فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر508

02 ستمبر 2018 (11:58)

علی سفیان آفاقی

ہم نے جب ہوش سنبھال کر انگریزی فلمیں دیکھنے کا آغاز کیا تو چند دوسرے اداکاروں کے ساتھ ساتھ کیری گراٹ تھی ہمارے دل پسند ہیرو تھے۔ وہ فلموں میں آتے ہی سپر اسٹار کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔انہوں نے لگ بھگ چالیس برس تک بہت سی یاد گار اور نا قابل فراموش فلموں میں اداکاری کی اور ہر فلم میںیکھنے والوں کے دل جیت لیے۔وہ فلم سازوں کے بھی اتنے ہی محبوب تھے کیونکہ ان کی بیشتر فلمیں سپر ہٹ ہوا کرتی تھیں۔ وہ اپنے انداز کے منفرد اور انتہائی بے ساختگی سے فطری اداکاری کرنے والے فنکار تھے۔انہوں نے ہر قسم کے کردار کیے اور ہر ایک کے ساتھ پوری طرح انصاف کیا۔رومانی ٗایکشن ٗکامیڈی غرضیکہ وہ کسی بھی قسم کے کردار میں نگینے کی طرح سج جاتے تھے۔انہیں بڑھاپے میں بھی سب سے خوبصورت اداکار کہا جاتا تھا۔وہ اسکرین پر اس قدر پر اعتماد اور بے تکلف نظر آتے تھے کہ دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اداکاری کر رہے ہیں۔دراصل وہ اداکاری کے قائل ہی نہیں تھے۔وہ وہی کچھ کرتے تھے جو عام زندگی میں اس کردار سے توقع کی جا سکتی تھی اسی وجہ سے وہ کبھی اداکاری کرتے ہوتے نظر نہیں آتے تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے حقیقی زندگی میں ایک شخص کو دیکھ رہے ہیں جس میں ذرا سی بھی بناوٹ نہیں ہے۔انہوں نے بہت سی کامیاب ترین فلموں میں کام کیا اور ہرفلم میں تحسین حاصل کی ۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر507پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’ ’ٹوکیچ اے تھیف ٗ نارتھ بائی نارتھ ویسٹ ٗمنکی بزنس ٗ ہز گرل فرائیڈے‘‘ ان کی چند یاد گار فلمیں ہیں۔وہ ہر کردار میں جان ڈال دیا کرتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ سچ مچ یا جیتا جاگتا انسان نظر آنے لگتا تھا۔ذاتی زندگی میں بھی وہ انتہائی مہذب اور شائستہ انسان تھے۔ان سے کبھی کوئی اسکینڈل وابستہ نہیں کیا گیاحالانکہ انہوں نے چالیس سال طویل اداکارانہ زندگی میں اپنے عہد کی کامیاب اور حسین ترین ایکٹریسوں کے ساتھ کام کیا تھا۔ان کی فلمیں دیکھنے کیلئے تماشائی بے چینی سے منتظر رہتے تھے۔انہیں پبلسٹی کی محتاجی بھی نہ تھی۔صرف ان کا نام ہی کسی فلم کی باکس آفس کامیابی کی ضمانت تھا۔ان کی شخصیت انتہائی دلکش اور مقناطیسی تھی۔ان کا بولنے کا انداز بے ساختہ اور فطری تھا۔وہ ہر کردار میں وہی لگتے تھے جو ہدایت کار انہیں بنانا چاہتا تھا۔

چالیس سال کی ریاضت اور مقبولیت کے باوجود کیری گرانٹ کبھی آسکر ایوارڈ حاصل نہیں کر سکے۔انہیں ساری زندگی میں صرف دو بار آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ایک بار 1941ء میں فلم پینی سرینیڈ(PENNY SERENDAE) کیلئے اور دوسری بار1944ء میں فلم ’’لونلی ہارٹ‘‘کیلئے لیکن آسکر وہ ایک بار بھی حاصل نہ کر سکے۔وہ اس قدر عظیم فنکار تھے کہ بالآخرفلمی صنعت کو مجموعی طور پر یہ احساس ہونے لگا کہ کیری گرانٹ جیسے فنکار کو اعزاز سے محروم رکھ کر بہت بڑی نا انصافی کی جا رہی ہے۔اس کی تلافی کیلئے1969ء میں پوری فلمی صنعت کی جانب سے ایک شاندار تقریب میں انہیں ایک مجسمہ پیش کیا گیا تھا۔اسے آپ اشک شوئی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ کیری گرانٹ نے ایک بار بھی آسکر ایوارڈ نہ ملنے پر شکایت نہیں کی۔شاید آسکر خود سے کم تر سمجھتے تھے؟کون جانے؟

ایک اور عظیم فنکار جو ایک روشن ستارے کے مانند یکا یک اسکرین پر نمودار ہوا اور ٹوٹے ہوئے تارے کی طرح اچانک افق سے گر کر زمین پر غائب ہوگیا۔اس کا نام جیمس ڈین تھا۔یہ ہماری جوانی کے دنوں کا ہیرو تھا۔جب وہ پہلی فلم’’ایسٹ آف ایڈن‘‘ میں جلوہ گر ہوا تو ساری دنیا جیسے سحر زدہ ہو کر رہ گئی۔اس فلم میں اس نے ایک باغی نو جوان کا کردار ادا کیا تھا۔ذاتی زندگی میں بھی وہ ایسا ہی تھا۔’’ایسٹ آف ایڈن‘‘ سپر ہٹ فلم تھی اور اس کے ساتھ ہی جیمس ڈین بھی راتوں رات ایک بہت بڑا سپر اسٹار بن گیا تھا جس پر دوسرے سپر اسٹار رشک کرنے لگے تھے۔جیمس ڈین نے صرف تین فلموں میں اداکاری کی۔ایسٹ آف ایڈن ٗرے بیل ود آؤٹ اے کازREBEL WITHOUT A CAUSEاور جائنٹ(GIANT)جائنٹ میں بہت عظیم اور نامور فنکار بھی اس کے ساتھ موجود تھے مگر جیمس ڈین ان سب سے مختلف اور نمایا ں نظر آتا تھا۔وہ اداکاری نہیں جادو کرتا تھا۔اس کا انداز بالکل فطری اور قدرتی تھا۔اس کی شخصیت میں جادو تھا۔اس کی غمگین نگاہیں دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتی تھیں۔وہ صرف24سال کی عمر میں ایک حادثے میں ہلاک ہوگیا تھامگر اس نو عمری ممیں بھی اس نے جتنی شہرت اور نام کمایا وہ بہت سے اداکار طویل عمر میں بھی نہیں کما سکتے ۔اس کی اچانک حادثاتی موت پر ساری دنیا سوگوار ہوگئی تھی۔خدا جانے وہ کہاں سے آیا تھا اور کہاں چلا گیا۔

یوں تو وہ ساری دنیا میں مقبول ہوگیا تھا لیکن وہ امریکیوں کی آنکھوں کا تارا اور لڑکیوں کا راج دلارا تھا۔اس کا چلنے پھرنے ٗ اٹھنے بیٹھنے ٗ بات کرنے ٗ سگریٹ پینے ٗہنسنے بولنے کا انداز ایسا تھا کہ فلم بینوں نے اس جیسا کوئی نہ تو اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے بعد انہیں ایسا اداکار نظر آیا۔اپنی مختصر سی زندگی میں ہی وہ اپنے پیچھے نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ چھوڑ گیا جو اس کی پیروی کرنا قابل فخر سمجھتا تھا۔اس نے اپنے عقیدت مندوں کا ہجوم اپنے پیچھے چھوڑا جو آج بھی اس کو یاد کرتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔اس کو کبھی آسکر ایوارڈ نہیں ملا مگر یہ کیا کم ہے کہ اپنی پہلی ہی فلم میں اسے آسکر کیلئے نامزد کیا گیا۔اس کی تیسری اور آخری فلم کیلئے بھی وہ نامزد کیا گیا تھا ۔اسے دنیا سے جانے کی اتنی جلدی تھی کہ پلک جھپکنے میں وہ تین عظیم فلموں میں کام کرکے رخصت ہوگیا۔جب اسے ’’ایسٹ آف ایڈن‘‘(EAST OF EDEN)ٍؐؑ کیلئے نامزد کیا گیا تو وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔اس کیلئے بھی اس کو نامزدگی ملی تھی مگر آسکر نہ ملا۔لوگ حیران ہیں کہ اگر وہ کچھ اور عرصے زندہ رہ جاتا تو کیا قیامت ڈھاتا؟ایک حادثے نے فلمی دنیا سے ایک انمول ہیرا چھین لیا۔مگر غور کیجئے کہ آسکر کے ارکان کا دل اس کی جواں مرگی پر بھی نہ پسیجا۔

اور سب کو تو چھوڑئیے۔چارلن چپلن کی بات کیجئے۔چارلی چپلن سے کون واقف نہیں ہے انگلستان میں پیدا ہوا۔ماں باپ کی علیحدگی کے بعدماں نے اس کو اور اس کے چھوٹے بھائی کو جیسے تیسے پالا۔وہ تھیٹر کی معمولی سی اداکارہ تھی جسے کئی بار ذہنی علاج کیلئے اسپتال جانا پڑتا تھا۔ایسے میںیہ دونوں کم سن بھائی اکیلے رہتے تھے ۔رشتے داروں نے بھی کفالت نہیں کی تو چارلی نے کم عمری ہی میں کام کاج کرناشروع کر دیا۔

چارلی نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ اس نے اداکاری اور زندگی کا مشاہدہ اپنی ماں سے سیکھا ہے۔یہ دونوں بھائی دن بھر چھوٹے سے گھر میں بیٹھے رہتے تھے۔ماں شام کو گھر آتی تو سارے دن کے واقعات اور دلچسپ قصے سناتی تھی۔وہ جس شخص کا بھی تذکرہ کرتی تھی اس کا ہو بہونقشہ کھینچ کر رکھ دیتی تھی کہ وہ کیسے چلتا ہے ٗکیسے بولتا ہے ٗکیسے ہنستا ہے ٗچارلی اور اس کا چھوٹا بھائی ہنس ہنس کر دہرے ہو جاتے تھے مگر خوشی کے یہ وقفے بہت مختصر ہوتے تھے کیونکہ اول تو ماں کی آمدنی بہت کم تھی دوسرے وہ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد اسپتال چلی جاتی تھی۔وہ بے حد حساس اور نفاست پسند عورت تھی۔غربت اور بے کسی کی زندگی گزارنے کے باوجود بہت خوبصورت گھر اور پر شکوہ زندگی کے خواب دیکھا کرتی تھی مگر ذہنی پریشانیوں نے اسے ذہنی مریض بنا دیا تھا۔وہ آئے دن علاج کیلئے اسپتال میں داخل کر لی جاتی تھی اور یہ دونوں تھائی تنہا زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔رشتے دار مدد کے نام پر کانوں پر ہاتھ رکھتے تھے۔ان وجوہات کی بنا پر چارلی نے تیرہ چودہ سال کی عمر میں کام کاج کرنا شروع کر دیا تھا۔باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا اسے موقع نہ ملا مگر دنیا بھر میں ایسا نام پیدا کیا کہ ضرب المثل بن گیا۔اس کو قدرت نے زرخیز اور تخلیقی ذہن سے نوازا تھا۔بچپن میں وہ انگلستان میں مختلف کام کرتا رہا۔سرکس میں بھی اور پٹانگ حرکتیں کرنے پر ملازم رہا پھر موقع ملا تو امریکا روانہ ہوگیا۔

امریکا چارلی کیلئے ایک سنہری سر زمین ثابت ہوا۔اداکاری کا اس کو بچپن میں ہی شوق تھا۔تھیٹر میں چھوٹغ موٹے کام کرتا رہا پھر فلموں میں اداکاری کا انداز سب سے جدا تھا حالانکہ اس دورمیں بڑے بڑے نامور کامیڈین امریکی فلموں میں موجود تھے۔چارلی نے بہت جلد سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔اداکار کی حیثیت سے کامیابیاں حاصل کرنے کے بعدوہ ہدایت کار بن گیا۔اپنی فلموں میں کے اسکرپٹ بھی وہ خود ہی لکھتا تھا۔وہ خاموش فلموں کا زمانہ تھا فلم کے منظرکے ساتھ اس کا خلاصہ درج کر دیا جاتا تھا مگر چارلی کی فلموں میں اس کی بھی حاجت نہ تھی۔

اس کی ہر فلم خوداپنی ہی کہانی بیان کر دیتی تھی۔رفتہ رفتہ چارلی چپلن نے اپنے تمام ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔اب وہ فلم سازبھی بن چکا تھا۔اپنے ذہن ٗ تجربے ٗ گہرے مشاہدے اور مسلسل مطالعے کی بنا پر اس نے اس عہد میں کئی یادگار فلمیں بنائیں جو ہمیشہ امررہیں گی اور کلاسیکی فلموں میں شمار کی جائیں گی۔

چارلی کو سیاسی اور سماجی شعور بھی تھا۔اس کی فلمیں محض ہنساتی نہیں تھیں۔ہنسی ہنسی میں کچھ سوچنے پر بھی مجبور کر دیتی تھیں۔دی کڈ ٗگریٹ ڈکٹیٹر وغیرہ جنگ کے عہد کی کہانیاں ہیں۔گریٹ ڈکٹیٹر وغیرہ جنگ کے عہد کی کہانیاں ہیں۔گریٹ ڈکٹیٹر میں اس نے ہٹلر کا جی بھر کے مذاق اڑایا تھا۔اس کی فلموں کے مناظر ہی نہیں ایک ایک شاٹ بھی معنی خیز ہوتا تھا اور دیکھنے والوں کو کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا تھا۔اپنی سیاسی بصیرت سے بھر پور فلموں کی وجہ سے اس کا شمار دنیا کے صف اول کے دانش وروں میں ہونے لگا۔اپنے عہد کے نامور ترین مصنفین ٗ لیڈروں ٗاور حکومتوں کے سربراہوں سے اس کے برابر کے مراسم تھے جو اس کی خدادا اعلی صلاحیتوں کے مداح تھے۔

چارلی نے پیسہ کمانے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی ماں کو انگلستان سے امریکا بلوالیا۔اس سے پہلے اس نے ایک عالی شان اور خوبصورت مکان تعمیر کرایا جو اس کی ماں کی آرزوؤں کے عین مطابق تھا۔درودیوار کا سفید رنگ ٗ ہلکے گلابی پردے ٗ پھولدار صوفے اور قالین ٗ اعلی ترین فرنیچر اور ماں کی پسندیدہ اشیا سے اس گھر کو سجایا گیا تھا۔وہ اشیا جن کی اس کی ماں محض آرزو ہی کیا کرتی تھی۔اس کیلئے وہ خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھیں مگر اس کے ہونہار بیٹے نے ان خوابوں کو حقیقت میں ڈھال دیا تھا۔

چارلی کی ماں کے خیر مقدم کیلئے پورا گھر سرخ گلابوں سے بھرا پڑا تھا۔جو اس کے پسندیدہ پھول تھے مگر وہ انہیں حاصل کرنے سے معذور رہی تھی۔اس ٹھاٹ باٹ کے ساتھ چارلی کی ماں اس پر شکوہ محل میں داخل ہوئی مگر اس وقت وہ عقل و شعور سے قطعی بیگانہ ہوچکی تھی۔اسے کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے ٗ کس ماحول میں ہے۔یہاں تک کہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کو پہچاننے سے بھی قاصر تھی۔چارلی کے لیے یہ ایک زبردست صدمہ اور ذہنی دھچکا تھا مگر قدرت کے آگے وہ بے بس تھا۔ماں جب تک زندہ رہی چارلی نے اسے بے خبرشہزادی کی طرح رکھا حالانکہ وہ ان تمام چیزوں سے بالا تر اور بے خبر تھی۔

(جاری ہے ۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں