آخری قسط۔ ۔ ۔وہ ناول جو کسی کی بھی زندگی بدل دے

23 جون 2017 (12:50)

ابویحییٰ

اللہ اکبر اللہ اکبر۔ مؤذن نے ابھی یہ الفاظ ادا ہی کیے تھے کہ عبداللہ ایک جھٹکے کے ساتھ ’اللہ اکبر‘ کہتا ہوا بیدار ہوگیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے اردگرد دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر تک وہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کہاں ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے غور کیا۔ وہ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے موجود تھا۔ بیت اللہ الحرام میں کعبہ کے عین سامنے۔ فجر کا وقت تھا اور مسجد الحرام میں لوگوں کی چہل پہل جاری تھی۔

’’تو کیا میں نے خواب دیکھا تھا؟‘‘، عبد اللہ نے خود سے سوال کیا۔

’’مگر وہ تو بالکل حقیقت تھی۔ وہ حشر کا دن، وہ جنت کی محفل اور خدا کے سامنے میری حاضری۔۔۔ اگر وہ حقیقت تھی تو پھر یہ کیا ہے؟ اور اگر یہ حقیقت ہے تو پھر وہ حقیقت سے زیادہ یقینی چیز کیا تھی۔ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے۔‘‘

وہ ناول جو کسی کی بھی زندگی بدل دے۔۔۔ قسط نمبر 66 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وہ مسلسل بڑبڑائے جارہا تھا:

’’ایسا نہ ہو کہ اچانک ایک روز آنکھ کھلے اور مجھے معلوم ہو کہ جو کچھ دنیا میں دیکھا تھا خواب تو دراصل وہ تھا اور حقیقت آخرت کی زندگی تھی۔‘‘

آسمان سے نور اتررہا تھا۔ سفید جگمگاتی ہوئی روشنیوں سے حرم کی فضا دودھیا ہورہی تھی۔ آسمان تاریک تھا، مگر اس جگہ دن کی روشنی سے زیادہ چہل پہل تھی۔ یہ حرم مکہ تھا۔ اہلِ ایمان کا کعبہ۔ اہلِ دل کا مرکز اور اہلِ محبت کا قبلہ۔ خدا کے بندے اور بندیاں۔۔۔ ہر نسل، ہر قوم کے لوگ یہاں جمع تھے۔ خدا کی حمد، تسبیح اور تعریف کرتے ہوئے۔

آج حرمِ پاک میں عبداللہ کی آخری شب تھی۔ مگر یہ آخری شب عبداللہ کی زندگی کی سب سے قیمتی شب بن چکی تھی۔ عبداللہ کچھ دیر قبل حیرانی کی جس کیفیت میں تھا، اب اس سے باہر آچکا تھا۔ اس نے حرم کو دیکھا اور پھر اردگرد نظر ڈالی۔ حرم سے باہر ہر طرف بلند و بالا عمارات کا منظر تھا۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دوسری کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس کا دل مالکِ ذوالجلال کے حضور سراپا التجا بن گیا:

’’مالک! قیامت کا حادثہ سر پر آکھڑا ہوا ہے۔ ننگے پاؤں بکریاں چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنارہے ہیں۔ تیرے محبوب رسولﷺ کی پیش گوئی پوری ہوچکی ہے۔ اب مجھے تیرے بندوں تک تیرا پیغام پہنچانا ہے۔ قیامت سے قبل انھیں قیامت کے حادثے سے خبردار کرنا ہے۔ مجھے لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے۔ آج دنیا کی محبت فکرِ آخرت پر غالب آچکی ہے۔ تیری ملاقات سے غفلت عام ہے۔ حکمران ظالم ہیں اور عوام جاہل۔ امیر مال مست ہیں اور غریب حال مست۔ تاجر منافع خور، ذخیرہ اندوز اور جھوٹے ہیں۔ سیاستدان بددیانت ہیں۔ ملازم کام چور ہیں۔ مردوں کا مقصدِ حیات صرف دولت کمانا بن چکا ہے اور عورتوں کا مقصدِ زندگی محض زیب و زینت اور اپنی نمائش۔‘‘

عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس کے دل سے مسلسل دعا و مناجات نکل رہی تھی۔ وہ دعا جس کا قبول ہونا شاید مقدر ہوچکا تھا:

’’مولیٰ! آج لوگ تجھ سے غافل و بے پروا ہوکر ظلم اور دنیا پرستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر کھڑے ہوئے لوگ فرقہ واریت کے اسیر ہیں یا سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ کوئی نہیں جو تیری ملاقات سے خبردار کررہا ہو۔ تو مجھے اس خدمت کے لیے قبول فرمالے۔ تو مجھے اپنے پاس سے ایسی صلاحیت عطا کر کہ میں تیری ملاقات اور آنے والی دنیا کا نقشہ تیرے بندوں کے سامنے کھینچ کر رکھ دوں۔ جو کچھ تو نے قرآن میں بیان کیا اور تیرے محبوب نبی نے جس عظیم واقعے کی خبر دی ہے، اس دن کی ایک زندہ تصویر میں تیرے بندوں تک پہنچادوں۔ انسانیت کو معلوم نہیں کہ اس کے پاس مہلتِ عمل ختم ہوچکی ہے۔ مجھے قبول کر کہ میں اس بات سے تیرے بندوں کو خبردار کرسکوں۔ پروردگار! ساری انسانیت کو ہدایت دیدے۔ اوراگر تو نے سب کچھ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر میرے لیے آسان کردے کہ جتنے لوگ ہوسکیں، میں انھیں جنت کی راہ دکھا سکوں۔ انہیں تجھ تک پہنچاسکوں۔۔۔ اس سے پہلے کہ صور پھونک دیا جائے۔۔۔ اس سے پہلے کہ مہلتِ عمل ختم ہوجائے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبداللہ نے آخری طواف ایک خاص کیفیت میں مکمل کیا تھا۔ایک تو حرم کا طواف۔۔۔وہ بھی آخری۔۔۔پھر رات جو کچھ دیکھا اس کے بعد کعبہ وہ کعبہ نہیں رہا تھا جو دوسروں کو نظر آرہا تھا۔ یہ کعبہ اب اسے عرش الہی کا پیکر نظر آرہا تھا۔۔۔مگر وہ ایک انسان ہی تو تھا۔پے در پے طواف کرکے شل ہوچکا تھا۔وہ آخری طواف سے فارغ ہوا۔کچھ دیر تک بیٹھ کر کعبہ کو دیکھتارہا۔ پھریاس و آس کی کیفیت میں اٹھا اور اپنے دل پر جبر کرکے وہ کام شروع کیا جو اہل دل کے لیے مشکل ترین عمل ہوتا ہے۔۔۔آخری دفعہ مسجدالحرام سے باہر نکلنے کا عمل۔

صبح کی روشنی پوری طرح طلو ع ہوچکی تھی ۔وہ آہستہ آہستہ اس حالت میں باہر کی سمت بڑھ رہا تھا کہ بار بار ایڑیاں گھومتیں اور وہ رک کر دوبارہ کعبہ کو دیکھنے لگتا۔پھر اس نے ایک مضبوط فیصلہ کیا اور اللہ اکبر کہتے ہوئے قدرے تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا۔مگر چلتے ہوئے پھر بے اختیار ی کے عالم میں گردن گھومی اور الوداعی نظر یں بیت اللہ کا طواف کرنے لگیں۔ابھی اس نے ایسا ہی کیا تھا کہ اس کا کندھا کسی سے ٹکراگیا۔

عبد اللہ کی نگاہ لوٹی تو سامنے ایک سفید ریش برزگ تھے۔ اسے احساس ہوچکا تھا کہ اس کا کندھا ان بزرگ کے سینے سے ٹکراگیا ہے جواس کے ہم وطن محسوس ہوتے تھے۔عبد اللہ کا جذبہ عبادت اب ندامت میں بدل چکا تھا۔اس نے فوراً معذرت خواہانہ لہجے میں کہا :

’’معاف کیجیے گا! غلطی میری ہے ۔ میں سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔‘‘

’’کوئی بات نہیں۔‘‘،بزرگ نے شفقت آمیز لہجے میں کہا۔پھر وہ مزید بولے:

’’کچھ غلطی میری بھی ہے ۔میں بھی سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔ دراصل میں اپنے گھر والوں کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ہم عمرہ ادا کرتے ہوئے رش کی وجہ سے بچھڑ گئے ہیں۔‘‘

’’آپ نے ملنے کی کوئی جگہ طے نہیں کی تھی؟‘‘، عبد اللہ نے سوالیہ انداز میں کہا ۔پھر اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولا:

’’ حرم میں یہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ بہت مشکل ہوجاتی ہے۔‘‘

’’جگہ تو یہی طے کی تھی۔باب فتح کے پاس ۔یہاں رش کم ہوتا ہے۔مگر کافی دیر سے وہ لوگ یہاں نہیں پہنچے‘‘ ، بزرگ نے قدرے پریشانی کے ساتھ جواب دیا۔

’’چلیے پھر تو آپ کا مسئلہ حل ہوگیا‘‘،عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا:

’’آپ باب فتح پر نہیں کھڑے ہوئے۔ میں آپ کو وہاں لے چلتا ہوں۔‘‘

بزرگ نے کچھ خجالت کے ساتھ اردگرد دیکھا اور پھر عبد اللہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بولے:

’’ہم دراصل کل رات ہی یہاں پہنچے ہیں۔پہلی دفعہ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں کا پوری طرح اندازہ نہیں۔ سعی کے دوران میں میری بیٹی اور نواسی مجھ سے الگ ہوگئیں۔ہمارے پاس دو موبائل تھے جو ان کو دے دیے تھے۔ انہیں جگہ بھی سمجھادی تھی ، مگر خود بھول گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم مجھ سے ٹکراگئے ورنہ نجانے کتنی دیر اور میں یہاں رک کر ان کا انتظار کرتا۔‘‘

’’اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔‘‘،عبد اللہ نے جواب دیا ۔ اللہ کا نام لیتے ہوئے اس کے لہجے میں سارے جہاں کی مٹھاس آچکی تھی۔

’’ارے وہ رہی میری بیٹی‘‘، بزرگ نے عبد اللہ کی بات کا جواب دینے کے بجائے خوشی کے عالم میں ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔عبد اللہ نے ادھر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بزرگ ایک درمیانی عمر کی خاتون کی طرف بڑھ رہے تھے۔اس کے سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کے ساتھ آگے جائے یا اپنے راستے پر لوٹ جائے۔ ویسے بھی اس کام اب ختم ہوچکا تھا۔مگر اسے محسوس ہوا کہ اخلاقاً ان سے اجازت لے کر ہی لوٹنا چاہیے۔ چنانچہ وہ بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔قریب پہنچا تو وہ اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ پیش آنے والی غلط فہمی کے بارے میں بتارہے تھے۔وہ عبد اللہ کو دیکھ کر بولے۔

’’اسی نوجوان نے مجھے راستہ دکھایا ہے۔‘‘

’’بیٹا! آپ کا بہت شکریہ ۔ ‘‘خاتون نے بہت نفیس لہجے میں کہا۔ گرچہ سے ان کے چہرے سے سفر اور عمرے کی مشقت اور اب پیش آنے والی پریشانی کے سارے آثار ظاہر تھے۔

’’ہم کافی دیر سے یہا ں ابو کا انتظارکررہے تھے۔‘‘

ہم کے صیغے سے عبد اللہ کی توجہ ان کے برابر میں کھڑی ہوئی لڑکی کی طرف ہوئی۔لمحے بھر کو اس نے اس لڑکی کو دیکھا اور بے اختیار نظریں جھکالیں۔مگر اس ایک لمحے میں عبد اللہ کے دل کی دنیا میں قیامت برپا ہوگئی ۔ اس قیامت کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی غیر معمولی طور پر حسین نقش و نگاراور رنگ و رو پ کی مالک تھی۔ رہاعبد اللہ تو اس جیسی بے داغ جوانی کہاں کسی نے دیکھی ہوگی۔پھر وہ حرم میں جس کیفیت میں تھا وہاں صنف مخالف تو کیا اپنی جنس کے انسان بھی نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔۔۔ سوائے کعبہ اور رب کعبہ کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔

اوراس صبح سے تو رب کعبہ کا تصور انتہائی گہرا ہوچکا تھا۔ اس نے خواب میں پروردگار عالم کی حضوری کا جو شرف حاصل کیا تھا ا س کے بعد عبداللہ کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ ایسے میں خواب کی دیگر تفصیلات اسے کہاں یاد رہ سکتی تھیں۔ مگر اس دلکش نسوانی چہرے نے خواب کی ایک ایک تفصیل اسے یاد دلادی۔ ہر منظر اورہر واقعہ ذہن کے صفحات پر اس طرح تازہ ہوگیا تھا کہ گویا کوئی لکھی ہوئی کتاب ہے جسے بے تکلف وہ پڑھتا چلا جارہا ہو۔اور اب اس کتاب کا سب سے روشن ورق اس کے سامنے کھلا ہوا تھا۔اس کے سامنے سرتا سر روشنی اور سراپا نور ناعمہ کھڑی ہو ئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاموشی کا وقفہ طویل ہورہا تھا، مگر عبد اللہ اس سے بے نیاز گردن جھکائے کھڑا تھا۔وہ اپنے آپ کو یقین دلانے میں مشغول تھا کہ جو کچھ اس نے دیکھا ہے وہ اس کا وہم ہے۔اس کی نظر کا دھوکہ ہے۔ اس کی یادداشت کی کمزوری ہے ۔۔۔یا شاید اس کی عمر کا تقاضہ ہے۔۔۔یا پھر شیطان کی دراندازی ہے جو حرم سے رخصت ہوتے وقت اس کی ساری ریاضت اور محنت کو ضائع کرنا چاہتا ہے۔ شیطان حرم میں آنے والے بڑے بڑے نیک لوگوں کی کمائی اسی طرح لمحہ بھر میں لوٹ لیتا ہے۔ کسی بھی بہانے سے ایک نظر کی خواہش۔ ایک لمس کا جذبہ۔ ایک لمحہ کی حیوانیت۔ ایک لمحہ کی ہوس ۔۔۔عمر بھر کی ریاضت کو برباد کرسکتی ہے۔

’’ہاں یہی لمحہ بطور آزمائش میری زندگی میں آگیا ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ میں اس لڑکی کو اپنے خواب کی تعبیر سمجھ کر اپنی آنکھوں میں شیطان کو بسیرا کرنے دوں۔ میں اس کو ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ ہرگز ایسا نہیں کرنے دوں گا۔‘‘

عبد اللہ نے دل میں سوچا اور فیصلہ کیا کہ اسے فوراً یہاں سے رخصت ہوجانا چاہیے۔ مگر اس قبل کے وہ ان لوگوں سے اجازت لیتا۔ خاموشی کے طویل ہوتے ہوئے وقفہ کو ایک تھکی ہوئی مگر انتہائی مترنم آواز نے توڑا:

’’نانا ابو! جاگتے ہوئے ساری رات ہوگئی ہے۔ اب جلدی سے ہوٹل چلیے۔‘‘

اس آواز نے عبد اللہ کے رہے سہے ہوش بھی اڑادیے۔یہ آواز اس کے لیے اجنبی قطعاًنہ تھی۔اسے ہلکا سا چکر آیا۔ بزرگ جو ا س کی کیفیت سے قطعاً بے خبر تھے بولے:

’’ہاں بیٹا ! چلتے ہیں۔ ذرا ان سے اجازت لے لیں۔‘‘

اس سے قبل کہ وہ بزرگ عبد اللہ سے کچھ کہتے ان کی صاحبزادی نے جو ایک نفیس طبعیت خاتون تھیں، عبد اللہ سے پوچھ لیا:

’’بیٹا ! چلتے چلتے اپنا نام تو بتاتے جاؤ؟‘‘

’’میرا نام عبد اللہ ہے۔‘‘، بمشکل عبد اللہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے۔اب یہ وہ وقت تھا جب تہذیبی تقاضوں کے پیش نظر بزرگ نے اپنے آپ کو متعارف کرانا ضروری سمجھا:

’’اچھا ہوا بیٹا آمنہ تم نے ان سے تعارف حاصل کرلیا ۔ میں بھی اپنا تعارف کرادوں ۔ میرانام اسماعیل ہے۔ یہ میری بیٹی آمنہ ہے۔‘‘

وہ ایک لمحے کے لیے رکے اور اپنی نواسی کی طرف دیکھتے ہوئے محبت آمیز لہجے میں بولے۔

’’ اور یہ سب سے زیادہ تھکی ہوئی میری نواسی ہے۔ اس کا نام ناعمہ ہے۔‘‘

عبد اللہ کی شدید ترین خواہش تھی کہ ایک اجنبی نام اس کے کانوں تک پہنچے تاکہ وہ کچھ تو خود کو بہلاوا دے سکے۔مگر ناعمہ کا نام تابوت کی آخری کیل بن کر اس کے کانوں میں گونجا۔اس دفعہ دنیا کی کوئی طاقت عبد اللہ کو دوبارہ نظر اٹھانے سے نہیں روک سکی۔اس کے سامنے واقعی ناعمہ کھڑی ہوئی تھی۔وہ لڑکی جسے اس نے زندگی میں پہلی دفعہ جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔مگر جسے وہ رات خواب میں۔۔۔

عبد اللہ نے گھومتے ہوئے دماغ سے سوچا:

’’اگر وہ خواب تھا تو یہ کیسی حقیقت تھی۔یہ اگر حقیقت ہے تو پھر وہ خواب۔۔۔۔‘‘

معاملہ عبد اللہ کی برداشت سے زیادہ ہوچکا تھا۔اسے آنے والے چکر اب تیز ہوگئے ۔ وہ ناعمہ کو دیکھتے ہوئے لہرایا اور بے ہوش ہوکرزمین پر گر پڑا۔ ختم شد

مزیدخبریں