A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

آپ کی شخصیت کاکیا خلاصہ ہے؟ 

آپ کی شخصیت کاکیا خلاصہ ہے؟ 

Apr 21, 2018 | 10:26:AM

فرخ شہباز وڑائچ

فیس بک نے ایک نئی ایپ متعارف کروائی ہے جس کے مطابق فیس بک اکاؤنٹ ہولڈرلنک پر کلک کرتا ہے اس کے بعد فیس بک کا خود کار نظام متعلقہ فردکواس کی شخصیت سے متعلق خلاصہ بتاتا ہے۔خلاصہ کا مطلب ہے کسی چیز کا بہترین حصہ ،نچوڑ یا لب لباب کہہ لیجیے۔

فیس بک کی اس ایپ پر جائیں تو لکھا آتا ہے’’ہم میں سے ہر ایک منفرد اور حیرت انگیز شخصیت کا مالک ہے۔ہر ایک کی اپنی اقدار اور اخلاقیات ہیں۔لنک کو فالو کریں ہم آپ کے شاندار کردار کا خلاصہ بیان کرسکتے ہیں،آپ کے بارے میں تھوڑا سا وہ بتائیں گے جو آپ خود بھی نہیں جانتے۔کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ واقعی کون ہیں؟"ظاہری سی بات ہے اس اچھی خاصی غضب کی تمہید کے بعد کون کافر اس ایپ پر کلک کر کے اپنے شاندار کردار کے بارے میں نہیں جاننا چاہے گا۔کس کا دل نہیں چاہے گا کہ اس کی منفرد اور حیرت انگیز شخصیت پر بات نہ کی جائے۔میں چونکہ اندر سے ایک نیک دل انسان ہوں اس لیے چندکامیاب شخصیات کے کردار کا خلاصہ آپ تک پہنچا رہا ہوں۔تاکہ پڑھنے والے حسب توفیق استفادہ کرسکیں۔

کامیاب سیاستدان کی شخصیت کا خلاصہ

وہ ایک مہربان اور لوگوں میں خوشیاں بانٹنی والی فطرت لے کر پیدا ہوا تھا۔اس نے کونسلر سے ضلع ناظم تک کا سفر طے کیا۔اس دوران ملنے والی ترقیاتی کاموں کی گرانٹس اپنے عزیزواقارب یہاں تک کہ اپنے پرائمری کے کلاس فیلوز میں بھی بانٹتا رہا۔بہت سے لوگوں نے اسے توڑنے کی کوشش کی مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔میڈیا کو اس کی یہ ’’ادائیں‘‘ پسند نہ آئیں وہ ان کی خبریں چلاتا رہا،

اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لائی مگر اس نے اپنی پرانی عادت کے مطابق اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھنے والوں میں بھی اور میڈیا کے افرادمیں بھی’’خوشیاں‘‘ تقسیم کرنا شروع کردیں یوں عدم اعتماد کی یہ تحریک بھی ناکام ہوگئی۔ وقت گزرا اس نے سچے جذبوں کی سیڑھی پر چلتے ہوئے ترقی کی۔الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچ گیا،مگر گرانٹس اپنوں میں بانٹنے والی عادت نہیں بدلی(لوگ ایسے ہی کہتے ہیں بڑے عہدوں پر پہنچ سب بدل جاتے ہیں)۔نئے الیکشن آئے اس نے پھر الیکشن جیتا مگر اب کی بار اس کی پارٹی اپوزیشن میں تھی۔اسے تو عوام کی خدمت کرنا تھی سو اس نے حکومتی پارٹی جوائن کی اور اپنے ووٹرز کی خاطر وزارت بھی قبول کر لی،اپنے بھائیوں کوبھی خدمت میں ساتھ شامل کیا ملک کی تعمیر(سڑکوں) کے ٹھیکے ان کو دلوائے۔اس طرح سے اب اس کے سارے قریبی دوست اور خاندان کے افراد خوشیاں تقسیم کرنے کے مشن میں شامل ہوچکے ہیں یہ سرکل بڑھتے بڑھتے کافی وسیع شکل اختیار کرگیا ہے۔امید ہے اس مرتبہ کا الیکشن وہ ایک ابھرتی ہوئی پارٹی کے ٹکٹ سے لڑیں گے کیونکہ وہ ہمیشہ سے کچھ ’’نیا‘‘ کرنا چاہتے تھے۔

ریٹائرڈ ڈکٹیٹر کی شخصیت کا خلاصہ

اسے زندگی کے چیلنجز سے لڑنا پسند تھا۔اس نے اپنی زندگی کی ہر جنگ جیتی(ماسوائے زمینی جنگوں کے)۔اسے کرپٹ لوگوں سے ہمیشہ سے نفرت تھی ۔وہ آگے بڑھنے کا فن بھی جانتا تھا اور قسمت بھی مہربان رہی۔جہاں قسمت دھوکا دینے لگتی تھی وہ’’ قسمت ‘‘کو دھوکا دے کر جیت جاتا تھا۔وہ روحوں کے مضبوط ترین گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔پھر بھی اس کی راہ میں کافی رکاوٹیں تھیں۔وقت کو گزارنے کے ساتھ ساتھ وہ ان مشکلات بھی گزارتا گیا۔اس نے مسلسل جدوجہد کے بعد طاقت حاصل کی۔طاقت کے حصول کے بعد اس نے وہ سب کیا جو آج سے پہلے اس کے دوست چاہنے کے باوجود نہ کرسکے تھے۔ یہ اتنا طاقتور تھا کہ اسے کبھی چھوٹی موٹی جمہوری طاقتوں سے خوف نہیں آیا تھا۔یہ سرے عام مکا لہرا کر اپنے اقتدار کی طاقت کا مظاہرہ کرتا تھا۔اس کی مضبوط شخصیت کا منہ بولتا ثبوت یہ تھا کہ وہ جو کرتا تھا ڈنکے کی چوٹ پر کرتا تھا۔اس نے اپنے ملک سے ’’چند ہزار انسانوں‘‘ کو امریکا کے ہاتھ بیچا اور پھر اس بات کو اپنی کتاب میں لکھ دیا۔کیونکہ وہ جانتا تھا وہ طاقت کے مرکز سے جڑا ہو یا علیحدہ کوئی اس کاکچھ نہیں کرسکتا۔آخری مرتبہ پھر ایک رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا مگر اس نے دیدہ دلیری سے اسے عبور کیا۔اب وہ اپنی کمر کی مشکلات کوڈانس کی مسلسل محنت سے ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔اس کی ’’محنت‘‘ اور ’’عظمت‘‘ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

طاقتور اینکر کی شخصیت کا خلاصہ

وہ جانتا تھا کہ زندگی میں کیا چیز اہم ہے۔اسی بات نے اسے بلندیوں تک پہنچا دیا۔اس کا سب سے بڑا کمال ٹائمنگ تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ کس وقت کونسا کام کرنا مفید رہے گا۔اسے شروع سے بیوقوف لوگ زیادہ اچھے نہیں لگتے تھے۔لیکن پھر اس نے ٹھان لی کہ جو نہیں ہیں ان کو بنائے گا اور جو پہلے سے ہیں انہیں مزید بیوقوف بناکر دم لے گا۔یہ فن جیسے اس کی رگوں میں سرایت کرتا تھا۔وہ کمیونکیشن کا ماہر تھا،بھیس بدلنے کا ہنر اس پر ختم تھا۔اسے عام انسان سے ڈاکٹر،ڈاکٹر سے اینکر اور اینکر سے عالم ،عالم سے سیاستدان ،سیاستدان سے کالم نگار بننا بھی آتا تھا۔یہ کہنا مشکل تھا کہ وہ حقیقت میں کیا ہے۔اسے ہر طرح کے کھیل خود کھیلنے میں مزہ آتا تھا ۔وہ بلا کا مہمان نواز تھا وہ عام لوگوں کو زبردستی آم کھلایا کرتا تھا۔اس نے زندگی کی تمام مشکلات کا ڈٹ کے مقابلہ کیا۔وہ اینٹ کا جواب پتھر سے اور گالی کا جواب گالیوں سے دینا بخوبی جانتا تھا۔اسے سخت آزمائشیں بھی دیکھنا پڑیں اسے ان لوگوں کو برا بھلا کہنے کا کہا گیا جن کے ساتھ وہ رہ چکا تھا یہ کام آسان نہ تھا مگر اس نے یہ کام کردکھایا۔اسے آخری مشکل نے جکڑاتو اسے اپنے ارادے ٹوٹتے نظر آئے اس نے سیاستدان دان والا کردارہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا اعلان کردیا۔کچھ دن بعد اسی ’’تبدیلی ‘‘ کے آثار نظر آئے وہ اپنے اعلان سے صاف انکار (لوگ اسے مکرنا کہتے ہیں) کر گیا یہی تو اس کی خوبی ہے یعنی ٹائمنگ ٹھیک وقت میں صحیح جگہ پر ہونا ہی تو کمال ہے جو وہ ہر بار کرتا ہے۔ان دنوں وہ صرف سیاستدان اور عالم دین کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں