حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر70

Apr 20, 2018 | 13:32:PM

سید سلیم گیلانی

ابوفکیہہؓ میری طرح خاندانِ اُمیہ کے غلام تھے۔ یہ کوئلوں کے داغ جو میری پیٹھ پر آپ کو نظر آ رہے ہیں، اُن کی پیٹھ پر بھی تھے۔ اُمیہ نے کوئی ستم مجھ پر ایسا نہیں ڈھایا جو اُس نے ابو فکیہہؓ پر بھی نہ آزمایا ہو۔ اُن کو بھی ابوبکرؓ نے اُس حال میں خرید کر آزاد کرایا جب اُمیہ انہیں کوڑے مار مار کر مُردہ سمجھ بیٹھا تھا۔ وہ دوسری ہجرتِ حبشہ میں شامل تھے لیکن سخت ترین مصائب جھیلنے کی وجہ سے اُن کے اعضا میں اضمحلال پیدا ہو گیا تھا اور وہ غزوہ بدر سے پہلے ہی انتقال کر گئے مگر ہمیشہ کے لئے انی پاردی اور استقامت کی مثال چھوڑ گئے۔

سالمؓ، مولیٰ ابی حذیفہؓ قرأت اور صوت کے امام تھے۔ خوش الحانی کا یہ عالم تھا کہ خود زبان نبوت نے اُن پر فخر کیا۔ ایک دفعہ عائشہؓ صدیقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ رہی تھیں کہ راہ میں رُک گئیں۔ حضورؐ نے دیر سے آنے کا سبب دریافت فرمایا تو کہنے لگیں ایک شخص تلاوتِ قرآن کر رہا تھا میں اُس کو سننے لگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اشتیاق ہوا اور ردائے مبارک شانوں پر ڈال کر باہر تشریف لے گئے۔ دیکھا تو سالمؓ قرأت کر رہے تھے، انہیں سُن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کیا:

’’ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں تم جیسے لوگ پیدا کئے ہیں‘‘۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر69 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اُن کی قدر و منزلت کا اندازہ اس سے بھی لگائیے کہ ایک دفعہ عمرِ فاروقؓ نے اپنے چند ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ کسی چیز کی تمنا کرو۔

ایک نے کہا:

’’میری تمنا ہے کہ یہ گھر سونے سے بھرا ہو اور میں اُسے راہِ حق میں صدقہ کر دوں‘‘۔

دوسرے نے کہا:

’’کاش! یہ گھر جواہرات سے بھر جائے اور میں انہیں اللہ کی راہ میں لٹا دوں۔‘‘

پھر امیر المومنین نے پوچھا: ’’کوئی اور تمنا، تو سب خاموش ہو گئے۔ اس پر عمرؓ نے کہا:

’’میری تمنا ہے کہ یہ گھر ابوعبیدہ بن الجراحؓ، معاذ بن جبلِؓ، حذیفہ بن الیمانؓ اور سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ جیسے بزرگوں سے بھرا ہو۔‘‘

امتِ مسلمہ میں سالمؓ کے علم و فضل کی یہ پذیرائی تھی کہ وہ مسجد قباکے پیش امام تھے جہاں اجل صحابہ اکثر اُن کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔ ان میں ابوبکرؓ اور عمرؓ جیسی ہستیاں بھی شامل تھیں۔

ثوبانؓ بھی میری طرح ہمیشہ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو اپنے اہل بیت میں شمار کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ کچھ دن مدینے میں رہے، پھر شام چلے آئے اور آج کل یہیں رملہ کے علاقے میں رہتے ہیں۔ حضورؐ کی نسبت سے اُن کا اس قدر احترام ہے کہ ایک دفعہ حمص میں بیمار پڑ گئے۔ وہاں کا گورنر اُن کی عیادت کو نہ آیا تو اُسے شکوے کا خط لکھ بھیجا۔ گورنر اُن کی تحریر دیکھ کر لرز گیا اور جس حالت میں بیٹھا تھا اُسی حالت میں اُٹھ کر اُن کے گھر گیا اور دیر تک مزاج پرسی کرتا رہا۔

دعوتِ توحید پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے بزرگوں میں جہاں ابوبکرؓ اور عثمانؓ جیسے بزرگانِ قریش کے نام آتے ہیں، وہاں چند ایسے غلاموں کا بھی ذکر ہے جن کے اعمال و اطوار ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ صہیب بن سنانؓ انہیں میں سے ایک ہیں۔ اُن کے رومی لہجے کی وجہ سے حضورؐ ازرہِ التفات فرمایا کرتے تھے:

’’صہیب روم کا پھل ہے۔‘‘

وہ تیر اندازی اور شمشیر زنی کے بہت بڑے ماہر مانے جاتے ہیں۔ سارے غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے۔ ایک دفعہ صہیبؓ، سلمانؓ اور میں کھڑے تھے کہ ابوسفیان کا ادھر سے گزر ہوا۔ یہ ان کے اسلام لانے سے پہلے کی بات ہے ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا:

’’اللہ کی تلوار نے پتا نہیں کیوں اب تک اس دشمنِ دیں کی گرد ن نہیں اُڑائی۔‘‘

ابوبکرؓ بھی اُدھر سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے ہماری بات سن کر کہا:

’’تم لوگ قریش کے بزرگوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہو۔‘‘

یہ کہہ کر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اُنہیں سارا ماجرا سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ابوبکر، تم نے شاید انہیں خفا کر دیا ہے اور اگر یہ سچ ہے تو تم نے اپنے اللہ کو ناراض کر دیا‘‘۔

یہ سن کر ابوبکرؓ الٹے پاؤں ہمارے پاس آئے اور جب تک ہم نے یہ نہیں کہہ دیا کہ ہم ناراض نہیں ہوئے، واپس نہیں گئے۔ یہی وہ وعید تھی جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔

ایسے ہی ایک مرتبہ مدینے میں، میں، سلمانؓ، صہیبؓ، عمارؓ اور خباب بن ارتؓ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ الاقرع بن حابس التمیمی اور عینیہ بن حصن الغز ای اپنے وفد کی آمد کی اطلاع لے کر حاضر ہوئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ حقارت سے پیچھے ہٹ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے ہم اس بات میں شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ آنے والے عرب شرفا آپ کو ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا دیکھیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جب ہمارے وفود یہاں پہنچیں تو یہ لوگ آپ کے پاس نہ ہوں۔ ہم لوگ یہ سن کر فوراً وہاں سے اُٹھ کر کچھ فاصلے پر جا بیٹھے۔ اُسی وقت سورۃ انعام کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

’’اُن لوگوں کو نہ نکا لئے جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں،

محض اُس کی رضا کے لئے۔

آپ کے ذمے ان کا ذرا بھی حساب نہیں

اور نہ اُن کے ذمے آپ کا ذرا بھی حساب ہے۔۔ جس سے آپ انہیں نکالنے لگیں۔۔ اور آپ کا شمار بے انصافوں میں ہو جائے۔‘‘

اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر سلامتی بھیجی اور ہمیں بلا کر پھر پاس بٹھا لیا۔ اتنے قریب کہ ہمارے گھٹنے ان کے گھٹنوں کو چھونے لگے۔ خاصی دیر پاس بٹھائے رکھنے کے بعد وہ اُٹھ کر جانے لگے تو جبریل امین دوبارہ حاضر ہوئے اور سورۂ کہف کی آیت نازل ہوئی۔

’’آپ اپنے آپ کو اُن لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے، جو اپنے پروردگار کو محض اُس کی رضا جوئی کے لئے پکارتے ہیں۔

اور دنیاوی زندگی کی رونق کے خیال سے اپنی آنکھوں کو اُن پر سے نہ ہٹائیے۔

اور اُس کا کہا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے۔

وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔

اُس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔

اور آپ کہہ دیجئے کہ حق پروردگار کی طرف سے آ چکا ہے۔

جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کافر رہے۔‘‘

اس کے بعد ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر ہمیشہ اُن کے بالکل قریب ہو کر بیٹھنے لگے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر71 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں