پولیس نہیں الیکشن عملہ کو ضلع بدر کریں

پولیس نہیں الیکشن عملہ کو ضلع بدر کریں
پولیس نہیں الیکشن عملہ کو ضلع بدر کریں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہر الیکشن میں پولیس اور بیوروکریسی کے تبادلے کیے جاتے ہیں۔خاص طور پر محکمہ پولیس میں ایس پی سے نچلے رینک کے ملازمین سے بغیر کسی اضافی تنخواہ اور الاﺅنس کے سینکڑوں کلو میٹر دور چوبیس گھنٹے مسلسل ڈیوٹی لی جاتی ہے۔یہ تبادلے دھاندلی کی روک تھام اور شفاف الیکشن کے نام پر کیے جاتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے کرتا دھرتا اور دانش ور حضرات سے سوال یہ ہے کہ پولنگ اسٹیشن میں پولیس سے کیا کام لیا جاتا ہے؟پولیس کے اختیارات کیا ہیں۔۔۔۔؟

سوائے امن و امان اور شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کے، پولیس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

پولیس افسران کو ٹرانسفر کر کے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ جیسے سارے اختیارات پولیس کے پاس ہی ہوتے ہیں۔جبکہ پولیس والے اتنے بے اختیار ہیں کہ پریذائیڈنگ آفیسر کی اجازت اور حکم کے بغیر پولنگ اسٹیشن کی حدود میں داخل تک نہیں ہوسکتے ۔پریذائیڈنگ آفیسر کو درجہ اول مجسٹریٹ کا اختیار حاصل ہوتا ہے جس کے تحت وہ حکم عدولی اور پولنگ اسٹیشن کے معاملات میں مداخلت پر پولیس آفیسرسمیت کسی کو بھی جیل بھیج سکتا ہے۔

آپ خود فیصلہ کیجئے کہ پولیس الیکشن پر کیسے اثرانداز ہوسکتی ہے جس کو الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر پولنگ اسٹیشن میں داخلے تک کی اجازت نہیں۔

الیکشن میں تمام اختیارات کا مرکز پریذائیڈنگ آفیسر ،ریٹرنگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کا عملہ ہوتا ہے۔پولنگ اسٹیشن میں پریذائیڈنگ آفیسر(گریڈ 16اور17کا آفیسر) ،اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر(گریڈ 14اور 15) اور پولنگ آفیسر(کم ازکم گریڈ9) جن کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ان کی اکثریت محکمہ تعلیم کے اساتذہ ،محکمہ صحت اور دیگر محکموں کے افسران پر مشتمل ہوتی ہے۔

ہم سب باخوبی جانتے ہیں کہ اساتذہ یا دیگر محکموں کے افسران کی اکثریت معمولی سا سیاسی پریشر برداشت کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔

ہر امیدوار کے کم و بیش درجنوں قریبی رشتہ دار اور دوست ان محکموں میں ملازمت کررہے ہوتے ہیں۔الیکشن کمیشن کی خصوصی مہربانی سے رشتہ دار اور دوست تمام تر اختیارات کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ٹیم کا حصہ بن کرسیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں۔اسی طرح الیکشن میں سب سے بااختیار ریٹرنگ آفیسر ہوتا ہے ۔ماضی میں ایسا ہو چکا ہے کہ بعض اضلاع میں ریٹرنگ افسران نے نتائج میں ردوبدل کیا۔کیا کسی ریٹرننگ آفیسر ( جج)اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر کو بھی ضلع بدر کیا گیا۔۔؟

کیا تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اور اسسٹنٹ الیکشن کمشنرکو تبدیل کیا گیا اگر اس کا جواب نہیں ہے تو الیکشن کی شفافیت م©حض ایک مذاق ہے ۔بے اختیار پولیس والے گیٹ سے باہر رہ کر بھی بے ایمان ٹھہرے اور تمام تر اختیارات کے ساتھ سیاستدانوں سے رشتہ داریاں نبھانے والوں کو دیانتداری کا سرٹیفیکیٹ ۔اگر واقعی شفاف الیکشن کروانا ہے تو پولیس نہیں الیکشن عملہ کو ضلع بدر کریں۔

..

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ