فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر517

12 ستمبر 2018 (14:17)

علی سفیان آفاقی

لاہور کے ایک ریستوران میں اتفاق سے جی ایم درانی کی ملاقات اے شاہ شکار پوری سے ہوگئی۔ اے شاہ شکار پوری اداکاری کے میدان میں کوشاں تھے۔ بعد میں وہ بہت کامیاب کامیڈین، فلم ساز اور ہدایت کار بھی بن گئے تھے۔ جی ایم درانی نے انہیں اپنی ساری کتھا سنائی اور ماسٹر غلام حیدر کے فیصلے سے بھی آگاہ کر دیا۔ اے شاہ شکار پوری ریڈیو پر درانی صاحب کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے جی ایم درانی کو مشورہ دیا وہ بمبئی جا کر قسمت آزمائی کریں ممکن ہے کامیابی حاصل ہو جائے۔

اے شاہ کی حوصلہ افزائی نے جی ایم درانی کے دل میں امید کی نئی کرن پیدا کر دی اور وہ اے شاہ شکار پوری کے ساتھ ہی لاہور سے بمبئی چلے گئے۔ بمبئی میں اے شاہ ان کے لیے ایک مخلص دوست اور مددگار ثابت ہوئے۔ ان کے بمبئی میں فلم سازوں اور ہدایت کاروں سے تعلقات تھے۔ انہوں نے جی ایم درانی کو ان سب سے متعارف کرایا اور ان کے شوق اور صلاحیتوں کے بارے میں بتایا۔

سہراب مودی اس زمانے میں فلم ’’صید ہوس‘‘ بنا رہے تھے۔ اس کی کہانی آغا حشر کاشمیری کے مشہور ڈرامے پر ممبنی تھی۔ اس وقت سہراب مودی فلم ساز، ہدایت کار اور اداکار کی حیثیت سے کافی کامیاب ہو چکے تھے۔

سہراب مودی نے جی ایم درانی کا ٹیسٹ لیا اور پاس کر دیا۔ اس طرح انہیں گلوکاری کے علاوہ اداکاری کے لیے بھی چن لیا گیا۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق جی ایم درانی کو تیس روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا گیا جو کہ ایک نو آموز گلوکار کے لیے معقول معاوضہ تھا۔ اسی طرح فلمی صنعت میں جی ایم درانی کے سفر کا آغاز ہوا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر516پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’صید ہوس‘‘ میں درانی صاحب نے گیت بھی گائے اور اداکاری بھی کی۔ فلم میں انہیں ایک مزاحیہ کردار دیا گیا تھا اداکاری ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی تھی دراصل ان کا بنیاید مقصد تو گلوکار بنناتھا۔

صید ہوس میں جی ایم درانی بہت اچھی گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر ان کی گائی ہوئی ایک غزل بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ غزل بہت اچھی تھی طرز بھی اچھی تھی۔ جی ایم درانی نے اس گیت میں اپنا کلیجا نکال کررکھ دیا تھا بول یہ تھے

مستوں پہ عین فرض ہے پینا شراب کا

گھٹی میں میری پڑ گیا قطرہ شراب کا

پہلی فلم کے پہلے نغمے سے ہی انہیں مقبولیت حاصل ہوگئی۔

سہراب مودی نے انہیں اپنی اگلی فلم میں گلوکار اور اداکار کی حیثیت سے منتخب کرلیا۔ جی ایم درانی کی امید بر آئی تھی مگر ادھر پشاور سے انہیں خصوصی بلاوا آگیا تو وہ اچانک بمبئی سے پشاور روانہ ہوگئے۔

سراب مودی کو انکی یہ حرکت بہت ناگوار گزری اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے جرم میں انہیں برطرف کر دیاگیا۔ وہ اس برطرفی سے نا واقف تھے۔ پشاور سے واپس بمبئی پہنچنے پر انہیں یہ بری خبر ملی تو وہ پریشان ہوگئے۔ ایک بہت اچھے فلم ساز ادارے میں کام کرنے کاموقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا اور وہ ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔ انہوں نے بمبئی کی فلمی صنعت میں بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر دوبارہ موقع نہ مل سکا۔ مایوس ہو کر انہوں نے گراموفون کمپنی کا رخ کیا جہاں انہیں ملازمت تو مل گئی مگر ان کی پوسٹنگ دہلی میں ہوگئی۔ مرتاکیا نہ کرتا۔ وہ بمبئی سے بچشم نم دہلی روانہ ہوئے اور گراموفون کمپنی میں اردو اور پشتو کے گیت ریکارڈ کراتے رہے۔ کام وہ گراموفون کمپنی میں کر رہے تھے مگر ان کا دل فلموں میں اٹکا ہوا تھا۔

قدرت نے انہیں دوبارہ موقع دیا۔ انکی ملاقات مشہور موسیقار رفیق غزنوی سے ہوگئی۔ رفیق غزنوی ان دنوں ریڈیو سے وابستہ تھے۔ اس ملاقات کا یہ فائدہ ہوا کہ رفیق غزنوی نے انہیں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازمت دلوا دی۔ ریڈیو سے وہ گلوکاری اور صدا کاری کرتے رہے۔ یہ ایک اچھی ملازمت تھی سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی آواز ریڈیو کے ذریعے سارے ملک میں پھیل رہی تھی مگرجی ایم درانی مطمئن نہیں تھے۔ وہ فلموں میں گلوکاری کا مزہ چکھ چکے تھے اب کوئی اور کام انہیں نہیں بھاتا تھا۔ آخر ایک دن انہوں نے ریڈیو کی ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ رفیق غزنوی اور دوستوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی مگران کے سر پر تو فلم کا بھوت سوار تھا اور یہ وہ نشہ نہیں تھا جسے ترشی اتار دیتی۔ انہوں نے ریڈیو سے استعفیٰ دے دیا اور بمبئی کا ٹکٹ کٹالیا۔

بمبئی میں ایک بارپھر وہ تھے اور فلمی نگار خانوں کے پھیرے۔ بہت کوشش کی مگر گوہر مراد ہاتھ نہ آیا۔ فلموں میں گلوکاری یا اداکاری کا کوئی موقع نہیں مل سکا تھا۔ ادھر بیکاری اور بے روزگاری نے انہیں پریشان کر دیا تھا۔ وہ بمبئی چھوڑ کرجانے کا ارادہ کر رہے تھے کہ اچانک رفیق غزنوی کا تبادلہ دہلی سے بمبئی کے ریڈیو اسٹیشن میں ہوگیا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ جی ایم درانی نے اپنی ناکامیوں کی داستان سنائی اور واپس جانے کے ارادے سے مطلع کیا مگر رفیق غزنوی اس بات کے حق میں نہ تھے۔ انہوں نے انہیں سمجھا بجھا کر ایک بار پھر ریڈیو میں کام کرنے پر آمادہ کر لیا۔ اس طرح انہیں بمبئی میں رہنے کا بہانا مل گیا۔ اب پھر وہ تھے اور ریڈیو کے نغمے لیکن فلموں میں گلوکاری کرنے کی تمنا دل میں باقی تھی۔

جب کوئی کام درست ہونا ہوتا ہے تو اس کے لیے بہانے بن جاتے ہیں۔ قدرت کو جی ایم درانی کو فلموں میں ایک اورموقع فراہم کرنا تھا شاید اسی لیے انہیں بمبئی میں قیام کرنے کا موقع ملا تھا۔ایک روز جی ایم درانی کی ملاقات موسیقار نوشاد سے ہوئی جو کہ اس وقت بھی نامور موسیقار تھے۔ نوشاد اس زمانے میں ایک فلم ’’درشن‘‘کی موسیقی بنارہے تھے۔ موسیقار نوشادنے اس فلم میں گلوکار کی حیثیت سے جی ایم درانی کے دو گیت ریکارڈ کیے۔ بطور پلے بیک سنگر ’’درشن‘‘ ان کی پہلی فلم تھی۔ اس سے پہلے ان کے گائے ہوئے گانے خود ان پرہی فلمائے گئے تھے مگر اس باران کی آواز کسی اور اداکار کے کام آرہی تھی۔

’’درشن‘‘نمائش کے لیے پیش ہوئی اور بے حد کامیاب ہوئی۔ جی ایم درانی کے گائے ہوئے گیت بھی بہت پسند کیے گئے۔ گلوکار اور پلے بیک سنگر کی حیثیت سے یہ ان کی پہلی کامیابی تھی جو موسیقار نوشادکی موہون منت تھی۔ نوشادان کی صلاحیتوں سے متاثر ہو گئے تھے اس لیے انہوں نے اپنی اگلی فلم ’’اسٹیشن ماسٹر‘‘ کا ایک نغمہ بھی جی ایم درانی کی آواز میں ریکارڈکیا۔ نوشادکی موسیقی اورجی ایم درانی کی آواز ان دونوں کے ملاپ نے ایک بہت اچھے نغمے کو جنم دیا۔ یہ ایک نیم کلاسیکی اور لوک طرز پر مشتمل تھا۔ یہ گانا بہت مقبول ہوا۔ اس طرح پلے بیک سنگر کی حیثیت سے جی ایم درانی ایک مستند گلوکار تسلیم کر لیے گئے۔

جب قسمت مہربان ہوتی ہے تو سبھی مہربان ہوجاتے ہیں۔ جی ایم درانی کو ایک اور اچھا موقع اس وقت ملا جب لاہور سے جانے والے موسیقار خواجہ خورشید نے اپنی پنجابی فلم ’’کڑمائی‘‘ کے لیے گلوکار کی حیثیت سے جی ایم درانی کا انتخاب کیا۔ بمبئی میں خواجہ خورشید انور کی پہلی فلم تھی۔ کام کے دوران میل جول بڑھا تو خواجہ صاحب نے ان کے شوق کے پیش نظر جی ایم درانی کو اپنا معاون بھی مقررکردیا۔

’’کڑمائی‘‘ میں جی ایم درانی کے گائے ہوئے نغمے بہت مقبول ہوئے۔ اس فلم میں واسطی نے مرکزی کردار ادا کیا تھاجو مزاحیہ اندازکا تھا۔ جی ایم درانی کی آواز میں ریکارڈ کیے ہوئے تمام گانے واسطی پرہی فلمائے گئے تھے۔

واسطی اپنے دور کے بہت اچھے اورپسندیدہ اداکار تھے۔ ہلکے پھلکے کردار اداکرنے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ لیکن بعض فلموں میں واسطی نے کریکٹر ایکٹر اور ولن کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ وہ دراز قدا ور متناسب جسم کے وجیہہ آدمی تھے۔ اردوکا تلفظ اتنا اچھا تھا کہ جب اردو فلموں میں کام کرتے تھے توکوئی لوگ انہیں اردو داں ہی سمجھتے تھے۔ حالانکہ ان کاتعلق پنجاب سے تھا بلکہ غالباً وہ لاہورک ے رہنے والے تھے اداکاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے تھے جہاں انہوں نے بہت مقبولیت اور شہرت حاصل کی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں