معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

04 مارچ 2016 (23:23)

شاہد نذیر چودھری

ایک محقق صحافی شاہدنذیر چودھری کی سچی داستان جس نے جنات کے ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو قلم بند کرکے اس ماورائی مخلوق اور روحانی وشیطانی علوم کے بھیدوں سے آ گاہ کیا۔’’میں نے ان جنات کو انسانی شکلوں میں دیکھا،اپنے قریب پایا،انہیں چھوا،اٹھکیلیاں کیں،انکے انسانی و جناتی خدوخال کا تجزیہ کیا،انہیں کھانے کھلائے،انکے احکامات پر ویرانوں میں جناتی مخلوق کے تجربات و مشاہدات اور معمولات دیکھتا رہا , ان سے تاریخ کے المناک واقعات سنتا رہا۔وہ اپنی محافل سجاتے تو قرآن پاک کی تلاوت اور ہدیہ نعتﷺ سے وجد کا سماں بند جاتا۔۔۔ جنات سے میری ان ملاقاتوں کی روداداور انکے اعمالِ وظائف نے مجھے اور بہت سوں کو بدل دیا،جنات کی حقیقت سے پردہ اٹھادیا‘‘

(قارئین کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اس سچی داستان کو قسط وار پبلش کر رہے ہیں ،ہمیں امید ہے کہ ’’جنات کی یہ داستان ‘‘ آپ کو بھی اپنے’’ سحر ‘‘میں جکڑ لے گی ۔آج اس سلسلہ وار داستان کی پہلی قسط پبلش کی جا رہی ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 صرف دو رتی افیون حاصل کرنے کے لئے اس قدر خوار ہونا پڑے گا، یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھااور اب مجھے اس عذاب سے جان چھڑانے اور فرار کا کوئی رستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔اس تپتی دوپہر میں نہر کنارے موٹر سائیکل دوڑاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا ، یہ لالو قصائی میرے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کی آوارگی سے میں سخت عاجز آ چکا تھا۔ تین بار مشکوک انسان سمجھ کر پولیس نے ہمیں روکا تھا مگر میرے تعارف کرانے پر وہ چھوڑ دیتے تھے اور ہم افیون کی خاطر ایک نئے گاؤں کی طرف جا نکلتے تھے۔ نہر کے سیفل سے ایک کوس پہلے جب لالو قصائی نے مجھے ملیاں گاؤں کی طرف موٹر سائیکل کا رخ موڑنے کی ہدایت کی تو میں گھبرا گیا اور موٹر سائیکل روک دی۔ ملیاں منشیات فروشوں کا گڑھ تھا ،  اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کی خاطر میں نے اپنے خوف کو دبا لیا اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔’’لالو اب ملیاں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے دو رتی افیون لینی ہے اور اس کے لئے تم نے مجھے بارہ گاؤں گھوما دئیے ہیں۔ ہر بار تو یہی کہتا ہے کہ ہمارا کام فلاں گاؤں میں ہو جائے گا۔۔۔۔چودھری صاحب غصہ نہ کریں، میں بھی خوار ہو رہا ہوں ، میں نے آج میلے سے جانور لینے جانا تھا ، کل گوشت کے لئے ایک بھی جانور نہیں ہے میرے پاس ، لیکن میں صرف آپ کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ پی رہا ہوں۔

’’لالو کام تو مجھے بھی بہت ہیں، صبح میرا انگریزی کا پرچہ ہے لیکن ایک دکھی عورت کی خاطر میں یہ نیکی کرنے نکلا ہوں۔ تو جانتا ہے پوری پٹی پر پولیس نے ناکے لگا رکھے ہیں اگر میں صحافی نہ ہوتا تو یقیناً وہ ہمیں پکڑ لیتے۔۔۔۔۔۔لالو قصائی کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں ایک لحظہ کے لئے عجیب سی چمک آئی بولا  ، پولیس نے آپ سے متھا لگا کر مرنا ہے جی ؟ ویسے بھی یہ راجو ڈوگر کا علاقہ ہے۔ اس نے تھانے خریدے ہوئے ہیں،  آپ تو ویسے ہی ڈر رہے ہیں، چلیں مجھے یقین ہے ملیاں میں ہمارا کام ہو جائے گا‘‘ ٹھگنے قد کا مالک یہ لالی قصائی میرے دوست کے گاؤں ملک وال کا رہنے والا تھا۔ عام سی شخصیت کا روکھا سوکھا نوجوان تھا۔ گاؤں میں بڑے گوشت کی ایک ہی دکان تھی جو لالو قصائی کے باپ دادا کے وقتوں سے چلی آ رہی تھی اور اب لالو اپنے آباء کی گدی سنبھالے ہوئے تھا۔ میں اس وقت تک اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا لیکن جب اس کا گھناؤنا کردار مجھ پر عیاں ہوا تو اس مسکین صورت کے پیچھے ایک چالباز  ، مکار اور انتہائی بدگو شخص چھپا ہوا نکلا۔ اگلی صبح میرا بی اے کا انگریزی پرچہ تھا مگر اپنے باباجی کی خاطر میں اس شرمناک مہم پر نکلا تھا۔ مجھ پر سالانہ امتحان کا خوف بھی طاری تھا اور اس پر مستزاد کہ مجھ جیسا شخص جس نے صحافت کو ایک مشن سمجھ کر اختیار کیا تھا اور جو ہمیشہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اپنا قلم استعمال کرتا تھا خود ایک گھناؤنے فعل کے ارتکاب پر مجبور تھا۔ مجھے ڈر تھا لالو قصائی نے مجھے افیون دے دی اور پولیس نے ناکے پر تلاشی کے بعد برآمد کر لی تو میرا کیا بنے گا ؟ عزت نفس اور خاندانی عزت و وقار کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دینے والے ایک نوجوان کے لئے اس سے بڑی تہمت اور بدنامی کیا ہو سکتی تھی کہ وہ افیون رکھنے کے جرم میں پکڑا گیا تھا۔ ایک ایسا نوجوان جس نے غلطی سے بھی سگریٹ نہ تھاما ہو  ، اس پر افیون نوشی کا الزام عام سی بات نہیں ہوتی۔ مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ اگر میں اس الزام میں پکڑا گیا تو والد صاحب سے خوب جوتے پڑیں گے۔ وہ تو مجھے پولیس سے ہرگز نہیں بچائیں گے اور اپنا غصہ گھر کے دوسرے افراد پر بھی نکالیں گے کہ یہ تم لوگوں کی وجہ سے ملکوال پڑھنے گیا تھا اب اس کے کرتوت دیکھ لو ؟ میں نے بارہا دل میں یہ دعا کی کہ یا الہٰی مجھے افیون نہ ہی ملے تو اچھا ہے لیکن جس بزرگ ہستی سے میں وعدہ کرکے آیا تھا اس کے سامنے مجھے انکار کرنے کا حوصلہ بھی نہیں تھا۔ اپنے تئیں مجھے یقین تھا کہ افیون نہ بھی ملی تو میری یہ کوشش بھی مجھے بابا جی کی نظروں میں سرخرو کر دے گی کہ میں نے ان کے کہنے پر یہ تگ و دو   تو  کی۔۔۔۔۔ملیاں سے ایک کوس پہلے لالو قصائی نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا  ، بادشاہو ۔۔۔ رکو   رکو۔۔۔اب کیا ہوا ہے؟؟ میں نے فٹافٹ بریک لگائی۔۔۔۔’’اس کچے پر موٹر سائیکل اتاریں‘‘ اس نے سرکنڈوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔یہ راستہ تو مکھن سائیں کے آستانے کی طرف جاتا ہے۔ ملیاں کے لئے یہاں سے کوئی راستہ نہیں جاتا‘‘ میں نے کہا

’’بادشاہو  ،  میں نے سوچا ہے مکھن سائیں کی زیارت کرتے چلیں۔ سرکار کے علاقے میں آیا ہوں تو ان کے درشن کئے بغیر آگے کیسے جا سکتا ہوں؟؟؟  لالو قصائی سرفروشانہ انداز میں بولا ’’سرکار کو پتہ چل جائے گا کہ لالو ادھر سے گزرا ہے، وہ ناراض ہوں گے‘‘

’’یار تو مصیبت بن گیا ہے۔ میں نے تجھے کہا تھا کہ میرا کام جلدی کر دے مگر تین گھنٹے سے تو مجھے کبھی ایک گاؤں اور کبھی نہر کے کنارے لئے بھاگ رہا ہے۔ اب تجھے مکھن سائیں کی زیارت تنگ کرنے لگی ہے‘‘ میں نے جھلاتے ہوئے کہا اور موٹر سائیکل کھڑی کرکے نیچے اتر گیا اور کہا ’’تو اکیلا زیارت کے لئے چلا جا میں بھنگیوں اور چرسیوں کے علاقے میں نہیں جا سکتا۔ لعنت بھیجتا ہوں میں اس خدمت پر میں جا رہا ہوں‘‘ میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ بابا جی سے معافی مانگ لوں گا کہ میں افیون نہیں لا سکا مگر اس طرح منشیات فروشوں کے علاقے میں خوار ہوتے پھرنا اب مجھے گوارا نہ تھا۔ میں نے جونہی موٹر سائیکل سٹارٹ کی لالو قصائی اچک کر پیچھے بیٹھ گیا۔ ’’جیسی آپ کی مرضی جناب ۔۔۔ آپ کو ناراض تھوڑا کرنا ہے۔۔۔۔ ابھی میں نے گیئر لگایا ہی تھا کہ جھنڈ کے پار سے کسی نے نعرہ مستانہ بلند کیا ’’حق ۔۔۔ سرکار ۔۔۔ یا مدد مکھن سائیں سرکار‘‘ میں نے چونک کر ادھر دیکھا تو دو ہٹے کٹے ملنگ قسم کے نوجوان مکھن سائیں کے ساتھ ہماری طرف آتے دکھائی دئیے۔

’’سرکار آ گئی‘‘ لالو افراتفری سے موٹرسائیکل سے اترا تو اس کی شلوار کا پائنچہ موٹر سائیکل کے پائیدان میں پھنس گیا اور وہ چکرا کر نیچے گرا مگر اپنے پیر کی عقیدت کا مارا برق رفتاری سے اٹھا اور’’میری سرکار میرے سائیں بابا۔۔۔ میں آپ کی طرف ہی آ رہا تھا‘‘ کہتا ہوا لالو قصائی اس کے قدموں میں جا گرا۔ اس دوران مکھن سائیں خاصا قریب آ چکا تھا۔

’’پیر و مرشد‘‘ کے ملنے ملانے کا منظر دیکھتے ہوئے میں مکھن سائیں کی زیارت سے بھی مستفید ہو رہا تھا۔ چھ فٹ قد اکہرا بدن، تیل میں گوندھی لمبی لمبی لٹیں‘ سیاہ چوغہ میں ملبوس‘ پیروں سے ننگا‘ دونوں ہاتھوں میں عقیق یمنی‘ نیلم اور زمرد کی انگوٹھیاں‘ کلائیوں میں فولادی کڑے‘ گلے میں موٹے دانوں کی لمبی سی مالا۔ گہری آنکھیں قہر و قتال کی سرخیاں لئے ہوئے۔ خشخشی داڑھی‘ دہانہ کھلا‘ دانت سیاہی مائل‘ چوڑے نتھنے‘ مکھن سائیں کا یہ سراپا ،  اپنے سامنے دیکھ کر میں ایک بار تو نظریں جھپکنا بھول گیا۔ اس کی شخصیت میں بھرپور وجدانی تاثر تھا۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے اور سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے سامنے خواہ مخواہ مودب ہو جانا ایک عام سی بات تھی۔ اس کے پاس سے کافور کی خوشبو آتی تھی۔ میں نے سن رکھا تھا کہ اس کے آستانے یا ڈیرے پر بھنگی اور چرسی پڑے رہتے ہیں اور اس کی کرامات کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔ پولیس اس کے مریدوں پر ہاتھ نہیں ڈالتی تھی اور نشئی قسم کے گداگر اس کا نام لے کر جس در پر پہنچتے بدعقیدہ لوگ انہیں خالی واپس نہ بھیجتے ہیں۔ سنا تھا کہ کسی نے اس کے فقیر کے ساتھ بدتمیزی کی اور اس پر عذاب آ گیا۔ یہ سچائی تھی یا نہیں مگر اس کا سہارا لے کر مکھن سائیں کے فقیر سارے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کمزور غریب اور وہم پرستی کے شکارفارغ البال نوجوان اس سے امیدیں وابستہ کرنے لگے اور اپنے گھروں سے فرار ہو کر اس کے ڈیرے پر بیٹھ کر نشہ کرتے رہتے۔ ان کے گھر والے اپنے بچوں کی بربادیوں کا رونا روتے۔ اخبارات میں خبریں شائع ہوتیں کہ نہر اور بیلے کا سارا علاقہ ایک طرف راجو ڈوگر اور دوسری طرف مکھن سائیں کی وجہ سے منشیات کا گڑھ بن چکا ہے۔ جس سے نوجوان نسل کی صحت مندانہ سرگرمیاں مفقود ہو چکی ہیں اور وہ منشیات میں غرق رہنے لگے ہیں۔ مکھن سائیں پر الزامات تو آتے تھے مگر آج تک اس کے علاقے میں چوری ڈاکے یا کسی قتل وغیرہ کی واردات نہیں ہوئی تھی۔ اسکے مرید اسکو اپنے مرشد کی کرامت اور دبدبہ قرار دیتے تھے۔ اس کے علاقے سے کچھ ہی دور نہر کی پٹڑی پر دن دہاڑے لوگ لوٹ لئے جاتے اور کئی کو مار کر نہر میں پھینک دیا جاتا تھا۔ راہزنی لوٹ مار اور منشیات کی وجہ سے ہی پولیس نے یہاں پر ناکے لگا رکھے تھے۔ پچھلے سال انتظامیہ نے مکھن سائیں کے خلاف ایکشن بھی لیا تھا مگر ایک واقعہ ایسا رونما ہوا کہ اس کے بعد پولیس نے مکھن سائیں کے آستانے کا راستہ دیکھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ہوا یوں تھا پولیس جب اس کے آستانے پر پہنچی تو مکھن سائیں دس فٹ گہری قبر میں چلہ کاٹ رہا تھا۔ اس کے مرید قبر کے گرد بیٹھے بھنگ گھوٹ رہے تھے کچھ تو چرس کے سگریٹ پی رہی تھے ۔وہ پولیس کو دیکھتے ہی مجذوبانہ انداز میں نعرے لگانے لگے۔

’’اوئے آج سرکار سے سرکار ملنے آئی ہے‘‘ پولیس انسپکٹر نے ان کے نعروں پر انہیں ڈانٹا اور نہایت سختی سے پیش آیا۔ تمام ملنگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ انسپکٹر پیروں فقیروں اور روحانی معاملات کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس نے پوچھا ۔

’’اوئے مکھن سائیں کہاں ہے‘‘

’’مائی باپ ۔۔۔ سرکار تو سو رہے ہیں‘‘ ایک ملنگ جو غالباً دوسر ملنگوں کا قائد تھا اس نے بتایا

’’کدھر سو رہا ہے اندر ہے۔ کیا؟‘‘ انسپکٹر نے پوچھا تو ملنگ بولا ’’سرکار ۔۔۔مکھن سائیں بستر پر نہیں سوتے وہ تو زمین کے اندر سوتے ہیں‘‘

’’اوئے بک بک نہ کر ۔۔۔ سیدھی طرح بتا کدھر ہے تمہارا مکھن۔ آج میں اس میں سے بال نکال دوں گا۔ چرسی کہیں کا‘‘

’’سرکار ۔۔۔ ہمارے مرشد کی شان میں گستاخی نہ کریں ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔‘‘ ایک بانکا قسم کا مجذوب انسپکٹر کو آنکھیں دکھانے لگا۔

’’اوئے تو۔۔۔‘‘ انسپکٹر نے اسے گالی دی اور چھڑی سے اس کی پٹائی شروع کر دی۔ ملنگ اس کی مار سہتا رہا اور اس نے ایک بار بھی اف نہ کی، بولا ’’میری بوٹی بوٹی کر دو بے شک۔ یہ مار تمہیں بہت مہنگی پڑے گی‘‘ ملنگ کا جواب سن کر انسپکٹر کے علاوہ دوسرے سپاہیوں نے بھی اس کی دھلائی کر دی مگر وہ بانکا مجذوب دلیری سے مار سہتا رہا۔ بالاخر ہار انسپکٹر کا ہی مقدر ٹھری۔ تھک ہار کر ہانپتے ہوئے اس نے سپاہیوں سے کہا کہ مکھن پیر کو تلاش کرو۔ اس پر مار کھانے والا ملنگ بولا

’’میری سرکار تو ادھر اس محل میں سو رہی ہے۔ تم انہیں کہاں ڈھونڈتے پھرو گے تھانیدار جی‘‘ اسنے قبر کی طرف اشارہ کیا تو اسکا استہزائیہ لہجہ انسپکٹر کو طیش دلانے لگا اور وہ بولا ’’مر گیا ہے مکھن سائیں۔۔۔ بتاتے کیوں نہیں مر گیا ہے کیا۔۔۔ کب مرا ہے یہ‘‘

’’تھانیدار جی مریں ہمارے دشمن۔ سرکار تو اندر چلہ کاٹ رہے ہیں اور وہ آپ کی ساری حرکتیں دیکھ رہے ہیں‘‘

’’چلہ کاٹ رہا ہے۔ کیا مطلب اس قبر میں۔ کب سے ہے قبر میں‘‘ انسپکٹر غصہ اور حیرت کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ پوچھنے لگا

’’سرکار کو آج تیس واں روز ہے۔ چالیس روز تک انہیں اس قبر میں رہنا ہے اور پڑھائی کرنی ہے‘‘ ایک معتبر ملنگ بولا ’’اگر سرکار چالیس روز سے پہلے باہر آ گئے تو قیامت آ جائے گی‘‘ ’’کیسی قیامت اوئے‘‘ انسپکٹر نے دانت کچکچاتے ہوئے چھڑی ملنگ کے دانتوں پر رکھتے ہوئے دبائی ’’بکواس بند کرو اور اسے باہر نکالو‘‘’’نہ سرکار ۔۔۔ نہ ۔۔۔ ہماری کھال اتار دو بے شک پر ہم یہ گناہ نہیں کریں گے‘‘

’’اوئے کیسا گناہ چرسیو۔ نہ نماز‘ نہ روزہ ۔۔۔ نشے میں ہر وقت غرق رہتے ہو۔ خدا رسولؐ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے اور اپنے بے عمل مرشد کے عذاب سے ڈرتے ہو۔ چلو اور قبر سے باہر نکالو اپنے مرشد کو‘‘ ایک باریش حوالدار نے انہیں لتاڑا۔۔۔۔۔۔۔ جناب ۔۔۔ خدا کا خوف کرو۔۔۔ ہمارے مرشد بڑی پہنچی ہوئی ہستی ہیں،  ان کی شان میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

’’بکواس بند کر اوئے گستاخی کے پتر‘‘ انسپکٹر دھاڑا اور سپاہیوں سے کہا ’’چلو تم قبر کھودو‘‘ سپاہی آستانے کے اندر سے کسی اور پھاوڑے لائے تو ملنگ دہائیاں دینے لگے۔ انسپکٹر نے ان کے ساتھ مٹی ہٹائی تو نیچے دو بڑے بڑے تختے رکھے ہوئے تھے وہ بھی ہٹائے گئے تو کافور کی بے تحاشا خوشبو کا جھونکا باہر کو نکلا۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( آگے کیا ہوا ؟؟ اگلی قسط میں  ملاحضہ فرمائیں )

مزیدخبریں