حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر65

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر65
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر65

  

فتحِ مکہّ کی اذان

خطبہ ختم ہوتے ہی ظہر کا وقت ہو گیا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر مجھے اپنے پاس بلایا اور بیت اللہ شریف کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔

صلحِ حدیبیہ کے ایک سال بعد عمرۃ القضا کے موقع پر بھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خانہء کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی تھی۔ اُس موقع پر ابُوقبیس پر بیٹھے سردارانِ قریش کے تاثرات مجھ تک پہنچ گئے تھے مگر آج جب فتحِ مکہ کے دن مجھے خانہء کعبہ کی چھت پر سے اذان دینے کا حکم ملا تو مجھ میں کسی اور کے تاثرات محسوس کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ میں خود اپنے تاثرات کے سمندر میں ہچکولے کھا رہا تھا۔ میں بلالِ حبشی آج دوسری مرتبہ جدّالانبیاء ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے اس مرکزِ توحید کی بلندیوں سے اللہ وحدہ‘ لاشریک کی کبریائی اور سید الکونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینے والا تھا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر64 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مسجدِ نبویؐ میں میری پہلی اذان کو رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی تکمیل سے تعبیر فرمایا تھا۔ آج خانہء کعبہ سے میری تکبیرِ الٰہی کو وہ کل بنی نوعِ انسان کے لئے تطہیرِ کعبہ کا اعلان بنانا چاہتے تھے۔ یہ بلالِ حبشی کی معراج تھی۔

میں بابِ ملتزم کے ساتھ چھت سے لٹکے ہوئے رسوں کے سہارے کعبے کی دیوار پر چڑھنے لگا۔ ہانپتا کانپتا، ہاتھ کہنیاں پاؤں ٹکاتا، آہستہ آہستہ اوپر ہوتا گیا اور آخرکار چھت کی منڈیر پکڑ کر اوپر پہنچ گیا۔ بہت تھک گیا تھا۔ جوانی کا زور اب نہیں رہا تھا۔ پچاس سال کا ہونے والا تھا مگر جوش و جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔ فوراً لمبے لمبے سانس لے کر اپنے آپ کو سنبھالا اور اذان دینے کے لئے کھڑا ہو گیا۔

کعبے کے گرد ایک بہت بڑے دائرے میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ بُت جن پر ایک سال پہلے میری اذان سُن کر لرزہ طاری ہوا تھا، اس وقت آگ میں جل چکے تھے۔ اُن سے دھواں اُٹھ رہا تھا۔ کعبہ بُتوں سے پاک ہو چکا تھا۔ اس مرکز توحید میں بُتوں کا وجود ہماری عبادت کی لطافت میں کثافت کے عنصر کی طرح شامل رہتا تھا۔ نیچے لوگوں کا جمِ غفیر تھا۔ دور دور تک جہاں جہاں نگاہ پہنچتی تھی، لوگ ہی لوگ تھے۔ مکے کی شکل سامنے میز پر رکھے ہوئے پیالے جیسی ہے۔ بیچ میں خانہء کعبہ اور چاروں طرف پیالے کی دیواروں کی طرح اوپر جاتا ہوا پہاڑی سلسلہ جس پر شہر آباد ہے۔ کعبے کی چھت سے اُس دن میری نظر ادھر بھی اُٹھ گئی جہاں رباح اور حمامہ رہتے تھے، میرے والدین جن کے یہاں میں کیڑوں مکوڑوں کی سی حیثیت میں پیدا ہوا تھا، جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔

صحنِ کعبہ تو بھرا ہوا تھا ہی چاروں طرف پہاڑیوں کی بلندیوں پر بھی لوگ جمع تھے۔ میں نے اذان شروع کی۔ میرے پہلے ہی لفظ پر نیچے کھڑے ہجوم کا شور تھم گیا۔ دوسری تکبیر کہی تو مکمل سکوت طاری ہو گیا۔ میری اذان میں اُس دن ایک غیر معمولی تاثر تھا۔ یہ میں اس لئے کہہ سکتا ہوں کہ میری اذان کے الفاظ، سامنے پہاڑیوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس مجھ تک پہنچ رہے تھے۔ یہ بازگشت مجھے بہت اچھی لگی۔ معلوم ہوتا تھا تمام کائنات میرے ساتھ توصیفِ ربانی، شہادتِ رسالت اور دعوتِ صلوٰۃ میں شریک ہے۔ وہ حریم قدس جسے اسلام کے معمارِ اوّل حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا تھا، ہزاروں سال بُت کدہ رہنے کے بعد آج پھر ایک حبشی غلام کے نغمہء توحید سے گونج رہا تھا۔ یہ اذان اسلامی انقلاب کی کامیابی کا اعلان تھی۔

میں نے شہادتِ رسالت دیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا۔ اُن کا سر تشکر سے جھکا ہوا تھا۔ اس بدرِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد فرشِ کعبہ پر ستاروں کا ہجوم تھا جن میں سے نہایت روشن ستاروں کا ایک جھرمٹ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ ابوبکرؓ، عمرؓ، علیؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ، ابوذر غفاریؓ، اور بھی بڑی بڑی روشنیاں تھیں، فاصلے فاصلے سے، بغیر کسی ترتیب کے عجب چکا چوندھ کا عالم تھا۔ ایک کہکشاں تھی جو حرم کعبہ کے فرش پر اُتر آئی تھی۔ یہی وہ عظیم فتح تھی جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے سورہۂ فتح کی آیت میں فرمایا تھاجو حدیبیہ سے مدینہ جاتے ہوئے راستے میں نازل ہوئی تھی۔ یہ وہی کامیابی تھی جس کی بشارت طریقِ جرت پر مدینہ جاتے ہوئے سورۃ القصص کی آیت میں دی گئی تھی۔

میں اکثر رات کو سوتے سوتے چونک کر اُٹھ بیٹھتا ہوں اور اُس دن کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں۔ کیا شہر ایسے بھی فتح ہوتے ہیں یا وہ اِک خواب تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ واقعہ تھا ہی اتنا عجیب، اتنا حسین، اتنا رُوح پرور کہ اُسے خواب ہی کہا جا سکتا ہے۔ حقیقتیں ایسی کب ہوتی ہیں مگر پھر میں اپنی یادوں کے دریچوں سے ہوتا ہوا وہاں پہنچ جاتا ہوں۔ وہ حقیقت جو خوابوں سے بھی حسین تھی، میرے سامنے آ جاتی ہے۔ کیا واقعی یہ سب کچھ ہوا تھا؟ میرے سامنے بالکل ایسے ہی! میری ہی اذان کی بازگشت تھی یا مکے کی پہاڑیاں خود وحدتِ الٰہی اور رسالتِ محمدؐ کا اعلان کر رہی تھیں۔

اس وقت بھی جب میں اپنی دہلیز پر بیٹھا اپنی چھڑی کے دستے پر ٹیک لگائے سامنے پہاڑیوں کے پیچھے غروب ہوتے ہوئے سورج کو دیکھ رہا ہوں، میں اپنے آپ سے یہی سوال پوچھ رہا ہوں۔ مگر نہیں یہ خواب نہیں ہے! تاریخ نے واقعی خانہء کعبہ کی چھت سے میری اذان سُنی ہے۔ آج بھی وقت کے ایوانوں میں فتحِ مکہ کی اُس اذان کی گونج سنائی دے رہی ہے جو فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کے قدیم گھر میں مجھ بندۂ ناچیز کی آواز میں ادا ہوئی تھی۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر66 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال