حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط نمبر 10

22 مئی 2018 (13:47)

زید حامد

دمشق کی جنگ کے دوران کچھ اور غیر معمولی واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ مدینہ میں خلیفہ اوّل امیر المومنین سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کا انتقال ہوگیا اور سیدنا عمر فاروقؓ ان کی جگہ خلیفہ مقرر ہوئے۔دمشق کی جنگ کے دوران ہی حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مکتوب حضرت ابوعبیدہؓ کو لکھا کہ جس میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے معزولی کے احکامات تھے اور یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ مسلمانوں کے نئے سپہ سالار اعلیٰ ہونگے۔ ابو عبیدہؓ اس خط سے بہت دکھی ہوئے، لیکن امیر المومنین کا حکم تھا کہ جس کی تعمیل لازم تھی۔ یہاں پر سیف اللہؓ کا کردار دیکھیے۔ جب ان کو یہ کہا گیا کہ آپؓ کو معزول کرکے ایک عام سپاہی بنایا جارہا ہے، تو کیا آپؓاس حکم کو سر آنکھوں پر تسلیم کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں حضرت خالدؓ اطمینان سے کہتے ہیں کہ اگر میں عمرؓ کے لیے لڑتا تھا تو اب نہیں لڑوں گا ،لیکن اگر میں اللہ رب العزت کے لیے لڑتا تھا، تو اسی طرح ایک سپاہی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہونگا! اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ خالدؓ کی تلوار اسی طرح چلتی رہی کہ جس طرح ایک مجاہد اور اللہ کے سپاہی کی تلوار چلتی ہے۔

آج اگر ہمارے جرنیلوں کا یہ کردار ہو کہ سپہ سالاری سے راتوں رات اس کو سپاہی بنادیا جائے اور پھر بھی اس کے جذبہ ایثار و قربانی میں کمی واقع نہ ہو، جب اس طرح کے لشکر ہوں کہ رات کے عبادت گزار اور دن کے شہسوار ہوں اور جب ضرارؓ جیسے سپاہی ہوں، تو پھر نئی تاریخ رقم ہوتی ہے، نئی جنگی حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے، نئے جنگی مسودے لکھے جاتے ہیں اور پھر وہی تاریخ بنتی ہے کہ جس طرح روم اور فارس کے خلاف اس وقت کے مسلمانوں نے رقم کی تھی۔

حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط نمبر 9 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے مابین گہری محبت تھی اور جب خالدؓ نے ان سے یہ پوچھا کہ اب میرے لیے اگلا حکم کیا ہے، تو ابو عبیدہؓ نے اگلا حکم یہ دیا کہ آپؓ میرے نائب ہیں اور نائب کی حیثیت سے جنگ کی کمان آپؓ سنبھالیں گے۔ یعنی سیدنا عمر فاروقؓ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی اور حضرت ابو عبیدہؓ نے جنگی حکمت عملی اور سپہ سالار کی حیثیت سے جو فیصلہ کیا،وہ میدان جنگ کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے امت کے اعلیٰ ترین مفاد میں بھی تھا۔

خالدؓ کی معزولی سے مسلمانوں کو دکھ و ملال ضرور ہوا، لیکن حضرت عمرؓ کے پیش نظر ایک حکمت تھی اور آپؓ نے بعد میں اس کی وضاحت بھی کہ لوگوں کو شاید یہ خیال ہونے لگا تھا کہ مسلمانوں کو فتح خالدؓ کی وجہ سے ہوتی ہے اور ان کا اللہ پر توکل و یقین کمزور پڑ رہا ہے۔ اس لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ،ورنہ انکے دل میں ذاتی طور پر حضرت خالدؓ کے لیے کوئی برائی یا بدگمانی نہیں تھی۔ ان کے مابین جو معاملات ہوتے ،اللہ کے دین کے لیے ہوتے نہ کہ ذاتی بغض و عناد کی بناء پر مبنی، اور کبھی کوئی ایسا اختلاف نہ ہوا کہ جس سے کوئی فتنہ یا فساد کا اندیشہ ہوتا۔ دونوں ہی حضرات کرشماتی شخصیت کے مالک تھے اور اپنی اپنی جگہ امت کی مضبوط چٹانیں۔

دمشق فتح ہونے کے بعد اب بازنطینی حکمران ہر قل کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ ملک شام ان کے ہاتھ سے نکلنے والا ہے۔ اب ان کے دل میں مسلمانوں کی ایسی دہشت و ہیبت گھر کر گئی تھی کہ وہ عرب کہ جن کو کچھ عرصے پہلے تک وہ صرف مال و دولت کے لالچ سے خرید کر یاڈرا دھمکا کر بھگادیا کرتے تھے، اب حالات یہ تھے کہ ان کی اپنی سلطنت کا سب سے زرخیز صوبہ انہی عربوں کے ہاتھ میں جانے والا تھا۔ لیکن قسطنطنیہ میں رومی بازنطینی سلطنت اب بھی پورے شان و شوکت کیساتھ اپنی جگہ قائم تھی۔ تمام عیسائی دنیا اور بازنطینی سلطنت میں اعلان جنگ کردیا گیا اور دنیا کے ہر کونے سے عیسائی لشکر شام پہنچنا شروع ہوگئے ۔یہ تاریخ کی پہلی باقاعدہ صلیبی جنگ کی تیاری تھی۔اب بیت المقدس خطرے میں تھا کہ جو عیسائی دنیا کے لیے بھی انتہائی متبرک جگہ ہے۔ ان کو یہ معلوم تھا کہ اگر مسلمانوں نے دمشق پر قبضہ کرلیا ،تو جلد ہی بیت المقدس بھی ان کے قبضے میں ہوگا۔ اس طرح ہر قل نے ایک عام جنگ کا اعلان کردیا اورایک بہت بڑا لشکر جرار تیار کیا گیا کہ جوتقریباً ڈھائی لاکھ کیل کانٹے سے لیس سپاہ پر مشتمل تھا۔ اس جنگ کو تاریخ جنگ یرموک کے نام سے یاد کرتی ہے۔ 

بلا شبہ آج کی مرتب شدہ جدید انسانی تاریخ کی بنیاد جنگ یرموک سے ہی پڑتی ہے۔ اگر جنگ یرموک میں بازنطینی ریاست اور صلیبی جنگجو کہ جو پوری دنیا سے اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوئے تھے، کامیاب ہو جاتے تو ان کا اگلا ہدف یقینی طور پر مدینہ کی اسلامی ریاست ہوتی اور یہ بات مسلمان بخوبی جانتے تھے۔یرموک کی یہ لڑائی اسلامی ریاست کیلئے بھی بقاء کا سوال تھی۔ لہذا جب یرموک میں غیر مسلموں نے اپنے آپکو متحدکرنا شروع کیا ،تو مدینہ تک کے مسلمان بے چین ہوگئے۔ حضرت عمرؓ نے تمام مسلمان علاقوں سے مجاہدین طلب کرکے یرموک کی جانب روانہ کیے۔ان مجاہدین کی قیادت حضرت ابوعبیدہؓ کے کہنے پر حضرت خالدؓ نے سنبھال لی تھی۔

دوسری جانب صلیبیوں کو بھی معلوم تھا کہ اگر جنگ یرموک میں انکوشکست ہوتی ہے تو پھر شام کا پورا صوبہ اور بیت المقدس کا شہر بھی انکے ہاتھ سے نکل جائیگا اور اسکے بعد صرف مصر ہی ان کے پاس باقی بچے گا ۔ شام پر وہ اپنا کنٹرول تقریباً کھو چکے تھے۔ جنگ یرموک ہی اب ان کی آخری امید تھی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بھی ایک فیصلہ کن جنگ کیلئے اتنا بڑا لشکر تیار کیا۔

دریائے یرموک کے کنارے لڑی جانے والی اس جنگ نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ رومیوں کو اپنی تعداداور عسکری قوت پر اتنا غرور اور گھمنڈ تھا کہ انہوں نے جنگی حکمت عملی کے حوالے سے ایک فاش غلطی کر ڈالی۔ انہوں نے پڑاؤ کیلئے یرموک کے میدان کا انتخاب کیا کہ جس کے تین اطراف میں دریا تھے، جبکہ صرف ایک طرف میدان تھا۔وہاں مسلمان فوج نے آکر اپنا پڑاؤ ڈال لیا۔ اسکے علاوہ خشکی کا صرف ایک چھوٹا سا راستہ تھا کہ جو رومی فوج کی پشت کی جانب تھا۔

رومیوں کا خیال تھا کہ ڈھائی لاکھ کے لشکر کے ساتھ چالیس ہزار مسلمانوں کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل بات نہیں اور ان کی نظر میں شکست اور پسپائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ کی جنگی حکمت اس قدرعمدہ اور جدید تھی کہ اُس وقت کے مروجہ اصول اور قوانین اس جنگی ذہانت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ظاہراً چالیس ہزار کی فوج ڈھائی لاکھ کے لشکر کو شکست نہیں دے سکتی،اور یہی وہ عددی برتری کا تکبر ہے کہ جو بڑی بڑی فوجوں کو چھوٹی فوجوں سے مقابلے کے وقت ہوتا ہے۔

مسلمانوں نے یرموک کی طرف روانگی سے پہلے ایک حیرت انگیز کام کیا کہ جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی۔چونکہ جنگ یرموک کیلئے تمام علاقوں سے مسلمانوں کو جمع کیا گیا تھا ،لہذا مسلمانوں نے اس وقت یہ محسوس کیا کہ اب وہ شاید ان تمام علاقوں کی حفاظت نہ کرسکیں کہ جو وہ اس سے پہلے شام میں فتح کرچکے تھے۔ لہذا اانہوں نے حمص کے عیسائیوں کو یہ کہہ کر جزیہ واپس کردیا کہ ہم آپ کی حفاظت نہیں کرپائیں گے اور معاہدے کے تحت لی گئی رقم واپس لوٹا دی گئی۔ آج تک تاریخ انسانیت میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک فاتح قوم، مفتوح قوم کے غریب اور مسکین لوگوں کے ساتھ اس قدر غیرت اور عزت کا برتاؤ کرے۔حمص کے عیسائی مسلمانوں کے اخلاق اور کردار سے اتنے متاثر ہوئے کہ دعا کرنے لگے کہ مسلمان جلد فتح یاب ہو کر واپس لوٹیں۔یہ واقعہ یقیناً مسلمانوں کے عظیم اخلاقی کردار کی ایک زندہ تصویر ہے۔(جاری ہے)

حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں