آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر68

01 جنوری 2018 (12:33)

دن ڈھل چکا تھا اور میرے اصرار پر لاش اسی جگہ چھوڑ دی گئی۔میں نے نہر کے کنارے ہی آم کے ایک موزوں درخت پر جلد جلدی الٹی سیدھی ایک مچان بنوائی اور سب کو رخصت کر کے اس میں چھپ گیا۔دونوں دیہاتی،پولیس کا حوالدار، نہر کا جمعدار اور دو تین دوسرے آدمی جو پونڈی سے ساتھ آئے تھے،دیوری چلے گئے۔

جب میں چلا تھا اس وقت دن تھا اور اس المناک سانحے کا گمان بھی نہ تھا۔ میں اپنے ساتھ ٹارچ نہ لایا تھا۔ پونڈی میں بھی اس کا خیال نہ آیا۔ اب اسے حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ تھا نہ وقت، چنانچہ میں نے اندھیرے ہی میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کرلیا۔بھگوان داس کی چونے کی ڈبیا کام آئی اور اپنی نوایم ایم ماؤزر رائفل کی نالی دو دو انچ کے فاصلے پر چونے کی ٹپکیاں لگا دیں۔دیدبان بھی سفید کر دیے کہ کچھ تو نظر آتے رہیں۔

تیندوے کے آنے کی امید کم تھی، کیونکہ لاش کا بڑا حصہ کھایا جا چکا تھا، پھر بھی چند فیصد امید یوں بندھی تھی کہ شاید اس نے حسب عادت صرف آنتیں اور پیٹ کھایا ہواور بقیہ گوشت دوسرے جانور چٹ کر گئے ہوں اور اس رات گوشت کھانے کے لیے وہ چلا آئے۔

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سورج پہاڑ کی اوٹ میں اوجھل ہو رہا تھا، تاہم ابھی غروب نہ ہوا تھا کہ بارش پھر شروع ہو گئی۔موسلادھار بارش کے موٹے موٹے قطرے تڑا تڑ میری برساتی اور سر پر گرنے لگے۔آم کے پتے سایہ نہ کیے ہوتے تو وہاں بیٹھنا مشکل ہو جاتا۔ اب گہرا اندھیرا ہو چکا تھا گہرا کہ قریب رکھی ہوئی رائفل بھی نظر نہ آتھی تھی۔میں نے اس کی نالی برساتی میں چھپالی تھی کہ چونا بہہ نہ جائے اور دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہا تھا،بارش تھم جائے۔ساتھ ہی یہ بھی کہ بجلی برابر چمکتی رہے۔وہی ایک روشنی تھی جس میں مجھے پندرہ گز دور پڑی ہوئی لاش نظر آجاتی تھی۔جنگل کا ماحول رات میں یوں بھی کیا کم بھیانک ہوتا ہے،پھر برسات کی رات میں مسخ شدہ لاش کے احساس نے ماحول اور بھی دہشت ناک بنا دیا تھا اور پھر لاش بھی ایسی مسخ کہ بغیر گوشت کا چہرہ کھانے کو آتا تھا۔رات جوں جوں گزرتی رہی، دل کی دھڑکن تیز ہوتی چلی گئی۔بارش دھیمی ہوئی،دور کہیں بھیڑ کے چیخنے کی آواز آئی ۔اب میرے کان کھڑے ہوئے اور نگاہیں لاش پر یوں مرکوز ہوئیں کہ ایک لمحے کے لیے بھی اسے اوجھل کرنے کو تیار نہ تھیں۔

گھڑی دیکھی۔ ریڈیم کی سوئیوں نے گیارہ بج کر دس منٹ کی اطلاع دی۔بجلی چمکی۔۔۔میں نے نہر کی پٹڑی پر ایک سایہ چلتا ہوا دیکھا۔ فوراً رائفل سنبھال لی مگر اس کے پیچھے تین چار اوربھی ویسے ہی سیاہ دھبے رینگتے ہوئے نظر آئے۔ان کا رخ لاش کی جانب نہ تھا بلکہ وہ پٹڑی ہی پٹڑی آگے بڑھتے جارہے تھے۔یقیناً وہ سورتھے جو جنگل سے نکل کر کھیت اجاڑنے جارہے تھے۔

بارہ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے جب میں نے لاش کے قریب ایک سایہ امڈتا دیکھا اور اسے رائفل کی زد میں لے کر بجلی چمکنے کا انظار کرنے لگا۔بدقسمتی سے بجلی چمکنے میں وقفہ لمبا ہو گیا اور جب وہ چمکی تو یہ دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے کہ لاش غائب تھی۔ آس پاس کی جھاڑیوں میں بھی جھانکنے کی کوشش کی مگر نظر نہ آئی۔ ضرور تیندوا اسے اٹھا کر جھاڑیوں میں روپوش ہو گیا اور میری ساری محنت اکارت گئی۔

میں سخت الجھن میں تھا اور سمجھ میں نہ آتا تھا کیا کروں۔دفعتاً جھاڑیوں میں سے غرانے کی آواز آئی۔ پھر کوئی جانور گھبرا کر وہاں سے نہر کی جانب بھاگا۔ دوسرے ہی لمحے اندھیرے میں درندوں کی خوفناک آوازیں آنے لگیں۔میرے مچان کے عین نیچے تیندوے اور لگڑ بگڑ کی لڑائی ہو رہی تھی۔روشنی ہوئی تو بڑا دلچسپ منظر سامنے آیا۔ لڑائی اس قدر تندوتیز تھی کہ تیندوا بجلی کی سی تیزی سے اپنی جگہ بدلتا رہا اور مجھے گولی چلانے کا موقع نہ مل سکا۔

میں سمجھ گیا تھا لاش ہٹانے والا لگڑ بگڑ ہے اور ابھی شاید کھانا بھی شروع نہیں کر سکا تھا کہ دوسرے رخ سے تیندوا وارد ہوا۔لاش کی حالت اور لگڑ بگڑ کی اس درید جرات پر طیش میں آگیا اور اس پر ٹوٹ پڑا۔میں جانتا تھا، لگڑ بگڑ کو ہلاک کرنے سے پہلے ہی دونوں پھر جھاڑیوں میں چلے گئے تو تیندوا کبھی ہلاک نہ کیا جا سکے گا۔ میرا دل بے تحاشا دھڑک رہا تھا اور امید وبیم کی کشمکش سوہان روح بنی ہوئی تھی۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

بجلی پھر چمکی ۔میں نے دیکھا لگڑ بگڑ ہار مان کر چت لیٹ گیا ہے۔اس نے اپنے مڑے ہوئے پاؤں اوپر اٹھا رکھے تھے اور گھگھیائی ہوئی کوں کوں کے ساتھ غلطی کی معافی اور جان کی امان مانگ رہا تھا۔ ایسے حالات میں بالعموم شیر یا تیندوے اپنے شاہانہ وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتے اور مقابل درندے کی جان بخشی کی التجا کو نہیں ٹھکراتے مگر تیندوا سخت غصے میں آپے سے باہر تھا۔ کوں کوں کی آواز ایک وحشت ناک چیخ میں بدلی۔پھر شدید دردو کرب کی کراہ بن کر ماحول کی وحشت میں اور اضافہ کر گئی۔اب نگاہ پڑی تو لگڑ بگڑ کی انتڑیاں اس کے قریب ہی ڈھیر تھیں اوروہ انہیں پر تڑپ رہا تھا۔ تین چار گز دور کھڑا ہوا تیندوا بڑے پر نخوت انداز میں اس غریب کی موت کا تماشا دیکھ رہا تھا۔

اب تیندوے نے اپنے پچھلے اور اگلے پیروں کا فاصلہ بڑھایا اور پیٹھ اور کمرا کڑا کر انگڑائی سی لی۔میرے سامنے وہ آڑا پڑتا تھا اور یہ بات میرے لیے غیبی امداد سے کم نہ تھی، اس لیے کہ بغیر ٹارچ کے رائفل سے سریا دل کو نشانہ بنانا قریب قریب نا ممکن تھا۔مجھے اندازہ تھا کہ انگڑائی کے ساتھ ہی تیندوا ڈھار کر اپنی فتح کا نعرہ لگائے گا مگریہ خدشہ بھی کہ دھاڑتے ہی جست کرکے جھاڑیوں میں روپوش ہوجائے گا۔ میں نے اندازے سے اس کی بغل اور پسلیاں زد میں لیں اورابھی اس کافاتحانہ نعرہ گونجنے بھی نہ پایا تھا کہ میری رائفل کی گرج میں مدغم ہو کررہ گیا۔ بجلی چمکی، وہاں صرف لگڑ بگڑ پڑا تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہا تھا اور تیندوے کا کوئی پتا نہ تھا۔ شاید گولی نہیں لگی۔ میں نے سوچا ویسے بھی ان نا مساعد حالات میں گولی کا نشانے پر لگنا شاید ناممکن تھا۔(جاری ہے )

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر69 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں