جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ تئیسویں قسط

آپ نے کبھی ہڈیوں کو ترنگ سے بجتے دیکھا ہے؟ سوکھی ،بھر بھری ہڈیوں میںسے بھی تانیں پھوٹ نکلتی ہیں،ردھم پیدا کرتی ہےں ....ماس کا اپنادھرم ہے اور ہڈیوں کا اپنا ۔ہڈیوں کی تان سوز بھری لَے کے ساتھ بڑا خوفناک احساس پیدا کرتی ہیں ۔دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں او ر انکے اپنے اپنے عقیدے۔کئی لوگ قبروں سے مردے نکال کر اورکچھ اپنے مرنے والے پیاروں کی ہڈیوں سے ایسے ساز بناتے ہیں جو جنتر منتر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ہر کالا علم کرنے والا اور گیانی ،پنڈت ،مہان گرو ان ہڈیوں کو بڑی عقیدت سے اپنے پاس رکھتا ہے۔ان ہڈیوں میں علم وگیان کی لہریں ہوتی ہیں اور انہیں پوتر جانا جاتا ہے۔
پرماتما نے جب مُردوں کو کھنکھناتی ہڈیوں سے قبروں سے باہر نکلتے ہوئے اور مچلتے دیکھا تو اس نے فلک شگاف قہقہ لگایا اور پھر کہا ” اگر تم آج کی رات ٹھہر جاو¿ تو میں تمہیں ایسا راگ اور ناچ دکھاو¿ں گا جو تم نے اب تک نہ دیکھا سنا ہوگا“ یہ کہہ کر اس نے اپنے گھیروے چوغے سے ایک بنسریانما عجیب سی شے باہر نکالی ۔کئی مردے اس بنسریا کو دیکھ کر عجیب طرح سے آوازیں نکالنے لگے۔یہ بانسری جیسی دو ہاتھ لمبی انسانی ہڈی سے بنا ایک ساز تھا جس کے ایک سرے پر انسانی کولہے سے مشابہ ہڈی تھی ۔
گرو پتا پرماتما کو لیکر قبر استھان میں پہنچا تو اس سمے اندر کا ماحول کافی بدل چکا تھا ۔گرو کی پرچھائیاں دیواروں کے ساتھ سکڑی پڑی تھی اور ان پر لرزہ طاری تھا۔میرے باپ کی حالت دگرگوں ہوچکی تھی۔اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا مگر ابھی بھی اس میں اتنا دم خم تھا کہ وہ میری ناف کے اوپر معلق تھا مگر خود اسکا سر ڈھلک چکا اور گھٹنے زمین پر تھے۔

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ بائیسویں قسط
” وہ دیکھو میرا گرو ۔میرا پُتر سمان چیلا مر رہا ہے ،تو نے اسکو اپنا جیون دان کرنا ہے“ پتا گرو نے پرماتما کو امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
” ہونہہ“ پرماتما نے استھان کاطائرانہ جائزہ لیا ” اتنا آسان نہیں مگر پرماتما مکتی کے لئے تیرے چیلے کو جیون دان کرجائے گا۔اپنا وچن پورا کرے گا پرماتما “
اس نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور گرو کے لرزتے ہاتھ پر ٹکٹتی باندھ کر بولا ” لہو بہت تھوڑا رہ گیا ہے اس کے شریرمیں .... آخری بوند گرنے سے پہلے مجھے مکٹ کرنا ہوگا،مگر یہ تو بتاو ¿ ،بالکا ہے کون “ اس نے میری جانب تکتے ہوئے پوچھا ۔
پتا گرو نے اسے میرے بارے میں بتایا تو اسکے چہرے پر استہزائی مسکراہٹ امڈی ۔” اچھا ہے۔شبھ کامنا ہے۔ تو اس کا رن یہ ہوگا کہ میں مکتی پا کے بعد شانت ہوجاو¿ں گا اور پرماتما کا گیان مجھے مل جائے گا ۔کیونکہ تو جو کام کررہا ہے یہ اپنے وچاروں کے مطابق ہورہا ہے “
پرماتما نے بنسریا کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تولا اور اسکا باریک منہ اپنے لبوں سے لگا کر اس نے ہلکے سے ہوا چھوڑی تو اسکی انگلیاں بنسریا کے سوراخوں سے تال میل کے ساتھ اٹھنے لگی۔استھان میں ہوا ساکت تھی مگر اسکی فضا میں مدھر سا سُر اٹھا اور اسکے ساتھ ہی اس نے آنکھیں موندھ کر اشلوک پڑھنا شروع کردئےے ۔اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی بند کی اور تیزی اشلوک پڑھتے ہوئے اس نے مٹھی کھولی اور منہ بھر کو اس نے پھونک ماری ۔ ساتھ ہی مٹھی بھی کھول کر میرے سینے پر ہاتھ پھیلا دیا ” گرو جلدی سے صندل اگنی جلا دے اور پرے ہوکر بیٹھ جا ....“
پتا گرو جو واپسی پر صندل کا گٹھا بھی اٹھا لایا تھا اس نے استھان کے درمیان میں چتا چڑھادی اور صندلی لکڑیوں کو یوں پھیلایا کہ اس پر پرماتما آسانی سے بیٹھ سکتا تھا۔جیون دان کرنے والے آسن جما کر اگنی میں بھسم ہوتے ہیں اور اس کے لئے انہیں لیٹنا نہیں ہوتا ۔جیوں ہتیا ،خودکشی،خودسوزی پاپ ہے،گناہ ہے لیکن ہماری یہ کالی دنیا تو گناہ اور تاریکی کی دنیا ہے.... جہاں انسان پرماتما بننے کے لئے جیون مکتی چاہتا ہے تو خود کو رضا و رغبت سے اگنی کے حوالے کرتا ہے۔اس سے پہلے وہ خود کو اس ہتیا کے لئے تیار کرتا ہے ۔
پرماتما نے دوبارہ سے بنسریا پر لب رکھے تو ہواکے دوش پر سُر بکھرنے لگے، اپنا طلسم پھونکنے لگے ۔ہر سُر میں ایک چال اور تال تھی اور وہ دھیرے دھیرے اپنے پاو¿ں کسی الھڑ کی طرح اٹھا کر اٹھلا نے لگا ، بنسریا کا سُر اونچاگونجتااور اس کا قدم دھیرے سے اٹھتا۔کوئی ایسی شے سُروں کی سنگت میں جنم لیتی محسوس ہورہی تھی ۔استھان کا ماحول بدلاو¿ کی جانب مائل تھا۔ہلکی ہلکی تاریکی میں بنسریا فضا میں سُر بکھیرتے ہوئے کوئی بات کہہ رہی ،کسی کو بلا رہی تھی۔پتا گرو کی پتلیاں ہر لے سُر کے ساتھ پھیل اور سکڑ رہی تھیں ۔اس پر مدہوشی اور خمار بڑھ رہا تھا۔بالکل ایسے جیسا پرماتما کی حالت ہورہی تھی۔وجدان ،خمار،سکون.... ماحول میں طلسم چھایاجارہا تھا۔اچانک یہ طلسم اٹھانے پکڑنے لگا،پرماتما صندلی اگن کے پاس آپہنچاتو سُروں میں بے تابانہ لپک آنے لگی،کوئی ہجر و ملال کے احساس کا جوالہ جیسے پھوٹ رہا ہو۔پرماتما کی آنکھیں بند تھیں لیکن اس کا سارا من جاگ رہا تھا۔وہ بند آنکھوں سے جیسے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔اسکا گیان ہر سُر کے ساتھ آتما سے لپٹ رہا تھا اور تڑپ رہا تھا۔جس سمے وہ صندلی چتا کے اوپر آسن لگاکر بیٹھ رہا تھا اس سمے بھی اسکی آنکھیں بند تھیں ۔بنسریا اسکے لبوں سے جیسے جڑ سی گئی تھی اور سُرایک دوجے سے سوزوگداز سے گلے مل رہے تھے۔
آسن لگ چکا تو اس لمحہ گھنگھرو کی ہلکی ہلکی آواز بنسریا کے ساتھ ہم آہنگ ہونے لگی اور ساتھ ہی پرماتما کا چہر ہ جوش سے سرخ ہونے لگا۔بنسریا اسکی سانسوں سے جڑ گئی اور بہت تیز تیز بجنے لگی،ادھربجتے گھنگھرووں کی آوازیں بھی قریب اور قریب آنے لگیں اور پھر جب گھنگھرو اور بنسریا میں ملاپ کا سنگم آیا اور تال اور لَے سے استھان میں پرچھائیاں بھی بے قراری سے دیواروں سے لپٹنے لگیں تو ایک جھماکا ہوا۔
پہلے دودھیا روشنی نے اپنا پَر استھان کی سیاہی پر پھینکا تو آنکھیں چوند گئیں ،پھر لوبان کی مہک کا بگولہ سا استھان میں گھومتا دکھائی دیا۔گھنگھرو اس بار زور سے کھنکے اورساکت ہوگئے،بنسریا پرماتما کے لبوں سے چپک کر سسکیاں لیتی رہ گئی۔یک لخت ماحول میں سکوت در آیا۔دودھیا روشنی میں لوبان کا بگولا چتا کے پاس آکر ٹھہر گیا اور روشنی کے وجود میں اپنی مہک اتارنے لگا،آنکھوں کا چندیاپا ختم ہوااور مدھر سی میٹھی دلسوزنسوانی آواز استھان میں گونجی” میرے پرماتما .... آنکھیں کھولو.... تمہاری دیوداسی حاضر ہے“
پرماتما نے آنکھیں دھیرے سے کھولیں ،لبوں سے بنسریا ہٹائی،چہرے پر مسکان پیدا ہوئی،ایک ہاتھ آگے بڑھایا” آجا میری غمگسار .... “
اسکے سامنے ایک صندلی وجود ہوشربا ادا سے کھڑا تھا۔سفید ساڑھی میں اسکا ملکوتی حُسن لاجواب تھا۔چمکتی آنکھیں،کماندار ابرو،کشادہ پیشانی،پتلی ناک،قاشوں جیسے رسیلے ہونٹ،گالوں میں گڑھے،سینہ بھرا ہوا، پتلی کمر اور کولہے سینے کی سیدھ میں بل کھاتی کمر کو اپنے حصار میں لئے ہوئے۔پیر مکھن کی طرح ،چمکتے آبدار موتیوں جیسے گھنگھرووں سے ڈھکے ہوئے۔ چاندنی میں نہایاہوشربا شباب باریک ریشمی ساڑھی سے چھلک رہا تھا۔ پرماتما کا ہاتھ تھام کر وہ قریب آئی اور مدھم انداز میں بولی” میرے پرماتما نے مجھے یاد کیا ہے....“
” ہاں .... آج مجھے مکتی ملے گی اور میرا من چاہتا ہے تو مجھے مدہوش کردے تاکہ میں جیون ہتیا کرتے سمے اپنے ماس کی تکلیف بھول جاو¿ں “
پرماتما نے اسکے ہاتھوں کو بوسہ دیا” سندریا تو دیوتاو¿ں کی داسی اورنرتکی ہے۔تو جانتی ہے دیوتاکا من کیسے راضی ہوتا ہے ۔آج مجھے نرتک دکھا اور اتنا ناچ اتنا ناچ کہ میں اگن کا آشنان کرتے ہوئے پرلوک سدھار جاو¿ں اور مجھے مکتی مل جائے“
” میرے پرماتما ....آپ چنتا نہ کریں ۔شانت رہیں ۔میں آج پھر اپنے پرماتما کے لئے ناچوں گی اور جب تک سمے کی ساری گھٹنائیں ٹل نہیں جاتیں اور میری پور پور نہیں کھل جاتی ، دیوداسی ناچتی رہے گی“
سندریانے دھیرے سے اپنا ہاتھ کھینچااور دونوں ہاتھ جوڑ کر پرماتما کو پرنام کیا،ہلکا سے آگے کو جھکی تو ساڑھی کی ایک تار تار سے اسکی پور پور چھلکنے لگی۔
جاری ہے۔