آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان... قسط نمبر 59

19 دسمبر 2017 (16:34)

گاڑی بان کمبل سے آزاد ہوا تو اسے سیاہ ہیولے سے دکھائی دیے اور پھر قیامت خیز شور سنائی دیا۔وہ دم دبا کر نالے کے اندر سے ہوتا ہوا فرار ہو گیا۔تھوڑی دور باقی گاڑیوں کا قافلہ جارہا تھا۔ شیرنی کی گرج سن کر سب اندھا دھند دوڑ پڑے تھے۔گاڑی بان جان چکے تھے کہ ان کا آخری ساتھی مصیبت میں گرفتار ہے مگر کوئی بھی اس کی مدد کے لیے نہ رکا۔

اس حادثے کی خبر پورے علاقے میں پھیل گئی۔لوگوں نے رات کا سفر موقوف کر دیا مگر اس سے شیرنی پر کچھ اثر نہ پڑا۔اس نے دن کے وقت مویشیوں پر حملے شروع کر دیے۔ اب اس کے بچے بھی ہاتھ بٹانے کے قابلے ہو گئے تھے۔شیرنی کا کندھا بری طرح زخمی ہوا تھا اور اس کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔وہ ساری چستی چالاکی کھو بیٹھی تھی اور شکار کی ساری ذمہ داری ان بچوں کے سر پر آن پڑی تھی جو پوری طرح تجربہ کارنہ ہوئے تھے۔شیرنی یا شیر جس جانور پر حملہ کرتا ہے،پہلے بڑی نفاست سے کم از کم خون بہا کر اس کی گردن توڑتا ہے،پھر ایک طرف سے اسے کھانا شروع کر تا ہے۔اس کے برعکس ان بچوں نے جتنے بیل یا بچھڑے مار گرائے وہ بری طرح زخمی پائے گئے۔یوں لگتا تھا انہیں بے شمار کتے یا بھڑئیے چچوڑتے رہے ہیں۔

مویشی آئے دن ہلاک ہورہے تھے اور لوگ سخت پریشان تھے، پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے دہشت اور اضطراب کی لہر اور تیز کر دی۔ایک گلہ بان مرایاپا گیا۔وہ اپنی گائے کو بچانے کے لیے ان تینوں درندوں سے ٹکرا گیا۔یہ فاش غلطی ،بلکہ حماقت تھی۔درندوں نے اس کی خوبصورت پیاری سی گائے پر حملہ کیا تو یہ ان سے گتھم گتھا ہو گیا۔جرات یقیناً قابل داد تھی مگر وہ اگلے ہی لمحے خون میں لت پت دم توڑ چکا تھا۔

یہ واقعہ پاناپتی میں پیش آیا۔ پتی کا مطلب ہے مویشیوں کا باڑہ۔یہ دریائے چنار کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔دریائے چنار میں مون سون کے موسم میں ہوتا ہے اور چھ ماہ تک خشک رہتا ہے اور پہاڑی نالے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

مون سون کے ختم ہوتے ہی ہندوستان میں سبزہ بھی ختم ہونے لگتا ہے۔اس وقت مویشیوں کے مالک جنگلوں کا رخ کرتے ہیں اور اپنے مویشی بعض چرواہوں اور پجاریوں کے سپرد کر دیتے ہیں جو انہیں ہرے بھرے جنگلوں میں چراتے ہیں۔اس مقصد کے لیے واجبی سی اجرت ادا کی جاتی ہے۔

پاناپتی مدارس پریذیڈنسی میں ہے اور باہر کا کوئی شخص اس کا نام تک نہ جانتا تھا،پھر دوواقعات رونما ہوئے۔ایک تو یہاں مست ہاتھی آنکلا جس نے دل کھول کر مویشیوں اور انسانوں پر حملے کیے۔اس کی زد میں وہ شکاری بھی آگیا جو اس کا پیچھا کررہا تھا۔اس وحشی کی کہانی’’پاناپتی کا مست ہاتھی‘‘کے عنوان سے پہلے کہیں بیان کر چکا ہوں۔پھر کئی سال تک خاموشی چھائی رہی اور آخر ایک ’’انتقامی روح‘‘ ان جنگلوں میں گھس آئی جس کی کہانی میں اب بیان کرنے لگا ہوں۔یہ روح کوئی پر اسرار جناتی سایانہ تھا بلکہ یہ ایک شیر تھا جو نجانے کہاں سے آنکلا۔اسے جناتی شہرت ضرور نصیب ہوئی اور پھر یوں غائب ہو گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔

پانا پتی کے مویشیوں کے مالک امیر کبیر لوگ تھے جو بیس میل ور ایک بڑے قصبے دھرمپورہ میں رہائش پذیر تھے۔تین چار خاندان ایک اور نسبتاً کم اہم قصبے پنا گرام سے تعلق رکھتے تھے جو دس میل کے فاصلے پر تھا۔جنگل میں جو لوگ مویشی چرانے کا کام کرتے وہ زیادہ تر پنا گرام کے نواحی دیہات کے اچھوت تھے۔کچھ تعداد جنگلی پجاریوں کی بھی شامل ہو گئی جنہیں نیچ ذات ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔یہ لوگ دریائے چنار کے کناروں پر مدت دراز سے رہتے چلے آتے تھے۔انہی میں ایک پجاری کانام ’’کیارا‘‘ تھا۔وہ بھی ایک متمول خاندان کے مویشی چرایا کرتا۔اسے پورے موسم کے لیے صرف دس روپے تنخواہ ملتی۔ہفتے بعد چاول وغیرہ کا راشن اس کے علاوہ تھا۔

کیا را نے جب پہلے پہل یہ پیشہ اپنایا تو وہ غاروں سے نکل کرپاناپتی کی جھونپڑیوں میں آن آباد ہوا۔اس کے ساتھ اس کی بیوی اور ایک لڑکی بھی تھی جس کا نام مروی تھا۔ایک گرم رات کو یہ لوگ سونے کی تیاری کرنے لگے تو کیا را کی بیوی کو خیال آیا کہ کیوں نہ وہ اپنے لمبے لمبے بال کپڑے کے ٹکڑے سے باندھ لے۔اس نے ادھرادھر کپڑا تلاش کیا مگر اسے کچھ نہ ملا۔پھر اسے یاد آیا کہ اس نے مطلوبہ کپڑا پانی کے گھڑے کے قریب رکھا تھا۔وہ باتیں کرتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی اور پانی کے گھڑے کے قریب جا کر ہاتھ مارنے لگی۔اس نے جس چیز کو کپڑے کا ٹکڑا سمجھ کر اٹھانا چاہا،وہ دراصل ایک زہریلا سانپ تھا۔موذی نے فوراً اس کی ہتھیلی سے ذرا اوپر بازو میں ڈس لیا اور گھاس میں غائب ہوگیا۔

بے چاری عورت شدت درد سے تڑپ اٹھی۔کیا رافوراً سمجھ گیا کہ یہ سانپ کی کارستانی ہے۔ہسپتال کا رخ کرنے کے بجائے جو رات کے وقت ویسے بھی مشکل تھا۔اس نے سادہ ٹونے ٹوٹکوں سے بیوی کا علاج کرنا مناسب سمجھا۔اس کے میلے کچیلے تھیلے میں جڑی بوٹیوں سے کچھ دوائیں تیار رکھی تھیں۔اس نے ایک دوا زخم پر چھڑکی،گوبر باندھا اور پاس بیٹھ کر منتر پھونکنے لگا۔آدھ گھنٹے بعد عورت کی حالت بہت بگڑ گئی۔وہ بے ہوش ہو گئی اور اس کے منہ سے جھاگ بہنے لگا۔ اگلے تیس منٹوں میں وہ مر گئی۔ کیا را کے پاس اب صرف ایک بچی مروی تھی۔

کئی سال گزر گئے۔مروی جوان ہو گئی۔ایک دن سیٹھ نرائن پاناپتی میں آیا۔وہ دھرمپورہ کے لینڈ لارڈ اور امیر کبیر سوداگر گوپال سوامی کا بڑا لڑکا تھا، اس کی شادی ہو چکی تھی اور اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ وہ پانلاپتی میں اس وقت پہنچا،جب مویشی جنگل میں جاکر چکے تھے۔اس نے مین روڈ پر اپنی موٹر کھڑی کی ،شوفر بھی وہیں رک گیا اور وہ دو میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے پاناپتی پہنچ گیا۔اس وقت نو بج رہے تھے۔وہ کیارا کی جھونپڑی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے کھنکار کر اپنی موجودگی سے اہل خانہ کو خبردار کرنا چاہا، اس لیے کہ اعلیٰ ذات کے ہندو،اچھوتوں کا نام بھی زبان پر لائیں تو یہ بہت بڑا پاپ تصور کیا جاتاہے۔پجاری نے اپنے آقا کے فرزند کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔وہ جھونپڑی سے نکلا اور پرنام کے لیے زمین پر ماتھارگڑنے لگا۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’کیا خبریں ہیں؟‘‘ نوجوان نے پوچھا۔

’’سب ٹھیک ہے سوامی!‘‘ کیا را نے جواب دیا:’’دیوتاؤں کا کرم ے تمہارے باپ کا کوئی جانور کسی درندے یا منہ کھر کی بیماری سے ہلاک نہیں ہوا۔اس وقت دو بھینسوں کو میری لڑکی چرانے لے گئی ہے‘‘

’’تو یہ بات ہے۔تم حرام کی کھاتے ہو!‘‘سیٹھ نرائن نے کہا:’’ مویشی اپنی لڑکی کے آگے لگا دیتے ہو اور خود گھر میں پڑے رہتے ہو۔اگر کوئی جنگلی جانور حملہ کر دے تو تمہاری لڑکی اس کا کیا بگاڑ لے گی؟‘‘

’’نہیں،یہ بات نہیں سوامی۔‘‘ کیا را نے بہانا تراشتے ہوئے کہا:’’دراصل رات سے مجھے سخت بخار ہے۔دست بھی آرہے ہیں۔‘‘

’’تم جھوٹ بک رہے ہو۔‘‘لینڈلارڈ کا لڑکا پھنکارا:’’میں اپنے جانوروں کو دیکھنے آیا ہوں۔چلو میری رہنمائی کرو۔لڑکی مویشیوں کوکدھر لے گئی ہے؟‘‘

اس طرح سیٹھ نرائن کی پہلی بار مروی پر نظر پڑی۔وہ دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہو گیا مگر لڑکی کے باپ کی موجودگی میں اس سے کوئی بات نہ کر سکتا تھا۔

اس کے بعد نوجوان نے اپنے باپ کے مویشیوں میں بہت زیادہ دلچسپی دکھانا شروع کر دی۔گوپال سوامی کو اس کی وجہ سمجھ نہ آئی، تاہم اسے یقین تھا کہ بیٹے کا یہ شوق چند روزہ ہے۔سیٹھ نرائن اب پاناپتی آتا تووہ عام راستہ اختیار نہ کرتا اور سیدھا جنگل میں جاکر لڑکی سے ملتا۔وہ اسکے ساتھ مویشی بھی چرانے لگا،اسکا دل لبھانے کی کوشش کرتا۔اگرچہ مروی ابھی نا سمجھ تھی مگر سیٹھ نرائن کی حرکتوں سے اس نے اندازہ لگا لیا کہ نوجوان کو اس سے محبت ہو گئی ہے۔گاہے گاہے وہ اسے پیسے بھی دینے لگا۔(جاری ہے)

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان... قسط نمبر 60 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں