A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر88

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر88

Sep 13, 2017 | 13:22:PM

 احد بار بار میرے پاس آتا۔ معصوم آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتا اور باہر چلا جاتا۔ ڈاکٹر نے عمران کے کہنے پر مومنہ کو نیند کی دوا بھی کھلا دی تھی۔ وہ سو رہی تھی۔ عمران کافی دیر میرے پاس بیٹھا تسلی دیتا رہا۔ لیکن میرا حال تو یہ تھا جیسے دنیا اندھیرا ہوگئی ہو۔ کچھ اچھا نہ لگ رہا تھا۔ بار بار اپنی بزدلی پر مجھے غصہ آتا کہ میں کیوں اسے وہاں چھوڑ کر چلا آیا؟ رات ہوگئی۔ میں نے عشاء کی نماز پڑھ کر ایک بار پھر اپنے معبود کے سامنے سر سجدے میں رکھ دیا۔ رو رو کر مصلّی گیلا ہوگیا۔ رونے سے کچھ سکون ملا۔ عمران کے اصرار پر چند لقمے زہر مارکیے اور خاموشی سے کمرے میں آگیا۔ بچے سو چکے تھے۔

’’پریم‘‘ رادھا کی آواز آئی۔ میں بری طرح اچھل پڑا۔ پریم! ترنت اپنے گھر پہنچو‘‘ آواز دوبارہ آئی۔ میں نے چاروں طرف دیکھا رادھا کہیں نہ تھی۔ میں سوچ ہی رہا تھا کیا واقعی رادھا نے آواز دی تھی یا یہ سب کچھ میرا وہم تھا۔

’’سمے برباد نہ کرو ترنت اپنے گھر جاؤ‘‘ آواز اس بار واضح طور پر سنائی دی۔

’’رادھا تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے ایک بار پھر چاروں طرف نظر دوڑائی۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر87  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’میں بھی ایک جروری کام سے جارہی ہوں تم اپنے گھر چلے جاؤ۔ اپنے متر کی پتنی سے کہو وہ تمری سنتان کی رکھشا کرے۔ گھر میں کوئی تمرا انتجار کر رہا ہے‘‘ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ میں نے عمران کو ساری صورتحال بتائی اور تاکید کی کہ نازش بچوں کے پاس سو جائیں۔ وہ ساتھ جانے پر بضد تھا لیکن میرے سمجھانے پر مان گیا۔ میں گاڑی آندھی اور طوفان کی طرح بھگاتا گھر پہنچا۔ گیٹ بند تھا۔ میں نے بیل بجائی کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا تو میں نے چابی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ لان اور برآمدے کی لائٹس جل رہی تھیں۔ لان کے بیچوں بیچ اوپلوں کی راکھ سے ایک بہت بڑا دائرہ بنا ہوا تھا۔ دائرے کے درمیان ایک پیتل کا تھال جس میں باریک باریک رائی جیسے سیاہ دانے بھرے ہوئے تھے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر زمین میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے کلے گڑھے ہوئے تھے۔ یہ بالکل ویسے تھے جیسے لوگ مویشیوں کو باندھنے کے لئے زمین میں گاڑ دیتے ہیں لیکن سائز میں اس سے کافی چھوٹے تھے۔ برآمدے کے فرش پر کوئلے سے عجیب و غریب نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ میں حیرت سے سب کچھ دیکھتا اندر داخل ہوگیا۔ سارا گھر خالی تھا۔ میرا خیال تھا محمد شریف موجود ہوگا لیکن وہ بھی نہ تھا۔ یہ سب کچھ شاید اسی نے کیا تھا۔ رادھا کے بقول کوئی میرا انتظار کر رہا ہے۔ لیکن یہاں تو بندہ نہ بندے کی ذات گھربھائیں بھائیں کر رہا تھا۔میں سارے گھر کا چکر لگا کر ڈرائنگ روم میں آگیا۔ ابھی مجھے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ بیل بجی۔ میں چونک گیا۔

’’کون ہوسکتا ہے اس وقت؟‘‘ میں نے سوچا اور اٹھ کر باہر آگیا۔ گیٹ کھولا تو سامنے محمد شریف کھڑا تھا

’’اسلام علیکم جناب عالی!‘‘ اس نے مسکرا کر مجھے سلام کیا۔

’’وعلیکم اسلام! محمد شریف گیٹ تو کھلاہوا تھا پھر تم نے بیل کیوں بجائی؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’میں نے آپ کی گاڑی کھڑی دیکھ لی تھی اس پیش نظر بیل دی ہو سکتا ہے آپ کے ساتھ خواتین بھی ہوں‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔

’’آؤ ۔۔۔اندر آجاؤ‘‘ میں نے ایک طرف ہٹ کر اسے راستہ دیا۔ وہ اندر آگیا۔ میں نے گیٹ بند کر دیا۔

’’محمدشریف یہ سب کیا ہے؟‘‘ میں نے لان کی طرف اشارہ کیا۔

’’سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے جناب ! کل رات حضرت صاحب تشریف لائے تھے لیکن آپ اس وقت یہاں کیسے؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔ میں شش و پنج میں پڑ گیا کہ اسے رادھا کے بارے میں بتایا جائے یا نہیں۔

’’ایسے ہی بس دل بہت افسردہ تھا اس لئے یہاں چلا آیا۔‘‘ میں نے بات بنائی۔

’’اچھا ہوا آپ آگئے میں تو خود آپ کو بلانے کا ارادہ کر رہا تھا‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔

’’کیوں خیریت؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کسی کو آپ سے ملانا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔

’’کسے۔۔۔؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔

’’آئیے اندر چل کر بیٹھتے ہیں‘‘ وہ اندر کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔ ہم دونوں ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے۔ میں منتظر تھا کہ محمد شریف کس سے مجھے ملوانا چاہتا ہے۔ ساتھ میں حیران بھی تھا کہ گھر میں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔

’’عبدالودود! اندر تشریف لے آئیے‘‘ محمد شریف نے باہر کی طرف منہ کرکے آواز دی۔ میں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک نہایت خوش روباریش نوجوان اندر داخل ہوا۔ دراز قد، سرخ سفید رنگت ، بڑی بڑی سحر کار آنکھیں۔ شانے تک بڑھے ہوئے سیاہ کالے بال۔ اس کی سفید رنگت پر کالی داڑھی بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس نے پرانے زمانے کے شہزادوں جیسا قیمتی لباس پہن رکھا تھا۔ اندر داخل ہو کر اس نے بڑے باوقار انداز سے سلام کیا۔

’’وعلیکم اسلام‘‘ محمد شریف نے جواب دیا۔

میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ گیٹ بند تھا۔ اور شریف کے آنے سے پہلے میں سارے گھر میں چکر لگا کر دیکھ چکا تھا میرے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر یہ جوان کہاں سے آگیا۔ میں بے اختیار اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ وہ باوقار چال چلتا ہوا میرے پاس آگیا۔ اتنا خوبصورت جوان میں نے کم ہی دیکھا تھا۔ حالانکہ پرتاب بھی بہت وجیہہ تھا لیکن اس نوجوان جسے محمد شریف نے عبدالودود کے نام سے پکارا تھا وجاہت اور شاندار شخصیت میں نمبر لے گیا تھا۔ اس کے چہرے پر نہ جانے ایسی کیا بات تھی کہ نظر ہٹانا مشکل تھا۔ میں یک ٹک اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی دلچسپی تھی۔

’’ماشاء اللہ ! اس نے میری طرف دیکھ کر بڑے نستعلیق عربی انداز سے کہا۔ اس کی آواز بھی اس کی طرح خوبصورت تھی۔ میرے قریب آکر اس نے اپناہاتھ بڑھایا۔ میں نے جلدی سے اس سے مصافحہ کیا۔ محمد شریف مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے نام ہاتھ پر روئی کے گالے کا گمان ہوتا تھا۔

’’یہ شیخ عبدالودود ہیں۔ حضرت صاحب کے مرید خاص‘‘محمد شریف نے میری الجھن دور کی۔ میں سمجھ گیاکہ اس نوجوان کا تعلق قوم جنات سے ہے۔ وہ مسکراتا ہوا مجھے دیکھ رہا تھا۔

’’اللہ تعالیٰ نے آپ کو دل کھول کر وجاہت عطا فرمائی ہے۔ سبحان تیری قدرت ‘‘ میں اسکی گھمبیر آواز کے سحرمیں کھو گیا۔

’’آپ بھی کچھ کم نہیں۔۔۔اللہ پاک نے آپ کے بھی بے مثال پیدا فرمایا ہے‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

’’تشریف رکھیئے‘‘ محمد شریف نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔

’’خان صاحب! کل رات حضرت سے میری با تفصیل بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کمال شفقت فرماتے ہوئے بھائی عبدالودود کو بھیجا ہے یہ ہماری رہنمائی فرمائیں گے‘‘ محمد شریف نے کہا۔

’’بھائی فاروق! آپ فکر نہ کریں انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے اللہ پاک نے اس کا تدارک بھی اسی دنیا میں رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

’’ہم جس کو آزماتے ہیں اسے بھی بھوک اور خوف سے آزماتے ہیں اور جس کو سزا دیتے ہیں اسے بھی بھوک اور خوف ہے‘‘ عبدالودود نے بڑے مدبرانہ انداز میں سمجھایا۔ جنات سے ہم کلام ہونے کا یہ میرا پہلا موقع نہ تھا کہ میں جھجھکتا۔

’’بھائی عبدالودود! ہم کہاں اس قابل کہ اللہ کے پیاروں میں خود کو شمار کرنے کی جرات کر سکیں۔ میں تو اپنے گناہوں پر اتنا شرمندہ ہوں کہ بتا نہیں سکتا۔ لیکن میری بیوی تو معصوم اورپاکباز ہے، اتنی باوفا اور با حیا کہ میں اس کی پاکیزگی کی قسم کھانے کے لیے تیار ہوں۔ پھر۔۔۔پھر اس پر یہ مصیبت۔۔۔میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا‘‘ میں نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔

’’بھائی! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ یہ مصائب اور مشکلات انسان کے گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا باعث ہوتے ہیں کسی کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور کسی کو درجات میں بلندی عطا ہوئی ہے۔ آپ فکر نہ کریں شیطان جتناچاہے قوی ہو جائے اللہ پاک کی قدرت کے آگے بے بس ہے۔ ہو سکتا ہے یہ مشکل وقت کسی نیک کام کی سعاددت کا باعث بن جائے‘‘ عبدالودود نے کہا۔ میں سر جھکا لیا۔

’’بھائی محمد شریف! حضرت صاحب کا حکم تھا بلاتاخیر کام کیا جائے اس لئے مجھے ایک جائے نماز عطا فرما دیں تو مشکور ہوں گا میں کچھ دیر مراقبہ کرنا چاہتا ہوں‘‘ وہ محمد شریف سے مخاطب ہوا۔ میں نے جلدی سے اٹھ کر جائے نماز دے دی۔

’’معذرت خواہ ہوں آپ لوگوں کو کچھ دیر مجھے تنہائی میں کام کرنے کی اجازت دینا ہوگی۔‘‘ اس نے ہم دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’ہاں۔۔۔ہاں ضرور میں اور خان بھائی باہر انتظار کرتے ہیں جب آپ فارغ ہو جائیں توبتا دیجئے گا‘‘ ہم دونوں باہر آکر برآمدے میں بچھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔(جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر89  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں