دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر39

18 دسمبر 2017 (20:24)

         حالات بدلتے ہی میں نے اپنی رہائش ممبئی کے پوش علاقے میں منتقل کرنے کا سوچا اور ہم نے پالی مالا میں بنگلہ خرید لیا ۔آغاجی اب ہفتے میں ایک ادھ بار ہی فروٹ منڈی جاتے تھے ۔گھر میں پیسہ آرہا تھا لیکن آغا جی میری کمائی پر انحصار نہیں کرنا چاہتے تھے ،جیسا کہ بتا چکا ہوں وہ غیرت مند تھے کبھی کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتے تھے اپنے ہاتھوں سے کمائی تادم آخر جاری رکھنا چاہتے تھے۔

امان کی حالت روز بروز خراب تر ہونے لگی۔ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ان کے لئے صاف ستھری آب وہوا چاہئے،ا ن کا دمہ بگڑتا جارہاتھا۔ایوب صاحب کا غم انہیں کھائے جاتا تھا۔دوسروں کے سامنے وہ اپنے جذبات چھپا لیتی تھیں لیکن میں ان کی ممتا کا احساس کرسکتا تھا ۔راتوں کو ان کا تکیہ ان کے آنسو پیتا رہتاتھا۔

آغا جی بخوبی جانتے تھے کہ اماں سوائے میرے کسی پر شاید ہی اتنا اعتماد کرتی ہوں گی۔وہ مجھ سے اپنے سارے دکھ بانٹ لیتیں ،میں ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیتا اور ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتا۔ان ہاتھوں نے مجھے پروان چڑھایا تھا ۔اماں ایوب صاحب کی باتیں کرتیں اور جب دیکھتیں کہ مجھے اس سے تکلیف ہورہی ہے،میرے تاثرات کو پڑھ کر وہ موضوع بدل لیتں۔

ایک روز میں گھر سے باہر جارہا تھا ،اچانک آغاجی آئے اور مجھے باہر جانے سے روک دیا،ان کا چہرہ مغموم اور آنکھوں میں نمی تھی ،انہوں نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور کہا” تم اپنی اماں کے پاس جاو،آج اسے تمہاری بہت ضرورت ہے۔اگر باہر جانا ہی پڑے تو صرف ڈاکٹر کو بلانے جانا“ میں نے پہلی بار آغا جی کے اندر کا حساس انسان دیکھا تھا۔میں کمرے میں گیاتو اماں کافی تکلیف میں تھیں ۔ان کا سر گود میں رکھا اور ہاتھ کو حسب عادت بوسہ دیا تو میرا دل بھر آیا،آنکھوں سے آنسو پھسل گئے،اماں نے دیکھا تو کہا” یوسف رونا نہیں“

”روکب رہا ہوں“ میں نے ان کے ہاتھ کو پھر بوسہ دیا اور میرے اندر جیسے کوئی چیخیں مارمار کر رودیا ۔آغاجی اس دوران ڈاکٹر کو لے آئے۔ڈاکٹر دوا کے سوا کچھ نہیں کرسکتا تھا۔وہ بھی مایوس تھا ۔آخر میری زندگی کی وہ تاریک شب بھی آگئی ،اماں اٹھارہ اگست 1948ءکو ہمیں تنہا چھوڑگئیں ۔مجھ پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔میرا کوئی غم خوار نہ تھا،کوئی میرے درد کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔

                                                                                                                      دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر38

ہفتوں مہینے اماں کے غم میں تڑپتا رہا۔ایک روز آغاجی بڑے دکھی تھی۔میں ان کا غم بانٹنا چاہتا تھا اوران کا دل بہلانے کے لئے میں نے ایک کار خرید لی اور انہیں اس میں سیرا کرائی۔اُس دن کہنے لگے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انکی قبر اماں کی قبر کے پاس ڈیولالی میں بنائی جائے۔انہوں نے مجھ سے وعدہ بھی لیا ۔اس وقت میرے کیا جذبات تھے،بیاں نہیں کرسکتا۔ 

مجھے اچھی طرح یاد ہے۔اماں ابھی زندہ تھیں۔میری فلم میلہ ریلیز ہوچکی تھی۔ایک دن میں اماں کی نئی ادویات لیکر گھر آیا تو چاچا عمر بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ آج پہلی بار وہ اور آغا جی میری فلم میلہ دیکھ کر آئے ہیں۔

میں ششدر اور کچھ پریشان ہوا کہ آغا جی نہ جانے اس بارے کیا رائے قائم کریں۔انہوں نے فلم میں مجھے اس عالم میں دیکھا تھا کہ میں فلم کی ہیروئن کے ساتھ بے تکلف نظر آتا تھا جبکہ عام زندگی میں میں بہت شرمیلا تھا ۔انہوں نے بڑے غور سے فلم دیکھی۔اس دن مجھے وہ بغور دیکھتے ہوئے بولے” مجھے سچ سچ بتاو۔اگر تم واقعی سنجیدہ ہواور اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہوتو میں اسکی ماں سے جاکر بات کرتا ہوں“

” کس لڑکی سے“ میں نے الجھتے ہوئے پوچھا ۔چاچا عمر نے بتایا کہ فلم والی لڑکی سے جس کے عشق میں پریشان ہوتا پھرتا تھا ۔یہ سنتے ہی میں بے اختیار ہوکر ہنسنے لگا کہ وہ نرگس کی بات کررہے تھے۔میلہ کی ہیروئن نرگس تھی ۔کہانی کے مطابق مجھے اس کی محبت میں بڑے دکھ سہنے پڑے تھے اور آغا جی اس پر رنجیدہ تھے۔وہ فلمی عشق کو حقیقی سمجھ بیٹھے تھے۔اب مجھے خطرہ پیدا ہوگیا کہ مجھے فوری معاملہ کی وضاحت کرنی چاہئے۔کہیں یہ نرگس کی تلاش میں اسکے گھر تک نہ پہنچ جائیں۔میں نے آغا جی پر فلمی کہانی واضح کی اور بتایا کہ اس عشق کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

نرگس اور میرے درمیان دوستانہ قائم ہوگیا تھا۔وہ مردوں کی محفل میں مردوں کی طرح رہتی ۔اسکی والدہ جدن بھائی اور اماں اور بڑی بہن کے درمیان اچھے تعلقات بن گئے اور نرگس سے ہمارا گھر تک میل جول ہوگیا تو آغاجی کو اداکاری اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق کی سمجھ آگئی۔

نرگس اور راج کی فلمی جوڑی بھی بن گئی۔ دونوں بڑے جوش سے فطری اداکاری کرتے تھے۔اس کا مجھے بھی فائدہ ہوا اور مجھے اداکاری کانیا اسلوب اور لائن مل گئی۔میں نرگس کے ساتھ خود کو بڑا ایزی لینے کے قابل ہوگیا۔اسکے بعد یہی فائدہ مجھے مدھوبالا کے ساتھ اداکاری کے دوران ملا .... مدھو بالا بڑی پرفیکٹ عورت تھی۔اسکے ساتھ کوئی سین کرنا ہوتا تو اسکرپٹ کے مطابق کوئی چیز نہ بھول پاتے۔مدھو میں یہ خوبی تھی،وہ اسکرپٹ کے ایک ایک لفظ پر عمل کرتی جس سے محبوب خان بہت خوش تھے....(جاری ہے )

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں