اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر 30

20 اگست 2018 (15:20)

آغا شورش کاشمیری

طوائف کے تعلقات کا واحد معیار روپیہ ہے ، روپیہ کے بل پر آپ ان کے ہاں شب و روز محفل لگائیں تو انہیں اعتراض نہیں ہوگا، یہ ان کا پیشہ ہے۔ وہ روپیہ اور وقت تبادلہ کی جنس خیال کرتے ہیں۔ یہ ’’ ملازم‘‘ ہو کر بھی ’’ رقص و نغمہ‘‘ کی دوکانداری میں آزاد ہیں۔ شب کو تشریف لے جائیے، گانا سُنیے ، گرہ کھولئے ، روپیہ نہ رہے تو اُٹھ آئیے۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں کوئی تیسری راہ نہیں وہ لوگ ’’ سادہ تعلقات‘‘ کے قائل ہی نہیں، اور وہ انہیں مجلسی تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے، آپ نے ’’ قدم رنجہ‘‘ فرمایا ، نائکہ نے تنقیدی شکنوں سے استقبال کیا۔ سازندوں نے کن آنکھوں سے تاکا ’’ مغنیہ‘‘ نے رواجاً آداب عرض کیا، آپ نگاہ میں جچ گئے تو چائے حاضر ہیں، اوراگر جچے نہیں تو پھر ظاہری برتاؤ بھی غائب ، گانا سنیے ، پیسے دیجئے۔ السلام و علیکم وعلیکم السلام ، مابخیر شما بسلامت اور یہ چند منٹ کی رسمی گُفت گوسازوں کی تیاری تک ہوتی ہے۔ طبلے پہ تھاپ پڑی، مغنیہ نے اُنگلیوں سے غیر مرئی بول کا دائرہ باندھا ، قہقہے منقطع ہوگئے اور نغمہ جھڑ گیا۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسنط نمبر 29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نایاب کی حنائی انگلیاں ستار تک پہنچ چکی تھیں، اُس نے ستار کے لہجہ میں بہت کچھ کہا، ہم میں سے کوئی بھی ستار کی زبان نہ جانتا تھا، اتنا معلوم تھا کہ اس کے موجد امیر خسرو تھے اور تار میں باج کی آواز مدہم سُر سے ملائی جاتی ہے۔ دو پتیلی تار کھرج کی سُررکھتے ہیں ، چوتھا تار فولادی پنچم کا سُر نکالتا ہے پیتل کے لرز کاتار سپتک کے پنچم کی سُر نکالتا ہے، دونو چکارے کھرج کی آواز دیتے ہیں اور باج کے علاوہ جوتار ہوتے ہیں وہ اس کا کام دیتے ہیں ، آہستہ آہستہ دھیمے دھیمے سروں میں ایک آگ سی سُلگتی گئی ، اور دیکھتے دیکھتے شعلہ جوالہ بن گئی۔ 

ہمارے نزدیک یہ ستار کے تاروں کا کمال نہ تھا ، بلکہ اُن حنائی انگلیوں کا جادو تھا جو پتیل کے تاروں میں ڈھلتے ڈھلتے نغمہ بن گیا تھا۔۔۔ آبشار سیمیں۔

نایاب کی پیشانی پر قطرے ڈھلک رہے تھے ، الحمدی نے کہا، ’’ ان تاروں میں جان پیدا کرنے کے لئے بھی رُوح صرف کرنی پڑتی ہے، جہاں شاعر کا ذہن سوچتا ہے، وہاں مغنیہ کی انگلیاں بولتی ہیں۔‘‘ 

نایاب نے داغ کی غزل چھیڑی ، حافظ نے روک دیا ، خواجہ نے کہا ’’ اقبال گاؤ‘‘۔ نایاب نے ذہن کے کسی گوشے میں نقب لگائی، ماتھے پر بل ڈالا اور بول اُٹھایا۔

کافر گیسوؤں والوں کی بات بسریوں ہوتی ہے 

حسن حفاظت کرتا ہے اور جوانی سوتی ہے

قاضی نے وہیں کاٹ دیا ، یہ شعر اقبال کا نہیں ساغر نظامی کا ہے۔ 

نایاب نے کچھ اور سوچنا چاہا ، پھر معذرت چاہی۔ 

’’ معاف کیجئے، اس وقت ذہن میں اقبال کا کوئی شعر نہیں آرہا ہے۔‘‘ 

’’ جی ہاں یوں بھی آپ کی طرف کے لوگ اقبال سے جی چراتے ہیں۔‘‘

’’ جی نہیں ، میں نے تو پنجابی گیت بھی یاد کئے ہیں۔‘‘

’’ عقیدتاً یا ضرورتاً‘‘، قاضی نے طنز سے پوچھا۔

’’ جی آپ خیال فرمائیں۔‘‘

الحمدی نے بات کا رُخ پھیرتے ہوئے کہا۔

’’ میاں ضرورت کیا کچھ نہیں کراتی، یہ بھی تو ضرورت ہی ہے، نائیڈو نایاب کا مخفف، بچہ ہے، ابھی پکے راگ سیکھ رہی ہے، یہی کوئی دس بارہ غزلیں اور وہ بھی آپ ایسے کرم فرماؤں کی یاد کرلی ہیں۔ انہیں گا لیتی ہے۔‘‘

تھوڑے دن ٹھہر جائیے، کلامِ اقبال بھی حفظ کرلے گی۔

’’ فریدہ کے ہاں چلو، اس کی آواز کا خاصا چرچا ہے۔‘‘

’’ لیکن وہ تو مدیروں کی نہیں ، وزیروں کی ہے۔ آج کل سیدھے منہ بات نہیں کرتی۔ عشاق نے اس کی عادتیں بگاڑ دی ہیں۔‘‘ اسمٰعیل نے کہا، 

’’ تو کیا وہ اس تقریب میں نہ ہوگی؟‘‘ قاضی نے استفسار کیا۔

’’ ہونا چاہیے لیکن ہم لوگ وہاں کیونکہ بیٹھ سکتے ہیں ، اس میں یا تو وہ لوگ بیٹھیں جن کی جیب بھرے ہوں یا وہ جائیں جن کی غیرت ، مری ہو۔‘‘ خواجہ نے کہا۔

’’ لیکن خان نے تو علیحدہ انتظام کر رکھا ہے، اُوپر بالکونی میں چق لگا دی گئی ہے‘‘

’’ چلتے ہیں ، جیسی فضا ہوگی ویساظے کرلیں گے، یوں بھی بارہ بجے شب سے پہلے ایسی محفلیں کہاں منعقد ہوتی ہیں۔ ہمیشہ اس قسم کی تقریبات آدھی رات کو شروع ہوتی ہیں۔ پہلی نصف رات تو ہر بائی کے اپنے کاروبار کی ہوتی ہے۔‘‘

ممتاز نے پکارا ۔۔۔ ’’ آغا جی ، آپ کہاں پھر رہے ہیں ، آئیے نا خالہ وزیر بیٹھی ہیں، وہ آپ کو پوچھ رہی تھیں۔‘‘ 

’’ آج تو آپ کے ہمسایہ میں جشن ہے ، کیا آپ لوگ نہیں جا رہے ہیں؟‘‘

’’ جی ہاں ! اس جشن کے لئے تو شہناز نے سلمٰی کا نیا سوٹ سلوایا ہے ،وہ دیکھئے نا ذوق کے قصیدوں کی طرح بوجھل ہوگئی ہے۔‘‘ 

اور یہ ممتاز کا خاص رنگ ہے۔ 

وزیر ، ممتاز باولے والی کی ماں ، آٹھوں گانٹھ کید اور ایک کھری نائکہ ہے، اس کے چہرے کی ہر تیوری میں بہت سی کہانیاں خوابیدہ ہیں، اُس کی آنکھوں میں ابھی تک ماضی کی دمک ہے، آواز میں بھی کھنک ہے، بدن ڈھلک گیا ہے، لیکن رنگ کی ڈلک باقی ہے، لہجہ میں تمکنت ہے۔ وزیر نے گامے سے کہا حقہ لاؤ ، حقہ آگیا، اور تے کو منہ سے لگا کر بیٹھ گئی جیسے کوئی بانکا چودھری گدی پر بیٹھے بیٹھے گوڑیوں کی سودا گری کرتا ہے۔‘‘

’’ آغا جی کہیئے طبعیت کیسی ہے؟‘‘

’’ خدا کا شکر ہے آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘

’’ بس خدا کا احسان ہے، جو بیت چکا ہے اس کا غم نہیں ، جو بیت رہا ہے اُس کا گلہ نہیں ، جو بیتنے والا ہے اُس کی فکر نہیں ، اس چل چلاؤ کا نام ہی زندگی ہے۔‘‘

’’ ممتاز آپ کی بہت تعریف کرتی ہے، کبھی یہ تو فرمائیے کہ جو زمانہ بیت چکا ہے اُس کی یادیں بھی آپ نے محفوظ رکھی ہیں۔‘‘

’’ جی ہاں ! یادیں ہی تو باقی رہ جاتی ہیں اور اب تو ایک آہ سر کے سوا کچھ باقی نہیں رہا ۔۔۔ آپ جانتے ہیں زندگی میں جو لمحے یاد رہنے کے قابل ہوتے ہیں وہیں ہیں جو بسر کئے جا چکے ہیں۔‘‘ 

ابو یوسف نے کہا۔’’ یہ تو آسکروائلڈ کامقولہ ہے۔‘‘ 

ممتاز نے بات اُچک لی اور چٹکی لیتے ہوئے کہا۔

’’ جی ہاں ، خالہ وزیر بھی تو پچھلی جون میں سائرہ تھیں۔‘‘

وہی قہقہے ۔۔۔ حُسن اتفاق سے صابری بھی آگئی، قاضی کہہ رہا تھا 

’’ ممتاز کو سمجھنا بڑا ہی مشکل ہے۔‘‘

صابری نے کہا۔ کیوں یہ بھی کوئی بجھارت ہے۔‘‘ 

’’ بجھارت نہیں یہ تو ’’ نارومنی ‘‘ ہے۔‘‘ 

’’ وہ کون تھا؟‘‘ 

ممتاز نے حسبِ دستور قہقہہ لگایا اور کہا 

’’ قاضی جی کاہمزلف ۔‘‘ 

وزیر نے کہا، قاضی جی ! عورتیں اس لئے نہیں بنی ہیں کہ ان کو سمجھا جائے وہ تو محبت کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔‘‘ 

’’ ٹھیک ہے لیکن محبت بھی تو ایک جنسی جذبہ ہے۔‘‘

’’ جی ہاں! ہم اور آپ سب جنسی جذبے ہی کی پیداوار ہیں۔‘‘ ممتاز نے پھر ٹوکا۔۔

خواجہ نے قاضی سے کہا۔۔۔ ’’ بھائی ! ممتاز سے جیتنا سہل نہیں یہ تو ذہانت کی پھلجڑی ہے۔‘‘

ممتاز نے سگریٹ سُلگایا اور وزیر سے کہا۔’’ خالہ ! یہ اپنی کتاب کے لئے کچھ سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘

’’ مثلاً؟‘‘ وزیر نے دریافت کیا 

مثلاً ،( ممتاز نے آنکھیں مارتے ہوئے کہا ) جوانی کا تجربہ ؟‘‘ 

وزیر کھلکھلاتی ، جیسے وہ اس کے لئے تیارنہ ہو۔

ممتاز نے حسبِ عادت پھر چٹکی لی اور کہا۔’’ تجربہ نام ہے جگ بیتی یا آپ بیتی کا۔‘‘ 

ابو یوسف نے کہا۔’’ جی نہیں آسکرو وائلڈ کے الفاظ ہیں ۔۔۔ ہم کرتے ہیں غلطیاں اور اس کا نام رکھتے ہیں تجربہ۔‘‘

وزیر نے کہا ۔’’ بالکل ٹھیک ہی وجہ ہے کہ دنیا ایک دوسرے کے تجربوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتی ہے، بلکہ ہر انسان تیا تجربہ کرتا ہے۔‘‘ 

’’ ٹھیک ہے انسان ہمیشہ ہی تجربوں کی گزر گاہ میں رہا ہے ، لیکن یہ آپ کے ہاں بڑی بوڑھی عورتوں کو نائکہ کیوں کہتے ہیں۔‘‘ 

’’ ماخذ کیا ہے؟ یہ تو آپ ادیب لوگ ہیں جانتے ہیں ، لیکن جب رنڈی بوڑھی ہوجاتی ہے تو اس کا نائکہ کہتے ہیں۔‘‘ 

’’ ممکن ہے یہ نائک کی تانیت ہو۔‘‘ ممتاز بولی۔

’’ یہ بھی ہوسکتا ہے پہلے زمانہ میں جو سپاہی گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا اس کو اخیر عمر میں نائک کا عہدہ ملتا تھا۔ یہی حال رنڈی کا ہے، جب وہ اُتارو ہوچکتی ہے تو بوڑھی ہونے پر نائکہ کہلاتی ہے۔‘‘ قاضی نے کہا۔

’’ لیکن اصل لفظ نائچہ تو نہیں ؟‘‘ خواجہ نے کہا۔

’’ جی نہین ، نائچہ کے مغنی ہیں حقے کے نے ۔‘‘ اسمٰعیل نے جواباً کہا۔

’’ تو پھر یہ نائچہ ہی ہے ( ممتاز نے گفتگو قطع کرتے ہوئے کہا ) حقے کی نے بھی منہ لگی ہوتی ہے اور نائکہ بھی اس رنڈی کو کہتے ہیں جو منہ لگ چکی ہو۔‘‘ 

سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

وزیرنے کہا ۔۔۔ ’’ آپ بوڑھی رنڈی کو لقب کہہ لیجئے، اس میں قدرے حقارت پائی جاتی ہے، مثلاً آج کل نااہل کو خلیفہ ، جاہل کو علامہ، اناڑی کو اُستاد جی اور عطائی کو شفاء الملک کہتے ہیں۔‘‘ 

’’ آپ نے کبھی اپنے ماضی پر غور کیا ہے؟‘‘ 

’’ جی ہاں ، ہر شخص کبھی نہ کبھی اپنے ماضی پر ضرور سوچتا ہے ، لیکن اس پر پچھتانا فضول ہے، ہمیں زندگی کے سبق اس وقت ملتے ہیں کہ ہمارے لئے بیکار ہو چکے ہیں، ان گمشدہ دنوں کے لئے تلملانا بے سود ہے۔ ماضی اور حال میں چنداں فرق نہیں ، محض احوال و ظروف ہی بدلتے ہیں، جہاں تک اسباب و نتائج کا تعلق ہے وہ ہمیشہ ایک ظاہری فرق کے ساتھ یکساں رہتے ہیں۔ صدیوں پُرانے انسان میں اس کے سوال کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ اس نے وقت ، فاصلہ اور زمین کو ایک دوسرے سے ملا دیا ہے۔ اس کی تبدیلیاں جسم کی ہیں ، روح کی نہیں ، اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف ’’ میک اپ ‘‘ کا ہے، زندگی یا تو مشینی ہوگئی ہے یا کاروباری باقی نفع و ضرر کی خصوصیتیں پُرانی ہی ہیں۔‘‘ 

وزیر کی ان باتوں نے ہم سب کو متاثر کیا ، گو اس کے الفاظ اتنے صاف نہ تھے لیکن اس کی باتوں کا مفہوم اس سے بھی زیادہ واضح تھا۔ 

’’ آپ نے کچھ پڑھا بھی ہے ؟‘‘ قاضی نے پوچھا۔

’’ اگر پڑھنے سے مراد کتابیں ہیں تو سمجھئے کہ حرف اُتھا لیتی ہوں، البتہ بے شمار انسان ضرور پڑھے ہیں ، سینکڑوں انسان ! دادی اماں کی کہولت کا زمانہ دیکھا، ماں کی جوانی کا دور دیکھا ، پھر خود ایک دور بتا کر یہاں تک پہنچی ہوں، بیٹی کا کروفر بھی دیکھا ہے ، اور پوتیاں بھی آنکھوں کے سامنے چوکڑی بھر رہی ہیں ، گویا پانچویں پشت سے انسان پڑھ رہی ہوں ، مگر معاف کیجئے، مرد کا عشق محض دھوپ کا تڑاقا ہے۔‘‘ 

’’ اور عورت کا عشق ؟‘‘ خواجہ نے سوال کیا 

’’ عورت کا عشق ، ممکن ہے آپ کو کوئی پھبتی کسنا چاہیں ، لیکن یہ کبھی نہ بھولئے کہ عورت محض جذبات پر جیتی ہے ، وہ زندگی میں ایک ہی دفعہ محبت کرتی ہے ، بار بار نہیں ، اگراُس کی محبت اُس سے دغا کرتی ہو، تو پھر وہ محبت نہیں کرتی ، انتقام لیتی ہے؟‘‘ 

ؔ ؔ ’’ اور کسی ؟‘‘ قاضی نے دریافت کیا، 

وزیر کا چہرہ کسی کے لفظ سے دمک اُٹھا۔۔۔ اور گونجدار آواز میں کہا، 

’’ کسی۔۔۔! کسی مردوں کی فسطائیت کے خلاف ایک احتجاج ہے؟‘‘

’’ احجاج یا انتقام،‘‘ 

’’ کچھ کہہ لیجئے، لیکن الفاظ بدل دینے سے حقیقت نہیں بدل جا یا کرتی۔‘‘

اگر آپ کی رائے تسلیم کرلی جائے تو یہ احتجاج یا انتقام خود عورت ذات کے لئے ہتک کا موجب ہے۔‘‘ 

امتیاز نے بات کو کاٹتے ہوئے کہا’’ ہتک کا موجب نہیں اذیت ناک ہے آپ عصمت فروشی کو انتقام یا احتجاج کہہ رہے ہیں خدا کا قہر ہے۔‘‘ 

ممتاز نے کہا ’’ کیا رام کہانی لے بیٹھے ہیں آپ؟ اس تھکا فضیحتی پر صلوٰۃ بھیجئے۔

’’ملاحظہ فرمائیے، یہ الفاظ کا تنزل ہے۔ آپ ہیں کہ عورت کے تنزل پر ہلکان ہو رہے ہیں ، کہاں رام کہانی اور کہاں صلوٰۃ؟ اور کہاں یہ متبذل مفہوم؟‘‘ قاضی نے بات کا رُخ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔ اور ممتاز لقمہ دیتے ہوئے بولی۔ 

اب رات کا نصف قریب تھا ، جو لوگ الم غلم تے وہ پھیرتے لگا کے جا چکے تھے، کچھ اللپٹو ادھر اُدھر تاکئے جھانکتے گُذر رہے تھے۔ بعض کن رسیے’’ پنا ہیں‘‘ چاہ رہے تھے ، کہیں کہین چو باروں میں آواز کی قرنا پھونکی جا رہی تھی ، اور کئی شراب میں بدمست واہی تباہی بکئے اپنے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

(جاری ہے ۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں