فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر514

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر514
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر514

  

سلویسٹر اسٹالون کا تذکرہ برسیل تذکرہ ہی آگیا کیونکہ اس کے ایک معروف و مقبول فلمی کردار ’’ریمبو‘‘ سے متاثر ہو کر افضل خان کا کردار تخلیق کیا گیا تھا۔ اس ڈرامے میں افضل خان کا نام ریمبو تھا۔ ریمبو ریمبو جان ریمبو۔ اس ڈرامے میں ریمبو، جان ریمبو جیسی حرکتیں کرتا تھا۔ اسی کے انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کردار کو آپ اصلی ریمبو کی پیروڈی سمجھ لیجئے مگر افضل خان نے اس خلوص سے یہ پیروڈی پیش کی کہ وہ بالآخر متعلقہ لوگوں کی نظروں میں آگیا۔

پھر ایک دن اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ افضل خان جس نے ٹی وی سیریز’’گیسٹ ہاؤس‘‘ میں ریمبو کا کردار ادا کیا تھا عن قریب ایک فلم ’’ہیرو‘‘ میں مرکزی کردار میں پیش کیا جائے گا۔ خبر پڑھ کر یقین نہیں آیا کہ ہمارا کوئی فلم ساز افضل خان جیسے ادکار کو اپنی فلم میں ہیرو کے طور پر روشناس کرائے گا۔ بعض اوقات اخبارات من گھڑت خبریں بھی شائع کر دیا کرتے ہیں جو کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارتیں۔ سوچا یہ بھی شاید اسی قسم کی خبر ہوگی مگر کچھ عرصے بعد اس کی فلم کی شوٹنگ کی خبریں شائع ہونے لگیں۔ ’’ہیرو‘‘ میں صاحبہ نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ اظہار قاضی اس فلم کے ہیرو تھے۔ رنگیلا بھی اس کی کاسٹ میں شامل تھے۔ا فضل خان نے اپنے لیے فلمی نام ’’ریمبو‘‘ ہی پسند کیا تھا۔ اسی نام سے انہوں نے اپنی پہلی فلم میں کام کیا اور پھر اس کے بعد اسی نام سے شہرت حاصل کی۔ فلم ’’ہیرو‘‘ کے فلم ساز عبدالرشید اور ہدایت کار سعید رانا تھا۔ اس فلم نے زیادہ کامیابی تو حاصل نہیں کی مگر ناکام بھی نہیں ہوئی۔’’ہیرو‘‘ ۱۹۹۲ء میں نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر513پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ ریمبو کا فلمی دنیا میں آغاز تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میں اداکاری کی۔ مزاحیہ کردار ادا کرتے رہے پھر ترقی پا کر سائیڈ ہیرو بنا دیئے گئے۔ اس کے بعد فلم کے دو ہیروز میں سے ایک ہیرو ریمبو بھی ہونے لگے۔ گویا انہوں نے اپنے فلمی ہیرو بننے کے کواب کو تعبیر پاتے ہوئے دیکھ لیا ۔ ایک علاقائی ٹی وی سینٹر کی ڈراما سیریز میں جمعدار کا کردار کرنے والا یہ معمولی شکل و صورت کا نوجوان بالآخر فلموں میں ہیرو بن گیا۔ جب انہیں سوٹ بوٹ اور جدید لباس میں دیکھا تو شکل و صورت اچھی لگی اور شخصیت بھی۔ کہتے ہیں کامیابی سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔ یہ مقولہ بارہا سچا ثابت ہوا ہے۔ ریمبو کے معاملے میں بھی اس کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی۔

ریمبو عرف افضل خان کو اگر خوش قسمت ترین انسانوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ انہوں نے جو چاہا، وہ پا لیا۔ فلمی ہیرو بننے کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر بھی انہیں مل گئی۔ اداکارہ صاحبہ سے محبت کی اور شادی کرنے کا خواب دیکھا۔ بظاہر یہ بہت مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا لیکن اللہ مہربان تو جگ مہربان۔

صاحبہ اپنے وقت کی نامور ہیروئن نشو کی صاحب زادی ہیں۔ نشو وہ خوش نصیب اداکار ہیں جنہوں نے اپنی پہلی فلم میں پاکستان کے دو سپر اسٹارز محمد علی اور ندیم کی ہروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ ادکاریسے کنارہ کش ہو چکی ہیں۔ جب ان کی بیٹی صاحبہ نے فلموں میں ادکاری کی خواہش ظاہر کی تو نشو نے اس کی مخالفت کی مگر لاڈلی بیٹی کی ضد کے آگے ہار مان لینے پر مجبور ہوگئیں۔ صاحبہ نے فلموں میں بتدریج ترقی کا سفر طے کیا۔ پہلے وہ فلم کی دو ہیروئنوں میں سے ایک ہیروئن ہوا کرتی تھیں پھر باقاعدہ اکلوتی ہیروئن کا درجہ بھی حاصل کر لیا۔

ریمبو کو اپنی پہلی ہی فلم میں صاحبہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ صاحبہ کو اس نے پہلی نظر میں ہی پسند کر لیا تھا۔ جب قریب سے دیکھا اور ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو یہ پسندیدگی محبت میں تبدیل ہوگئی۔ جس نے سنا ہنس کر رہ گیا۔ صاحبہ کو بھلا ریمبو سے شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ا س کے لیے اچھے رشتوں کی کیا کمی ہے؟ صاحبہ نے پہلے پہلے ریمبو کو اہمیت کے لائق نہیں سمجھا لیکن ریمبو کی مستقل مزاجی کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے مگر ابھی راہ میں نشو کی مخالفت کی مضبوط دیوار حائل تھی۔

اخبار والوں کو ایک موضوع ہاتھ لگ گیا۔ آئے دن خبریں شائع ہونے لگیں۔

’’ریمبو اور صاحبہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔

میں ریمبو کو صرف ساتھی ادکارہ سمجھتی ہوں صاحبہ۔

ہم دونوں کی ملاقات صرف فلموں کے سیٹ تک محدود ہے ریمبو۔

ریمبو صاحبہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

صاحبہ کی والدہ نشو کی طرف سے شدید مخالفت۔

میں نے تو کبھی ریمبو سے شادی کے بارے میں سوچا تک نہیں ۔ صاحبہ۔

صاحبہ کی شادی بہت دھوم سے ہوگی۔ جب ہوگی تو سب کو معلوم ہو جائے گا۔ نشو۔‘‘

ایک سال سے زائد عرصے تک خبروں کا بازار گرم رہا۔

اور پھر ایک دن ریمبو اور صاحبہ کی شادی ہوگئی۔ اب وہ والدین بھی بن چکے ہیں۔

ریمبو کی کامیابیوں کو دیکھ کر ہمیں شفیق الرحمن کا ایک افسانہ یاد آگیا۔ اس کہانی میں ہیرو کے دوست شیطان ایک لڑکی سے محبت کرتے ہیں مگر اظہار کی جرات نہیں ہے۔ ہیرو سے شیطان کی حالت زار نہیں دیکھی جاتی مگر وہ انکی کم ہمتی اور جرات کے فقدان سے بھی واقف ہیں۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے شیطان سے کہا گیا کہ ہمالیہ کی ایک چوٹی پر ایک کئی سو سالہ بزرگ کا ڈیرا ہے۔ اگر ان سے تعویذ مل جائے تو دنیا کا کوئی کام ناممکن نہیں رہتا۔ ایک اسکیم کے تحت ہیرو چند روز کے لیے غائب ہوجاتا ہے۔ واپس لوٹتا ہے تو ایک تعویذ اسکے پاس ہے۔ اس تعویذ کو اگربتی اور لوبان کی دھونی دی جاتی ہے اور تعویذ شیطان کے بازو پر باندھ دیتے ہیں۔ شیطان بہت مایوس ہیں مگر دوست کہتے ہیں کہ یہ نہ بھولو کہ بزرگ کا تعویذ تمہارے پا س ہے ہر مشکل اس کی برکت سے آسان ہو جائے گی۔

شیطان کو امتحان میں پاس ہونے کی توقع نہیں ہے۔ دوست کہتے ہیں کہ فکر نہ کرو کورس کی کچھ کتابیں تم پڑھو۔ کچھ ہم پڑھتے ہیں بے فکری سے کمرا امتحان میں جاؤ مگر شیطان کو کچھ بھی یاد نہیں ہے۔

’’بے فکری سے نقل کرو۔ کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘

اگر پکڑا گیا تو۔۔۔‘‘

’’فکر مت کرو۔ تم پکڑے نہیں جا سکتے۔ جانتے نہیں کہ بزرگ کا تعویذ تمہارے بازو پر بندھا ہوا ہے۔‘‘

شیطان امتحان میں نقل کرتے ہیں اور بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتے ہیں۔ ہیروئن کا باپ بہت بڑا افسر ہے۔ ہیروئن شیطان سے کہتی ہے کہ تم پہلے صاحب روزگار ہو جاؤ اسکے بعد ڈیڈی سے رشتے کی بات کرنا۔ ملازمت کا ایک اشتہار دیکھ کر دوست شیطان کو فوراً درخواست دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شیطان کو امید تو نہیں ہے مگر تعویذ کے سہارے وہ درخواست دیتے ہی۔ انہیں انٹرویو کے لیے طلب کیا جاتا ہے مگر وہ سخت نروس ہو جاتے ہیں۔

’’یار پریشان کیوں ہوتے ہو؟ ڈر کس بات کا۔ یاد نہیں بزرگ کا تعویذ تمہارے بازو پرہے۔‘‘

شیطان انٹرویو دینے جاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اب وہ برسر روزگار ہیں دوست کہتے ہیں ’’اب تم ہیروئن کے باپ سے جا کرملو۔‘‘

’’یار وہ تو بہت انگریز قسم کا آدمی ہے سب اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘

’’وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جا کر اس سے ملو اور رشتے کی بات کرو۔‘‘

’’مگر۔۔۔‘‘

’مگر اگرکچھ نہیں بھول گئے؟ بزرگ کا تعویذ تمہارے بازو پرہے۔‘‘

اس دوران میں ہرکامیابی پر تعویذ پوش تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ موم جامے سے وہ تانبے کی اور پھر چاندی کی ڈبیا میں رکھ دیا جاتا ہے۔

شیطان ہیروئن کے باپ سے ملنے جاتے ہیں کئی دن تک ملاقات نہیں ہوتی۔ اس کے گھر پرایک انتہائی خوفناک شکل کاکتا بھی ہے جس کو دیکھ کر شیطان کی روح فنا ہو جاتی ہے۔

دوست کہتے ہیں’’وہ دفتر میں نہیں ملتا تو تم گھر چلے جاؤ۔‘‘

’’مگر اس کا خوفناک کتا۔۔۔‘‘

’’تم کتے سے ڈرتے ہو۔ ارے شیر بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایک مضبوط چھڑی لے جاؤ کتا گڑ بڑ کرے تو دو چار چھڑیاں رسید کرو۔ دم دبا کر بھاگ جائے گا۔‘‘

’’تم نہیں جانتے۔ وہ کتا خوں خوار کتا ہے۔‘‘

’’عجیب احمق ہو۔ ارے بھول گئے تمہارے بازو پر بزرگ کا تعویذ ہے۔‘‘

شیطان ایک مضبوط سی چھڑی لے کر ہیروئن کے گھر جاتے ہیں۔ گیٹ کے اندر قدم رکھتے ہی خوں خوار کتا دانت نکوستا ہوا بھونک کر ان پر لپکتا ہے۔ پہلے تو وہ ڈر جاتے ہیں مگر پھر بزرگ کے تعویذ کی برکت یاد آجاتی ہے جوں ہی وہ حملہ آور ہوتا ہے اور نزدیک آتا ہے یہ اسکو جھڑ کر دو چار چھڑیاں رسید کرتے ہیں۔ وہ دم دبا کر اندر بھاگ جاتا ہے۔ شیطان کا حوصلہ مزید بلند ہو جاتا ہ۔

اندر سے ملازم باہر آتا ہے پوچھتا ہے’’کیا کام ہے؟‘‘

’’صاحب سے ملنا ہے۔‘‘

شیطان اس کا اپنا نام بتاتے ہیں۔ ان کی خود اعتمادی اور خوش لباسی سے مرعوب ہو کر وہ اندر چلا جاتا ہے اورپھر شیطان کوصاحب کے پاس لے جاتا ہے۔

صاحب ایک با رعب افسر نما انسان ہیں۔ آدھے سے زیادہ انگریز بھی ہیں۔ پائپ منہ سے نکال کر پوچھتے ہیں ’’کیا بات ہے؟ مجھ سے تمہیں کیا کیام ہے؟‘‘شیطان مرعوب ہو کرحوصلہ ہارنے لگتے ہیں مگر پھر تعویذ یاد آجاتا ہے اور اسکے ساتھ ہی ان کی خود اعتمادی بھی لوٹ آتی ہے۔

یہ بتاتے ہیں کہ میں آپ کی صاحب زادی سے شادی کا خواستگار ہوں۔

صاحب غور سے ان کا جائزہ لیتے ہیں’’ہوں۔کیا کرتے ہو؟‘‘

’’فی الحال امتحان پاس کرنے کے بعد فلاں جگہ ملازمت کا آغاز کیا ہے۔‘‘

وہ حقارت سے دیکھتے ہیں’’اتنی معمولی نوکری۔‘‘

’’سر۔جب آپ نے ملازمت کا آغاز کیا ہوگا تو آپ نے بھی معمولی کام سے شروع کیا ہوگا۔ آج آپ اتنے بڑے افسر ہیں۔ اللہ نے چاہا تو ایک دن میں بھی ایسا ہی بلند مقام حاصل کر لوں گا۔‘‘

صاحب صاف انکار کر دیتے ہیں کہ تم میری بیٹی کے لائق نہیں ہو۔ آئندہ مجھ سے ملنے کی کوشش نہ کرنا۔

شیطان مایوس ہو کر واپس لوٹتے ہیں۔

دوست کہتے ہیں’’ارے مایوس کیوں ہوتے ہو۔ جانتے نہیں تمہارے بازو پر بزرگ کا تعویذ ہے۔‘‘

’’مگر اس نے آئندہ ملاقات سے منع کر دیا ہے۔‘‘

’’تو پھر کیا ہوا۔ تم اس کا پیچھا نہ چھوڑو۔ جیت تمہاری ہوگی تعویذ کی برکت سے۔‘‘

شیطان صبح سویرے صاحب کے گھر کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ انہیں نظر انداز کرکے دفتر چلے جاتے ہیں۔ دفتر سے باہر نکلتے ہیں تو شیطان باہر کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ پھر نظر انداز کرکے کار میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں مگر شیطان دوستوں کے مشورے کے مطابق ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔گھر سے دفترت اور دفتر سے گھر تک ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ وہ کلب جاتے ہیں تو یہ وہاں موجود ہیں کسی پارٹی یا تقریب میں جاتے ہیں تو شیطان وہاں بھی موجود ہیں۔ صبح، شام، رات۔ ہر وقت اور ہر جگہ شیطان سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ آخر وہ تنگ آکر ایک دن انہیں بلاتے ہیں اور اپنی بیٹی کی شادی ان سے کر دیتے ہیں۔

دوست خوش ہیں۔ شیطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ ان کی ہر خواہش پوری ہو گئی ہے۔ ہر ناممکن کام ممکن ہوگیا ہے۔ تعویذ کو اب سونے کی ڈبیا میں رکھ دیا گیا ہے۔

ایک دن شیطان کہتے ہیں ’’آخر دیکھنا تو چاہئے کہ بزرگ نے تعویذ میں کیا لکھا ہے؟‘‘

ایک روز کمرے میں سفید براق چاندنیوں کا فرش بچھایا جاتا ہے۔ اگر بتیاں اور لوبان جلایا جاتا ہے۔ سب لوگ با وضو ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ایک روحانی ماحول طاری ہو چکا ہے۔ فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کانوں میں گونج رہی ہے۔ ہر طرف نور ہی نور ہے۔

ایک صاحب بسم اللہ پڑھ کر تعویذ کا خول اتارتے ہیں۔ اس کے اندر ایک موم جامے میں لپٹا ہوا کاغذ ہے۔ کاغذ کھول کر سب بے تابی سے پڑھتے ہیں۔ ٹیڑھے میڑھے انہتائی بد خط میں ایک فلمی گیت کا مکھڑا لکھا ہوا ہے۔

آیا کرو ادھر بھی مری جاں کبھی کبھی

دراصل شفیق الرحمن نے اپنے مخصوص انداز میں ہنسی ہنسی میں یہ سبق دیا ہے کہ اگر قوت ارادی سے کام لیا جائے اور احساس کمتری سے نجات حاصل کرکے خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا جائے تو کوئی کام بھی ناممکن نہیں ہے۔

جی چاہتا ہے کہ کسی دن ریمبو عرف افضل خان سے پوچھیں کہ انہوں نے کون سا تعویذ استعمال کیا تھا جو زندگی کے سفر میں ہر قدم پر کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ شیطان کی کامیابیوں کا راز تو ایک جعلی تعویذ تھا۔ ریمبو کی کامیابی کا کیا راز ہے؟

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ