فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر515

10 ستمبر 2018 (13:16)

علی سفیان آفاقی

ریمبو نے سو سوا سو کے قریب فلموں میں کام کیا ہے جن میں اردو اور پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ ان کی کئی سپرہٹ فلموں نے کامیابی کے نئے معیار قائم کئے ہیں۔ اب فلم سازی کی رفتار کم ہو گئی ہے تو وہ اسٹیج ٹی وی اسکرین پر مصروف ہیں۔

***

کراچی سے عرمان عرفانی صاحب نے ایک غلطی کی طرف توجہ دلائی ہے ہم نے ہندوستان کی پہلی ناطق فلم ’’عالم آرا‘‘ کے کرداروں میں ماسٹر وٹھل اور زبیدہ کے علاوہ اداکارہ مس بھگو کا نام بھی لکھا تھا اور ساتھ میں یہ بھی وضاحت کی تھی کہ یہ اداکارہ نرگس کی والدہ جلو بائی ہیں۔ عرفانی صاحب کا کہنا ہے کہ اس فلم میں جلو بائی نام کی ادکارہ نے کام ضرور کیا تھا مگر یہ اداکارہ نرگس کی والدہ نہیں ہیں۔ ان کا نام جدن بائی تھا۔ یہ واقعی سہواً ہوا ہے۔ بے خیالی میں جلو بائی کو جدن بائی سے ملا دیا۔ جدن بائی کے بارے میں ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

اداکار گل حمید کے بارے میں گزشتہ دنوں ہم نے انجنیئر ظہور صاحب کے حوالے سے کچھ معلومات بیان کی تھیں۔ اب معلوم ہوا کہ وہ اکیلے ہی اس دور کے سپر اسٹار نہیں تھے۔ کچھ اور فنکار بھی اس زمانے میں ہندوستان کی فلمی صنعت میں بہت ممتاز اور نمایاں تھے۔ ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ابتدائی زمانے کے تھیڑ اور فلموں میں بہت زیادہ نمایاں اور ممتاز فنکاروں کی اکثریت مسلمان تھی۔ ہیروئن ہوں یا ہیرو۔ ہر شعبے میں مسلمان ہی سر فہرست نظر آتے تھے۔ یہاں تک کہ کہانی نویس شاعری اور موسیقی کے علاوہ گلوکاری کے شعبے میں بھی مسلمانوں ہی کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا۔ ایسا کیوں تھا؟ یہ ایل علیحدہ سوال ہے۔ اس کے بارے میں بھی بعض حضرات نے تحقیق کی ہے۔ فی الوقت اداکاروں کا تذکرہ چل رہا ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر514پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گل حمید کا تعلق صوبہ سرحد سے تھا مگر انہوں نے اداکاری میں نام اور بہت بلند مقام پیدا کیا تھا۔ پٹھان اور پھر اس دور کے پٹھان۔ بھلا سوچئے کہ اس معاشرے میں یہ کس قدر مشکل مرحلہ تھا جب کوئی اصلی نسلی پٹھان اداکار بن جائے۔ وہ تو پھر بہت پہلے کی بات ہے۔ ہمارے شعور کے دور میں بھی ہم نے قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد یہی دیکھا کہ فلم، موسیقی اور اداکاری کو مسلم معاشروں میں بہت برا سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ کسی بھی حیثیت سے فلموں سے وابستگی پر اعتراض کر دیا جاتا تھا۔

ہم بتا چکے ہیں کہ جب ہم نے صحافی بننے کا فیصلہ کیا تو ہمارے خاندان میں اس پر کتنا شور مچایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کوئی اخلاقی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ دراصل اس زمانے میں صحافت اور غربت و مفلسی کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ صحافی نام تو پیدا کر لیتے تھے مگر معاشی اعتبار سے تکالیف اٹھاتے تھے اور خوشحالی سے ان کا دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ خصوصاً کارکن صحافی تو ہمیشہ بھوکے اور کنگال ہی رہے لیکن اس وقت اس شعبے کو ایک بلند درجہ اور معاشرے میں ترجیحی حیثیت حاصل تھی۔ صحافی مشن کے طور پر اخبارات سے وابستہ ہوتے تھے۔ پیسے کمانے کی غرض سے نہیں۔ پیسے کمانا تو دور کی بات ہے اکثر انہیں کئی کئی ماہ تک انتہائی قلیل تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جاتی تھیں۔

اس کے بعد جب ہم نے کہانی نویس کی حیثیت سے فلمی صنعت میں قدم رکھا تو سارے خاندان نے اس کی مخالفت کی سوائے ہمارے والدین کے۔ اللہ غریق رحمت کرے۔ ہمارے والد مرحوم (آکامیاں) اور اماں اس معاملے میں بہت لبرل اور روش خیال تھے۔ ہر اعتراض کے جواب میں ان کے پاس ایک ہی دلیل ہو اکرتی تھی ان کا کہنا تھا کہ جو شخص سمجھدار اور خاندانی روایات سے بخوبی آگاہ ہے وہ اپنا بھلا برا خوب اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کا اسی کو حق حاصل ہے۔ ممکن ہے غلطیاں کرے، نقصان اٹھائے مگر بسم اللہ کے گنبد میں محصور کرکے اسے ذہنی طور پر معذور کر دینے کی بجائے بہتر ہے کہ اس کو خود ہی فیصلے کرنے اور غلطیاں کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ انسان وعظ و نصیحت سے اس قدر جلد نہیں سیکھتا جتنا کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے پھر اماں اور آکا میاں کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہم جلد بازی اور جذبات کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ خوب اچھی طرح سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلے؟ یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

ہم شاید یہ بھی بتا چکے ہیں کہ سنتوش کمار(موسیٰ رضا) اپنی تمام تر شہرت اور دولت مندی کے باوجود جب شادی کرنے نکلے تو اچھے گھرانوں کی لڑکیوں کے رشتے محض اس لیے انہیں نہ مل سکے کہ وہ اداکار تھے بہرحال وہ ایک اچھے خاندان میں شادی کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ جمیلہ بھابی ایک مثالی بیوی ثابت ہوئی تھیں مگرجب سنتوش کمار نے صبیحہ خانم سے شادی کی تو سب کی انگلیاں اٹھ گئیں اور زبان چلنے لگی۔

’’دیکھا۔ ہم نہ کہتے تھے ان اداکاروں کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا۔اتنی اچھی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کر رہے ہیں۔‘‘

ہم کہتے ’’مگر دوسری شادی تو بے شمار لوگ کرتے ہیں جو اداکار نہیں ہوتے۔‘‘

جواب میں یہ منطق تھی مگر وہ کسی ایکٹریس سے تو شادی نہیں کرتے۔ ارے بھئی فلموں کا تو ماحول ہی خراب ہے۔ نمک کی اس کان میں جو بھی گیا نمک بن جاتا ہے۔‘‘

ذرا تصور کیجئے کہ ایسے ماحول اور ان معاشرتی اقدار کے ہوتے ہوئے ۔گل حمید نے قیام پاکستان سے بھی کئی سال پہلے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور نام پیدا کیا۔حالانکہ ان کا تعلق تو ایک انتہائی قدامت پرست اور روایت پرست ماحول سے تھا پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ اس زمانے میں پلے بیک گلوکاری کا وجود تک نہیں تھا۔ فنکاروں کو اپنے گانے مکالمے کے ساتھ ساتھ خو دہی گانے پڑتے تھے اسی لیے اس زمانے کے فنکاروں(اداکاروں) کے لیے گلوکاری بھی ایک لازمی شرط تھی۔ یہ وجہ ہے کہ تھیڑ اور فلم کے ابتدائی دور میں ہیروئنیں تو قریب قریب سب کی سب خاندانی پیشہ ور گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ ہیرو کے لیے بھی گانا لازم تھا۔ کچھ ہیرو خوش گلو تھے لیکن بعض ہیرو بے سری آوازوں میں گاتے تھے مگر تماشائیوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔ موسیقی کے لیے بہت کم ساز استعمال کیے جاتے تھے اور سازندے طبلہ اور ستار وغیرہ لے کر آس پاس ہی چھپ کر بیٹھتے تھے۔ وہ مناسب سچویشن پر پس منظر موسیقی کے لیے بھی سازوں کو چھیڑتے رہتے تھے اور جب ہیرو یا ہیروئن نغمہ سرا ہوتے تھے تو وہ گانے کی دھن کے مطابق ساز بجانے لگتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کافی ریاض اور ریہرسل کے باوجود وہ آج کے زمانے جیسا آرکسٹرا تو فراہم نہیں کرتے تھے مگر یہ نہ بھولیے کہ تماشائی اسی موسیقی پر فدا تھے اور سن سن کر جھومتے رہتے تھے۔

تھیٹر کے دور میں مکالمے بھی شاعرانہ اور کسی حد تک قافیہ ردیف کے پابندہوتے تھے اور بہت زور دار قسم کے مکالمے ردھم کے لحاظ سے لکھے جاتے تھے مثلا۔۔۔

ایک کردار ’’توفیق کس حال میں ہے؟‘‘

دوسرا کردار’’شیر لوہے کے جال میں ہے۔‘‘

یہ آغا حشر کاشمیری کا مشہور مکالمہ ہے جو لوگوں کو آج بھی یاد ہے۔ ان کی طرح دوسرے مصنف بھی وزن ، قافیے اور ردیف کو پیش نظر رکھ کر مکالمے لکھا کرتے تھے۔

گل حمید بہت خوب رو، قد آور، سرخ و سفید رنگت کے مالک تھے۔ آواز میں بھی دبدبہ تھا۔ وہ اس زمانے کے نمبر ون ہیرو کہے جا سکتے ہیں جن کی فلمیں دیکھنے کے لیے پہلے ہی سینما گھروں کے سامنے تماشائیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتے تھیں جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے خاموش فلموں سے انہوں نے اداکاری کا آغاز کیا تھا اور جب بولتی فلموں کا دور آیا تو واپس گاؤں چلے گئے تھے مگر بعد میں انہوں نے بولتی فلموں میں کام کیا اور اس قدر شہرت اور کامیابی ھاصل کی جیسی کہ خاموش فلموں میں انہیں حاصل تھی۔

جن دنوں خاموش فلمیں بنا کرتی تھیں اس زمانے میں بھی سازندوں کی اہمیت تھی بلکہ زیادہ اہمیت اور ضرورت تھی۔ مختلف مناظر کے دوران میں یہ پس پردہ سازندوں کے ذریعے سین میں جان ڈال دیا جاتا تھا ورنہ تمام تر خاموش فلموں کے دوران میں تو ہال میں سناٹا ہی طاری ہو جاتا۔

ماسٹر نثار بھی گل حمید کے ہم عصر تھے۔ ماسٹر نثار کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ کلاسیکی موسیقی سے بھی واقف تھے اور بہت سریلی آواز کے مالک تھے۔ گل حمید گانے کے معاملے میں مشکل میں پڑ جاتے تھے حتی الامکان وہ گلوکاری سے گریز کرتے تھے۔ بہت کم فلمیں ایسی ہوں گی جن میں انہوں نے گلوکاری کا مظاہرہ کیا ہو مگر محض خانہ پری کے لیے۔ اس کے برعکس ماسٹر نثار باقاعدہ گلوکار تھے۔

ماسٹر نثار نے اس زمانے کی سپر اسٹار اور حسین ترین ہیروئن کجن بائی کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا تھا۔ کجن کا پورا نام جہاں آرا کجن تھا۔ ان کے حسن و جمال کی داستانیں افسانہ لگتی ہیں مگر کہتے ہیں کہ واقعی وہ حسن و جمال کا پیکر تھیں۔بہت اچھی گلوکارہ بھی تھیں اسی لیے سارا ہندوستان ان کا دیوانہ تھا۔ کجن بائی کے بارے میں لاہور سے محمد اسلم صاحب نے اے حمید کے مقبول کالم میں یہ معلومات بھی فراہم کی ہیں کہ جن شاعرہ بھی تھیں اور انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اعلیٰ خاندان کے مردوں کے لیے بھی میٹرک بہت اعلیٰ تعلیم خیال کی جاتی تھی۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد وہ میڈن تھیٹر سے وابستہ ہوگئیں جہاں انہوں نے آغا حشر کاشمیری کی فلموں میں ہیروئن کا کردار کیا۔ مس کجن کو ملکۂ حسن کا خطاب دیا گیا تھا۔ انہیں شیر پالنے کا بھی شوق تھا۔ امیر ترین لوگ ان کے جوتے اٹھا کر بھی خوش ہوتے تھے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں