فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر516

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر516
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر516

  

ماسٹر نثار کو گل حمید پر یہ فوقیت حاصل تھی کہ وہ بہت اچھے کلاسیکی موسیقار بھی تھے اس لیے ان کی فلموں میں خاص طور پر زیادہ گانے رکھے جاتے تھے۔ فلم ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ کے گانے اس قدرمقبول ہوئے تھے کہ بچہ بچہ گاتا پھرتا تھا۔ یہ ماسٹر نثار کی مقبولیت اورہنر مندی کا بھرپور اظہار تھا۔

عبدالرحمن کابلی بھی اس زمانے کا ایک معروف اداکار تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ جس شخص کے نام کے ساتھ ’’کابلی‘‘ منسلک ہے اس کا تعلق صوبہ سرحد ہی سے ہوگا۔عبدالرحمن کابلی خالص پٹھان ہونے کے باوجود بہت اچھا گلوکار بھی تھا۔ عبدالرحمن کابلی کو بھی انتہائی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ ان کے گائے ہوئے گیت بھی لوگوں کی زبانوں پر تھے۔

ایک اور ہیرو بھائی دیسا امرتسری تھا۔ وہ بہت خوب روتھا۔ انہوں نے بہت سی فلموں میں اداکاری کی تھی جن میں سے ایک فلم ’’رشک لیلیٰ‘‘ بہت مقبول ہوئی تھی۔ اسکی ہیروئن مس زبیدہ تھیں جو عموماً گل حمید کیک ساتھ ہیروئن کے کردار میں جلوہ گر ہوتی تھیں۔ اداکار کمار (یہ پاکستان آگئے تھے اور ہدایت کار ایس اے حافظ کے والد تھے) اشرف خاں، مظہر خاں نواب بھی اس دور کے بہت نمایاں اداکارتھے۔ اداکارہ ثریا کے ماموں ایم ظہور نے بھی اداکاری میں بہت نام پیدا کیا تھا۔ وہ بہت اچھے ولن اور اچھے اداکار تھے۔ اسی عہد کے ایک اور مسلمان اداکار جینیت بھی تھے۔ ان کا تعلق بھی پشاور سے تھا مگر جینیت ان کا فلمی نام تھا۔ وہ مشہور بھارتی اداکار امجد خاں کے والد تھے۔ جینیت بہت طرح دار اور تنک مزاج تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر515پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

 پٹھان فنکاروں کا تذکرہ شروع ہوا تو ایک اور سرحدی فنکار کا ذکر بھی لازم ہوگیا۔ صاحب پٹھان تھے بلکہ خالص پٹھان۔ ان کا تعلق پشاور سے تھا۔ نئی نسل تو غالباً ان کے نام سے بھی واقف نہیں ہے لیکن ہم نے قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد ان کے کئی نغمات سنے تھے۔ ایک زمانے میں یہ بمبئی کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کا نام جی ایم درانی تھا۔

برصغیر کی فلمی موسیقی کے آغاز میں جن گلوکاروں نے اس فلمی صنعت کو اپنی آوازوں سے سجایا تھا ان میں جی ایم ، درانی ایک ممتاز اور اہم نام ہیں۔ بہت بیٹھی اور سریلی آواز کے مالک تھے۔ تلفظ اور لہجہ بھی بہت اچھا تھا۔ شین قاف بھی درست تھا۔ ان کے نغمات سن کر کوئی یہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ ان کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے اور وہ اصلی نسلی پٹھان ہیں۔

گلوکاری میں ان کا قدم رنجہ فرمانا اور ہماری پیدائش کا سال قریب قریب ایک ہی ہے۔ ہم ۱۹۳۳ء میں پیدا ہوئے تھے۔ جی ، ایم، درانی نے بھی لگ بھگ اسی سال ریڈیو پشاور سے اپنا پہلا نغمہ براڈ کاسٹ کیا جو کہ پشتو زبان میں تھا۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ جس روز پشاور میں آل انڈیا ریڈیو کے مرکز کا افتتاح ہوا اسی روز جی ایم درانی نے افتتاحی پروگرام میں حصہ لیا۔ اس طرح دور رفتہ کے اکثر فنکاروں کی طرح ان کی فلمی زندگی کا آغاز بھی ریڈیو سے ہی ہوا تھا۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ آخر اتنے پرانے زمانے میں بھی پٹھانوں کو فنون لطیفہ، خصوصاً اداکاری اور گلوکاری سے اس قدر لگاؤ کیوں تھا۔ اس زمانے میں یعنی ہمارے بچپن میں پٹھانوں کے بارے میں عام تصور ’’خوچہ ۔ ام تمہارا ستیاناس کر دے گا‘‘ قسم کے فقرے بولنے والوں کا تھا۔ ہم نے بچپن میں ٹیگور کی مشہور کلاسیکی کہانی ’’کابلی والا‘‘ پڑھی تھی اور پھر ہندوستان کے مختلف شہروں میں پٹھانوں کو خالص پٹھانی انداز میں اردو بولتے اور نسوار کھاتے بھی دیکھا تھا۔ ہم بھی عام طور پر پٹھانوں کو ’’کابلی والا‘‘ قسم کا پٹھان ہی سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب ہمیں معلوم ہوا کہ فلم ’’سکندر‘‘ کا ہیرو پرتھوی راج کپور ایک پٹھان ہے اور وہ نہ صرف معروف فلمی اداکار ہے بلکہ تھیٹر کا بھی بہت بڑا فنکار ہے تو ہمیں بہت حیرت ہوئی تھی حالانکہ یہ محض ہماری لا علمی اور پٹھانوں کے بارے میں پائے جانے والے عام تاثر کا سبب تھا۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا پھر پرتھوی راج کے سارے خاندان نے ایک زمانے میں بمبئی کی فلمی صنعت پر اجارہ داری قائم کر لی تھی ۔ دلیپ کمار اور ان کے بھائی ناصر خاں جیسے اداکاروں کا تعلق بھی پشاور ہی سے تھا۔ ضیاء سرحدی جیسے صاحب قلم لوگ بھی سرحد ہی کی سر زمین سے تعلق رکھتے تھے۔

جی ایم درانی کی کہانی مختصراً یہ ہے کہ انہیں بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف اداکاری کا شوق بھی رکھتے تھے چنانچہ بعد میں انہوں نے اداکاری بھی کی تھی لیکن ان کی اصل وجہ شہرت گلوکاری ہی بنی۔ درانی صاحب کو گلوکاری کا اتنا شوق تھا کہ اسکول کے زمانے میں بھی مشہور نغمات اور تقاریب میں نعتیں گایا کرتے تھے لیکن یہ کسی کو خیال تک نہ تھا کہ وہ فلموں کے گلوکار بن جائیں گے۔ انہوں نے جب سنا کہ پشاور میں ریڈیو اسٹیشن کا افتتاح ہونے والا ہے تو مچل گئے اور اپنے عزیزوں اور رشتے داروں میں سفارشیں تلاش کرنے لگے۔ بہرحال ایک عزیز کی سفارش پرانہیں ایک گانا پیش کرنے کا موقع مل گیا حالانکہ ہمارے خیال میں اس زمانے میں پشاور میں اچھے گلوکار اور فنکار ہی کتنے دستیاب ہوتے ہوں گے۔ انہوں نے اپنا پہلا ریڈیائی نغمہ پشتو زبان میں گایا تھا لیکن ان کی آزرو اردو فلموں میں گلوکاری کرنے کی تھی۔ ظاہر ہے کہ پشتو کے مقابلے میں اردو کا میدان بہت وسیع تھا اور اس کے ذریعے وہ ملک گیر شہرت اور بے شمار دولت حاصل کر سکتے تھے۔

انہیں ریڈیو سے پہلا نغمہ پیش کرنے کا معاوضہ پانچ روپے ملا تھا جوکہ اس زمانے میں بہت معقول تھا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت پولیس کے سپاہی کی تنخواہ دو تین روپے ماہوار ہوتی تھی۔ ایک گانے کا پانچ روپے معاوضہ اور وہ بھی ایک نو آموز اور نو وارد گلوکار کے لیے بہت ’’خطیر‘‘ رقم تھی۔ رقم سے زیادہ گلوکاری کا موقع ملنے کی انہیں خوشی تھی۔ انہوں نے اپنے دوست احباب کو مٹھائی کھلائی اور داد وصول کی لیکن قدامت پرست رشتے داروں نے اعتراض بھی کیا ۔ جب کسی پر کوئی کام کرنے کی دھن سوار ہو جائے تو اس کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ جی ایم درانی کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ا

ریڈیو سے گلوکاری کرنے کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوگئے تھے۔ اب ان کے لیے پشاور میں رہ کر وقت ضائع کرنا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ انہوں نے بوریا بستر سمیٹا اور لاہور پہنچ گئے۔

لاہور میں ماسٹر غلام حیدر موسیقار کی حیثیت سے اس وقت بھی شہرت یافتہ تھے۔ درانی صاحب نے ان کے پاس حاضر ہو کر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

ماسٹر غلام حیدر آوازوں اور فنکاروں کی پرکھ کے معاملے میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ جس شخص نے نور جہاں جیسی گلوکارہ کو موقع دیا اور فلم ساز کی مخالفت کے باوجود لتا منگیشکر سے فلمی گانا ریکارڈ کرایا تھا وہ جی ایم، درانی کے معاملے میں چوک گیا۔ ماسٹر غلام حیدر نے جی ایم درانی کا گانا سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ تم گلوکار نہیں بن سکتے۔ بلاوجہ اپنا وقت ضائع نہ کرو کوئی اور کام کرو۔‘‘

ماسٹر غلام حیدر جیسے موسیقارکا یہ فیصلہ ان کے لیے انتہائی مایوس کن تھا لیکن حوصلہ شکن نہیں تھا۔ دراصل جن لوگوں کو کسی کام کی لگن ہوتی ہے وہ اتنی جلدی حوصلہ نہیں ہارتے۔ ہم نے تو ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کہ واقعی فنکار بننے کے لائق نہ تھے مگر ساری زندگی اسی کوشش میں لگے رہے اور اپنی زندگی ضائع کردی۔ انہوں نے حاصل بھی کچھ نہیں کیا لیکن ان کے اندر کی لگن نے آخر دم تک ہار نہیں مانی۔

اب جی ایم درانی کے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا کہ وہ ریڈیو سے گلوکاری اور صدا کاری کرنے پر اکتفا کریں مگر قدرت جب کسی پر مہربان ہوتی ہے تو اس کے لیے از خود راستے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جی ایم درانی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ لاہور اس زمانے میں فلمی صنعت کا مرکز تھا۔ بہت سے کامیاب اور آرزو مند لوگ جوق در جوق بمبئی کا رخ کر رہے تھے اور یہ سلسلہ جاری ہی رہتا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ