جنات کا غلام۔۔۔چودھویں قسط

25 مارچ 2016 (18:33)

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

تیرھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

قبرستان نہر کی پٹری سے ایک کوس اندر تھا۔ شیشم بوڑھ اور سرکنڈوں کی بہتات سے ڈھکا ہوا یہ قبرستان چار دیہاتوں کا مشترکہ تھا۔ زوال ہوتے ہی میں نے سارا سامان لیا اور مغرب کی اذانوں سے پہلے ہی میں نے قبرستان میں جا کر گڑیا کو دفن کر دیا اور گوشت اس کے مدفن کے اوپر رکھ دیا۔ میں چور آنکھوں سے قبرستان کے اندھیروں میں اپنے وہم کو تلاش کرتا ہوا قبرستان سے نکل رہا تھا کہ ایک دم پاﺅں کسی گڑھے میں پڑا تو ایسا لڑکھڑایا کہ پاﺅں سیدھا کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور میں اس گڑھے میں گر گیا۔ یہ گڑھا نہیں ایک قبر تھی جو جانوروں نے کھود رکھی تھی یا بارش کی وجہ سے نیچے بہہ گئی تھی۔ خوف سے میرا پورا بدن بیل گاڑی پر رکھے خالی برتنوں کی طرح کھنکنے لگا۔ پسینہ سے تربتر میں اضطراری کیفیت میں اٹھا اور جلدی سے قبر سے نکلنے لگا تو مجھے اپنے ہاتھوں میں چپ چپ سی محسوس ہونے لگی تو لگا جیسے گیلی مٹی سے ہاتھ بھر گئے ہیں لیکن پھر جب دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا تو اس میں چپچپاہٹ اور تعفن کا احساس ہوا۔ ناگوار سی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی اور پھر مجھے جس احساس نے جان کے خطرے میں مبتلا کر دیا اس کو بیان کرنا اب میرے بس میں نہیں ہے۔ بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میں اتنے زور سے چیخ مار کر چلایا تھا اور میرے لبوں سے نکلا تھا

”یا اللہ میری مدد“ اس کے ساتھ ہی میں نے باآواز بلند درود شریف پڑھنا شروع کر دیا تھا اور میری آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔ گڑھا زیادہ گہرا نہیں تھا بھرپور کوشش کرکے جب میں گڑھے سے نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ کوئی سایہ بھی گڑھے سے باہر نکل رہا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے گہرے سیاہ ہیولے کے وجود سے روشنی پھوٹ رہی ہے اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ سیاہ ہیولہ روشن لبادے میں ظہور پذیر ہو گیا

”بچ گئے تم .... درود پاک نہ پڑھتے تو مارے جاتے تم“ وہ کون تھا یہ میں نہیں جانتا لیکن اس کا استہزائیہ انداز میں یہ کہنا مجھے اس کے متعلق کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا

”تم کون ہو“ میں نے سوکھے ہوئے حلق سے آواز نکالی

”جا کر اپنے باباجی سے پوچھ لینا“ وہ کہنے لگا ”تمہارے بابا جی کے بہت سے فرض مجھے چکانے ہیں۔ میرا یہ پیغام انہیں پہنچا دینا“ یہ کہتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور وہ سیاہ ہیولہ لہراتا ہوا دوبارہ قبر میں اتر گیا اور پھر میں نے ایسی دوڑ لگائی کہ مجھے یاد ہے اگر میں اس روز کسی دوڑ کے عالمی مقابلے میں بھی شریک ہوتا تو پہلی پوزیشن لے لیتا۔ میں نے حویلی میں جا کر دم لیا اور عین اس وقت مہمان خانے میں داخل ہو رہا تھا جب اندر سے باباجی کی غصے سے بھری آواز آ رہی تھی۔

میں دروازے کے پاس ٹھٹھک گیا

”تم نے یہ حرکت کی کیوں“ بابا جی سخت ناراضگی کے عالم میں گرج رہے تھے۔ ان کی آواز سے کمرہ گونج رہا تھا۔

”غلطی ہو گئی سرکار“ پیر ریاض شاہ نے غالباً نہایت آہستگی سے معافی مانگی ہو گی کہ بابا جی دوبارہ سے گرجے۔

”غلطی ہو گئی .... تم نے کوئی ایک غلطی کی ہو تو میں تمہیں معاف کر دوں۔ دیکھو ریاض شاہ تمہاری غلطیوں کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ میں اپنی مخلوق کو کب تک سمجھاتا رہوں گا۔ تمہاری غلطیاں حد سے بڑھ رہی ہیں اور اس کا نقصان جنات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تمہاری عیاشیوں کے لئے جنات کو اپنا خون بہانا پڑتا ہے۔ تم معصومیت اور سچائی کو قتل کر رہے ہو ریاض شاہ۔ میں اگر تمہاری والدہ محترمہ سے کئے ہوئے وعدے کا پابند نہ ہوتا تو رب ذوالجلال کی قسم تمہیں اس طرح جلا کر راکھ کر دیتا جیسا کہ تم نے آج اس ہندو جن کو جہنم واصل کیا ہے“

”سرکار .... میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گا۔ بندہ بشر ہوں مجھ سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ آپ کی دعاﺅں کا ہی ثمر ہوں میں بابا جی سرکار۔ آپ کا بچہ ہوں۔ آپ کے بھروسے اور زعم میں آ کر ایسے کام کر جاتا ہوں۔”

”ایک تو تم انسان بڑے عجیب ہو۔ ازلی خطا کا سہارا لے کر اپنی غلطیوں کو معاف کرا لیتے ہو“ باباجی ذرا نرم لہجے میں بولے ”اور ایک ہماری مخلوق ہے جو غلطی کرتی ہے تو اسے معافی کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ ان کی خطائیں معاف نہیں ہوتیں“

بابا جی کی تاسف سے بھری آواز سن کر میں چونکا بابا جی کیا کہہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اس کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جو سچے دل سے معافی مانگتا اور اس کے آگے سرنگوں رہتا ہے۔ مسلمان جنات کو بھی تو معافی مل سکتی ہے۔ ہاں اس کائنات میں صرف ایک شیطان ہے جسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ پھر بابا جی نے ایسی کیوں بات کی“ میں یہ سوچتا رہا مگر مجھے سمجھ نہیں آ سکی کہ ایک عبادت گزار مسلمان جن ہوتے ہوئے بھی وہ رب ذوالجلال کے رحم سے امید کیوں نہیں رکھتے۔ میں یونہی کھڑا اندر ہونے والی گفتگو سن رہا تھا کہ یکایک میرے بدن میں سنسنی پھیل گئی۔ کسی نے نہایت نرم و گداز ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا تھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو سرتاپا سفید لبادے اوڑھا غازی کھڑا تھا۔

”چوری چوری باتیں سننا بری بات ہے بھائی صاحب“ وہ مسکرایا تو گندمی رنگت والے غازی کے کشادہ ہونٹوں کے اندر موتیوں جیسے سفید دانت نظر آنے لگے۔ اس کی زبان سرخ اور دراز تھی۔ لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا ”باباجی کو بتا دوں کہ شاہد میاں چوری چوری باتیں سن رہے تھے تو وہ غصہ کریں گے۔ مجھ سے مک مکا کر لو۔ کچھ کھلا پلا دو۔ میں ان سے نہیں کہوں گا“

بے ساختہ میری ہنسی نکل گئی ”کیا کھاﺅ گے“ میں نے کہا ”میرا بھی بھوک سے برا حال ہے“ مجھے اپنے اندر نقاہت کا احساس ہو رہا تھا۔

”ٹھیک ہے۔ دونوں مل کر کھائیں گے“ وہ سوچنے لگا ”مگر کھائیں کیا۔ ادھر گاﺅں میں کیا ملے گا چلو شہر چلتے ہیں“

”شہر اور اس وقت“ میں نے کہا ”خدا کا کچھ تو خوف کھاﺅ غازی۔ میں اس وقت جا سکتا ہوں شہر اور تم نہیں جانتے میں کن حالات سے گزر کر یہاں پہنچا ہوں“ قبرستان میں پیش آنے والے واقعہ کو یاد کرکے میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے اور میں بے ساختہ حویلی کے گیٹ کی طرف دیکھنے لگا۔ غالباً دور اندھیرے میں درختوں کی شاخیں لہرا رہی تھیں مگر مجھے لگا جیسے قبرستان والا عفریت میرے تعاقب میں یہاں تک آ گیا ہے۔ میرا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا

”ہمارے ہوتے ہوئے تمہیں خوف آ رہا ہے“ غازی ہنسا ”واہ بھئی واہ۔ بھائی بھی کہتے ہو اور گھبراتے بھی ہو میاں۔ تم اس دم جلے کی بات کر رہے ہو۔ وہ کیا اس کی اوقات کیا۔ میرے بھائی اس کی یہ جرات ہی نہیں کہ ہمارے باباجی سرکار کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ ہاں وہ جس بات پر شیر ہوتا ہے اس کی نزاکت ہم جنات کے لئے اہم ترین مسئلہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات مصلحت کی وجہ سے ہم اپنی بگڑی ہوئی مخلوق کی بدمعاشیاں بھی برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ صرف کسی خاص انسان کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتی ہیں اور وہ خاص انسان کون ہے جس کی وجہ سے ہم اس دم جلے کو کچھ نہیں کہتے۔ یہ اپنے شاہ صاحب ہیں۔ تم نے سنا ہے بابا جی ان پر برس رہے ہیں“ غازی بولتا چلا گیا

”ایسی کیا بات ہے .... جو شاہ صاحب سے سرزد ہو گئی ہے“ میں نے آہستگی سے کہا اور ساتھ ہی غازی کو بازو سے تھام لیا۔ میں اسے لے کر باغیچے کی طرف نکل آیا مبادا بابا جی ہماری باتیں نہ سن لیں

”مجھے ادھر لے کر آنے کا کوئی فائدہ نہیں“ وہ راستے میں اپنا بازو چھڑا کر بولا۔ ”بابا جی کو معلوم ہے کہ میں اور تم کیا باتیں کر رہے ہیں۔ ان کے ہزاروں کان ہیں“وہ دلچسپ انداز میں مسکرایا ”باتوں میں مجھ سے کیا گیا وعدہ نہ بھول جانا“

”نہیں بھولتا یار۔ اندر اور باہر کی بھوک تنگ کر رہی ہے۔ میں کشمکش میں گرفتار ہو رہا ہوں۔ دیکھو غازی“ میں نے جیب سے سو روپے کا ایک مڑا تڑا سا نوٹ نکالا ”یار میں صحافی ہوں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ ان پر عیاشی کر سکوں۔ یہ رکھ لو اور تم خود ہی شہر سے کھانے کی کوئی شے لے آﺅ“ اس نے نوٹ پکڑا اور اپنی آنکھوں کے سامنے کھول کر لہرانے لگا۔

”بھائی تمہارے پیسوں سے بو آ رہی ہے“ وہ مسکرانے لگا ”انہیں زیادہ دیر تک جیب میں نہ رکھا کرو۔ تم جتنا پیسہ جیب سے نکالو گے تمہارے پاس اسی رفتار سے پیسہ آئے گا“

”اچھا .... یہ بھی کرکے دیکھ لوں گا“ میں نے اپنے مطلب کی بات کرتے ہوئے کہا ”وہ تم بتا رہے تھے کہ شاہ صاحب سے کیا غلطی ہو گئی“

”ایسا کرو“ وہ مجھے چکما دیتے ہوئے بولا۔” کچھ دیر کے لئے تم یہاں ٹھہرو۔ میں شہر سے کھانے پینے کے لئے کچھ لیتا آﺅں۔ پھر کھائیں گے اور باتیں بھی کریں گے“

میں نے اسے جانے دیا اور پھر دو چار منٹ میں ہی وہ واپس آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ کا بڑا لفافہ تھا جس میں گرم گرم جلیبیاں رکھی تھیں وہ ندیدوں کی طرح زبان لبوں پر پھیرنے لگا

”گرم گرم جلیبیاں مجھے بہت پسند ہیں۔ آہ تم انسانوں کو اللہ نے کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز کیا ہوا ہے .... کاش میں بھی انسان ہوتا اور جی بھر کر تمہاری نیا کی غذائیں کھایا کرتا۔ کم از کم تمہارا جوٹھا تو نہ کھانا پڑتا“

”کیا مطلب“

”چھوڑو جلیبیاں کھاﺅ۔ پھر کبھی بتاﺅں گا“ اس نے کوئی بات بتانے سے پہلو بچایا مگر میں نے اس کا دامن نہیں چھوڑا

”میں نے سنا ہے تم لوگ ہڈیاں اور فضلہ کھاتے ہو یعنی تمہارے لئے یہ پسندیدہ غذائیں ہیں“

”بھائی کہا ہے نہ چھوڑو یہ باتیں۔ دل کیوں خراب کر رہے ہو۔ اتنا اچھا کھانے کو مل رہا ہے اور تم کیسی چیزوں کا ذکر کر رہے ہو۔ ہاں یہ اور بات ہے“ وہ لفافے سے شیرے میں لتھڑی ہوئی ایک جلیبی منہ میں ڈال کر کھانے لگا اور پھر اپنی انگلیاں چاٹتے ہوئے بولا ”اگر انسان کے روپ میں ہوں تو ہم تمہاری غذائیں کھاتے ہیں لیکن جب اپنے اصل میں ہو تو ایسی ہی اشیا کھانی پڑتی ہیں جو تمہارے ہاں نجس اور فالتو ہیں۔ یہ بھی اللہ کی قدرت ہے۔ ہمارے لئے وہ اشیا لذت اور توانائی کا باعث بنتی ہیں“

غازی کو جلیبی کھاتے دیکھ کر میرے منہ میں بھی پانی بھر آیا۔ میں لفافے میں ہاتھ ڈال کر جلیبی نکالنے لگا تو غازی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا

”میں دیتا ہوں“ یہ کہہ کر اس نے جلیبی کا آدھا ٹکڑا مجھے دیا ”تم بس یہ کھاﺅ تمہارا پیٹ بھر جائے گا‘

”یار بڑے کنجوس ہو تم“ میں نے کہا ”اس سے میرا کیا بنے گا“

”اگر میں نے آپ کو اور جلیبیاں دے دیں تو میرا کیا بنے گا۔ سو روپے کی لایا ہوں غریبوں کی طرح۔ ہائے ہزار دو ہزار کی جلیبیاں ہوتیں تو تب جا کر میرا گلا تر ہوتا پیٹ پھر بھی نہ بھرتا“

”اسی لئے باباجی کہتے ہیں غازی ندیدا ہے“ میں نے کہا ”اگر تم بھی بانٹ کر کھایا کرو تو تمہارے کھانے میں برکت پیدا ہو گی“ میں نے ہنستے ہوئے اسے سمجھانا چاہا تو ایک دم وہ ناراض ہو کر میری طرف دیکھنے لگا

”جا دفع ہو جا“

میں ا س کا منہ دیکھنے لگا

” جاتا ہے یا نہیں“ اس کے چہرے پر ناراضی کے آثار نمایاں ہونے لگے ”تری دم میں نمدہ بھروں گا تو پھر جائے گا“

میں نے اسے ایسی کیا بات کہہ دی تھی کہ وہ ایک دم ناراض ہو گیا تھا۔ اس کے رویہ سے مجھے بڑی ندامت‘ شرمندگی اور خفگی محسوس ہوئی اور میں واپس جانے کے لئے پلٹا تو غازی پیار سے بولا

”بھائی آپ کہاں چل دئیے“ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا ”یار خود ہی تو دفع دفعان کہہ رہے ہو“

”ارے آپ کو تھوڑی کہہ رہا ہوں“ وہ غصہ کے باوجود مسکرایا ”میں تو اسے کہہ رہا ہوں جو ادھر لیموں کے پودے کے پیچھے ندیدوں کی طرح کھڑا ہے۔ مجھ سے جلیبیاں مانگ رہا ہے۔ آپ خود سوچیں کہ آپ کو کھانے کے لئے نہیں دے رہا تو اسے کیوں دوں گا“

میں نے پلٹ کر دیکھا تو مجھے کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ ”یہ آپ کو نظر نہیں آئے گا بڑا شرمیلا مگر ہٹیلا ہے۔ اس کا نام صبور ہے۔ میری منگیتر کا بھائی ہے یہ۔ اپنی بہن کے لئے میری مخبری کرتا رہتا ہے وہ بھی اس کی طرح ہے ندیدی“ غازی کی باتیں میرے لئے دلچسپی اور راحت کا باعث بن رہی تھیں۔

”ارے غازی تم بڑے ظالم ہو۔ اپنی منگیتر کے بارے ایسے کہتے ہو“ میں نے کہا ”یار منگیتر کی خوشنودی کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کر جاتا“

”میں انسان نہیں ہوں۔ ہم اپنی منگیتروں کو سر پر نہیں چڑھاتے۔ ویسے بھی یہ نک چڑھی ہوتی ہیں“ غازی بولا ”مجھ سے پچاس سال بڑی ہے میری منگیتر۔ ہر وقت اس ٹوہ میں رہتی ہے کہ میں اس وقت کہاں ہوں اور کیا کر رہا ہوں۔ دس سال بعد میری اس سے شادی ہو گی“

”کیوں .... اتنی دیر سے کیوں ہو گی شادی“ میں نے کہا

”ابھی میں بچہ ہوں ناں بھائی“ وہ شرمیلے انداز میں بولا

”تم بچے ہو کیا۔۔۔۔۔۔ اور پھر بڑے ہو گے تو کیسے دکھائی دو گے۔ یار تم مجھ سے بھی بڑے قد اور عمر کے دکھائی دیتے ہو“ میں نے اسے چھیڑا ”اتنی عمر میں تو ہمارے ہاں چار بچوں کے باپ ہوا کرتے ہیں“

”یہ میں تھوڑی ہوں“ وہ بولا ”یہ ظاہری جسم میرا تھوڑا ہے۔ ویسے بھی ہمارے اور آپ انسانوں کی عمروں میں اور بلوغت میں فرق ہے۔ ہمارے ہاں پنتالیس پچاس سال کی عمر کا مطلب ہے تمہارے ہاں کی پندرہ سے بیس سال کی عمریں۔ میں ابھی پنتیس سال کا ہوں۔ دس سال بعد پنتالیس کا ہو جاﺅں گا تو تب شادی کے قابل ہوں گا۔ میرے والدین کو جلدی پڑی ہے مگر میں ابھی کچی عمر میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے باباجی سے بھی کہا ہے کہ میرے والدین کو منع کر دیں لیکن سرکار کہتے ہیں کہ تم جیسے لفنگے اور آوارہ جن کی شادی جلدی ہونی چاہئے۔ ہائے شاہد بھائی۔ میں تو ابھی ساری دنیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ موج میلہ اڑانا چاہتا ہوں مگر میرے پاﺅں میں شادی کی بیڑیاں .... نہیں کانٹے چبھوئے جا رہے ہیں۔ یہ صبور کی بہن .... قائمہ۔ بڑی سخت جن زادی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ جیسے آزاد جن کو کیوں قائمہ جیسی جن زادی سے بیاہا جا رہا ہے لیکن یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ میں قائمہ کو پسند نہیں کرتا لیکن قبائلی رسم و رواج اور میرے والدین کی مجبوریاں قائمہ سے شادی پر بضد ہیں“ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے غازی کی مسکراہٹ کافور ہو گئی اور رنجیدگی کا سحر اس کے چہرے پر چھانے لگا

”صرف تم انسان ہی اپنی سماجی زندگی کی پابندیوں سے مجبور نہیں ہوتے بلکہ میں تو کہوں گا کہ تمہاری دنیا کے رسم و رواج شاید اتنے سخت اور ناقابل حل نہ ہوتے ہوں گے جتنے کہ ہمارے ہیں ہمارے ہاں جو پابندیاں ہیں انہیں تو آنے کا مطلب صرف موت ہے۔ اور موت بھی بڑی عبرتناک۔ تم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے بھائی۔ اف میرے خدا“ غازی غالباً کسی سزا کا تصور کرکے کانپ اٹھا تھا اور اس نے جلیبیوں سے بھرا لفافہ مجھے پکڑا دیا۔ میرے بڑے بھائی ارمان نے بغاوت کی تھی وہ بڑا شریف اور عالم فاضل جن زادہ تھا۔ وہ بریلی کے ایک مدرسے میں پڑھتا تھا اور اس کو وہاں اپنے معلم کی صاحبزادی سے عشق ہو گیا تھا۔ وہ میری طرح نہیں تھا۔ بڑا حلیم اور بردباد جن زادہ تھا۔ انسانی روپ میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ مولوی فضل الحق نام تھا اس کے استاد جی۔ اور ان کی بیٹی سیدہ رقیہ بڑی ہی معصوم‘ پاکیزہ صوم و صلوٰة کی پابند تھی۔ میرا بھائی مولوی صاحب کی خدمت اور اطاعت میں دوسرے شاگردوں سے ممتاز تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مولوی صاحب میرے بھائی کی حقیقت کو جانتے تھے اور انہوں نے ارمان کو بہت سی ایسی باتوں سے بھی آگاہ کیا ہوا تھا جو اس کی شخصیت کے بے نقاب ہونے سے اس کو نقصان پہنچا سکتی تھیں۔ بھائی خود بھی ان باتوں کا خیال رکھتا تھا۔ شاہد بھائی مجھے اپنے بڑے بھائی سے بڑی محبت تھی۔ وہ تھا بھی محبت کے قابل“ غازی کی آنکھیں اپنے بھائی کا ذکر کرتے ہوئے اشکبار ہو گئیں اور مجھے اس کے اندر سے ہچکیاں لیتے ہوئے ایک بچے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میرا دل بھی افسردہ ہو گیا اسی اثنا میں کوئی وجود سرسراتی ہوا کی طرح ہمارے پاس آ کر ٹھہر گیا

”آﺅ یہ لو اور اپنی بہن کو میری طرف سے سلام کہنا اور یہ جلیبیاں اسے دے دینا“ غازی نے لفافہ میرے ہاتھوں سے لیا اور میری دائیں طرف بڑھا دیا۔ لفافہ کسی نادیدہ وجود جو یقیناً صبور تھا اسے تھما دیا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے لفافہ غائب ہو گیا۔ غازی کا یہ روپ میرے لئے نیا تھا۔ ہر وقت شرارتوں کی بارش میں بھیگا ہوا‘ بے کل و مضطرب اور گلابوں کی طرح کھلتے ہوئے چہرے والا غازی پریشان تھا‘ ادھورا‘ بے کس اور ہجر و وصل میں ڈوبا ہوا۔ میرے اپنے بہت سے غم تازہ ہو گئے لیکن میرے سامنے غازی تھا۔ آج جذبات کے تفاوت کا ایک عجیب منظر تھا میرے سامنے۔ ایک انسان اور جن کے دل میں دھڑکتے دل کی کیفیات کا نظارہ ہو رہا تھا۔ جذبات .... لامتناہی اور ازلی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں صرف انسان ہی دل کے مدوجزر سے جذباتیت کی لہروں کا شکار ہوتے ہیں اور یہ صرف جذبات ہی ہیں جو انسانوں کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتے ہیں مگر جذبات تو ہر دنیا میں موجود ہیں۔ جیسا کہ غازی جذبات سے مغلوب ہو رہا تھا اور اپنی غمناک یادوں کے ریلے میں بہہ کر اپنی بے اختیاری کا اظہار کر رہا تھا

”شاہد بھائی ! ارمان اور سیدہ رقیہ کی داستان عشق و محبت بڑی طویل تو نہیں ہے مگر اتنی مختصر بھی نہیں ہے۔ میرے بھائی نے دو سال تک مولوی صاحب کے پاس رہ کر ایک بار بھی جن زادوں جیسی حرکت نہیں کی تھی بلکہ عام طالب علموں کی طرح مشقت کیا کرتا تھا اور کبھی اپنی قوت کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ وہ بھی دوسرے طالب علموں کی طرح آٹا گوندھتا ، جھاڑو لگاتا اور اتنا ہی وقت لیتا جتنا دوسرے طالب علم لیتے تھے۔ وہ بھی انسانوں جتنا کھانا کھاتا‘ مولوی صاحب ناراض ہوتے تو ڈنڈے اور جوتے کھاتا اور اسی طرح تکلیف کے باعث روتا جیسے عام انسان روتے تھے۔ دو سال خیریت سے گزر گئے تھے۔ ایک روز مولوی صاحب بیمار پڑ گئے ایسے کہ پورا ہفتہ اٹھ ہی نہ سکے۔ مولوی صاحب نے ارمان بھائی کو مانیٹر بنا دیا تھا اور وہ انہیں مدرسے کی ساری رپورٹ دیا کرتا تھے۔ مولوی صاحب کو دق کا مرض ہو گیا تھا اور پورے بریلی میں بڑے بڑے ممتاز حکما سے ان کا علاج کرایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے ارمان بھائی سے ایک وعدہ لیا کہ وہ ان کے مرنے کے بعد ان کی صاحبزادی سیدہ رقیہ کا خیال رکھیں گے۔ وہ ان کی اکلوتی اولاد تھی‘ رشتہ دار تھا نہیں کوئی۔ ارمان بھائی بہت روئے تھے مولوی صاحب کی وفات پر۔ سیدہ رقیہ کا تو برا حال تھا وہ بے آسرا ہو گئی تھی۔ مولوی صاحب نے سیدہ رقیہ کو ارمان کے بارے یہ تو بتا دیا تھا کہ وہ اس کا خیال رکھے گا مگر وہ یہ نہ بتا سکے کہ وہ جن زادہ ہے۔ انہیں نہ جانے ارمان بھائی پر اتنا بھروسہ کیوں تھا کہ وہ ان کی بیٹی کی حفاظت عام انسانوں سے بہتر کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ہو گا کہ سیدہ رقیہ نے اگر ارمان بھائی کی اصلیت جان لی تو وہ ہر وقت خوفزدہ نہ رہا کریں۔ خیر بھائی سیدہ رقیہ کی حفاظت کرتے رہے اور ان کے لئے کھانے پینے کی ہر شے مہیا کرتے رہے۔ اس کے لئے انہوں نے بریلی کے شیر فروش کے پاس ملازمت کر لی اور جو ملتا سیدہ رقیہ کو لا کر دیتے۔ بھائی اور سیدہ رقیہ نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔ وہ کوئی شے لاتے‘ دروازہ کھٹکھٹاتے یا کھنکھارتے تو سیدہ رقیہ دروازے کی اوٹ سے اشیا وصول کر لیتیں۔ یونہی کئی مہینے گزر گئے۔

پندرھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں