فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر518

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر518
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر518

  

’’کڑمائی‘‘ پنجابی فلم تھی اورظاہرہ ہے کہ خالص پنجابی زبان میں بنائی گئی تھی اس لیے جاب انہوں نے خوب صورت لب و لہجے کے ساتھ پنجابی کردار اداکیا تو بہت سے لوگ جنہیں ان کے بارے میں علم نہ تھا بہت حیران ہوئے ۔ واسطی کا کردار اس فلم میں مزاحیہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پنجابی فلموں میں مارپیٹ، تشدد اور بے ہودگی کانام و نشان تک نہ ہوتا تھا۔ ہلکی پھلکی مزاحیہ فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ پنجابی فلموں کا یہ انداز قیام پاکستان کے بعد کافی عرصے تک قائم رہا پھر جب تشدد پر مبنی غنڈوں کی فلموں کو مقبولیت حاصل ہوئی تو فلم ۔۔۔والوں کی روایتی بھیڑ چال کے مطابق سبھی فلمیں مارکٹائی اور تشدد سے بھرپور نظر آنے لگیں۔ اس رجحان نے پہلے تو تعلیم یافتہ طبقے کو پنجابی فلموں سے دور کیا اور پھر خواتین اور اہل خاندان کے ساتھ فلمیں دیکھنے والوں نے بھی ان سے پرہیز کا رویہ اپنا لیا۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ پاکستان کی سبھی پنجابی فلمیں اس مخصوص رنگ میں رنگی نظر آنے لگیں۔ فلمی صنعت کو اس رجحان سے کافی نقصان پہنچا کیونکہ یہ فلمیں دیکھنے والوں کی تعداد محدود سے محدود تر ہوتی چلی گئی۔ بہرحال یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس کے بارے میں پہلے بھی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔

جی ایم درانی کی بمبئی کی فلمی دنیا میں اب ایک معتبر اور مقبول پلے بیک سنگر کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ انہوں نے اس کے بعد کئی فلموں میں اپنی آوازکا جادو جگایا۔ رتن،نمستے، شاردا ، مرزا صاحبان، سبق وغیرہ ان کی مشہور فلمیں ہیں۔ انہوں نے بہت سے نامور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں نوشاد، خواجہ خورشید انور قابل ذکر ہیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر517پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ادور میں جی ایم درانی ایک ممتاز گلوکار تصورکیے جاتے تھے۔ انکے گائے ہوئے چند مقبول نغمے یہ ہیں۔

دنیا میں سب جوڑے جوڑے

عاشق پھریں ہیں اکیلے(فلم شاردا)

ہاتھ سینے پہ جو رکھ دو تو قرار آجائے۔

فلم ’’مرزا صاحباں‘‘ کا یہ نغمہ انہوں نے فلم کی ہیروئن نورجہاں کے ساتھ گایا تھا۔

کھائے گی ٹھوکریں یہ جوانی کہاں کہاں (فلم مرزا صاحبان)

خاموش فسانہ ہے۔

فلم ہیر رانجھا کے لیے یہ گانا انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ گایا تھا۔

فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کے مصنف فلم ساز اور ہدایت کار دلی صاحب تھے اور یہ فلم اردو زبان میں تھی۔ ’’ہیر رانجھا‘‘ قیام پاکستان کے بعد نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔

گائے چلا جا ۔ گائے چلا جا

ایک دن تیرا بھی زمانہ آئے گا

فلم ’’ہم لوگ‘‘ کا یہ گانا بے انتہا مقبولہوا تھا۔ اس فلم کے مصنف و ہدایت کار ضیا سرحدی اور موسیقار روشن تھے۔ فلم ’’ہم لوگ‘‘ اپنے عہد کی منفرد اور مختلف فلم تھی جس نے بمبئی کی فلمی صنعت میں ایک نئے رجحان کوجنم دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ حقیقی زندگی سے نزدیک اور مظلوم طبقے سے تعلق رکھنے والی ہی فلم کاروباری لحاظ سے بھی بے حد کامیاب ہوئی تھی۔

اسی زمانے میں جی ایم درانی نے فلم بھائی جان ، کالے بادل ، چاندنی رات اور دیگر کامیاب فلموں کے لیے گانے گائے جو سارے ملک میں گائے جاتے تھے۔ ’’ہم لوگ‘‘ میں جی ایم درانی نے ایک مختصرکردار بھی اداکیا تھا۔ فلم ’’چاندنی رات‘‘ میں جی ایم درانی کا یہ نغمہ بہت مقبول ہوا تھا۔

چھورے کی ذات بڑی بے وفا

اس کے موسیقارنوشاد تھے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس فلم کے فلم ساز نسیم بانوکے شوہر اور سائرہ بانو کے والد ایم احسان تھے جن کا تعلق لاہور سے تھا اور بعد میں وہ نسیم بانو کو طلاق دے کر لاہور واپس آگئے تھے۔ یہاں ہماری ان سے ایک دوسرسری ملاقاتیں ہوئی۔ بہت خوب صورت اور وجیہہ آدمی تھے۔ شائستگی اور بلند اخلاق کا نمونہتھے۔ بہت آہستگی سے بات کرتے تھے۔ ان سے ہماری ملاقات مزنگ چونگی پر واقع ایک سینما میں ہوئی تھی۔ اس سے ملحق کوٹھی میں ہی وہ رہا کرتے تھے بعد میں اس کوٹھی کی جگہ یہ سینما تعمیر کیا گیا تھا۔

جی ایم درانی کا یہ دور انتہائی کامیابی اور عروج کا دور تھا مگرجب محمد رفیق فلموں میں جلوہ گرہوئے تو انہوں نے دوسرے مرد گلوکاروں کو گہنا دیا جس طرح کہ لتا منگیشکر نے دوسری تمام خاتون گلوکاراؤں کو پس منظرمیں ڈال دیا تھا۔ رفتہ رفتہجی ایم درانی کی مانگ کم ہونے لگی تو انہوں نے فلموں میں ادکاری شروع کردی۔ اور کئی فلموں میں کریکٹر ایکٹر کے طور پر کام کیا لیکن گلوکار اورپلے بیک سنگر کی حیثیت سے جی ایم درانی رفتہ رفتہ قصہ پارینہ بن کر رہ گئے۔ اس کا ایک سبب تو یہ تھا کہ انہوں نے گلوکاری کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے کیا تھا دیکھا جائے تو وہ پنکج ملک، سہگل، سریندرکے ہم عصر تھے۔ یہ سبھی اپنے دورکے مایہ ناز اور مقبول ترین گلوکارتھے۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب موسیقی کے نئے انداز اور نئی آوازیں فلمی دنیا میں روشناس ہوئیں تو یہ سبھی فنکار ایک ایک کرکے گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوگئے حالانکہ ان سب کے گائے ہوئے نغمات آج بھی مقبول ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلمی موسیقی میں لوک دھنوں اور نیم کلاسیکی راگ راگنیوں پر مبنی نغمات کا رواج کم ہونے لگا اور جدید مغربی انداز کی موسیقی نے اس کی جگہ لے لی تو پرانے لوگ قصہ پارینہ بن کر رہ گئے۔ اس کے علاوہ گلوکاروں کی ایک نئی کھیپ فلمی دنیا میں آگئی جنہوں نے بہت جلد اپنا سکہ جما لیا۔ ان میں محمد رفیع سر فہرست تھے۔ ان کے علاوہ مکیش اور کشور کمار کے علاوہ طلعت محمود نے بھی گلوکاری میں مقام پیدا کر لیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان قمقموں کے سامنے پرانے چراغ کب تک جل سکتے تھے۔ ویسے بھی فلمی دنیا میں اداکاروں اور فنکاروں کے علاوہ موسیقاروں اور ہدایت کاروں کا بھی ایک مخصوص دور ہوتا ہے جس کے بعد گنتی کے نہایت اعلیٰ پائے کے فنکار ہی رہ جاتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد وہ بھی بتدریج پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی زمانے کا دستور ہے۔ جی ایم درانی بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ محمد رفیع جیسا گلوکار جس کا فلمی دنیا میں ڈنکا بجتا تھا ایک وقت ایسا آیا جب اسے بھی نظر انداز کیا جانے لگا۔ موسیقاروں میں نوشاد نے کافی ثابت قدمی دکھائی مگر اس کے بعد وہ بھی پس پردہ چلے گئے۔ اب ان لوگوں کے فن کے غیر فانی نقوش باقی رہ گئے ہیں جو کبھی مٹائے بھی نہیں مٹیں گے۔

جی ایم درانی مستقل طور پر بمبئی میں مقیم رہے۔ البتہ وہ اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے کبھی کبھی پشاور کا چکر لگا لیا کرتے تھے لیکن ان کا انتقال بمبئی میں ہوا۔ پرانی موسیقی کا دور ختم ہوا تو پرانے زمانے کے عظیم موسیقار اور گلوکار بھی بھلا دیئے گئے۔ جی ایم درانی اس معاملے میں تنہا نہیں ہیں۔ انکے عہد کے دوسرے عظیم اور مایہ ناز فنکار بھی اب نئی نسل کے لیے اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔

جی ایم درانی کا انتقال چند سال قبل ہوا ہے۔ ان کے انتقال کی خبر بھی شاید اخبارات میں شائع نہیں ہوئی۔ ممکن ہے چند فلمی اخبارات کے فلمی ایڈیشن میں چند سطور کی خبر شائع کی گئی ہو لیکن اتنے بڑے فنکار کی وفات پر جو آخری خراج تحسین ادا کرنا چاہئے تھا جی ایم درانی اس سے محروم ہی رہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ