پولیس کا شہید اورمنافقانہ سماجی رویہ 

Jul 17, 2018 | 11:28:AM

سید بدر سعید

تحقیقاتی صحافت اور خصوصاً کرائمز کے حوالے سے دلچسپی کی وجہ سے جہاں مجھے پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے متحرک کالعدم گروپس اور ان کے خلاف فورسز کی سٹریٹیجی سمجھنے میں مدد ملی وہیں پولیس اور مقامی مجرموں کے حوالے سے بھی بہت سی معلومات ملیں۔ میں نے جن چیزوں کو زیادہ توجہ سے دیکھا وہ ہمارا اپنی ہی فورسز کے حوالے سے متضاد رویہ ہے۔یہاں فوج کی کارروائی کو تیزی سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر نہ صرف ہائی لائیٹ کیا جاتا ہے بلکہ اسے خوب سراہا بھی جاتا ہے۔ کسی بھی فوجی کی شہادت پر سوشل میڈیا پر غم اور فخر کے ملے جلے تاثرات نظر آتے ہیں۔ بحیثیتِ قوم یہ درست ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے۔ وہ لوگ جو ہماری خاطر اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں ان کی تعریف اور حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔یہاں تک سب ٹھیک ہے لیکن جب میں پولیس اور مجرموں کے حوالے سے معاشرتی رویے کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم پولیس کے حوالے سے اس قدر منفی جذبات رکھتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کی شہادت بھی کوئی خبر نہیں بن پاتی اور نہ ہی ان کے مسائل اور مجرموں کے خلاف کارروائیوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ عوامی سپورٹ نہ ملنے کے باعث بہادر اور فرض شناس اہلکار اور افسران بھی دل چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ان کا مورال کم ہونے لگتا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں ہی کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔

میں نے سب سے اہم بات یہ نوٹ کی کہ اگر کوئی پولیس اہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے یا کسی شہری سے بدسلوکی کرے تو ہم اس ویڈیو یا خبر کو گھنٹوں چلاتے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تو کئی کئی روز تک اسے شیئر کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ایسا ہونا چاہئے کیونکہ جرم کوئی بھی کرے اس کی نشاندہی بطور شہری ہم سب کا فرض ہے لیکن یہاں بھی عموماً ڈنڈی ماری جاتی ہے ،وہ یہ کہ ہمارا میڈیا پولیس اہلکاروں کی جانب سے ہونے والی قانون شکنی کی فوٹییج تو بار بار چلاتا ہے لیکن اس پر پولیس افسران کے ردعمل اور کارروائی کو اس طرح سے ہائی لائیٹ نہیں کیا جاتا جیسا کہ فالو اپ چلانا ضروری ہوتا ہے۔

اگر آپ پنجاب میں کرائم مانیٹرنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یقیناًیہ بات آپ سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہو گی کہ یہاں کوئی بھی پولیس اہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال یا قانون شکنی کرے اور اس کی نشاندہی ہو جائے تو اس کے خلاف فورا ایکشن لیا جاتا ہے۔ یہ ایکشن بھی کسی انتہائی سینئر متعلقہ پولیس آفیسرکی جانب سے لیا جاتا ہے۔ اب تک میں نے اس حوالے سے پنجاب پولیس کی جو سٹریٹیجی سمجھی ہے اس کے مطابق ایسا ایکشن کم از کم ایس ایس پی یا ڈی آئی جی سطح کے آفیسر کی جانب سے لیا جاتا ہے اور اگر معاملہ زیادہ سنگین ہو تو سی سی پی او ، ڈی پی او ، آر پی او یا آئی جی پنجاب تک کی جانب سے ایکشن لینے کی اطلاع سامنے آتی ہے۔ قانون شکنی کرنے والے اہلکاروں کو معطل کیا جاتا ہے ، اس کے خلاف محکمانہ انکوائری ہوتی ہے اور جرم ثابت ہونے پر اسے ملازمت سے برخاست تک کر دیا جاتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر آدھی خبر جذباتیت کے روایتی چورن کے ساتھ چلتی رہتی ہے اور غلط عمل کے اس ردعمل کا مکمل فالو اپ نہیں ہوتا۔ یہاں میں یہ سمجھتا ہوں کہ لازم ہے ہم ایسے ایکشن اور سزاؤں کو بھی ہائی لائیٹ کریں تاکہ ہر کسی کو معلوم ہو کہ اگر کوئی قانون شکنی یا اختیارات کا غلط استعمال کرے گا تو پھر اس کے خلاف ایکشن بھی ہو گا اور اسے اپنے جرم کی نوعیت کے مطابق معطلی ، تبادلے ، جرمانے یا ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کا رائے عامہ تیار کرنے میں بہت اہم کردار ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر جرائم یا مجرموں کی حوصلہ افزائی کریں تو معاشرے میں جرم کو گلیمر بنا دیا جائے گا۔ بھارتی اور پاکستانی فلموں نے بھی اس میں بہت اہم کردار اداکیا ہے۔ ان فلموں کے آخر میں بے شک یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم کا انجام جیل یا موت ہے لیکن باقی ساری فلم میں مجرم کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک عرصہ تک ہمارے کئی نوجوان خصوصاً کالجز کے طلبا اسلحہ کلچر کی جانب مائل رہے۔ ماضی میں متعدد سٹوڈنٹ لیڈر فلموں کے اسی مجرمانہ گلیمر کی وجہ سے بدمعاش بنے اور جوانی میں ہی مارے گئے۔پنجاب میں خاص طور پر یہ روایت رہی ہے کہ بہادری کے نام پر قانون شکنی کرنے والے کو داد دی جاتی ہے۔ خاص طور پر قتل کے ملزم کو پھانسی تک پہنچانے میں اس کے اپنے رشتے داروں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہی رنگ پنجابی فلموں میں گلیمر کے طور پر نمایاں کیا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ’’ گلیمر ‘‘ہے جو کئی زندگیاں نگل چکا ہے۔ بدقسمتی سے ہم یہ واضح نہیں کر پائے کہ بہادری اور بدمعاشی میں زمین آسمان کا فرق ہے ، بہادری دوسروں کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگا دینے اور ظلم سے ٹکرانے کا نام ہے جبکہ بدمعاشی ذاتی انا کی تسکین کے لئے خوف پھیلانے اور حقوق سلب کرنے کی شیطانی خصلت ہے۔ سچ یہ ہے کہ ایک عرصہ سے ہم بدمعاشی کے چہرے پر بہادری کا مصنوعی نقاب چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں۔

اب بھی ہم سوشل میڈیا پر مذمت کے پردے میں جرائم کو گلیمر کے طور پر ہی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ 

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں محفوظ اور پر امن پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دینا ہے تو پھر ہمیں جرم سے زیادہ اس کے انجام کو نمایاں کرنا ہو گا۔ بطور شہری ہماری ذمہ داری ہے کہ کوئی پولیس اہلکار قانون ہاتھ میں لے تو اس کے خلاف ہونے والے محکمانہ ایکشن کو زیادہ سے زیادہ ہائی لائیٹ کریں تاکہ شہریوں اور اہلکاروں دونوں کی ذہن سازی ہو سکے۔ شہریوں پر بھی لازم ہے کہ اگر کوئی اہلکار ان کے ساتھ غیر قانونی سلوک روا رکھتا ہے تویہ بات لازماً اس کے افسران کے علم میں لائیں۔ المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ایسے واقعات کے بعد ایک شکایتی درخواست تک لکھنا گوارا نہیں کرتے لیکن تبدیلی کا نعرہ پھر بھی لگاتے ہیں۔ پنجاب پولیس میں تواب آن لائن اور ٹیلی فونک شکایتیں بھی درج ہوتی ہیں یعنی دیگر الفاظ میں خود محکمہ پولیس نے شہریوں کو یہ سہولت دی ہے کہ وہ کسی قسم کی پریشانی کے بغیر اعلی افسران تک اپنی شکایت پہنچا سکتے ہیں۔ نئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے تو اپنی پہلی میڈیا ٹاک میں ہی صحافیوں کو کہہ دیا تھا کہ جرائم کی نشاندہی میں پولیس کا ساتھ دیں اور مل کر پنجاب کو کرائم فری صوبہ بنائیں۔اب فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم جرائم کو گلیمر کا رنگ دے کر ریٹنگ گیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں یاپھر ان جرائم پر ہونے والے ایکشن اور ملزم کے منطقی انجام کو نمایاں کرکے معاشرے کی ذہن سازی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں