ذیا بیطس کیا ہے، اس کی اقسام کون سی ہیں اور ان کا آسان علاج کیسے کیا جاسکتا ہے؟

ذیا بیطس کیا ہے، اس کی اقسام کون سی ہیں اور ان کا آسان علاج کیسے کیا جاسکتا ...
ذیا بیطس کیا ہے، اس کی اقسام کون سی ہیں اور ان کا آسان علاج کیسے کیا جاسکتا ہے؟

  


ذیا بیطس ایک دائمی اور ایسا مرض ہے جو جسم کے تمام حصوں کو متاثر کرتا ہے۔انسانی جسم کے لئے اس بیماری کو دیمک سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ یہ ایک میٹابولک بیماری ہے جو جسم کے کسی مخصوص اعضاءکے کام نہ کرنے کے باعث جنم لیتی ہے، خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور جسم کے سیل(خلیے) اس گلوکوز کو استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جس کے سبب انسانی جسم کو توانائی نہیں ملتی۔ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس سے منسلک ہیں۔

گلوکوز کو انسانی خلیوں میں جذب ہونے کے لئے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیابیطس میں جسمانی نظام یا تو انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے یا جسمانی خلیات ہی خون میں شامل گلوکوز کو جذب کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔زیادہ تر لوگوں میں بیماری کی تشخیص اچانک ہوتی ہے۔اگر ذیابیطس کی بروقت تشخیص نہ ہو یا مناسب علاج نہ کروایا جائے تو نتیجتاً جسم کو ایسا نقصان ہو سکتا ہے جو کبھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ ذیابیطس کا پوری دُنیا میں کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا، مگر بیماری کی بروقت تشخیص سے مرض کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔مرض کی سنگین پیچیدگیوں میں اندھا پن، گردوں کا ناکارہ ہونا،امراض قلب اور قطع عضو (جسم کے عضو کا کٹ جانا) وغیرہ شامل ہیں۔ ذیابیطس کے علاج کا بنیادی مقصد نارمل گلوکوز لیول حاصل کرنا ہے اور یہ حصول غذا،ورزش اور ادویات کے مابین توازن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ذیابیطس کی اقسام

ٹائپ ون ذیابیطس

اس ( ذیابیطس کا انحصار انسولین) پر ہے:

اس قسم میں جسم انسولین پیدا کرنا چھوڑ دیتا ہے یا انسولین ضرورت کے مقابلے میں کم بنتی ہے۔ زیادہ تر کم وزن یا مناسب وزن کے افراد اس کا شکار ہوتے ہیںیہ قسم نوجوانوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے،مگر عمر کے کسی بھی حصے میں اچانک جنم لے سکتی ہے۔ غیر معمولی پیاس، پُرخوری(کھانے کی شدید طلب)، پیشاب کا زائد اخراج، وزن میں کمی اور تھکن اس کی علامات میں شامل ہیں۔

 ٹائپ ٹو ذیابیطس

یہ بتدریج حملہ آور ہوتی ہے اور عام طور پر درمیانی عمر کے موٹاپے کے شکار افراد کو متاثر کرتی ہے۔اکثر ٹائپ ٹو ذیابیطس علامات ظاہر نہیں کرتی اور اس کو انسولین کے بغیر بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم میں جسم یا تو کم انسولین بناتا ہے یا جسمانی خلیے اس انسولین کے ساتھ عمل نہیں کرتے،جس کے سبب خون میں موجود گلوکوز جسم کے خلیات میں جذب نہیں ہوتا،زیادہ ترافراد اس قسم کا شکار ہوتے ہیں۔

دورانِ حمل ذیابیطس:

Gestational diabetesپہلی بار دورانِ حمل ہوتی ہے اور گلوکوز لیول عام طور پر ڈلیوری کے بعد نارمل ہو جاتا ہے۔

ذیابیطس کی تشخیص:

ذیا بیطس کی تشخیص خون اور پیشاب میں گلوکوز کی پیمائش سے کی جاتی ہے۔فاسٹنگ بلڈ گلوکوز لیول(خالی پیٹ)140mg/dlیا اس سے زیادہ اور رینڈم لیول 200mg/dl یا اس سے زیادہ ذیابیطس کی موجودگی کی نشاندی کرتا ہے۔

 ہائپو گلیسیمیا

اس صورت میں بلڈ شوگر لیول50mg/dl سے نیچے گر جاتا ہے۔انسولین، دوا کی زیادتی سے کم خوراک کھانے کے سبب یہ صورت حال اچانک پیدا ہوتی ہے،انسان بے قراری اور چڑچڑا پن محسوس کرتا ہے، جلد پیلی، ٹھنڈی، نم اور سانس نارمل یا بہت تیز ہو جاتی ہے۔

 ہائپر گلیسیمیا

صورت حال بتدریج پیدا ہوتی ہے۔ انسان غنودگی میں ہوتا ہے،جلد سرخی مائل، خشک، گرم، سانس بدبودار اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔

بلڈ گلوکوز مانیٹرنگ

خون میں گلوکوز کی پیمائش، نگرانی اور کنٹرول کا آسان اور موثر طریقہ، جس کی بدولت شوگر کو گھر، کام، سفر یا دورانِ ورزش چیک کیا جا سکتا ہے۔یہ ذیا بیطس تھراپی کی بہتر تفہیم فراہم کرتاہے۔گلوکوز لیول کو مانیٹر کرنے کے لئے مارکیٹ میں مختلف آلات دستیاب ہیں۔

 غذائی تھراپی

ذیا بیطس میں غذا اور جسمانی سرگرمی پر کنٹرول اور صحت مند طرزِ زندگی کے اہم حصے ہیں۔دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ،صحت مند خوراک اور ایکٹو رہنے سے خون میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

مناسب غذا اور جسمانی سرگرمی کے چند فوائد درج ذیل ہیں:

٭.... خون میں گلوکوز کی سطح، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

٭.... وزن کو مناسب رکھنے یا کم کرنے میں معاونت ملتی ہے۔

٭.... ذیا بیطس کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

٭.... جسم کو زیادہ توانائی مہیا کی جا سکتی ہے۔

کیلوریز کو پورا کرنے کے لئے ہیلدی کاربوہائیڈریٹ،فائبر سے بھرپور غذا، مچھلی اور صحت مند چکنائی ناگزیر ہے۔

 کاربو ہائیڈریٹ

ذیا بیطس کے مریض کی روزانہ توانائی کا 50فیصدحصہ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہونا چاہئے، جن لوگوں کی روزانہ کی غذا 2000-2500 کیلوریز پر منحصر ہے، ان کے لئے یہ225-300 گرام کاربوہائیڈریٹ بنتے ہیں۔ سیزیاں مثلاً بروکلی،گاجر، ہرے پتوں والی سبزیاں، پھل مثلاً سیب، آڑو، چیری، امرود، ناشپاتی اس کے علاوہ جُو کا دلیا، براﺅن چاول، باجرہ، چنے(کابلی) لال اور سیاہ لوبیا کا چناﺅ بہترین ہے۔

پروٹین:

کم چربی والا گوشت، بغیر جلد کے مرغی، اور ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ مچھلی(ٹونا، سالمن) کا استعمال بہترین ہے۔ مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو دِل کی بیماری کی روک تھام میںمعاونت فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ انڈا (بغیر زردی کے) لازمی استعمال کریں۔

 صحت مند چکنائی

پروٹین اور کاربو ہائیڈریٹ کے ساتھ ساتھ چکنائی اہم اہمیت کی حامل ہے۔ کاربوہائیڈریٹ اور کسی حد تک پروٹین کے برعکس، چکنائی گلوکوز لیول پر براہِ راست اثر انداز نہیں ہوتی۔ صحت مند چکنائی کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ زیتون، سرسوں،کینولا اور ایوا کاڈو آئل کا انتخاب بہترین ہے۔علاوہ ازیں صحت مند چکنائی مختلف اقسام کی فوڈ میں پائی جاتی ہے مثلاً مچھلی، بغیر بالائی کے دودھ اور دودھ سے بنی اشیائ(پنیر،دہی غیرہ)، کم چربی والا گوشت اور نٹس(بادام، پستہ، اخروٹ، کاجو وغیرہ)

 فائبر سے بھرپور غذا

فائبر جسم میں گلوکوز لیول کو نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے۔پھل، سبزیوں، نٹس، ہول گرین فوڈ، دالوں میں فائر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

 تجاویز:

ذیا بیطس کو خالی دواﺅں سے کنٹرول نہیںکیا جا سکتا،ذیا بیطس کی مینجمنٹ میں غذا کا اہم کردار ہے۔

٭.... دن میں پانچ سے چھ مرتبہ وقفے وقفے سے کم کھانا کھائیں۔

٭.... ہائی فائبر فوڈ مثلاًسبزیاں، پھل، دالیں، لوبیا، چنے، دلیا، ہائی فائبر سیریل کا استعمال کریں۔

٭.... کھانے کے ساتھ تازہ سلاد جس میں سلاد کے پتے، کھیرا، گاجر شامل ہوں، استعمال کریں۔

٭.... زیادہ چکنائی والی اشیاءمثلاً مکھن، ماجرین، سابیج، ناریل کا تیل، بیکری فوڈ کا استعمال ترک کریں،کیونکہ ذیا بیطس کی بدولت دِل کی بیماری اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

٭.... بیف کے متبادل مرغی اور مچھلی استعمال کریں،انڈے کی زردی، کلیجی اور دیگر آرگن میٹ کا استعمال ترک کریں، کیونکہ یہ کولیسٹرول میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

٭.... نمک کا کم از کم استعمال کریں۔

٭.... 6گرام(ایک ٹی سپون) سے کم نمک استعمال کریں۔

٭.... میٹھا کم کھائیں، چینی کا کم استعمال کریں اور چینی کے متبادل گُڑ، شکر، شہد استعمال کریں۔

کینڈرل اور ہر قسم کی مصنوعی چینی کا استعمال ترک کریں۔

غذا کے ساتھ ساتھ اندازِ زندگی میں کچھ سادہ سی تبدیلیاں طاقت ور آلات کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔مثلاً روزانہ ورزش، جم یا چہل قدمی نہ صرف موڈ کو خوشگوار رکھتی ہے،بلکہ بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول رکھنے میں بھی نہایت مفید ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید : بلاگ /تعلیم و صحت