اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر21

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر21
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر21

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اختر جہاں ایک رئیس کے نکاح میں ہے۔ آفتاب اختر بھی ایک رئیس ابن رئیس کے ملازم ہے۔ نایاب اختر کی کم سختی ضرب المثال ہے۔ لیکن اختر کی ماں او ان کی نانی ایک جہاندیدہ نائکہ ہے۔ ایک زمانہ بتا چکی ہے اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی جھریاں اس کی مرحوم جوانی کے سنگبھار کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ اس سن و سال میں بھی ایک شاہی کھنڈر معلوم ہوتی ہے جب کوئی فرد یا جمعیت گانا سننے آتی ہے تو پہلی نظر میں ان کا جائزہ لیتی ہے ، ایک طرف اُستاد فروکش ہوتے ہیں ، دوسری طرف وہ بیٹھتی ہے۔ مراد آبادی پاندان سامنے رکھا ہوتا ہے ، خود پان بناتی اور خود ہی پیش کرتی ہے۔ لیکن جب جانے پہچانے لوگ ہوں تو فوراً ہی نایاب کو بلا لیتی ہے ، نایاب سمٹے ہوئے ریشم کی طرح آتی ، ہاتھ کو قوس بناتے ہوئے سلام کرتی اور سنبل کے ڈھیر کی طرح بیٹھ جاتی ہے ، اُس کی بڑی بڑی گول آنکھوں پر اس کی دراز پلکیں جھکی رہتی ہیں۔
نایاب عادتاً غنچہ دہن ہے ، ستار خوب بجاتی ہے ، پکاراگ بھی گا لیتی ہے۔ لیکن یوپی کے دھان پان شاعروں کی ہلکی پھلی غزلیں خوب گاتی ہے، اس کی صحبت میں اب بھی دہلی کے بعض کرخند ارنواب ، اور وضعدارا اہل قلم بیٹھتے ہیں۔ اختر جہاں بڑی مجلس آرا ہے ۔ تمام کنبہ ٹھیٹھ اُردو بولتا ہے، اختر نے نایاب سے کہا، ’’ چائے بنوالو‘‘ ۔ کچھ وقت ہوگیا تو اختر نے نایاب سے پوچھا چائے بن گئی ہے ؟‘‘ اُس نے کہا اسٹووپر کیتلی رکھی ہے ۔ حمزی پتی لینے گیاہے ‘‘۔ تھوڑی سی دیر ہوئی ، اختر نے کہا ’’ چائے تیار ہو گئی ؟ ‘‘ وہاں ابھی پانی گرم ہو رہا تھا ۔ نایاب بولی۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر20پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
’’ ابھی تو پھول بھی نہیں پڑے ہیں۔‘‘
غرضیکہ ان کے ہاں بات چیت نہایت شستہ ہوتی ہے۔ وہ گنوارپن جو اس بازار کی عام خصوصیت ہے ، سارے گھر میں نہیں ، دونوں بہنیں ایک ہفت روزہ جریدہ رقص و سرود ‘‘ نکالتی رہی ہیں ، اب لاہور سے کراچی چلی گئی ہیں، سنا ہے کہ اچھے گھروں میں اُٹھ گئی ہیں۔
نایاب کا خیال ہے کہ حکماء نے موسیقی کا فن موسیقار سے ایجا دکیا ہے اس پرندے کی عمر ایک ہزار برس ہوتی ہے اور اس کی چونچ میں سات سوراخ ہیں، جب اپنی عمر طبعی کو پہنچتا ہے۔ تو گھانس پھونس اکٹھی کر کے اس کے اردگرد ناچتا اور چہکتا ہے۔ اس کی لے سے انبار میں آگ لگ جاتی ہے ، پھر اس میں بھسم ہوجاتا اور اُس خاکستر ہی سے دوبارہ پیدا ہوتا ہے ، اس پرندے کو ققنس ، یونانی میں فینقس ، پارسی میں آتش زن اور سنسکرت میں دیپک لاٹ کہتے ہیں۔
اختر جہاں کا کہنا ہے ہے کہ ساتوں سرسات جانوروں کی آوازون سے نکلے ہیں گھرج مور کی آواز سے ، رکھپ پپہے سے ، گندھار بکری سے ، مدہم کلنگ سے ، پنچم کوئل سے ، دھیوت گھوڑے سے اور نکہار ہاتھی سے۔
خواجہ نے کہا ’’جتنی معلومات بھی موسیقی کے متعلق اس بازار سے حاصل ہوئی ہیں۔ اُن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ موسیقی مردوں کی ایجاد ہے اور مردوں ہی نے اسے پروان چڑھایا ہے۔ ‘‘
’’ جی ہاں، ‘‘ اختر جہاں نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’ خود یہ بازار بھی مردوں ہی کی تصنیف ہے اوربالا خانوں کو بھی مردوں ہی نے پروان چڑھایا ہے۔ ‘‘
خواجہ نے کہا ، غالباً آپ اس کو تعریض سمجھ رہی ہیں میں تو واقعہ عرض کر رہا ہوں۔‘‘
تو میں نے بھی تعریضاً نہیں کہا۔ یہ بھی واقعہ ہے ‘‘ اختر جہاں نے جواب دیا۔۔۔ !
قاضی بولا ۔’’ دیکھئے نا ، رقص و غنا اس وقت سہ آتشہ ہوجاتے ہیں جب انہیں ایک حسین عورت اختیار کرتی ہے۔‘‘
اختر جہاں بولی ، ’’ آپ درست فرماتے ہیں ، اگر معلمی سے قطع نظر کرلی جائے تو سنگیت عورتوں کی چیز ہے ۔‘‘
’’ یہ رقص کا موجد کون ہے‘‘؟
’’ اس کا موجد بھی انسان ہے ، بظاہر اس کو کوئی تاریخ نہیں لیکن رقص و غنا دونوں ہم عمر اور ہم رشتہ ہیں۔ کبھی رقص منجملہ عبادات تھا۔ اور توریت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ لیکن اب اس کی حیثیت فنی ہوگئی ہے ۔ قدم الایام میں بیت المقدس کے ایک یہودی فرمانروانے ہر دو یا نام کے رقاصہ کے نام سے متاثر ہو کر کہا، مانگ کیا مانگتی ہے ‘‘ ؟ اس نے کہا۔۔۔
’’ بپتسمہ دینے والے یوحنا کا سر‘‘ اور لے کے دم لیا۔ مصر کے ابتدائی طائفوں میں جو رقاصائیں تھیں اُن کا دعویٰ تھا کہ دو خاندان برامکہ میں سے ہیں۔ ہندوستان میں رقاصاؤں کو مرلیاں کہتے تھے۔ جب پہلی دفعہ عرب تاجر ملتان میں وارد ہوئے تو ان کا ناچ دیکھ کر اسیر ہوگئے۔ القصہ جیسے جیسے موسیقی میں دُھنیں بنتی گئیں ویسے ویسے رقص میں پیدا ہوتی گئیں۔ اب رقص حد کمال کو پہنچا ہوا ہے ، جہاں موسیقی کو چپ لگتی ہے وہاں رقص بولتا ہے۔ لیکن غنا کی طرح ایک قوم کا رقص بھی دوسری قوم سے مختلف ہوتا ہے۔‘‘
’’ کیا اس بازار میں بھی کوئی رقاصہ ہے‘‘؟
’’ آپ جانتے ہیں ہم لوگ دہلی سے آئے ہیں اور پناہ گزین ہیں، یہ ایک مکان (پکھراج منزل ) دوسو روپیہ ماہوار پر مل گیا ہے۔ کچھ دنوں محکمہ آبادکاری کا دروازہ کھٹ کھٹائی۔ لیکن دفتروں میں تو شرفاخوار پھرتے ہیں اور ہم ٹھیریں طوائفیں۔ چارونا چار اس مکان میں بیٹھ گئے۔ جو کچھ پس انداز کیا وہ کھا رہے ہیں۔ اب جو لوگ آتے ہیں انہیں آداب ہی کا علم نہیں، جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں اور ہاں ۔۔۔ آپ پوچھ رہے تھے کہ اس بازار میں بھی کوئی رقاصہ ہے ۔ دوچار کے متعلق مشہور ہے کہ اچھاناچ لیتی ہیں۔ ‘‘
شہناز ، فریدہ ، الماس ، کاکو۔۔۔‘‘
کاکو گاتی تو واجبی سا ہے ، لیکن تھرکتا خوب جانتی ہے ، یہ جو آپ لوگوں میں مشہور ہے کہ طوائف جونک ہوتی ہے تو یہ واقعی بعض خاندانوں پر صاد آتا ہے ۔وہ انسان کو انسان نہیں سمجھتے ، ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ مرد کے پاس ہے ، لوٹ لو پھر دھتکار کر رخصت کردو، مثلاً ۔۔۔ سات بہنیں ہیں، اسی بازار میں ان کی حویلیاں کھڑی ہیں، ہر کہین پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن گفتگو ہے تو ملمع ، صورتیں ہیں تو سہانی ، دل میں تو سنگی، جب کسی کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی ہیں تو خنجر برآں ہوجاتی ہیں۔‘‘
’’ لیکن یہ تو ہر طوائف کا شیوہ ہے ، کوئی رنڈی بہ استشنا کسی مالدار سے محبت نہیں کرتی۔‘‘
’’ آپ کا خیال درست ہے ؟ لیکن فقدان محبت کے باوجود شرافت برتی جا سکتی ہے۔‘‘
’’ اگر شرافت سے مراد زبان کی مٹھاس ہے تو وہ دوچار مکانوں سے قطع نظر ہر کہیں ہے۔ اور اگر شرافت میں دل کا اخلاص بھی شامل ہے تو مجھے اس کی صحت میں شبہ ہے۔ جب لوگ ان مکانوں میں آتے ہیں توشہنشاہ ہوتے ہیں اور جب اُن کی کنی کٹ جاتی ہے تو ان کی زندگی صرف ایک داغ رہ جاتی ہے۔‘‘
الماس کی آواز بڑی گونجدار ہے ، چہرے پہ جوانی کی تمکنت ہے غالب خوب گاتی اور حفیظ غمزے سے پڑھتی ہے۔
ابھی تو میں جوان ہوں
موسیقی سے متعلق اس کی واقفیت کچھ زیادہ نہیں البتہ طبلے کی تھاپ ، طنبورے کی آس، ہارمونیم کے نخرے اور سارنگی کے لہرے کو خوب جانتی ہے، الماس کے ہم نشینوں میں بڑے بڑے لوگ ہیں۔ اس کا وجود ایک ایسی تحریر میں ہے جس پر بہت سے لوگوں کے دستخط ثبت ہیں۔ اس کے سینہ میں کئی راز ہیں ۔ بلکہ خود ایک راز ہے ۔ اس کے نزدیک عورت مرد کی کمزوری سہی لیکن مرد بھی عورت کی کمزوری ہے۔ اس کے رائے میں جذبات کی شادی خود کشی پر منتج ہوتی ہے عورت شادی سے پہلے روتی ہے اور مرد شادی کے بعد۔ وہ طوائف کے حرم میں بیٹھ جانے کی قائل نہیں۔ اس کا خیال ہے جس طوائف میں بیگم بننے کی ہمت نہیں وہ ہر گز ہرگز بیوی نہ بنے۔ ایک طوائف کے لئے جو اس بازار میں ایک عمر بتا چکی ہو۔ گھر کا آنگن جیل خانہ ہے جس طرح ایک گھریلو عورت طوائف کے ماحول کو سمجھنے سے معذور ہے، اسی طرح ایک طوائف گھر کی فضا سے نابلد ہوتی ہے۔‘‘
اس کی باتیں بڑے ہی مزے کی ہیں۔ وہ کہا کرتی ہے ، عورت مرد کو بزدا بناتی ، شراب ذلیل کرتی اور موسیقی سلاتی ہے، اُس کی نظر میں ’’ طوائفیں مدمکھیوں کا جھلڑ ہیں ، کمیائیاں ، مویشیوں کا کھڑک ہیں اور میراثی سہ پہر کی دھوپ کا تڑکا ‘‘ ۔۔۔!
****

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)