نواز شریف نے عام انتخابات کو آگے لے جانے کے حکومتی ارادے بھانپ لئے

نواز شریف نے عام انتخابات کو آگے لے جانے کے حکومتی ارادے بھانپ لئے
نواز شریف نے عام انتخابات کو آگے لے جانے کے حکومتی ارادے بھانپ لئے

  

 پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان کے معاملات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے میاں نواز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی اس حکمت عملی کا خطرہ بھانپ لیا ہے جیسے وہ آئندہ انتخابات کو آگے لے جانے کے لئے اختیار کر سکتے ہیں یہ خطرہ وہ ہے جس کے بارے میں شاید میاں نواز شریف کو اہم حلقوں نے آگاہ کردیا ہے کہ صدر مملکت بلوچستان کے خراب حالات کے نام پر آئندہ انتخابات کو شیڈول سے آگے لے جا سکتے ہیں۔ اس کے ”توڑ“ کے طور پر نواز شریف باقاعدہ طور پر پہلے قومی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے نہ صرف خود کو پیش کردیا ہے بلکہ عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کی قیادت کو اعتماد میں لینے کا کامیاب سلسلہ شروع کردیا ہے جس کا عملی ثبوت انہوں نے 3 روز قبل اسلام آباد میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچ اتحاد کے اہم رہنما سردار اختر مینگل سے ملاقات کرکے کیا اور آج ملاقات کے لئے مشرف حکومت کے سب سے بڑے بلوچستان کے متاثرہ خاندان نواب اکبر بگٹی مرحوم کے بیٹے طلال بگٹی اور مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر چنگیز مری سے ملاقاتیں ہونگی اس پر مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماﺅں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ رکے گا نہیں آنے والے دنوں میں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی، شازین بگٹی،ہمدان بگٹی سمیت مقامی مذہبی جماعتوں اور بلوچ محاذ کے رہنماﺅں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جنہیں بلوچستان کے مسئلے کے حل کی طرف لایا جائیگا اور بعد میں بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جا سکتی ہے جس کا مقصد ایک طرف قوم پر واضح کرنا ہے کہ مسلم لیگ ن ہی وہ واحد پارٹی ہے جو بلوچستان کے لئے تڑپ رکھتی ہے دوسری طرف مسلم لیگ (ن) بلوچ رہنماﺅں سے رابطے کرنے والی پہلی پارٹی بن گئی ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں گمشدہ افراد کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ بلوچستان میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے میاں نواز شریف اور عمران خان میدان میں آئیں مسلم لیگ (ن) ان ریمارکس پر عمل کرنے والی کسی پہلی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے عمران خان شاید ابھی سوچ میں ہیں حالانکہ میاں نواز شریف نے بلوچ رہنماﺅں سے رابطہ شروع کرکے عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی لیڈر ہیں جنہوں نے بلوچ رہنماﺅں سے موجودہ حالات پر گفت وشنید کا آغاز کیا ہے اس سے ایک طرف تو اگر صدر مملکت بلوچستان میں لگی آگ کے اور خراب امن و امان کا بہانہ بنا کر انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے اگر سوچ رکھتے ہیں تو اس کے مقابلے میں بلوچ رہنماﺅں کو میاں نواز شریف اپنا ہمنوا بنا کر صدر کو جواب دے سکیں گے اہل بلوچستان وقت پر انتخابات کے حامی ہیں دوسری طرف سپریم کورٹ سے شاباش ملے گی اور تیسری طرف صدر کی ممکنہ حکمت عملی کو ناکام کرنے میں نواز شریف کو مدد ملے گی ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان تحریک انصاف کو اٹھانا پڑیگا جبکہ فائدہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کو ہو گا۔ اگر واقعی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی تحریک انصاف کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں تو ان سے دشمنی لینے کا واحد طریقہ انتخابات میں تاخیر ہی سے ممکن ہو سکتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -