A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 38

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 38

Jun 20, 2018 | 13:19:PM

قمر نقوی

میں نے ونڈرا کو دلاسا دیا ..... ذرا سا پانی پلایا اور تب اس کی حلق کھلی اور آواز نکلی ..... میں نے اس سے کہا تھا پیچھے دیکھتا رہے ..... وہ اس تاکیدکو نظر انداز کر کے آگے دیکھتا رہا کہ گھاس میں سے شیر کیسے نکلتا ہے اور میں اسے کیسے ہلاک کرتا ہوں ..... !

وہ میری شکاری زندگی کا چوتھا تلخ تجربہ انتہائی خطرناک واقعہ تھا ..... !اس لیے میں انجانے لوگوں کو ساتھ لے جانے کا مخالف ہوں ..... بلکہ کسی کو ساتھ لے جانے کا ہی قطعاً مخالف ہوں ..... یہ تو شیر کا شکار تھا ..... اب تو میں ہرن کے شکار پر بھی کسی کو ساتھ نہیں لے جاتا ..... 

1990ء کے اکتوبر میں کولوراڈو میں الک (ELK) کے شکار پر میں پہلی بار پوری ایک پارٹی کے ساتھ گیا ..... سب ا مریکن ..... میری مراد سفید فام امریکی تھے ..... اور ان میں سے ہر شخص تجربہ کار شکاری ..... بحمداللہ یہ شکار کسی نا خوشگوار واقعے کے بغیر کامیابی کے ساتھ انجام کوپہنچا ..... 

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کا حال ..... ’’بلندیوں کے سائے ‘‘ ..... میں پڑھا جا سکتا ہے ..... ونڈرا کو گاؤں لانے کے لیے مجھے کیا کیا مشقتیں اٹھانا پڑیں، وہ خود ایک داستان ہے ..... لیکن بہرحال میں اس کو کسی نہ کسی طرح لے ہی آیا اور دوسرے روز اس کو بیل گاڑی میں ڈلوا کر بلھار شا روانہ کرایا ..... ایک ہفتے بعد جب کہ ہم لوگ واپس ہورہے تھے اور بلھار شا جا رہے تھے راستے میں ونڈارا ملا جو خوش و خرم اپنے گھر واپس جا رہاتھا ..... زخم بھرے تو نہیں تھے لیکن روبہ اندمال تھے اور خطرے کی بات نہیں تھے ڈاکٹر نے دوا اور مرہم دے دی تھی ..... 

میں اس چکر میں بہت تھک گیا ..... ایک روز آرام کیا ..... تیسرے روز میں حسب معمول صبح گاؤں سے روانہ ہوا ..... تنہا..... ! عظمت میں سے میں نے کہہ دیا تھا کہ اگر ضرورت محسوس کی تو رات میں اسی علاقے میں کسی محفوظ درخت پر بسر کروں گا ..... انھوں نے اس کی مخالفت کی لیکن میں اپنا منصوبہ بنا چکا تھا ..... تنہا رائفل پانی کی بوتل اور ضرورت کے مطابق کھانے کا سامان پشت پر..... میں بہ آرام خراماں خراماں اسی راستے پر چلتا اس پہاڑوں پر آگیا ..... جہاں دور روز قبل ونڈرا کو حادثہ پیش آیا تھا.....

سامنے وہ گھاس کا میدان تھا جہاں گھاس کے اندر وہ جانور چلتا رہا تھا جس پر میں نشانہ لے رہا یہ سمجھ کر کہ شیر ہوگا اور شیر نے عقب سے حملہ کیا جدھر ونڈرا نگہبانی کر رہا تھا.....

یہاں آکر میں ٹھہر گیا ..... مجھے یقین ہو چلا تھا کہ آدم خور مختلف علاقوں کا دوران کرنے اور شکار کرے کے بعد شکم سیر ہو کر اپنی جگہ واپس آتاہے ..... مجھے اس کی کچھار کا علم تو نہیں تھا لیکن ونڈراکے گزشتہ بیان کے تحت اسی جگہ کے آس پاس ہونا چاہیے تھا.....

ایک بڑے درخت کے تنے س پشت لگا کر میں رائفل سمیت کھڑا ہو گیا ..... اس درخت پر لال منھ کے بندروں کا ایک چھوٹا قبیلہ آرام کر رہا تھا ..... مجھے یقین تھا اگر انہوں نے شیر کو دیکھا تو خوف کی وہ آواز ضرور کریں گے جس کا مجھے علم تھا ..... 

مجھے دیکھ کر انہوں نے تھورا بہت خوں خاں تو بے شک کیا پھر خاموش ہو گئے ..... جنگل کے سارے ہی جانور مختلف بولیاں بولتے ہیں ..... جو لوگ جنگلوں میں آتے جاتے رہتے ہیں اور وہ ذراسی توجہ اور مشاہدے کے بعد ان آوازوں سے نتائج اخذ کرنے لگتے ہیں .....

میں اس جگہ تقریباً ایک گھنٹہ ٹھہرا ..... ابھی صبح ہی تھی ..... نو کا وقت تھا جب میں وہاں پہنچا ..... مجھے وہاں کھڑے کھڑے دس بچ گئے ..... اس عرصے میں چند منٹ پہلے بندر بھی اس درخت سے دوسری جانب کو دکر کسی طرف بھاگ لئے .....ساتھ ہی تقریباً دس گز پر جو شریفے کا درخت تھا اس پر کئی خوش نما پرند بیٹھے اپنے پروں میں صفائی کا کام کر رہے تھے .....

مجھے تعجب یہ تھا کہ ونڈرا اس علاقے میں بار ہا آتا جاتا رہا ..... آدم خور نے اس پر حملہ پہلے کبھی نہیں کیا ..... اگرچہ اس نے مجھے تبایا تھا شیر نے اسے کئی بار دیکھا ..... اس نے تو شیر کو بار ہا دیکھا ..... ! عجیب بات ہے ..... !

ممکن ہے جتنی دفعہ شیر نے اسے دیکھا اس وقت وہ شکم سیر رہا ہو ..... !

میں نے اس گھاس بھرے میدان پر بہت دیر نظر رکھی ..... گھاس میں کوئی حرکت نہیں ہوئی ..... اسی میدان کے عقب میں ..... یا دوسرے جانب وہ درخت پوش گھاٹیاں تھیں جہاں ونڈرا کے بیان کے مطابق شیر کی کچھار تھی .....مشرقی سمت ..... دور پر آبادی سے دھواں اٹھتا نظر آتا تھا ..... یہ جگدل کی آبادی تھی جو اس پہاڑ کے جنوبی سلسلے کے دامن میں آباد تھی ..... کوئی ڈیڑھ میل رہی ہو گی یا کچھ زیادہ ..... شمال کی سمت اور اونچے پہاڑ تھے .....

میں جنوب کی طرف چلا ..... لیکن گھاس تو نجانے کہاں تک پھیلی تھی اور کم از کم چار فٹ بلند تو ضرور تھی ..... میں اس میں گھسنے کا خطرہ لینے کو ہرگز تیار نہیں تھا ..... پھر شمال کی طرف میں تقریباً آدھا میل گیا ..... یہاں آکر ایک مقام پر پہاڑ کی بلندی کے ساتھ گھاس کا قطعہ ختم ہوگیا ..... اور چونکہ زمین نسبتاً بلندبھی تھی اس لئے مجھے مشرق کی جانب ادھر پیش قدمی کا امکان نظر آگیا جدھر گھنے درختوں والی گھاٹیاں تھیں ..... 

میں بہت ہوشیار تھا ..... رائفل کا سیفٹی کیج تو کب کا کھول دیا تھا ..... لیکن اپنے اطراف و جواب سے بھی غافل نہیں تھا ..... کسی دوسرے کے ساتھ ہونے کی صورت میں آدمی اپنی بعض ذمہ داریاں اپنے ساتھی کے سپرد کر دیتاہے اور وہی غلطی ہو جاتی ہے ..... تنہائی میں ساری ذمہ داریاں بخود ہی نبھانا ہوتی ہیں ..... اپنی حفاظت آپ ہی کرنا پڑتی ہے ..... اس یقین کے ساتھ کہ اللہ کے سوا کوئی مدد گار نہیں ہے .....

میں تھوڑی ہی دور ہوگیا تھا کہ جن گھاٹیوں کا میں نے تذکرہ کیا ان ہی میں سے کسی گھاٹی سے شیر کے دھاڑنے کی آواز آئی ..... یہ وہ دھاڑ تھی جو شیر نہایت آسودگی اور سکون کی حالت میں کرتا ہے ..... اس نے آواز کر کے مجھے مطمئن کر دیا ..... کم از کم یہ بات پکی ہوگئی کہ شیر اس علاقے میں موجود ہے ..... اب سوال یہ تھا کہ اس کو نکالا کس طرح جائے ..... یا اگر وہ خود نکلے تو کس طرف نکلے گا جدھر میں چھپ کر اس کا انتظار کروں ..... 

میری خیال میں ..... فیصلہ کن مقابلے کا وقت آگیا تھا .....!یہ بھی ممکن تھا کہ میں کسی درخت کی یا جھاڑی کی آڑ میں کھڑا رہتا ..... لیکن کب تک ..... ؟ 

آدم خور اب کہیں قریب ہی تھا ..... میری موجودگی سے بے خبر ..... مگر مجھے اس کی موجودگی کی اطلاع تھی ..... اور اس نے خود ہی مجھے مطلع کیا تھا ..... !

میں نے ایک آم کادرخت اپنے بیٹھنے کے لیے منتخب کیا ..... اس لیے کہ اس پر مجھے چڑھنا آسان معلوم ہوا ..... ایک دفعہ نہایت احتیاط کے ساتھ ہر طرف دیکھنے کے بعد میں نے جوتے اتار کر زمین پر رکھے ..... رائفل شانے پر لٹکائی اور حتیٰ الامکان تیزی سے درخت پر چڑھ گیا اور اس وقت تک بلند ہوتا گیا جب تک چڑھنا ممکن تھا ..... 

اگرچہ اتنی بلندی تو نہیں ہوسکی جتنی مجھے مناسب معلوم ہوتی ہے لیکن جتنی بھی تھی کافی تھی اس سے اوپر شاخیں پتلی اور کمزور تھیں..... یہاں پہنچ کر مجھے ایک تین شاخہ مل گیا جس پر بہ آسانی بیٹھ سکتا تھا ..... رائفل شانے سے اتار کر ایک نزدیکی شاخ پر رکھی ..... اور شاخوں کو اچھی طرح دیکھ بھال کر اپنی جگہ متمکن ہوگیا ..... درخت کی شاخیں اور پتے مجھے اچھے طرح چھپائے ہوئے تھے اور اس درخت کے عمدہ محل وقوع کی وجہ سے مجھے گھاس کا تو سارا قطعہ نظر آتا تھا ..... شمالی پہاڑ کے دامن تک کا منظر سامنے تھا ..... جنوب کا بیشتر علاقہ بھی نظر آتا تھا ..... 

آم کے درخت پر زرد رنگ کے جیسم چیونٹے ..... جن کو اصطلاحی زبان میں سروٹو کہتے ہیں اکثر پائے جاتے ہیں ..... اور یہ اگر کاٹتے ہیں تو نہ صرف بڑی اذیت ہوتی ہے بلکہ دو تین چیونٹے چپک جائیں تو اس جگہ ورم ہو جاتاہے اور بڑی کھجلی اور جلن رہتی ہے ..... میں نے اچھی طرح دیکھ لیا تھا کہ ان سے مقابلہ نہ کرنا پڑے .....اپنے سامان کا جھولا پشت سے اتار کر پاس ہی شاخ پر لٹکا دیا اور اس کے اسٹرپ اس طرح باندھ دیئے کہ اس کو کھولنے بند کرنے میں درخت سے گر جانے کا احتمال نہ رہے ..... چندگھونٹ پانی پیا ..... ایک پان کھایا ..... اس کے بعد جم کر بیٹھ گیا ..... اب وہ انتظار شروع ہوا جو شکاری کے اعصاب اور صبرو استقامت کا امتحان کہا جا سکتا ہے ..... 

سب سے پہلی بلا مچھروں کی شکل میں نازل ہوئی ..... اور ان کے لشکر نے میری گردن پر حملہ کیا ..... میں نے اپنا خاکی رومال اس طرح گردن پر لپیٹا تھا کہ کان اور گردن چھپ گئے تھے پھر میرے شکاری جیکٹ کے کالرز بھی اٹھ کر خاصی قلعہ بندی کر لیتے ہیں ..... اس طرح گردن تو ان کے نرغے میں نہیں آئی ..... 

دوسری یلغار پیروں پر ہوئی ہوئی ..... وہ بھی موٹے اونی موزوں میں محفوظ تھے ..... وہاں بھی ان کا داؤں نہیں چلا ..... رہ گیا چہرہ اور ہاتھ .....ہاتھ میں نے جیب میں ڈال کر محفوظ کیے تو چہرہ غیر مسلح رہ گیا .....!

صورت حال بڑی دشوار تھی ..... میرے شکار تھیلے میں پلاسٹک کا ایک تھیلا نہ جانے کس ضرورت کے تحت موجود تھا میں نے وہ نکال کر آنکھوں اور ناک کی جگہ سوراخ بنائے اور سر پر پہن کر گردن کے نیچے تک پہن لیا ..... یہ ایک نہایت موثر خود ثابت ہوا ..... مچھروں کی یورش ہوتی ..... جتھے کے جتھے مجھے اپنی گردن اور چہرے کے نزدیک اعلان جنگ کرتے سنائی دیتے ..... لیکن پلاسٹک پر ان کا اسلحہ کام نہیں کر رہا تھا ..... پاؤں ان کے حملوں سے محفوظ تھے ..... ہاتھ جیبوں میں تھے ..... 

آدم خور شیر تو خیر گوشت خور درندہ ہونے کے ساتھ ہی آدم خوری شروع کر تاہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ مچھر انسانی خون کا اتنا شائق کیوں ہوتا ہے ..... نہ صرف انسانی ہی ..... جانوروں کا خون بھی یہ ظالم اسی طرح چوستے ہیں ..... ! جنگل میں ..... خصوصاً گرم موسم کے دنوں میں ان سے نجات مشکل ہے ..... میں جب بھی مون سون کے جنگلوں میں مچال پر بیٹھا ہمیشہ مچھر ..... بلکہ مچھر کش کریم ہاتھوں اور گردن اور چہرے پر لگالی اور اکثر کوئی مچھر میرے نزدیک نہیں آیا ..... 

(جاری ہے۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزیدخبریں