سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 44

31 جنوری 2018 (15:44)

قاضی عبدالستار

ان پر گلاب چھڑ کا جاتا،مخلخہ سنگھایا جاتا اور دمشق کے کئی درجن شفاخانوں کے سینکڑوں طبیب ان کے علاج کے دوڑپڑتے۔بازار زردوزی کے چھتے سے نکلے ہی بوندیں پڑنے لگیں۔وہ بارش ہونے لگی جو فصلوں کی بالیوں کو مضبوط کرتی ہے اور دانے کو دانا کرتی ہے ۔آبادی اس بارش رحمت کو دیدار شاہی کا فصل سمجھ کر دعائیں دینے لگی۔تلواروں اور تیروں کی یورش میں ثابت قدم رہنے والی زندہ قوم اسی طرح کھڑی رہی۔سفید اور سرخ اور زرد پتھر کی عمارتوں کے سنگین چھجوں اور کامدار اور جالی دار شہ نشینوں کی چلمنوں کے پیچھے کھڑی ہوئی شعلہ بدن عورتوں اور گل پیرہن بچوں کے ہاتھوں سے پھول برستے رہے،طغرل نے چھتر شاہی کو نیچا کر کے جسم سلطانی کو محفوظ رکھنے کی کو شش کی۔امیر جلوس وزیر ابو بکر نے گھوڑے بڑھانے کی اجازت مانگی جو نصیب نہ ہو سکی۔حاجیوں کے قافلے تک پہنچتے پہنچتے سلطانی کفتان کے دامنوں سے بوندیں ٹپکنے لگیں۔بھیگے ہوئے لباس پر طوفانی ہواؤں کے جھکڑاور تکلیف وہ ہو گئے،جب ایک آدمی حاجی کو مصافحہ کی سعادت بخش چکے اور سارے جسم میں تھر تھری رینگ گئی تو اپنے آپ پر قابو فرمایااور داہنی رکاب کے پاس کھڑے ہوئے وزیر کی طرف خفیف سا جھک گئے۔وزیر نے اپنا کان پیش کردیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مقرر ہ راستے کو نظر انداز کر کے جلد از جلد قصر پہنچنے کی کو شش کرو‘‘

وزیر نے پشت پر کھڑے ہوئے غلاموں کے کان میں کچھ کہا اور طبل کو بھجوادیا۔شاہراہوں میں کھڑی ہوئی آبادی جلوس کا انتظار کرتی رہی اور جلوس شہر پناہ کے نیچے اڑتا ہوا قصر کے ’’ باب الداخلہ‘‘ میں داخل ہو گیا۔خلوت شاہی کے دروازوں اور دریچوں پر پردے ڈال دیئے ،دہکتے ہوئے کو ئلوں کی سمیں۔

انگیٹھیاں لگا دی گئیں اور سلطان نے سمور کے کفتان پر بخارا کے پیشمنے کی چادر اوڑھ لی۔ملک الاطبا حاضر ہوئے نبض چھوئی ،انگلیاں جل گئی مگر اپنے جذبات پرقابو اور چہرے پر طمانیت کی صیقل کئے نبض دیکھتے رہے۔

غلاموں کے ہاتھوں پررکھی ہوئی دواؤں کی کشتیوں سے ایک خوراک بتائی اور اپنے اپنے ہاتھ سے شیشہ پیش کیا۔سلطان دو پیتے رہے اور وہ خدائے بزرگ و برتر سے صحت کی دعا مانگتے رہے۔

تیمم کیا،مغرب کی نماز بیٹھے بیٹھے ادا کی لیکن چہرے سے کسی تشویش یا نقاہت کا اظہا رنہ ہونے دیا، جن کے ہاتھوں میں قلمدان جہاد رہتا تھا۔حسب معمول پیشی کیلئے حاضر ہوئے۔طبیب شاہی نے چاہا کہ ان کو اشارہ کنارے سے حالتِ سلطانی کا علم کرادیاجائے لیکن رازداری کے خوف سے خاموش رہے۔نگاہ ملتے ہی وزیر نے استدعا کی۔

’’ والیانِ حکومت کے نام جاری کئے گئے فرامین مہر شاہی کے ثبت ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

سلطانِ اعظم کے ارشادِعالی سے قبل ہی طبیب خاص نے دھیمی آواز اور مضبوط لہجے میں کہا

’’ طبیب کی حیثیت سے میری وزیر جہاد سے گزارش ہے کہ اس وقت سلطان المسلمین کو آرام کی شدت ضرورت ہے‘‘

الہکاری کے ابرو پیشانی پر حملے گئے اور آنکھیں پھیل گئیں۔

صلیبیوں سے جہاد کے منصوبے میں بیت المقدس کے سامنے فیصلہ کن لڑائی شامل تھی جسے صلیبیوں کی قبل از وقت اور نامرادواپسی نے انجام پذیر نہ ہونے دیا،یوں تومنصوبے کی ایک ایک شق کا سلطان بنفیس علم رکھتے تھے جو عظیم الشان کام درپیش تھا۔اسکی کامیاب بجا آوری کیلئے مختلف مہمات مختلف ہاتھوں میں سونپ دی گئی تھیں۔نائب السلطنت ملک العادل سامانِ جنگ کے شعبے میں مہتمم اعلیٰ تھے اور وزیر ابو بکر رسد کے ذمہ دار۔

صقلیہ میں متعین اسلامی جاسوسوں کی خبریں وصول کرتے ہی عادل نے اپنا قیام کو طول دے کر سوچنا شروع کردیا تھا۔ اسلامی سپاہ کی نفسیات کے نباض جنرل نے اپنی آنکھوں سے صلیبیوں کی بدحواس پسپائی دیکھی تھی۔ سلطان السلاطین کے بھائی دست راست اور اپنے عہد کے سب سے بڑے مدبر کو ’’محافظ اسلام‘‘ کا جو اعتبار حاصل تھا اس کی یاد سے حافظہ لبریز تھا۔ انہوں نے نائب السطنت کی حیثیت سے سپہ سالار تقی الدین اور وزیر جہاد ابوبکر کا اعتماد حاصل کیا اور اپنا خفیہ منصوبہ کھول کر رکھ دیا۔ جب گرمجوشی کے ساتھ طاقت حاصل کرلی تب خشکی کے راستے سے آئے ہوئے جرمن صلیبیوں کے آسان راستے کا انتخاب کیا۔ بیت المقدس سے دمشق اور قاہرہ تک پھیلے ہوئے تمام قلعوں، مورچوں، شہروں اور بستیوں میں بے حساب آلات حرب اور سامان رسد بھرا پڑا تھا۔ ایک لاکھ جنگی گھوڑا اور پچاس ہزار خچر تیار کھڑا تھا۔ قاصدوں کے ذریعے قلعہ داروں اور والیوں اور عاملوں کو احکام بھیجے گئے کہ وہ دن میں قیام کرتے اور رات میں طوفانی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چلیں اور ایک ایک کمان، ایک ایک تیر اور ایک ایک منجنیق کو ’’رکاب‘‘ سے انطاکیہ تک انتظار کرتے ہوئے قلعوں میں پہنچادیں۔ پورارسدخانہ اور توشہ خانہ جنگی گھوڑوں اور خچروں اور اونٹوں پر لاد کر روانہ کردیں۔

ابھی ان احکامات کی تعمیل ہورہی تھی کہ قحطان نے پروانہ راہداری حاصل کرنے کے لئے ملاقات کی اور سفارت کاراز ان کے کان میں ڈال دیا۔ قحطان کی روانگی کے ساتھ ہی انتظامات کی رفتار اور تیز کردی گئی۔ پھر سوڈان، مصر، حجاز، یمن اورکردستان کی مستقل تنخواہ دار فوجوں کے بڑے حصے کو دارالسطنت میں حاضر ہونے کا فرمان لکھا اور خود دمشق کے لئے سوار ہوگئے۔ تقی الدین پہلے ہی اپنے خاص رسالوں کے ساتھ جنبش کرچکا تھا اور راستے کے قلعوں میں بیکار پڑی ہوئی سپاہ کو سمیٹتا ہوا باب حکومت کی طرف باگیں اٹھا چکا تھا۔

خلوچ شاہی میں قاضی القضاۃ کی دردناک تقریر پر سلطان المسلمین کی خاموشی نے عادل کو مغربی یلغار پر شاہی رضا کا یقین دلادیا تھا۔ دربار خاص سے نکلتے ہی نائب السطنت نے سنگین خفیہ احکامات جاری کردئیے۔ ایک عظیم الشان سلطنت کی مضبوط ترین حکومت کے لئے بے پناہ وسائل حرکت میں آگئے۔ محکمہ ڈال کے گھوڑوں اور نیلے کبوتروں سے زمین وآسمان بھرگئے۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں