سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 33

20 جنوری 2018 (13:09)

قاضی عبدالستار

وہ اپنی فوج اورسوارہ لئے سرخ جھنڈے کی طرف چلا جس کے داہنے بازو پر تقی الدین رچرڈ کے داہنے پہلو کی آہن پوش دیوار توڑ کر اس کے عقب میں پہنچ گیا اور طبقہ البیطار کے شہسواروں میں گھر گیا۔ اس نے گھبرا کر تاج الملوک کو حکم دیا کہ تقی الدین کی مدد کو پہنچے اور خود رچرڈ کے قلب پر چلا۔ ملک الافضل اس کی رکاب سے نکل کر رچرڈ کے علم دار پر حملہ آور ہوا اور دھکیل کر رچرڈ کے پیچھے پہنچا دیا۔ اب تقی الدین کا رچرڈ سے سامنا ہو چکا تھا ۔ رچرڈ نے نعرہ لگایا۔

’’اے مسیح۔۔۔اے مہد مسیح ہماری مدد کر‘‘۔

اور دونوں ہاتھوں سے تلوار علم کر کے تقی الدین پر حملہ کیا جسے تقی الدین نے چیتے کی طرح پھرتی سے گھوم کر بچالیا اور مڑتے مڑتے رچرڈ کے گھوڑے پر وہ تلا ہوا ہاتھ مارا کہ تلوار با کھرتوڑ کر گھوڑے کے سینے میں دھنس گئی اور رچرڈ بدحواس ہو کر گھوڑے سے پھاند پڑا۔ تقی الدین نے خون میں ڈوبی ہوئی تلوار علم کر کے رچرڈ پر گھوڑا ریل دیا اور قریب تھا کہ اس کا گھوڑا رچرڈ پر چڑھ جائے کہ آواز آئی۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’رچرڈ کو گھوڑے پر سوار ہونے کا موقع دو اور بہادروں کی طرح لڑو۔‘‘

رچرڈ نے خود کو چھجے کے نیچے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ تقی الدین کے گھوڑے پر رن چڑھا ہوا تھا اور وہ لگام نہیں مان رہا تھا اور پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوا غیظ کا اظہار کر رہا تھا کہ ملک الظاہر نے ایک سلطانی گھوڑا رچرڈ کو دے کر اس کی حفاظت کو بڑھتے ہوئے نائیٹوں سے الجھ گیا۔ اب افرنجیوں کا ہجوم ہونے لگا تھا۔ اس نے تقی الدین کو اشارہ کیا اور اپنے سواروں کو نصرانی فوج کے سمندر میں تیراتا ہوا نکل آیا۔

یافا کی لڑائی میں وہ عام مسلمانوں کی کار گزاری سے برہم بیٹھا تھا۔ ملک العادل نے تفتیش کے بعد حکم لگایا کہ مال غنیمت سے لدے پھندے لشکری بیوی بچوں کا فراق شدت سے محسوس کرنے لگے ہیں۔ سالہا سال کی مسلسل لڑائیوں سے تھک گئے ہیں پشتینی رقابتیں بھڑک اٹھی ہیں، نسلی عداوتیں بیدار ہو گئی ہیں۔ اس لئے تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے ۔ اس نے بیٹھے ہی بیٹھے کاتب کو طلب کیا۔

ممالک محروسہ کے والیوں اور شاہوں کے نام احکام لکھوائے کہ تازہ دم مجاہد روانہ کئے جائیں۔ ملک العادل کو حکم دیا کہ مخصوص رسالوں کے علاوہ تمام لشکر کی رخصت منظور کی جائے۔ ہمر کابوں کی تنخواہیں اور روز ینے بڑھا دیئے جائیں۔ آزمودہ کا ر سرداروں کو بیت المقدس کے مورچوں کی درستگی کے معائنے پر مامور کیا اور قراول کو باریاب کیا جس نے عرض کیا۔

’’نصرانی افواج کا سپہ سلار رچرڈ عکہ سے تازہ دم لشکر لے کر آگیا ہے۔ ایک لاکھ آہن پوش سواروں ، چالیس ہزار ترکوپول اور رسد کے پچاس ہزار اونٹوں اور خچروں کے ساتھ یافا میں داخل ہوا چاہتا ہے اور مقامی انتظامات سے فارغ ہوتے ہی بیت المقدس کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے‘‘

ملک العادل نے اس خبر کو تردد سے سنا اور گزارش کی کہ تازہ دم افواج کی آمد سے پہلے موجود لشکر میں تخفیف دور اندیشی کے خلاف ہے لیکن اس نے توجہ نہ فرمائی۔ اسی شام ترکمانوں کا لباس پہنا اور خاص خاص جاں نثاروں کو ساتھ لے کر لشکر کے خفیہ گشت کو نکلا۔

ارسوف کی شہر پناہ کے باہر مشرق سے مغرب تک تمام پہاڑیاں اسلامیوں کے خیموں سے آراستہ تھیں۔ ابتدائی سرما کے تابدار چاند کی خنک روشنی میں دور دور تک پھیلی ہوئی مشعلوں کے جگنو اڑ رہے تھے۔ الاؤ کے انگارے دہک رہے تھے۔ مصر، شام، حجاز ، یمن، افریقہ ، کیفا، ماردین، حلب اور موصل کے بادشاہوں ، امیروں اور سرداروں کی بارگاہیں اپنے اپنے جانبازوں کے حلقے میں اپنے اپنے نشان اڑاتی ، اونچی ، بھاری مشعلوں کی روشنی میں متانت اور استقامت سے کھڑی تھیں۔ کہیں قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی تھی۔ کہیں صحابہ کرام کی سیرت مقدسہ کا بیان ہو رہا تھا۔ قادشیہ اور یرموک کی فتح کی داستان سنائی جا رہی تھی۔ الف لیلیٰ کے افسانے آنکھوں میں مستی پیدا کر رہے تھے۔ ایام جاہلیت کے شاعروں کے اشعار گائے جا رہے تھے اور قبائل کے افتخار سنائے جا رہے تھے اور نبیذ کے دور چل رہے تھے۔ کمانوں کا چمڑا سینکا جا رہا تھا۔ تلواروں پر باڑھ رکھی جا رہی تھی ۔ نیزوں کے پھل زہر میں بجھائے جا رہے تھے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کی جارہی تھی۔

اب وہ ایک عربی بارگاہ کے سامنے آگیا جس پر بنو تغلب کا نشان لہرا رہا تھا اور اس کے تین طرف چھوٹے چھوٹے خیموں کا محلہ آباد تھا۔ داخلے پر زمین میں گڑی مشعلیں روشن تھیں۔ عرب مجاہد الاؤ کے گرد بیٹھے کسے ہوئے گھوڑوں کو سامنے کئے صحرا کا مشہور گیت گارہے تھے۔

یہ دھوپ سے سلگتا ہوا سیاہ صحرا جس میں لٹک رہا ہوں

اس ریگستان سے کہیں چھوٹا اور شاداب ہے جو میرے سینے میں آباد ہے

وہاں تو کوئی مجھ جیسا مسافر بھی نہیں

میرے نقش پا جیسے خاموش ہمراہی بھی نہیں ببول کے کانٹوں کی رہبری بھی نہیں

ریت ، دھوپ ، سموم اور قاتل تنہائی!

آہ بنتِ عم ۔۔۔اپنی محبت کا توشہ دیکھ

وہ عام ترکمان سرداروں کی طرح پردہ ہٹا کر خرگاہ میں داخل ہو گیا ۔ اونٹ کی کھالوں کی وسیع وعریض چھت کے نیچے نمدے کی بھوری مغربی دیوار کے نیچے تختوں کی قطار پر مختلف رنگوں کے قالین بچھے تھے۔ چرمی غلاف کا بھاری تکیہ پشت سے لگائے ہوئے شیخ بیٹھا ہوا تھا ۔ یمنی چادر کی کتھئی عبا پر سیمیں کمر بند میں جڑاؤ خنجر لگاتھا۔ سر کے سفید رومال میں زرکا ر ڈوری بندھی تھی ۔ سیاہ بھری ہوئی گول داڑھی میں سفید بال جھلملا رہے تھے۔ دباغت کئے ہوئے زرد چمڑے کے موزے فانوسوں کی روشنی میں چمک رہے تھے ندیم دو زانو بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے کانسی کی لگن میں سرخ الگارے چٹخ رہے تھے اور فرش پر درویش نما عرب حطین کی لڑائی کا قصیدہ گار ہا تھا اور اس کی عبا کے گھیردار دامن حلقہ بنا کر ناچ رہے تھے۔ دو عرب رباب اور کمنجہ بجانے میں اپنا وجود فراموش کر چکے تھے۔ نگاہ ملتے ہی شیخ نے اٹھتے ہوئے مرحبا کا نعرہ لگایا ۔ اس کے ساتھیوں کو تخت پر بٹھا کر اپنا تکیہ اس کی پشت سے لگا دیا ۔ وہ قصدے کے اشعار کی داد دے رہا تھا کہ ایک عرب نے آکر شیخ کے کان پر اپنے لب رکھ دیئے اور شیخ زانو پر ہاتھ مار کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا سر جھولتے ہوئے فانوس سے ٹکراتے ٹکراتے بچا ۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں