حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر64

12 اپریل 2018 (12:44)

سید سلیم گیلانی

ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہؓ سے درِ کعبہ کھولنے کی خواہش کی تھی مگر عثمانؓ نے نہایت سختی سے انکار کر دیا تھا۔ اُس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا: 

’’عثمان! ایک دن آئے گا جب یہ کنجی میرے پاس ہو گی اور میں جسے چاہوں گا اُسے تفویض کر دوں گا‘‘۔

اس پر عثمانؓ نے کہا تھا:’’شاید اُس دن تمام قریش مر چکے ہوں گے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تھا:

’’نہیں وہ تو قریش کی سچی عزت کا دن ہو گا‘‘۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر63 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم خانہء کعبہ کی طرف بڑھے تو میں اور اُسامہؓ بھی اُن کے پیچھے پیچھے تھے۔ انہوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ اندر جانے دیا۔ اور عثمانؓ سے کہہ کر اندر سے تالا لگوا دیا۔ ہزاروں کے مجمعے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہء کعبہ کے اندر جانے کا شرف ہمارے حصے میں آیا۔ میرے لئے خانہء کعبہ میں داخل ہونے کا یہ پہلا موقع تھا۔ چاروں طرف دیواروں پر بُتوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی مورتیں بھی بنی ہوئی تھیں ۔ اُن کے ہاتھوں کے پاس پانسے کے تیر رکھے تھے جن سے کفارِ مکہ فال نکالتے تھے۔ انہیں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ ان کافروں کو برباد کرے۔ واللہ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ دونوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی۔‘‘

یہ کہہ کر انہوں نے عثمانؓ کو حکم دیا کہ ساری دیواریں صاف کر دی جائیں اور دونوں پیغمبروں کی مورتیاں اُسی وقت اُٹھوا کر دوسرے بتوں کے ساتھ آگ میں پھنکوا دیں۔ دوسری اور آخری مرتبہ حجتہ الوداع پر جب مجھے اور اُسامہؓ کو ایک مرتبہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہء کعبہ کے اندر جانے کی سعادت حاصل ہوئی تو خانہء کعبہ کی دیواریں اندر سے بالکل صاف ہو چکی تھیں اور جاہلیت کے نقش و نگار کا نشان بھی موجود نہیں رہا تھا۔

چند منٹ اندر ٹھہر کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھلوایا اور بابِ کعبہ میں کھڑے ہو کر فتح مکہ کا تاریخی خطبہ دیا۔ میں اور اسامہؓ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے حاضرین اور اُن کے چہروں کے تاثرات دیکھ رہے تھے۔ اس وقت تک حرمِ کعبہ لوگوں سے بھر چکا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل شانہ، کی حمد کی، پھر اُس کا شکر ادا کیا کہ اُس نے اسلام کو باطل کی تمام قوتوں کے مقابلے میں سرخرو کیا۔ خطبے میں ’’لاتثریب علیکم الیوم یغفراللّٰہ لکم وھو الرحم الرٰحمین‘‘ کے الفاظ ادا ہوئے تو چاروں طرف سناٹا چھا گیا۔ وہ ہو گیا جس کی لوگوں کو توقع نہیں تھی۔ اس سناٹے میں بھی ان الفاظ کی بازگشت سنائی دے رہی تھی بلکہ سناٹا ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کے ذہنوں پر سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کا طلسم چھایا رہا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں