A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر20

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر20

Aug 03, 2018 | 14:38:PM

آغا شورش کاشمیری

میں نے سوال کیا ’’ آپ موسیقی کی تاریخ جانتی ہیں ؟‘‘ مختار نے یہ سمجھا کہ میں اس سے موسیقی کے اجزا پوچھ رہا ہوں ، اس کا جواب نہایت مختصر تھا۔

’’ موسیقی کا مدارار کانِ ثلاثہ پر ہے ، لے ، تال اور سُر۔‘‘ لیکن جب میں نے اپنے سوال کی وضاحت کی تو اُس نے کہا۔۔۔ !

’’ آپ جانتے ہیں ، میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آغا حشرکاشمیری کی رفاقت میں بسر کیا ہے وہ میرے راہنما بھی تھے ۔ شوہر بھی ، اُستاد بھی اور محبوب بھی ، وہ ایک فاضل اجل تھے ۔ جب موڈ میں ہوتے تو باتوں کے دھنی تھے۔ کسی موضوع پہ طبیعت بندنہ تھی۔ ہر فن کی روح کو سمجھتے تھے ، ایک دن بہت سے دوست جمع تھے۔ کسی نے سوال کیا۔

’’ آغا جی ! غنا کا موجد کون ہے ‘‘؟

فرمایا۔۔۔ ’’ فطرت ‘‘ ! پھر کیا تھا ایک دریا موج میں آگیا۔ کہنے لگے ’’ انسان کو بولنا ہنسنا اور رونا تو پہلے دن ہی سے ودیعت ہوچکا تھا۔ ان کے امتزاج یا ترکیب سے گانا بھی مل گیا ، فطرت کے مظاہر پر غور کریں ہواؤں کی سر سراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ، بادلوں کی گھن گرج لے ، تال اور سُر ہی تو ہیں‘‘۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر19پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’موسیقی یونانی لفظ ہے ۔ اور موسیٰ سے مشتق ۔ معنی ہیں ایجاد کرنا یا پیدا کرنا۔ جس طرح اُردو ، فارسی عربی میں نسبت کے لئے یائے معروف لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح لاطینی اور یونانی میں ق لگایا جاتا ہے۔ عربوں نے موسیقی کے حرفِ نسبت پر تو غور کیا، لیکن ایک اوریائے نسبتی بڑھا دی جس سے موسیٰ موسیقی ہوگیا۔ بعض نکتہ طرازوں کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ نے پتھر پر جو عصا مارا تھا اور جس سے پانی کی بارہ نہریں یا سات چشمے پھوٹ نکلے تھے اُس سے زیرو بم کی جو مختلف صدائیں پید اہوئی تھیں۔ موسیٰ فی حقی ، حضرت موسیٰ نے انہیں یاد کرلیا اور وہ آوازیں ہی موسیقی کے سات یا بارہ سُر ہیں‘‘۔

’’ فخر الدین راری نے لکھا ہے کہ اہل فارس کے نزدیک موسیقی کا موجد حکیم فیثا غورث ہے جو حضرت سلیمانؑ کا شاگرد تھا، لیکن اس سے بھی پہلے کی کتابوں میں موسیقی کا سراغ ملتا ہے ہندوؤں کے ہاں موسیقی کے لئے سنگیت کا لفظ ہے ، جس کے مفہوم میں گانے کے علاوہ ناچ اور گانا بھی میں ان کا عقیدہ ہے کہ موسیقی موجد دیوتا تھے اور سنگیت کے موجد شوجی مہاراج ۔۔۔ بھرت رشی نے علم اپسراؤں (جنتی رقاصاؤں) کو سکھایا ، نارورشی نے انسان کو سکھایا ، چنانچہ اندر کے دربار میں جو لوگ رقص و غنا پر مامور تھے۔ ان میں سے رقاصہ کو اپسرا، گویے کو گندھر اور سازندے کو کنر کہتے تھے ، اس کے برعکس ایک دوسرا خیال یہ ہے کہ اس کے موجد مہادیو ہیں ، ان کی خدمت میں چھ دیوا اور تین پریاں رہتی تھیں ان کا کام صرف گانا بجانا تھا۔ چھ دیو ، چھ راگ ہیں ۔ بھیروں ، مالکونس ، ہنڈول ، دیپک ، میگھ اورسری علیٰ ہذالقیاس۔ پریوں کے نام بھیروں ، ٹوڈی ، اساوری اور راسکلی وغیرہ تھے۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ نائکوں کی ایجادیں ہیں جنہیں پتر (بیٹا ) اور بھاوجا(بہو) کہتے ہیں۔ ہندوستان میں موسیقی کا پہلا نقش سام وید کے منتر ہیں جن کو رک کہتے ہیں۔ مصریوں کا دعویٰ ہے کہ موسیقی اور سازوں کے مودجدان کے دیوتا ہیں۔ اور ایک یونانی حکیم نے بھی اس کی تائید کی ہے لیکن یونانیوں کا اصرار ہے کہ ان کے دیوتا زیوس کی بیٹیاں ’’ میوزس‘‘ اس کی بانی ہیں اور انہی کے نام پر میوزک یا موسیقی کا لفظ بنا ہے ‘‘۔

’’ تورات سے بنی اسرائیل کے اشغال موسیقی کا پتہ چلتا ہے ، حضرت آدم سے ساتویں پشت میں جو بل نام کا ایک شخص ہوا ہے اُس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چنگ و ارغنون کا بانی تھا۔ حضرت داؤد کے مزامیر مشہور ہیں انہوں نے مذہبی رسوم کی ادائی کے لئے موسیقی کی چوکیاں مقرر کی تھیں ، چنانچہ اس زمانے میں چنگ ، رباب ، طنبورہ ، جھانجھ ، قرنا ، ترہیون وغیرہ کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کے عہد میں بھی موسیقی کا زور بندھا رہا، پھر کچھ دیر کے لئے اس کی ہوا اکھڑ گئی ، اور معابد یہود سے موسیقی کا فن قطعاً علیٰحدہ ہوگیا۔‘‘

’’ یونان کے دور میں موسیقی کو عروج ہوا ، اور وہ بہت کچھ آگے نکل گئے۔ رومیوں ہی سے ایرانی متاثر ہوئے ، اور بڑا نام پایا۔ خود عربوں کا فنِ موسیقی کچھ نہ تھا، اُن کا تمام تر مواد ایران کی ساسانی موسیقی سے ماخوذ ہے۔ ‘‘

’’ ابو مسحج پہلا عرب تھا جس نے فارس اور روم کے شہروں سے موسیقی کاسرمایہ جمع کیا۔ پھر اضافہ سے عربی میں سہل و سادہ دُھنیں قائم کیں۔ اس کے بعد اسحاق موصلی جیسا نا مورمغنی پیدا ہوا، جس کے کمال موسیقی کا شہرہ اُس عہد کے اطراف و اکناف میں تھا۔ ابو نصر فارابی نے قانون پر ایک مستقل رسالہ لکھ ہے، ابنِ سینا اس فن میں بڑا ہی با کمال تھا۔ شہنائی اسی کی ایجاد ہے‘‘۔

’’ چونکہ موسیقی الفاظ و معانی کی چیز نہیں بلکہ اس کا تعلق الحان و ایقاع سے ہے ، اس لئے حرف و لفظ اس پر قادر نہیں ہوسکتے ، یہی وجہ ہے کہ فاتح قو میں کبھی مفتوح قوموں میں اپنا فن موسیقی منتقل نہیں کر سکی ہیں ۔ بلکہ ان میں گھلنے ملنے کی وجہ سے انہی کے رنگ میں رنگی گئی ہیں۔ اس کی بڑی مثال ہندوستان کی مسلمان بادشاہتیں ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی سنگیت کا بڑا اثر قبول کیا۔ چند برائے نام تبدیلیاں کیں۔ لیکن وہ تبدیلیاں جڑ میں نہیں شاخوں میں تھیں چنانچہ مسلمان بادشاہتوں میں خلجی اور تغلق خاندانوں کی موسیقی سے دلچسپی کے واقعات عام ہیں۔ جس شاہی خاندان نے موسیقی سے بحیثیت فن اعتنا کیا وہ شرقی خاندان تھا۔ سلطان حسین شاہ شرقی نے موسیقی میں بعض نئی طرحیں لگائی ہیں ان کے علاوہ بہمنی اور نظام شاہی خاندانوں نے اپنے شوق و ذوق کو نمایاں کیا۔ چنانچہ ابراہیم عادل شاہ کو ظہوری نے جگت گوروکہا ہے‘‘۔

’’ مغلوں میں اکبر کا عہد گویوں اور مغنیوں کی سرپرستی کے لئے مشہور یہ جہانگیر خود موسیقی کی نوک پلک سے واقف تھا ۔ تمام ملک میں دہلی، آگرہ ، لاہور ، بیجاپور ، احمد نگر اور احمد آباد کے گویے امراء کے ہاں ملازم تھے۔ علاالملک تونی اورنگزیب کے وزراء میں سے تھا لیکن موسیقی کا ایسا ماہر سمجھا جاتا تھا کہ بڑے بڑے اساتذہ اس کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ ابو الفضل اور فیضی کے والد ملامبارک موسیقی کے نکتہ شناسوں میں تھے۔ انہوں نے تان سین کا گانا سنا تو صرف یہ کہا تھا۔’’ ہاں گا لیتا ہے‘‘۔

ملا عبدالقادر بدایونی بین بجانے میں مہارت نامہ رکھتا تھا۔ ملا عبدالسلام لاہور ، علامہ سعد اللہ شاہجہانی ، شیخ علاؤالدین موسیقی کے فاضلوں میں سے تھے۔ بیرم خاں کو موسیقی سے جو شغف رہا اس کی شہادت اس کے بیٹے عبدالرحیم خاتحاناں کی فیاضیوں سے ملتی ہے۔ شیخ سلیم چشتی کا پوتا اسلام خاں جہانگیر کے عہد میں بنگال کا گورنر تھا۔ وہ اسی ہزار روپیہ سالانہ صرف رقص و سرود کے طائفوں پر خرچ کرتا تھا۔ شہزادہ مراد بخش کو اورنگ زیب نے قید کیا تو اپنے ہمراہ سرس بائی کو لے گیا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس عہد کے خیال گانے والوں میں اُس کا ثانی نہ تھا۔ دورِ آخر میں مظہر جانجاناں اور میردرد بڑے مشتاق تھے ان کے ہاں بڑے بڑے کا اونت اصلاحیں لیتے تھے ‘‘۔

مختار آغا کی تقریرسنا رہی تھی۔ اور میں بڑے غور سے اس کے چہرے کو تک رہا تھا ، جوانی مر چکی ہے لیکن آواز نہیں مری۔ اس میں لدے پھندے دنوں کا کرارا پن باقی ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں