سکتا تھا۔ بابا تیلے شاہ سے نجات کے بعد بابا جی سرکار خود اپنے ہاتھوں سے غازی کو شہید کر دیتے۔

میں کافی دیر تک منڈی میں ٹہلتا رہا اور پھر جرات کرکے بابا تیلے شاہ کی کٹیا کی طرف چل دیا۔ بہت سارے لوگ وہاں جمع تھے کچھ ایسا سماں وہاں بندھا ہوا تھا جیسے کوئی مداری تماشا دکھا رہا ہو۔ میں لوگوں کی بھیڑ میں سے گزرتا ہوا آگے پہنچا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ نما شخص جس کے بال لمبی لمبی اور گندی لٹوں کی صورت میں اس کے چہرے اور شانوں پر لہرا رہے تھے محض ایک میلی کچیلی سی دھوتی باندھے ہاتھ میں پتلی سی شیشم کی شاخ لئے بیٹھا تھا اس کے سامنے نور بخش آڑھتی بے ہوش پڑا تھا۔ بابا تیلے شاہ شاخ اس کے سینے پر رکھتا‘ پھر پھونک مارتا تو نور بخش کا پورا بدن تشنج کا شکار ہو جاتا اور اس کے اندر سے کسی بچے کی چیخ سنائی دیتی۔ میرے لئے یہ چیخ اجنبی نہیں تھی۔ یہ غازی کی چیخ تھی۔ درد و اذیت میں مبتلا چیخ۔ میرے پورے بدن میں سنسناہٹ محسوس ہونے لگی۔ بابا تیلے شاہ خاصے جوشیلے موڈ میں تھا۔ وہ بے ہوش نور بخش کو بظاہر شاخ سے گدگدی کر رہا تھا مگر ردعمل میں غازی کی چیخیں سنائی دیتی تھیں۔

”کون ہے تو بتاتا کیوں نہیں ہے“ بابا تیلے شاہ نے چیختے چلاتے غازی کو مخاطب کیا۔

”میں نے بتایا نہ سرکار میرا نام سورن سنگھ ہے“ غازی کی سسکیوں بھری آواز سنائی دی۔ میں حیران ہوا کہ وہ جھوٹ کیوں بول رہا ہے۔

”کہاں کا رہنے والا ہے“ بابا تیلے شاہ نے دریافت کیا

”ادھر پورن بھگت کے کنوئیں کے پاس ہماری پکھی ہے“ غازی بولا

”کب سے وہاں رہ رہے ہو“ بابا تیلے شاہ ذرا اونچی آواز میں بولا ”اور ادھر کیوں آیا تھا“

”میں بھوکا تھا سرکار .... آڑھتی نے مجھے مارا بھی تھا اگر کیلے نہ کھاتا تو بھوک سے مر جاتا“ غازی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا تھا۔ ”ہم پرکھوں سے اس کنوئیں پر رہ رہے ہیں۔ ہمارا پورا قبیلہ یہاں آباد ہے“

”کیلے تمہاری غذا نہیں ہےں حرام خور“ بابا تیلے شاہ یکدم جوش کے عالم میں بولا اور زور سے شاخ نور بخش کے سینے پر ماری۔ غازی بلبلا اٹھا۔ ”اوپر سے جھوٹ بول رہا ہے .... ہونہہ ٹھہر جا میں تیرا پتہ لگاتا ہوں کہ تو کون ہے۔ پورن بھگت کے کنوئیں پر تمہاری پکھی نہیں ہو سکتی۔ میں نے وہاں چلہ کاٹا ہوا ہے۔ اگر تمہاری پکھی وہاں ہوتی تو میں جان لیتا“ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ نے آنکھیں بند کر لیں اور شاخ کی نوک نور بخش کے دل کے مقام پر ٹھہرا کر زیر لب پڑھنے لگا ”تیرا جھوٹ پکڑا گیا سورن سنگھ .... پورن بھگت کے کنوئیں پر جنات کی بستی آباد نہیں ہے“ بابا تیلے شاہ نور بخش کو شاخ سے پیٹنے لگا تو اس کے جواب میں غازی کی چیخیں سنائی دینے لگیں۔ مجھے ہول آنے لگے اور میرا دل چاہا کہ بابا تیلے شاہ کے ہاتھوں سے شاخ چھین لوں اور بے ہوش نور بخش کو اٹھا کر بھاگ اٹھوں۔ غازی اس میں سرایت کیا ہوا تھا۔ مجھے کوئی تدبیر نظر نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیسے بچاﺅں۔ اپنی شرارتوں سے عاجز آیا ہوا غازی آج موت کے منہ میں کھڑا تھا اور پھر بابا تیلے شاہ کے سامنے جھوٹ بول رہا تھا۔ میں لاچارگی سے یہ تماشا دیکھنے پر مجبور تھا۔

”اگر سچ سچ بتا دے گا تو میں تجھے بخش دوں گا۔ ورنہ مار کر تیری راکھ کا سرمہ بنا کر اپنی آنکھوں میں لگا لوں گا۔ میں بھی تو دیکھوں ایک سکھ جن کی راکھ کا سرمہ کیسا ہوتا ہے۔“ بابا تیلے شاہ اشتعال انگیز اور استہزائیہ لہجے میں بات کرتے کہہ رہا تھا ”تم جیسے جناتوں کو مار دینا کار ثواب ہے سورن سنگھ .... جلدی سے بتا یہ لوگ تمہارا تماشہ دیکھ رہے ہیں“

غازی ہچکیاں بھرتا ہوا التجا کرنے لگا ”سرکار .... مجھے معاف کر دیں میں پردیسی ہوں اب دوبارہ ادھر نہیں آﺅں گا۔“

”تو آخر بتاتا کیوں نہیں کہ کون ہے“ بابا تیلے شاہ دھاڑا

”سرکار بتاتا ہوں میرا نام سورن سنگھ ہے اور میں پورن بھگت ....“ غازی کی بات منہ میں رہ گئی۔ بابا تیلے شاہ نے غضبناک انداز میں نور بخش کے سر پر شاخ ماری تو غازی کسی زخمی بھینسے کی طرح ڈکرانے لگا۔

”جھوٹ بولتا ہے .... جھوٹ بولتا ہے .... بابا تیلے شاہ سے جھوٹ بولتا ہے۔ اوئے حرام خور۔ ہم نے اپنا سارا ماس ریاضتوں میں جلا دیا۔ تیرے جیسے خبیثوں کے ساتھ کھیل کھیلنا میرا شغل ہے۔ ساری عمر اور جوانی اسی شغل میں گزار دی ہے ہم نے سورن سنگھ۔ اگر تجھ سے آج سارے سوالوں کے جواب کھرے کھرے وصول نہ کئے تو لعنت ہے میری ریاضتوں پر۔ تھو ہے اس بدن پر جس کی ہڈیوں پر گوشت نہیں چڑھتا“ بابا تیلے شاہ غضبناک انداز میں چیخنے لگا تھا۔ مجھے اب غازی کی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ میں نے سوچا اگر بابا تیلے شاہ کے جلال کو روکا نہ گیا تو وہ طیش میں آ کر اپنے علم کی طاقت سے غازی کو جلا کر راکھ کر دیتا۔ بابا تیلے شاہ کا یہ روپ دیکھ کر مجھے جرات بھی نہیں ہو رہی کہ میں اسے کچھ کہوں۔ مگر میری خامشی اورلاچارگی غازی کی موت کا منظر دیکھنے کی روادار بھی نہیں تھی۔ مجھ میں اتنی سکت کہاں تھی کہ میں اپنے غازی کو بے موت مرتا دیکھتا۔ میں دل ہی دل میں درود شریف پڑھنے اور اللہ سے دعا کرنے لگا کہ یا الہٰی نادان غازی کو بچا لے۔ مجھ پر اس کا قرض بھی تھا۔ اس نے آج مجھے ریل گاڑی کے نیچے آنے سے بچایا تھا اور اب مجھ پر واجب تھا کہ میں اس کی مدد کرتا۔ مگر وہاں کا ماحول اور منظر ایسا نہیں تھا۔ مجھے یہ فکر بھی تھی کہ یہ لوگ جو بابا تیلے شاہ کی روحانی قوتوں کے اسیر اور عقیدت مند تھے میری کسی حرکت کے جواب میں مجھے مارنا شروع کر دیتے۔ آخر میں کیا کرتا۔ کوئی چارہ نظر نہیں آیا کوئی امید بر نہیں آئی۔ میرے سامنے غازی پٹتا رہا‘ چلاتا رہا‘ معافیاں مانگتا رہا مگر بابا تیلے شاہ کو اس پر رحم نہ آیا اور بالاخر اس نے اعلان کیا۔

”تو بڑا ڈھیٹ نکلا۔ لو اب مرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ“ بابا تیلے شاہ نے کہا ”ایک مسلمان انسان کے دل پر قبضہ جما کر بیٹھنے والے کافر جن۔ تجھے مار دینا اب مجھ پر واجب ہے۔“ بابا تیلے شاہ نے شاخ نور بخش کے سینے پر رکھ دی اور نظریں اٹھا کر ہجوم کی طرف دیکھنے لگا۔ سب لوگ بے خوفی سے مگر اشتیاق بھری نظروں سے یہ تاریخ ساز منظر دیکھنے کے متمنی تھے۔ وہ سب متجسس تھے کہ دیکھیں ایک جن کو کیسے ہلاک کیا جاتا ہے۔

”کوئی اندر جائے اور میرے پیالے میںرکھا پانی لے آئے“ بابا تیلے شاہ نے بلند آواز میں کہا۔

میرے ذہن میں برق سی کوندی اور فوراً خیال آیا۔ بابا تیلے شاہ پانی میں دم کرکے نور بخش کے اندر چھپے ہوئے غازی پر چھڑکاﺅ کرنا چاہتا ہے۔ دم شدہ پانی کی برکت سے انسانی بدن میں چھپا ہوا جن کسی ناسور کی طرح جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ میں نے یہ بات کسی ناول میں پڑھی تھی اور آج میرے ذہن میں تازہ ہو گئی تھی لہٰذا میں جھٹ سے آگے بڑھا۔ اسی دوران دو تین اور لوگ بھی کٹیا کی طرف بڑھے مگر میں انہیں دھکا دیتے ہوئے اندر گیا اور پیالے میں پانی ڈال کر باہر لے آیا۔ میں نے اپنا ذہن ہر طرح کی مصیبت جھیلنے کے لئے تیار کر لیا تھا۔ میں نے عہد کر لیا تھا کہ اگر میرا غازی مارا گیا تو میں زندگی داﺅ پر لگا کر اسے بچاﺅں گا۔ نہ جانے یہ سوچ اور وارفتگی کیسے میرے اندر پیدا ہو گئی۔

میں نے پیالا بابا تیلے شاہ کو تھمانا چاہا تو اس نے غضبناک جلالی اور قہر میں غرق آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ مجھے یوں لگا جیسے اس کی آنکھیں میرے اندر اتر گئی ہیں اور میرے خیالات کو پڑھنے لگی ہیں۔ میرا یہ شبہ غلط نہیں ہوا۔ بابا تیلے شاہ کی آنکھوں میں سفاکی عود آئی مگر لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ تیرنے لگی۔ مگر وہ لبوں سے کچھ نہیں بولا۔ صرف کہا تو یہ ”ہونہہ“ اور پھر طائرانہ نظروں سے لوگوں کی طرف دیکھنے لگا اس کے دل میں کیا خیال آ رہے تھے میں نہیں جان سکا البتہ مجھے اس بات پر پورا یقین ہو گیا کہ بابا تیلے شاہ جلالی حالت میں اب کچھ بھی کر گزرے گا۔ لہٰذا میں نے اس سے پہلے ہی حرکت کر دی اور پانی سے بھرا پیالہ بابا تیلے شاہ کے سر پر اس انداز میں الٹا دیا کہ یوں لگے جیسے خوف کی وجہ سے پیالا چھوٹ گیا ہے۔

میری یہ حرکت دیکھ کر لوگ چلا اٹھے ”اوئے بدبخت گستاخی کرتا ہے“ اسی دوران بہت کچھ ہو گیا۔ بابا تیلے شاہ غضبناک ہو کر اٹھا تو اس کی شاخ نور بخش کے سینے سے ہٹ گئی۔ بے ہوش نور بخش نے ایک جھرجھری لی اور مجھے یہ محسوس ہوا جیسے غازی نے فوراً اس کے بدن کو چھوڑ دیا ہے اور نکل کر بھاگ گیا ہے۔ بابا تیلے شاہ کی روحانی قوتوں کی توجہ ہٹانے کا یہی تو فائدہ تھا اور میں اس میں کامیاب ہو گیا تھا۔

”غلطی ہو گئی جناب ، میں اور پانی لے آتا ہوں“ میں پلٹنے لگا تو بابا تیلے شاہ کا استخوانی ہاتھ میری کلائی پر جم گیا

”ٹھہرو“

میں اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔ گوشت اس کے چہرے پر برائے نام ہی تھا۔ ہڈیاں بھی سوکھی ہوئی تھیں۔ ایسے لوگوں میں جان ہی کہاں ہوتی ہے مگر بابا تیلے شاہ کی میری کلائی پر گرفت سے محسوس ہو رہا تھا جیسے میری کلائی آہنی شکنجے میں جکڑی گئی ہے۔

”سرکار“ میرے لبوں سے نکلا

”بول کیا چاہتا ہے“ بابا تیلے شاہ کی عقابی نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں ”تیرے دل میں کیا ہے۔ میں پڑھ سکتا ہوں۔ تمہاری اس جرات پر تمہیں بڑی سخت سزا مل سکتی ہے۔ تو نے اس کو بھگا دیا ہے لیکن میں تجھے نہیں بھاگنے دوں گا“ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ نے ہجوم کی طرف رخ کیا۔ ”تم لوگ جاﺅ کھیل ختم ہوا۔ اس کو بھی لے جاﺅ۔“ اس نے نور بخش کی طرف اشارہ کیا۔ یہ اب ٹھیک ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہوش آ جائے گا تو گرم دودھ جلیبی کھلا دینا اور اسے کہنا اگلی جمعرات کو امام صاحب جا کر گھی کا چراغ جلا دے۔“

بابا تیلے شاہ کی آواز سنتے ہی لوگ تتر بتر ہو گئے۔ نور بخش آڑھتی کے ساتھی اسے اٹھا کر لے گئے۔ بابا تیلے شاہ نے میری کلائی نہ پکڑی ہوتی تو میں بھی فرار ہو جاتا۔ مگر مجھے اس کا موقع ہی نہیں ملا۔

”چل اندر چل“ بابا تیلے شاہ مجھے کٹیا کے اندر لے گیا اور میری کلائی چھوڑ کر مجھے بوسیدہ سی چٹائی پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ اندر آتے ہی بابا تیلے شاہ کا روپ بدل گیا تھا۔ اس کا جلالی انداز جمالی ہو گیا تھا۔

”مجھے تیرا ہی انتظار تھا۔ تجھے یہاں بلانے کے لئے میں نے یہ کھیل کھیلا ہے “ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ قہقہے لگانے لگا اور میں سن سا ہو کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟

چھٹی قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں