سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 40

27 جنوری 2018 (13:41)

قاضی عبدالستار

دیر تک ساری محفل پر خوفناک سکوت طاری رہا۔سلطان کی سو چتی نیچی نظریں پا انداز کے نقش و نگاردیکھتی رہیں۔ان کے ہاتھوں نے پہلو کے تکیے بدل لئے۔تخلیے کا اشارہ پا کر سارا دربار کھڑا ہو گیا اور سوتی آستین سے نکلے ہوئے دراز ہاتھ کو بوسہ دے کر خلوت’’خاص‘‘ سے باہر نکل گیا۔۔اب’’ خلوت شاہی‘‘میں عود دانوں کی بل کھاتی ہوئی خوشبو اور فانوسوں کی ٹھنڈی سفید متین روشنی کے سوا کوئی اور نہ تھا۔لیکن سلطان تنہا بھی نہ تھے۔چند الفاظ یتیم بچوں کی طرح سینے پر ہاتھ باندھے بے بسی سے ان کا منہ تک رہے ہے۔

’’اے شجاعوں کے شجاع !ہم تجھ پر تیرا حلیف اور اپنا بیٹا مانگتے ہیں۔‘‘

سلطان جنھوں نے اپنے عہدکے ظالم ترین مجرموں پر ترس کھایا ۔۔۔ان کی جانیں بخشیں اور سلطنتیں و اگزار کیں۔۔آج اسی طرح منھ پھرکر کھڑے ہو گئے کہ انھیں اپنے آپ سے شرم آئی۔۔پھر نگاہ بجھتی ہوئی شمع پرپڑی!۔۔بجھتی ہوئی شمع !نئی اور نوخیر شموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن تھی۔اس خیال کے آتے ہی قحطان کے الفاظ کی قبا پہن کر ایلینور ان کے سامنے آگئی۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وہ سر سے پاؤں تک سیاہ پوش تھی۔ سرپر سیاہ سونے کا تاج تھا۔گلے میں سیاہ ہیرے کی صلیب تھی اور آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے ۔پاؤں کانپ رہے تھے اور ہونٹ لرز رہے تھے سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور نا قابلِ بیان تجمل اور تحمل کے ساتھ گھنٹوں پر گر گئی اور عیائے سلطانی کا دامن پکڑا کر درخواست کی۔

’’یروشلم کے فاتح مجھے میرا بیٹاعطا ہو‘‘

بادشاہوں کے بادشاہ نے آنکھیں بند کر لیں اور سامنے مر مریں کی یمنی دہلیز پر دونوں ہاتھ ٹیک کر کھڑے ہو گئے،کھڑے رہے۔پھر دیوار گیری پر رکھے ہوئے سنہرے پھولدان میں اترتے ہوئے گلاب پر نظر پڑگئی۔گلاب مرجھا کر اور حسین ہو گیاتھا اور جان لیوا ہوگیا تھا۔انھوں نے اسے چپکے سے اٹھا لیا۔اس کی خشک ملائم مخملیں پتیاں ان کی ہتھیلی پر بکھر گئیں جیسے خود ایلینور ان کی آغوش میں بکھر گئی ہو۔انھوں نے ہتھیلی کو ناک کے قریب لا کر سونگھا۔ایلنیور کے بالوں کی خوشبو زندہ ہو گئی۔۔۔اور ان کا ہاتھ بے ساختہ تلوار کے قبضے پرچلاگیا۔پھر تخیل کی آنکھوں نے دیکھا کہ فضا پر سرمئی دھند چھائی ہوئی ہے۔اور برفیلی ہواؤں کے جھکڑ نیزوں کی طرح جسم کو چھیدے ڈال رہے ہیں۔حد نگاہ تک پتھریلے میدان میں کٹے ہوئے ہاتھ پیروں اور سروں کے کھلیان لگے ہیں۔ٹوٹی ہوئی ڈانڈوں اور چیتھڑوں کی طرح اڑتے ہوئے پھریروں کے پاس چیلوں،کوؤں اور گدِھوں کے جھنڈ چہروں سے آنکھیں کھول رہے ہیں،ہاتھ پیروں سے گوشت نوچ رہے ہیں۔بھڑیوں اور گیدڑوں کے غول اپنے منھ میں لاشوں کے شکار دبائے دھیمی رفتار سے گھسیٹتے پھر رہے ہیں اور وہ اس بھیانک منظر کو دیکھتا ہوا اپنے جلیل الشان امیروں کے جلو میں گزر رہا ہے۔۔۔

پھر تقی الدین نے اس رکاب کا بوسہ دیا اور ہاتھ کا اشارہ کیا۔سامنے متحدہ یورپ کا مفتوحہ لشکر کھڑا تھا۔پیلے لمبے چہروں،زرد آنکھوں،بڑھے ہوئے ناخنوں اور جڑی ہوئی داڑھیوں پر وحشت برس رہی تھی۔نہ کہیں جھنڈے،نہ برقیں،نہ صفیں نہ مورچے،لاچار اور مجبور انسانوں کا انبوہ جنگل سے لائی ہوئی سوختہ لکڑی کے کندوں کی طرح ڈھیر تھا۔سب کی رحم مانگتی آنکھوں میں زندگی اور پیٹ کی یکسان بھوک تڑپ رہی تھی۔وہ ان کی طرف نگاہ کئے بغیر آگے بڑھ گیا۔۔۔اب مفتوحہ شہر کی پناہ پر اڑتے ہوئے ایوبی پرچم نظر آنے لگا۔دیواروں سے لگی ہوئی منجنیقوں کی کبھی نہ ہونے والی قطار کے نیچے نائب السلطنت ملک العادل اپنا فاتح لشکر لئے کھڑے ہیں جن کے دھندلائے ہوئے چہروں پر فتح کی مسرت کے نقوش کے بجائے تھکن کے آثار دور سے پڑھے جا سکتے ہیں۔

شہر کے کنکریلے راستوں کے دونوں طرف ایوبی منجنیقوں کے اگلے ہوئے پتھر ڈھیر تھے۔نفح سے جلی سوئی سرخ وسفید عمارتیں دھوئیں سے چتکبری ہو گئی تھیں۔ان کے ٹوٹے ہوئے رومی دریچے مردہ دیدوں کی طرح کی کھلے پڑے ہیں۔پتھروں کی مار سے شکستہ دیواریں غنیم کی شکست خوردہ فوجوں کی طرح کھڑی تھیں۔بازنطینی برجوں اور شہ نشینوں پر اسلامی نشان اڑ رہے ہیں۔اونچے اونچے سنگین دروازوں کے اجلے فرش انسانی خون سے گندے پڑے ہیں۔جلتے ہوئے محلوں کی چھتوں پر دھوان سیاہ ماتمی جھنڈوں کے مانند لہرا رہا ہے۔سارا شہر متعفن ہے۔اب گوتھک طرزِ تعمیر کی وہ عظیم الشان عمارت آگئی جو کبھی ’’اینٹیک‘‘ کے تاجداروں کا مرکز ہوا کرتی تھی۔گول بھاری ستونوں کے نیچے تاج الملوک اور ملک الافضل اس کے محافظ دستے کی اپنی کمان میں لئے کھڑے ہیں۔

سنگ مر مر کے زینوں پر انسانی خون کا قالین بچھا ہو اہے اور آخری سیڑھی پر ایلینیور کھڑی ہے اور خوش آمدید کہ رہی ہے۔اس نے اترنے کیلئے رکاب سے پاؤں نکالا کہ کسی نے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔

صلاح الدین!

کیا اسی منحوس دن کے دیدار کیلئے تو نے اپنے جسم پر مقدس کفن پہنا تھا۔اس پلید گھڑی کے طلوع کی خاطر بیت المقدس کے متبرک سائے قسم کھائی تھی۔سفید ڈھلے گوشت اور مٹھی بھر کمزور ہڈیوں کے ڈھیر کی خاطر لاکھوں انسانوں کے بے گناہ خون کا سودا منظور کیا گیا؟روئے زمین کی جلیل المرتیب سلطنتوں کی سولی پر چڑھا دینے کا حکم نافذ کیا گیا؟انسانوں سے چھلکتے ہوئے ہزاروں شہروں کو خاک کا پیوندکر دیا گیا؟

ان گنت عورتوں کو بیوہ ،بے حساب بچوں کو یتیم اور لا تعداد بوڑھوں کو بے آسرا کر دینا گوارہ کیا گیا۔لیکن ہم تو بیت المقدس کے۔۔۔تحفظ کیلئے آئے ہیں؟۔۔۔ تو ہمارا مشورہ ہے کہ بیت المقدس کی آئندہ حفاظت کیلئے آج ساری عیسائی آبادی کو تہ تیغ کردے۔اس اندیشے سے کہ کل اسلامیوں کو شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑے،ثلیث کا نام ونشان مٹا دے۔بوڑھے سلطان ایلنیور جیسی ہزارہا عورتیں مصر کے وزارتِ عظمیٰ کے تخت کے سامنے حاضر رہا کرتی تھیں۔کاش تونے اس دن اپنی ہوس پوری کر لی ہوتی تو آج دنیا تیری تلوار کے عذاب سے محفوظ رہتی۔

رچرڈ کی رہائی کیکئے تیری ایک سفارت کافی تھی جس کی روانگی پر تونے کبھی سنجیدگی سے غور کرنا پسند نہ کیا۔

لیکن مجلسِ شوریٰ؟

بوڑھے اور بیمار سلطان!تو ساری دنیا کو فریب دے سکتاہے لیکن اپنے آپکونہیں۔کل موت حیات کی کشمکش میں جس قوم نے تیرے حکم کو مشیت ایزدی کی طرح قبول کرلیا آج امن کے زمانے میں وہ سرتابی کی مجال کر سکتی ہے؟

تونے زندگی بھر جس رحمت وشجاعت کا اظہار کیا وہ مکروفریب کے طلسمی لبادے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔تیری تمام سخاوتیں،عبادتیں اور ریاضتیں ایک ڈھکو سلہ تھیں جن کا بھرم آج کھل گیا۔تیری مثال اس بیوقوف گنہگار کی سی ہے جس نے جوانی کی شیریں راتوں کی نیند بیچ کر پیسہ پیسہ کمایا۔ایک ایک پیسے کو دانت سے پکڑکر جمع کیااور مرتے مرتے جوئے کے ایک ہی داؤں میں ہار گیا۔۔۔جا،تاریخ اپنی فہرست میں ایک اور فرعون،ایک اور فاتح ایک اور غاصب کا نام لکھ لے گئی ۔‘‘

’’لیکن۔۔۔‘‘

’’بیت المقدس تیری تلوار کا صلہ نہیں خدا کی رحمت کا ثمر ہے۔اس خدا کی رحمت پر بھروسہ رکھ جس نے تجھے بادشاہوں کی بادشاہی عطا کی ہے اوردشتِ امکان میں پر چھائیوں کے شکار کیلئے اپنی اور اپنے سپاہیوں کی جان ہلاکت میں نہ ڈال۔

اے بیمار شہنشاہ!

اپنی سلطنت کو ۔۔۔اپنے ممالک محروسہ کو عدل سے بھردے،راستوں کی حفاظت اور تجارت کو فروغ دے،نہروں کو لبریز اور کھیتوں کو شاداب کر۔سالہا سال کی لڑائیوں سے زخمی دلوں کو طمانیت اور تسکین عطا کر۔اب تجھے بھوک،بیماری ،ظلم اور جہالت کے خلاف جہاد کرنا ہے کہ یہی جہاد اکبر ہے۔ملکوں کو حاصل کرلینے کا نام فتح ہے اور ملکوں کو آباد کرنا اور آبادیوں کو عدل سے بھردینا فتح الفتو ح ہے۔یاد رکھ!قیامت کے دن تیری رعیت کا ایک حقیر چرواہا اپنی کھوئی ہوئی بکری کیلئے تیراگریبان پکڑلے گااور عدل وصول کر لے گا۔‘‘

اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا حاکم،اپنی دنیا کا سب سے بڑا فاتح دیر تک اسی طرح ساکت وصامت کھڑا رہا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں