A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

قسط نمبر56۔ ۔۔ دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول

قسط نمبر56۔ ۔۔ دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول

Jun 11, 2017 | 14:45:PM

ابویحییٰ

میں نے جائزہ لینے کے لیے نظریں میدان کے بائیں طرف پھیریں۔ یہاں ایک دوسرا ہی منظر تھا۔ شرمندگی، رسوائی، پچھتاوے، اندیشے، ذلت، محرومی، مایوسی، پریشانی، اذیت، مصیبت، ملامت، ندامت اور حسرت کی ایک ختم نہ ہونے والی سیاہ رات تھی جو اہل جہنم کے حال پر چھائی ہوئی تھی۔ اگر آسمان میں گویائی کی طاقت ہوتی تو وہ آخرت میں ناکام ہوجانے والوں کی بدبختی پر مرثیہ کہتا۔ اگر زمین میں بیان کی قوت ہوتی تو وہ اہل جہنم کے حال پر نوحہ پڑھتی۔ اگر الفاظ کی زبان ہوتی تو وہ پکار اٹھتے کہ وہ الٹے ہاتھ والوں کی بدبختی کے اظہار سے خود کو عاجز پاتے ہیں۔

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 55 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

میرا دل چاہا کہ میں کسی طرح وقت کا پہیہ الٹا گھماکر پرانی دنیا میں لوٹ جاؤں اور یہ منظر دنیا والوں کو دکھا سکوں۔ میں چیخ چیخ کر انہیں بتاؤں کہ محنت کرنے والو! ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والو! مال و اسباب کی ریس لگانے والو! مقابلہ کرنا ہے تو اس دن کی سرفرازی کے لیے کرو۔ ریس لگانی ہے تو جنت کے حصول کے لیے لگاؤ۔ منصوبے بنانے ہیں تو جہنم سے بچنے کے منصوبے بناؤ۔ پلاٹ، دکان، مکان، بنگلے، اسٹیٹس، کیرئیر، گاڑی، زیور اور لباس فاخرہ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے والو! دنیا کے ملنے پر ہنسنے اور اس کی محرومی پر رونے والو! ہنسنا ہے تو جنت کی امید پر ہنسو اور رونا ہے تو جہنم کے اندیشے پر رویا کرو۔ مرنا ہے تو اس دن کے لیے مرو اور جینا ہے تو اس دن کے لیے جیو۔۔۔ جب زندگی شروع ہوگی۔ کبھی نہ ختم ہونے کے لیے۔

میری آنکھوں سے بہنے والی آنسوؤں کی لڑی اور تیز ہوگئی۔ اس دفعہ یہ آنسو خوشی کے نہیں تھے۔ اس احساس کے تھے کہ شاید میں تھوڑی سی محنت اور کرتا تو مزید لوگوں تک میری بات پہنچ جاتی اور کتنے ہی لوگ جہنم میں جانے سے بچ جاتے۔ میرے دل میں تڑپ کر احساس پیدا ہوا۔ کاش ایک موقع اور مل جائے۔ کاش کسی طرح گزرا ہوا وقت پھر لوٹ آئے۔ تاکہ میں ایک ایک شخص کو جھنجھوڑ کر اس دن کے بارے میں خبردار کرسکوں۔ میرے دل کی گہرائیوں سے تڑپ کر ایک آہ نکلی۔ میں نے بڑی بے بسی سے نظر اٹھاکر عرش کی طرف دیکھا۔ وہاں ہمیشہ کی طرح رخ انور پر جلال کا پردہ تھا۔ حسن بے پروا کی اداے بے نیازی تھی اور جمال و کمال کی ردا، شانِ ذوالجلال کے شانہ اقدس پر پڑی تھی۔ مجھ بندۂ عاجز کی نظر ذاتِ قدیم الاحسان کی قبائے صفات میں پوشیدہ ان قدموں پر آکر ٹھہرگئی، جہاں سے میں کبھی نامراد نہیں لوٹا تھا۔ اس حقیر فقیر بندۂ پرتقصیر کی ساری پہنچ انھی قدموں تک تھی۔ کُل جہاں سے بے نیاز شہنشاہ ذوالجلال کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت تھی تب بھی، اور اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی تب بھی، یہی میرا کل اثاثہ تھا۔ یہی میری کُل پہنچ تھی۔

دل کو کچھ قرار ہوا تو میری نظر دوبارہ اہل جہنم کی طرف پھرگئی۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جنھیں میں جانتا تھا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہ آپس میں گھس پل کرتنگی میں دوزانو غلامانہ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ نظر نہیں ملارہے تھے بلکہ بہت سوں نے تو پیٹھ پھیرلی تھی۔ اس لیے میں اپنے جاننے والے زیادہ لوگوں کو وہاں نہیں دیکھ سکا۔ لیکن ان کو دیکھ کر اس نعمت کا احساس ہوا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل و کرم سے اس برے انجام سے بچالیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ جنت کی ان گنت نعمتوں میں سے دو سب سے بڑی نعمتیں شاید یہ ہیں کہ انسان کو جہنم سے بچالیا جائے گا اور دوسرا اسے بڑی عزت کے ساتھ جنت میں لے جایا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ایک ایک کرکے اعراف پر کھڑے سارے لوگ نمٹ گئے۔ اب فیصلہ سنانے کے لیے کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ مگر شاید ابھی کچھ ہونا باقی تھا۔ سب اپنی جگہ کھڑے تھے کہ میدان حشر میں ایک جانور کو لایا گیا۔ یہ جانور بہت موٹا تازہ تھا جس کے گلے میں رسی پڑی ہوئی تھی اور فرشتے اسے کھینچتے ہوئے عرش کے سامنے لے جارہے تھے۔ صالح نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا :

’’یہ موت ہے جس کے خاتمے کے لیے اسے لایا گیا ہے۔‘‘

عرش سے اعلان ہوا کہ آج موت کو موت دی جارہی ہے۔ اب کسی جنتی کو موت آئے گی نہ کسی جہنمی کو۔

اس کے ساتھ ہی فرشتوں نے اس جانور کو لٹایا اور اسے ذبح کردیا۔ اہل جنت نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ اس بات کا خیر مقدم کیا۔ جبکہ اہل جہنم میں صف ماتم بچھ گئی۔ ان کے دل میں امید کی کوئی شمع اگر روشن تھی تو وہ بھی موت کی موت کے ساتھ اپنی موت آپ مرگئی۔

عرش سے صدا آئی کہ اہل جہنم کو گروہ در گروہ ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ فرشتے تیزی کے ساتھ حرکت میں آگئے۔ حشر کے بائیں کنارے پر ایک زبردست ہلچل مچ گئی۔ چیخ و پکار اور آہ و فغاں کے درمیان فرشتے پکڑ پکڑ کر مجرموں اور نافرمانوں کا ایک جتھہ بناتے اور انھیں جہنم کی سمت ہانک دیتے۔ ہر گروہ جہنم کے دروازے پر پہنچتا جہاں جہنم کے داروغہ مالک ان کا استقبال کرتے اور ان کے اعمال کے مطابق جہنم کے سات دروازوں میں سے کسی ایک دروازے کو کھول کر انھیں اس میں داخل کردیتے۔

اس دوران میں وقفے وقفے سے عرش کی سمت سے جہنم کو مخاطب کرکے پوچھا جاتا:

’’کیا تو بھرگئی؟‘‘

وہ غضبناک آواز میں عرض کرتی:

’’پروردگار! کیا اور لوگ بھی ہیں؟ انھیں بھی بھیج دیجیے۔‘‘

یہ سن کر حشر میں ایک آہ و بکا بلند ہوتی۔ رہ جانے والے مجرموں پر فرشتے دوبارہ جھپٹ پڑتے اور انہیں ان کی آخری منزل تک پہنچادیتے۔ یوں تھوڑی ہی دیر میں سارے مجرم اپنے انجام تک جاپہنچے۔

اس کے بعد عرش سے صدا بلند ہوئی:

’’اہل جنت کو ان کی منزل تک پہنچادیا جائے۔‘‘

جب یہ حکم صادر ہوا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ابھی تک الٹی سمت میں موجود تھے۔ میں نے صالح سے پوچھا:

’’یہ کون لوگ ہیں۔ ان کو جہنم میں کیوں نہیں پھینکا جارہا؟‘‘

اس نے جواب دیا:

’’یہ منافقین ہیں۔ یہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ یہ دنیا میں اللہ کو دھوکا دیتے تھے۔ آج ان کو نہ صرف بدترین عذاب ملے گا بلکہ ان کی دھوکہ دہی کی پاداش میں ان کا انجام ایک دھوکے سے شروع ہوگا۔‘‘

’’دھوکا۔ کیا مطلب؟‘‘

اس نے کہا:

’’یہ لوگ بظاہر یہ سمجھے ہیں کہ ان کو جہنم میں نہیں پھینکا گیا اور اہل جنت کے جنت میں داخلے کا حکم ہوگیا ہے تو شاید انھیں بھی ظاہری ایمان کی بنا پر چھوڑا جارہا ہے۔ مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے جو جلد ہی دور ہوجائے گی۔‘‘

اسی لمحے میرے کانوں میں الحمد للہ رب العالمین کے نغمے کی انتہائی دلکش صدا آنا شروع ہوگئی۔ یہ حاملین عرش اور دوسرے فرشتے تھے جنھوں نے اپنی خوبصورت آواز میں نغمہ شکر گانا شروع کیا تھا۔ صالح نے مجھے بتایا:

’’یہ حشر کے دن کے خاتمے کا اعلان ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی میدان حشر میں تاریکی پھیلنا شروع ہوگئی۔ سوائے عرش کے اور کہیں روشنی باقی نہیں رہی۔ میں کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہ گیا تھا۔ میں نے گھبرا کر صالح سے پوچھا:

’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘

’’اندھیرا۔۔۔‘‘، اس نے مختصر جواب دیا۔

’’بھائی یہ تو مجھے بھی معلوم ہے۔ مگر ایسا کیوں ہورہا ہے؟‘‘

’’یہ اس لیے ہورہا ہے کہ اس اندھیرے کو عبور کرکے جنت تک صرف وہی لوگ پہنچیں گے جن کے پاس اپنے ایمان اور اعمال کی روشنی ہوگی۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے میرے ہاتھ میں میرا نامۂ اعمال تھمادیا۔(جاری ہے)

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول۔۔۔قسط نمبر57 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

)

مزیدخبریں