حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر74

Apr 25, 2018 | 13:05:PM

سید سلیم گیلانی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری لمحات کے بارے میں، میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی وفات نہ تو اچانک ہوئی نہ متوقع تھی۔ میں نے حسبِ معمول صبح انہیں بیدار کیا۔ وہ باہر تشریف لائے مگر اُن کی حرکات و سکنات میں روزمرہ جیسی چستی نہیں تھی۔ سر درد کی شکایت کر رہے تھے۔ مجھے کہا میں اُن کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دیکھوں، کہیں بخار تو نہیں۔ میں نے عرض کی کہ پیشانی گرم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمائیں لیکن انہوں نے میرے ساتھ مسجد جانے پر اصرار کیا۔ چلنے لگے تو نقاہت محسوس کر رہے تھے۔ میرا بازو تھام لیا۔ میں انہیں اپنے ساتھ لگا کر چلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ اچانک رُک گئے اور کہنے لگے:

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر73 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’بلال تمہیں یاد ہے جب ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اُس دن بھی ہم ایسے ہی چل رہے تھے لیکن اُس دن میں نے تمہیں سہارا دیا ہوا تھا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ ہنس پڑے۔ میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا:

’’بائیس سال پہلے کی بات ہے۔‘‘

انہوں نے فرمایا:

’’نہیں بلال نہیں، کل کی، کل کی بات ہے۔‘‘

سارا دن بخار تیز ہوتا گیا۔ دوسرے دن صبح اور بھی زیادہ تھا مگر پھر بھی وہ بستر سے اُٹھے اور اپنی آواز کی نقاہت اور ہاتھوں کی لرزش کے باوجود امامت فرمائی۔ تیسرے اور چوتھے دن بھی صورتِ حال ایسی ہی رہی۔ پانچویں دن جب میں نے صبح دروازے پر دستک دی تو دروازہ عائشہؓ نے کھولا۔ چہرے پر بہت پریشانی تھی۔ اُن کے عقب سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آ رہی تھی۔ انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ عائشہؓ نے مجھے ایک بالٹی دی اور ٹھنڈا پانی لانے کے لئے کہا۔

میں بالٹی لیتے ہی دوڑ پڑا۔ ایک کنواں، دوسرا کنواں، تیسرا، چوتھا چھوڑتا ہوا میں اُس کنوئیں پر پہنچ گیا جس کا پانی مدینے میں سب سے ٹھنڈا تھا۔ بالٹی رسی سے باندھ کر جلدی سے کنویں میں ڈالی تو کنوئیں کی تہہ میں ایک چھپا کا ہوا، مجھے وہ آواز آج بھی یاد ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اس پانی کی ٹھنڈک فوراً ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کی حدت ختم کر دے گی۔ پانی لے کر جلدی سے واپس گیا اور عائشہؓ کے حوالے کیا۔ میرے پاس اتنا ہی وقت تھا کیونکہ دن چڑھنے سے پہلے مجھے اپنے فرض سے سبکدوش ہونا تھا۔ میں جانتا تھا اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں اذان کی آواز نہ پڑی تو وہ اپنی بیماری کی تکلیف سے بھی زیادہ تکلیف محسوس کریں گے۔

اذان دے کر میں نے پھر عائشہؓ کے حجرے پر دستک دی۔ چہرے کی پریشانی کچھ کم تھی۔ میرے دل کو بھی ذرا اطمینان ہوا۔ عائشہؓ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے تمہارے لئے یہ پیغام دیا ہے کہ آج سے بہتر اذان تم نے کبھی نہیں دی۔

میرے خیال میں، میں نے کئی بار اس سے زیادہ تاثر میں ڈوبی ہوئی اذانیں دی تھیں۔ اُس صبح تو ہوا بھی اتنی تیز تھی اور درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ نے بھی میری آواز کی بہت سی خوبیوں کو دبا دیا تھا۔ میری آواز میں وہ رچاؤ ہی پیدا نہیں ہونے پایا تھا جو میں اکثر محسوس کیا کرتا تھا۔ میرا جی چاہتا تھا میں ہوا کو ساکن کر دوں، پتوں کی سرسراہٹ روک دوں۔ پھر شہادتِ رسالت کے الفاظ پر میرے ذہن میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا خیال آ گیا تھا جس نے مجھے پریشان کر دیا تھا لیکن ہر مؤذن کو یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کی اذان کا حسن کانوں سے نہیں دل سے پرکھا جاتا ہے۔ کان تو محض ایک بیرونی آلہ ہیں۔ دل انسان کا باطن ہے۔ اگر سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ میری بہترین اذان تھی تو واقعی وہ بہترین تھی۔

دو دن تک رسول اللہﷺ کو کبھی ہوش آ جاتا کبھی بے ہوشی طاری ہو جاتی۔ میں اس تمام عرصے میں اُن کی چوکھٹ پر بیٹھا رہا۔ جب مجھے پانی لانے کے لئے کہا جاتا، میں دوڑ پڑتا۔ دوڑنے سے مجھے اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا ہوتا محسوس ہوتا تھا۔ لگتا تھا میرا ہر قدم اُن کی بیماری دور کر رہا ہے۔ یہ میں نہیں جانتا تھا کہ ہر قدم پر منزل دور ہوتی جا رہی ہے۔ میں ہر دفعہ ایک نئے کنویں سے پانی لے کر آتا۔ اس خیال سے کہ اگر ایک کنویں کے پانی سے بیماری دور نہیں ہوئی تو شاید دوسرے کنویں کے پانی میں کوئی ایسی تاثیر ہو جس سے افاقہ ہو جائے۔ اس طرح ایک ایک کر کے میں نے مدینے کے سات کنوؤں کا پانی لا کر دیا۔ عائشہؓ نے یہ پانی الگ الگ سات برتنوں میں رکھ لئے تھے۔ یہ برتن دیگر ازواجِ مطہرات کے حجروں سے آئے تھے۔ عائشہؓ باری باری اُن میں کپڑا بھگو بھگو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر رکھتیں تاکہ بخار کی حدت کم ہو۔

آٹھویں دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت میں اچانک ایک تبدیلی آئی۔ صبح انہوں نے دروازہ خود کھولا اور باہر تشریف لائے۔ سر پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی۔

اتنے میں عبیداللہ بن عبداللہؓ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ لوگ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بے تاب ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں ابوبکرؓ سے نماز کی امامت کے لئے کہوں۔ یہ حکم سن کر میں چلنے ہی والا تھا کہ عائشہؓ نے اُن سے عرض کی:

’’میرے والد بہت رقیق القلب ہیں۔ اُن کی آواز بھی بہت دھیمی ہے۔ ویسے بھی قرآن کی تلاوت کرتے وقت اُن پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ آپ کی جگہ محرابِ نبوی میں کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔‘‘

یہ سن کر محسن عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوبارہ حکم دیا کہ میں ابوبکرؓ کو اُن کا پیغام پہنچا دوں۔ اس پر ایک مرتبہ پھر سب نے عرض کی:

’’آپ اُن کی طبیعت سے واقف ہیں، وہ تو آپ کی علالت ہی کی وجہ سے اپنے ہوش و حواس گنوائے بیٹھے ہیں۔ وہ یہ ذمے داری نہیں نبھا پائیں گے۔‘‘ اس مرتبہ انہوں نے مجھے زور دے کر کہا:

’’تم ابوبکر سے کہو کہ وہ امامت کریں‘‘۔

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تھا۔ ہم سب نماز کے لئے روانہ ہو گئے۔ ابوبکرؓ حسبِ حکم امامت کے لئے کھڑے ہو گئے اور نماز شروع ہو گئی۔ اتنے میں حضورؐ، علیؓ اور فضل بن عباسؓ کے شانوں پر ہاتھ رکھے مسجد میں تشریف لائے اور ابوبکرؓ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ابوبکرؓ نے انہیں دیکھ کر فوراً اُن کے لئے جگہ چھوڑنا چاہی مگر حضورؐ نے انہیں اشارے سے حکم دیا کہ وہ نماز پڑھاتے رہیں، اور خود اُن کی امامت میں نماز ادا فرمائی۔

اسی طرح ایک مرتبہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کے سفر میں عبدالرحمن بن عوفؓ کی امامت میں بھی نماز ادا فرمائی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو میں دیر ہو گئی تھی اور نماز کا وقت نکلا جا رہا تھا، چنانچہ لوگوں نے نماز قضا ہونے کے خوف سے ابن عوفؓ کو امامت کے لئے کہا۔ ابھی انہوں نے ایک ہی رکعت پڑھائی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ ابن عوفؓ نے انہیں اپنی جگہ دینی چاہی مگر اُس دن بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے روک دیا اور اُن کی امامت میں نماز ادا کی۔ سب کے سلام پھیر لینے کے بعد انہوں نے اپنی ایک باقی رکعت ادا کی۔ نماز پڑھ کر انہوں نے فرمایا:

’’آپ لوگوں نے اچھا کیا کہ ابن عوف کے پیچھے نماز پڑھ لی۔ ہر نبی کو اپنی موت سے پہلے کم از کم ایک نماز اپنے کسی متقی پیروکار کی امامت میں ادا کرنا ہوتی ہے۔‘‘

اُس دن جب مسجد نبوی میں یہ واقعہ دہرایا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو سال پہلے کے یہ الفاظ یاد کر کے میرا دل بیٹھ گیا۔ آج ان لفظوں کے معنی ہی کچھ اور ہو گئے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے اُحد کے شہدا کے لئے دعا فرمائی اور پھر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔ لگتا تھا چلنے میں انہیں بہت تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ مجھ سے اُن کی یہ حالت دیکھی نہ گئی تو میں دوسری سمت دیکھنے لگا۔ مجھ جیسے کم فہم کو بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ اب وقت قریب ہے، سب چہروں پر یہی تاثر تھا۔ ہر ایک کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر75 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں