جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 39

24 جولائی 2018 (19:04)

شاہد نذیر چودھری

میں نے محسوس کیا تھا کہ عبداللہ کا میرے ساتھ رویّہ تبدیل ہوگیا ہے۔وہ پہلے ہی بڑا مودب تھا ،میرے ساتھ بھی انتہائی نرمی سے بات کرتا تھا ۔اس سہ پہر اس نے اپنے ساتھ بیٹھا کر مجھے کھانا بھی کھلایا ۔میں کافی دبادبا اورخاموش بیٹھارہاتھا ۔یہ تبدیلی میں نے خود محسوس کی کہ میرے اندر اٹھنے والی بے قراری مفقود ہوگئی ہے۔

عبداللہ میرے سامنے بیٹھ کر قرات کررہا تھا لیکن بار بار میری جانب بھی دیکھ لیتا تھا ۔یہ اگلے دن کی بات ہے ۔میں جب مسجد میں پہنچاتو عبداللہ جیسے میرا ہی منتظر تھا ۔اس نے مجھے اپنے ساتھ لیا اور وضو خانے میں چلا گیا ۔اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا اور حافظ صاحب بھی ابھی حجرے سے باہر نہیں آئے تھے۔

’’ بابر حسین میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘ عبداللہ میرا ہاتھ تھام کر بولا ۔

میں اسکا منہ تکنے لگا ۔

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ میں نے محسوس کیا ہے کہ تمہارے پاس کوئی علم موجود ہے ،تم وہ علم مجھے بھی سکھا دو ‘‘ اسکی بات سن کر میں چونک اٹھا ۔

’’ کون سا علم ‘‘ میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔ 

’’ میں کافی کچھ جان گیا ہوں تمہارے بارے میں ‘‘ اس نے رازدارانہ انداز میں کہا’’ اگر تم مجھے بھی یہ علم سکھا دوگے تو میں بھی تمہیں ایسا وظیفہ بتاوں گا کہ کیا یاد کروگے‘‘ 

’’یار میں سمجھا نہیں ۔‘‘ میں نے پھر کہا’’ میں تو سکول میں پڑھتا تھا اور اب مسجد میں حافظ صاحب کے پاس پڑھنے آگیا ہوں ۔میں کون سا علم جانتا ہوں ‘‘

عبداللہ نے غور سے میری آنکھوں میں دیکھا ۔پھر پیچھے پلٹ کر برامدے کی جانب نگاہ ڈالی کہ کوئی ادھر تو نہیں آرہا ۔اس گھڑی مجھے عبداللہ کی آنکھوں میں بڑی عجیب سی مستی نظر آرہی تھی ۔معصومانہ جھلک مفقود تھی۔اسکا سینہ بھی غیر معمولی طور پھول رہا تھا ۔

’’ دیکھو مجھے بے وقوف نہ بناو ۔میں وہ کچھ جانتا ہوں جو حافظ صاحب نہیں جانتے ۔میں جانتا ہوں کہ تمہارا باپ کیا کرتا ہے ۔ تمہارے باپ کا گرو کالا علم کرتاہے ، اس کے ایک چیلے نے ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور خود تم کیا کرتے پھرتے تھے ۔تم نے اپنی ٹیچر کے ساتھ جو شرمناک کام کیے ہیں میں وہ بھی جانتا ہوں ‘‘ 

اسکی باتیں سن کر میں ہڑبڑا گیا ۔یہ تو مجھے معلوم تھا کہ یہ ساری باتیں سچ ہیں لیکن اب میرے اندر شیطانی قوتیں کمزور ہورہی تھی۔میں کوئی ایسا عمل کرکے اسکو دکھا نہیں سکتا تھا ۔اس دنیا سے نکل کر نور کی دنیا میں آنا چاہ رہا تھا تاکہ میری ماں کو سکون ملے ۔لیکن میں حیران تھا کہ عبداللہ نور والی راہ پر چلتے ہوئے کالا علم سیکھنے کی بات کررہا تھا ۔

’’ تم جانتے ہو کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں لیکن یہ بھی جانتے ہوگے کہ اب میرے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے ‘‘ میں نے کہا ’’ اور تم تو جنات میں سے ہو ۔ تمہیں یہ علم سیکھنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے ‘‘ 

وہ بولا’’ اصل میں ہم جنات کو بھی انسانوں سے ہی علوم سیکھنے پڑتے ہیں ‘‘ اس نے کہا ’’ میں لمبی بات نہیں کروں گا ۔اگر تم مجھ سے دوستی لگا لو تو پہلے میں تمہیں ایک وظیفہ بتاتا ہوں ۔اگر تم یہ وظیفہ کرنا سیکھ گئے تو جو مانگا کروگے وہ تمہیں مل جایا کرے گا۔۔۔۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس وظیفہ کو کرنے پر گناہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ یہ نوری علم ہے ‘‘ 

میں خاموش ہوگیا اور اسکی جانب دیکھتا رہا ۔پھر کہا ’’ اچھا بتاو کون سا وظیفہ ہے ‘‘ 

اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ۔’’ تہجد کی نماز کے بعد روزانہ چار ہزار بارسبحان اللہ یاسبوح یا قدوس یا حنان و یا منان چالیس روز تک پڑھنا ہے ۔یا جو اس کا عامل کامل ہے اس سے اجازت لیکر اسکو پڑھ لیا جائے تو اس ذکر کی روحانی قوتیں اور موکلان ذاکر کے ساتھ منسلک ہوجاتی ہیں ۔تم یہ ذکر سیکھ لو ،اور یہ کام کرنا تمہارے لئے چنداں مشکل نہیں ہوگا ‘‘

’’ کیا تم اس عمل کے ذاکر ہو‘‘ میں نے پوچھا تو وہ مسکرادیا ’’ ہاں میں نے یہ مجاہدہ کیا ہوا ہے ۔‘‘

’’ تم نے کس سے یہ سیکھا تھا ؟‘‘ میں نے تجسس سے پوچھا۔ 

’’ میرا خاندانی عمل ہے ۔میرے دادا اس کے عامل تھے ۔انہوں نے نو سو سال کی عمر  میں و صال پایا۔بغداد میں ایک بزرگ کی خدمت کرکے صلے میں انہوں نے یہ وظیفہ پایا تھا۔میرے والد اور چچاوں نے اپنے والد سے یہ سیکھا اور پھر میں نے اپنے والد سے اسکو پایا ۔یہ وظیفہ پڑھنے سے ہماری قوتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ہم اسکو کسی غلط کام کے لئے استعمال نہیں کرسکتے ۔‘‘

’’ تو پھر یہ عمل مجھے بھی تحفہ میں دے دو ،تاکہ مجھے مہینوں تک یہ مجاہدہ نہ کرنا پڑے‘‘ میرے بولنے پروہ ہنس پڑا ’’ بڑے تیز ہو ۔میں تمہیں یہ عمل کرنے کی اجازت دے دوں گا لیکن پہلے مجھے بھی کوئی ایسا کالا علم سکھادو کہ میں تمہارا شکریہ ادا کرسکوں ‘‘ 

’’ عبداللہ تمہاری بات سن کر میں حیران ہورہا ہوں ۔میں نے سنا تھا کہ جس سینے میں نور ہوتا ہے وہاں شیطان نہیں سما سکتا ۔تم کالا علم کیوں سیکھنا چاہتے ہو۔میں تو خود اس کالی دنیا سے جان چھڑوانا چاہتا ہوں ۔اسی لئے تو اماں نے مجھے حافظ صاحب کے پاس ڈالا ہے ‘‘

’’دیکھو بابر ،یہ بڑی باریکی کی بات ہے ۔تم ٹھیک کہتے ہو لیکن میں تم سے کالا علم کیوں سیکھنا چاہتا ہوں ،اسکی بہت بڑی وجہ ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ کالا علم کرنے والوں کے راز جان سکو اور کالے علوم کے منتروں شنتروں پر تحقیق کرکے اس علم کی جڑوں کو کمزور کرنے کا کوئی ایسا طریقہ جان لو کہ جب بھی کوئی کالا علم کرنے والا کوئی غیر شرعی کام کرے اور لوگوں کو اس سے خوفزدہ کرے تو اس کالے علم سے منسلک مخلوق خود بخود عاجز آجائے ۔اس کالے علم کی وجہ سے تم انسانوں کو تو جو تکالیف اٹھانا پڑتی ہیں ۔ہم جناتوں کو اس سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے کہ شیطان ہم میں سے ہے اور ہم شیطان کی نسل سے ہیں ۔یہ جنات اور شیطان ایک ہی نسل کے دو روپ ہیں ۔شیطان تو بس شیطان ہے البتہ جنات میں سے کوئی بھی مسلمان ہوسکتا ہے ،عیسائی ،ہندو ،یہودی ،کچھ بھی۔۔۔یہ جسے تم شیطان کہتے ہو یہ جنات کا جدامجد ہے ‘‘ عبداللہ کی باتیں سن کر میں ہونقوں کی طرح اسکا منہ تکنے لگا ،حیرت کا اک جہان تھا جس میں میں غوطہ زن ہوئے جارہا تھا ۔میرے دل میں پہلی بار اس خواہش نے جنم لیا کہ میں جنات کے بارے میں اور بھی کچھ جانوں اور عبداللہ اس معاملے میں میری خوب مدد کرسکتا تھا (جاری ہے )

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں